مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » دفن

۱ سوال: اگر کسی میت کے دو سر ہوں اور دونوں میں جدا مغز ہو تو اسے کس طرح رو بقبلہ کیا جائے گا؟ اس لیے کہ اگر ایک قبلہ کی طرف ہوگا تو دوسرا پشت بقبلہ ہوگا؟
جواب: اس سر کو قبلہ کی طرف کیا جائے گا جس کے ساتھ اس کا چہرہ بھی رو بقبلہ ہو جائے اور بدن کا اگلا حصہ بھی۔
۲ سوال: ایسا جنازہ جو ایک مدت تک سڑک پر پڑا رہنے کے بعد ملا ہو اور شدید بو کے ساتھ پھٹ چکا ہو اور غسل و تیمم کے قابل نہ ہو، اس کا کیا حکم ہے اور کیا اسے پورا کفن دینا لازمی ہے؟
جواب: اسے ایک بار تیمم کروا کر اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسے بھی دوسروں کی طرح پورا کفن دیا جائے گا۔
۳ سوال: بعض مغربی اور غیر اسلامی ممالک میں مردہ کو صندوق میں رکھ کر دفن کرنے کا رواج ہے، اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: میت کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دفن کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے مگر یہ کہ دفن کے اسلامی آداب کی رعایت کی جائے جیسے اسے داہنی جانب رو بقبلہ لٹایا جائے۔
۴ سوال: اگر کسی مسلمان کا کسی غیر اسلامی ملک میں انتقال ہو جائے اور وہاں مسلمانوں کے لیے مخصوص قبرستان نہ ہو اور اسے کسی اسلامی ملک تک لے جانا ناقابل برداشت اخراجات اور زحمت کا باعث ہو تو کیا یہ امر میت کو وہاں دفن کرنے کا جواز بن سکتا ہے؟
جواب: نہیں یہ جواز کے لیے کافی نہیں ہے۔
۵ سوال: کسی مسلمان کا جنازہ کسی اسلامی ملک تک منتقل کرنے میں ناقابل برداشت اخراجات کا سامنا ہو تو کیا اسے ادیان آسمانی کے ماننے والوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟
جواب: مسلمان کا کسی کافر کے قبرستان میں دفن کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ کہیں اور دفن کرنا ممکن نہ ہو۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français