مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » روزہ

۱۱ سوال: جیسا کہ توضیح المسائل میں لکھا ہے کہ انسان چار جگہ پر پوری نماز پڑھ سکتا ہے؟ کیا یہ حکم روزہ کا بھی ہے، دوسرے الفاظ میں کیا مسافر دس روز کے قصد کیے بغیر بھی مکہ اور مدینہ میں روزہ رکھ سکتا ہے؟
جواب: اس حکم میں روزہ شامل نہیں ہے۔
۱۲ سوال: اس شخص کے روزے کا کیا حکم ہے جو ایسے شہر میں کام کرتا ہے جو اس کے یہاں سے ۳۰ کیلو میٹر ہے اور وہ روزانہ آمد و رفت کرتا ہے؟
جواب: ایسا انسان کثیر السفر ہے اور تمام سفر میں اس کا روزہ صحیح ہے۔
۱۳ سوال: ماہ مبارک میں اگر کوئی شخص اذان صبح کے بعد اٹھے اور اس پر غسل واجب ہو تو کیا کرےگا؟ کیا اس دن کا روزہ نہیں رکھ سکتا؟
جواب: اس کا روزہ صحیح ہے لیکن نماز کے لیے غسل کرنا پڑےگا۔
۱۴ سوال: جو لوگ قطب شمالی کے نزدیک رہتے ہیں جھاں دن ۲۰ اور ۲۲ گھنٹے کا ہوتا ہے، روزے کے لیے ان کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: اگر روزہ رکھ سکتے ہیں تو روزہ رکھیں گے اور اگر رکھنا عسر و حرج رکھتا ہے جو معمولا غیر قابل تحمل ہو تو ضرورت کی مقدار کھا سکتے ہیں اور بقیہ دن بنا بر احتیاط واجب کچھ نہ کھایں اور بعد میں قضا کریں، لیکن اگر قضا بھی ممکن نہیں ہے تو صرف روزے کا فدیہ دیں گے۔
۱۵ سوال: روزے دار کے لیے طاقت کا انجکشن لگوانا کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۱۶ سوال: قطب شمالی (جہاں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہوتی ہے) میں رہنے والوں کے نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: وہ لوگ نماز، احتیاط واجب کی بنا پر وہاں سے سب سے نزدیک شہر کے مطابق قربت کی نیت سے پڑھیں گے، اور ورزے کے لیے واجب ہے کہ ماہ مبارک میں کسی ایسے شہر جائے جہاں روزہ رکھ سکتا ہو یا وہاں جا کر قضاء کرے اور اگر ایسا نہیں کر سکتا تو روزہ کا فدیہ دے گا۔
۱۷ سوال: روزہ رکھنے کی کیا عمر ہے؟
جواب: بالغ ہونا ہے،لڑکیوں کے بالغ ہونے کی علامت:
لڑکی نہ سال قمری (تقریبا آٹھ سال آٹھ مہینے بیس دن عیسوی کےمعادل ہے) مکمل ہونے سے بالغ ہو جاتی ہے۔
لڑکوں کے بالغ ہونے کی علامت:

لڑکا چار علامت میں سے کسی ایک کے ہونے سے بالغ ہو جاتا ہے۔
۱۔ پندرہ سال قمری پورا ہو جاۓ ( تقریبا چودہ سال سات مہینے پندرہ دن عیسوی کے معادل ہے)
۲۔ منی خارج ہونا۔
۳۔ زیر ناف کڑے بالوں کا نکلنا۔
۴۔چہرے اور ہونٹ کے نیچے کڑے بالوں کا نکلنا، لیکن سینے یا زیر بغل بال کا نکلنا یا آواز کا بھاری ہونا بالغ ہونے کی علامت نہیں ہے۔
۱۸ سوال: ابتداء بلوغ میں، ماہ مبارک میں چھ بار روزے کو حرام سے توڑنے کا مرتکب ہو چکا ہوں اور اس بات کے پیش نظر کہ ان کا کفارہ ادا کروں گا بہت سے مستحب روزے رکھ چکا ہوں، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا اور روزے رکھ سکتا ہوں؟ کفارہ کتنا ہے اور کس طرح ادا ہوگا؟
جواب: جب تک ان واجب روزوں کی قضا نہیں ہوگی آپ مستحبی روزے نہیں رکھ سکتے۔ ہر دن کے روزہ کا کفارہ ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا ہے جو ہر فقیر کو سات سو پچاس گرام گیہوں، آٹا یا چاول دے کر پورا ہو سکتا ہے۔
۱۹ سوال: اگر روزے میں خود بخود منی اپنی جگہ سے باہر نکل آئے تو کیا روزہ باطل ہو جاتا ہے؟ اور اگر یہ اتفاق دن میں دو تین بار یا اس سے زیادہ ہو تو کیا ہر بار غسل کرنا ضروری ہے؟
جواب: روزہ باطل نہیں ہوتا مگر غسل کرنا ضروری ہے۔
۲۰ سوال: کیا ایک ساتھ کئی لوگ میت کے لیے نماز اور روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (مثلا ۱۰ سال کے لیے ۵ لوگ دو دو سال کا ایک ساتھ رکھیں)
جواب: رکھ سکتے ہیں ترتیب ضروری نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français