مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » روزہ

۴۱ سوال: مہربانی کرکے یہ بتائیے کہ انسان ان چار جگہوں پر پوری نماز پڑھ سکتا ھے کربلا، مکہ، مدینے،کوفہ تو کیا ان شہروں کے کسی ہوٹل میں بھی ایسا کر سکتا ہے اور روزہ رکھ سکتا ہے یا ایسا صرف روضہ سے مخصوص ھے اور اگر روضہ میں صحن یا سرای کا اضافہ ہو جایےتو کیا حکم ہے؟
جواب: مکہ اور مدینے اور شہر کوفہ میں ہوٹل بلکہ مسجد سہلہ میں بھی پوری نماز پڑھ سکتا ھے مگر کربلا میں ساڑھے نو میٹر ضریح کے اطراف صرف پڑھ سکتا ہے اور بنا بر احتیاط واجب شہر کربلا میں پوری نہیں پڑھ سکتا، اور روزہ کہیں بھی نہیں رکھ سکتا۔
۴۲ سوال: روزہ کی حالت میں ناک میں دوا ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر مطمیٔن ہیکہ حلق تک نہیں پہونچے گی تو حرج نہیں ہے۔
۴۳ سوال: روزہ کی حالت میں آستما کا اسپرے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر دوا پھپھڑے میں وارد ہو تو روزہ صحیح ہے اور اگر شک کرے کہ معدے میں گیٔی یا نہیں تب بھی روزہ صحیح ہے۔
۴۴ سوال: مزدور اور سخت کام کرنے والوں کے لیٔے روزہ رکھنا واجب ہے۔
جواب: اگر روزہ رکھنا ایسا کام ۔جس پر انسان کا امرار معاش ہے۔ کرنے سے مانع ہو مثلا کمزوری کا باعث ہو اس طرح سے کام کو انجام نہ دے سکتا ہو یا اتنی تشنگی کا باعث ہو جو قابل تحمل نہ ہو پس اگر کام کو چھوڑنا یا کویٔی اور کام کرنا ماہ رمضان میں ممکن ہو اور اپنی زندگی کو کسی دوسرے پیسے سے چلا سکتا ہو گر چہ قرض کے ذریعے تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو لازم ہے کہ روزہ رکھے لیکن شدید کمزوری کے احساس کے وقت احتیاط واجب کی بناء پر فقط ضرورت کی مقدار کھانے اور پینے میں حرج نہیں ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر بقیہ دن امساک کرے اور ماہ رمضان کے بعد اس کی قضا بجا لاۓ اور کفارہ اس پر واجب نہیں ہے.
۴۵ سوال: مزدود جس کے لیۓ گرمی میں روزہ رکھنا بہت سخت ہے کیا وہ کھا پی سکتا ہے؟
جواب: اگر روزہ کام کرنے سے مانع ہو جب کہ امرار معاش اور خرچ چلانا اسی کام پر مو‍قوف ہو مثلا اتنا کمزور ہو جاۓ کہ پھر کام کرنے کی طاقت نہ رہے یا بہت زیادہ پیاس یا بھوک لگتی ہو جو قابل تحمل نہ ہو تو اگر ماہ رمضان میں کام چھو‏ڑ کر اپنا خرچ چلانا گر چہ قرض کے ذریعے ممکن ہو تو لازم ہے کہ کام چھوڑ کر رو‍زہ رکھے لیکن اگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو لازم ہے کہ اسی طرح روزہ رکھے اور جب بھی پیاس یا بھوک کا غلبہ ہو تو احتیاج واجب کی بنا پر صرف مقدار ضرورت کھاۓ، پیۓ اور اس سے زیادہ کھانا پینا اشکال رکھتا ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر بقیہ دن کچھ نہ کھاۓ ، اور لازم ہے بعد میں اس کی قضاء بجا لاۓ، اور کفاوہ واجب نہیں ہے۔
۴۶ سوال: گرمی کی شدت میں اسکول اور کالج جانے والے بچوں کے لیۓ روزہ رکھنا واجب ہے؟
جواب: درس کا پڑھنا روزہ نہ رکھنے کے لیۓ عذر نہیں ہو سکتا ، لیکن اگر ایسا فرض ہو کہ درس کا ترک کرنا اس کے لیۓ حد سے زیادہ سختی کا باعث جو معمولا قابل تحمل نہیں ہے، اور روزہ رکھ کے درس پڑھنا ممکن نہ ہو تو روزے کی نیت کرے اور جب بھی پیاس یا بھوک کا غلبہ ہو تو ضرورت کی مقدار کھاۓ پیۓ لیکن سیر ہو کر نہ کھاۓ پیۓ ، اور بعد میں اس کی قضاء بجا لاۓ ، اور کفارہ واجب نہیں ہے ، البتہ ایسا بھی کر سکتا ہے کہ ظہر سے پہلے ۲۲ کیلو میٹر شہر سے باہر جاۓ اور وہاں کیونکہ مسافر ہے کھا‍ۓ پیۓ اور واپس آجاۓ اس دن کا روزہ اس سے ساقط ہے صرف بعد میں قضاء بجا لاۓ۔
۴۷ سوال: بیمار کے لیۓ روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: بیمار کے لیۓ روزہ رکھنا، اگر بیماری کے شدت پیدا کرنے یا اس میں طول یا درد کی شدت کا باعث ہو تو جایز نہیں ہے، البتہ یہ تمام چیزیں اس حد میں ہوں کہ معمولا تحمل نہیں کیا جاتا، فرق نہیں ہے کہ یقین رکھتا ہو یا گمان یا احتمال جو خوف کا باعث ہو ہور اور اس منشا عقلايی ہو،
خواہ طبیب کے تشخیص دینے کے ذریعے ہو یا تجربہ وغیرہ کے ذریعے ہو، اور صحیح ہونے کے بعد قضا بجا لانا لازم ہے، اور کفارہ واجب نہیں ہے، ہاں اگر اس کی بیماری اگلے سال ماہ رمضان تک طول پیدا کرے تو قضا ساقط ہے، اور ہر دن کے بدلے ۷۵۰ گرام ، گیہوں ، آٹا یا چاول دینا کافی ہے، اور یہی حکم اس شخص کے لیۓ ہے جو مریض ہونے کا یقین یا خوف رکھتا ہے۔
لیکن وہ مریض جو روزہ رکھنے سے ضرر کا خوف نہ رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے روزہ رکھے ۔
۴۸ سوال: جس شخص کے لیۓ روزہ رکھنا کمزوری کا باعث ہے وہ روزہ ترک کر سکتا ہے؟
جواب: صرف کمزوری روزہ نہ رکھنے کے جواز کا باعث نہیں ہے، مگر یہ کہ مشقت ( اتنی زیادہ سختی جو معمولا قابل تحمل نہیں ہے) کا باعث ہو تو اس صورت صرف مقدار ضرورت کھانا پینا جایز ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر بقیہ دن امساک کرے اور رمضان کے بعد اس کی قضاء بجا لانا لازم ہے لیکن کفارہ واجب نہیں ہے۔
۴۹ سوال: ضعیف مرد یا عورت جن کے لیۓ روزہ رکھنا سخت ہے کیا ان پر روزہ رکھنا واجب ہے؟
جواب: ضعیف اور ضعیفہ جن کے لیۓ روزہ رکھنا مشقت رکھتا ہے وہ روزے کو ترک کر سکتے ہیں اور ہر دن کے بدلے ایک مد طعام کفارہ دیں، اور قضا بھی واجب نہیں ہے، اور اگر بالکل روزہ رکھنے سے معذور ہو تو کفارہ بھی سا‍قط ہے، اور یہی حکم ذوی العطاش ( جس کو پیاس لگنے کی بیماری ہے) کا ہے اگر روزہ اس کے لیۓ مشقت رکھتا ہو تو نہ رکھے اور ہر دن کے لیۓ ایک مد طعام دے، اور اگر بالکل معذور ہو تو کفارہ بھی ساقط ہے۔
۵۰ سوال: وہ عورت جو حاملہ ہے اس کے لیۓ روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب: وہ عورت جو حاملہ ہے اور اس کے ولادت کے ایام ‍قریب ہیں ( آٹھواں اور نواں مہینہ ہو ) اور روزہ اس کے لیۓ یا اس کے بچے کے لیۓ ضرر رکھتا ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے لیکن بعد میں قضاء کرے اور ہر دن کے بدلے ایک مد طعام( ۷۵۰ گرام گیہوں، آٹا یا چاول) فقیر کو کفارہ دے۔
لیکن وہ حاملہ عورت جس کے ولادت کے آخری مہینے نہ ہوں( پہلے مہینے سے ساتویں کے آخر تک) لیکن روزہ اس کے لیۓ یا اس کے بچے لیۓ ضرر رکھتا ہو یا مشقت کا باعث ہو جو معمولا غیر قابل تحمل ہے تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے ، بعد میں قضا کرے اور کفارہ واجب نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français