مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » سجدہ

۱ سوال: ھم نے سنا ہے کہ دو سجدگاہ؛ ایک کہ اوپر ایک رکھ کر سجدہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے یا کوئ اشکال ہے ! برائے مہربانی وضاحت فرمایئے۔
جواب: ایسا کرنے سے نماز باطل نہیں بلکہ مشکل یہ ہے کہ اگر آپ مسجد،حرم مطہر یا حسینیہ وغیرہ کی وقف کردہ سجدگاہ استعمال کر رہے ہیں تو کیونکہ ایکہ وقف کرنے والوں نے سجدگاہ کو اسلئے وقف کیا ہوتا ہے کہ اسکو سجدہ کرنے کیلیئے استعمال کیا جائے نہ کہ کسی بھہ دوسری غرض کیلیئے جیسا کہ اسلی سجدگاہ کہ صلف بلند کرنے کیلئے ، اب جب آپ دو عدد سجدگاہ استعمال کرینگے تو نچلی سجدگاہ در حقیقت سجدے کیلئے استعمال نہ ہویئ بلکہ اوپر والی سجدگاہ کو بلند کرنے کی غرض میں استعمال ہوئ جو کہ وقفیت کے خلاف ہے لہذہ اس سے اجتناب کیا جائے یہ پھر اپنی شخصی سجدگاہ استعمال کی جایئں۔
۲ سوال: سجدہ گاہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟
جواب: نماز میں سجدہ زمین یا اس سے اگنے والی اشیاء پر ہونا چاہیے، کھانے اور پہننے والی اشیاء پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے، آج کے دور میں چونکہ گھر، مساجد اور ہال وغیرہ میں قالین، فرش یا کارپٹ وغیرہ بچھے ہوتے ہیں جن پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے خاک کی سجدہ گاہ سے استفادہ کرنا چاہیے اور چونکہ سجدے کی جگہ خاص طور پر پاک ہونی چاہیے اس شرط پر عمل کے لیے بھی سجدہ گاہ پر سجدہ کرنا سب سے آسان راستہ ہے، ہاں تربت کربلا پر سجدہ کرنا سب سے افضل ہے۔
۳ سوال: کیا موزیک اور معدنی پتھروں پر سجدہ کرنا جایز ہے؟
جواب: ہاں جایز ہے۔
۴ سوال: کیسیٹ سے تلاوت سنتے وقت سجدہ والی آیت پڑھے جانے کی صورت میں کیا سجدہ واجب ہوگا؟
جواب: نہیں، اس صورت میں سجدہ واجب نہیں ہوگا، لیکن (live) آرہا ہو اور سنے تو سجدہ واجب ہے۔
۵ سوال: سر کے بال پیشانی اور سجدہ گاہ کے درمیان آ جائیں تو کیا اس صورت میں سجدہ صحیح ہوگا؟
جواب: اگر ذکر سجدہ کے بعد متوجہ ہو تو سجدہ صحیح ہے اور اگر ذکر سجدہ سے پہلے متوجہ ہو تو اگر ممکن ہو تو بال کو سجدے کی حالت میں ہٹاۓ اور اگر ممکن نہ ہو تو سجدہ صحیح ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français