مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » سود

۱ سوال: سود کھانے اور سود لینے کا کیا حکم ہے؟
جواب: سود لینا جس طرح سے بھی ہو گناہ کبیرہ اور دنیا اور آخرت کے عذاب کا باعث ہے۔
۲ سوال: تیسرے درجہ کا تین کیلو چاول دے کر پہلے درجہ کا ایک کیلو چاول خریدنا کیا سودی معاملہ میں حساب ہوگا؟
جواب: ہاں سودی معاملہ ہے۔
۳ سوال: قسطوں پر زیادہ پیسے دے کر گاڑی کا بیمہ کرانا، کیا سودی معاملہ حساب کیا جائے گا؟
جواب: یہ سودی معاملہ شمار نہیں ہہوگا۔
۴ سوال: اگر کسی کو ہم پیسہ دیں کے وہ اس سے کام کرے اور ہر مہینے معین مقدار ہم کو دے تو کیا یہ معاملہ سودی ہوگا۔
جواب: اس سے (مضاربہ) کر سکتے ہیں اس معنی میں کے اسے ایک رقم کام کرنے کے لیٔے دیں اور جو فایدہ ہو اس کا کچھ در صد مثلا ۵۰ در صد آپ کو دے لیکن اگر نقصان ہو یا سرمایہ تلف ہو جایۓ تو آپ کے جیب سے گیا ہے مگر یہ کہ اس سے شرط کیا ہو کہ اگر نقصان ہوا تو اپنے ذاتی پیسے سے اسی مقدار میں دے(شرط میں یہی عبارت ہونی چاہیٔے) اور اس کو وکیل بھی بنا سکتے ہیں کہ آپ کی طرف سے ہر مہینے یا ہر سال خود سے مصالحہ کرے کہ آپ کا حصہ اس مقدار سے جو معین کی گیٔی ہے مثلا ایک لاکھ سے مبادلہ کرے اور شرط کریں کے آپ کا حصہ اگر ایک لاکھ سے کم ہو تو اپنے پیسے سے جبران کرے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français