مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » شرط بندی

۱ سوال: حلال شرط بندی کا ذکر کریں؟ کیا آج کل کے رایج کھیلوں جیسے فٹبال وغیرہ میں شرط لگائی جا سکتی ہے؟
جواب: شرط لگانا صرف تیر انداری اور گھوڑے سواری اور آج کل کی جنگی تیاریوں میں جایز ہے جیسے بندوق چلانا وغیرہ، لیکن ٹیلی ویزن پر آنے والی گھوڑ سواری تیر اندازی وغیرہ پر شرط بندی حرام ہے۔
۲ سوال: کیا چھوٹی موٹی اشیاء جیسے کولڈ ڈرینکس وغیرہ پر شرط لگانے میں بھی قباحت ہے؟
جواب: شرط بندی حرام ہے کم چیز پر ہو یا زیادہ۔
۳ سوال: فٹبال کے مسابقات میں جیتنے والی ٹیم کو جو پیسا ملتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر شرط کے ساتھ ہو تو جایز نہیں ہے۔
۴ سوال: ہمیں معلوم ہے کہ شرط لگانا حرام ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ جو ہارے گا وہ اتنی بار صلوات پڑھے گا تو کیا حکم ہے؟
جواب: اس طرح سے حرام نہیں ہے۔
۵ سوال: انسان کا اپنے دوست سے یہ طے کرنا کہ ٹیبل ٹینس میں جو جیتے گا وہ ایک دوسرے کو کولڈ ڈرینک پلائے گا، کس نیت کے ساتھ یہ کام حلال ہو سکتا ہے؟
جواب: اگر شرط بندی کی صورت میں ہو تو جایز نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français