مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » شکار

۱ سوال: اسلحہ سے شکار ہونے والے حیوانات کے حلال ہونے کے کیا شرایط ہیں؟
جواب: ۱۔ گولی اس جانور کے جسم میں شگاف ایجاد کرے۔
۲۔ شکارچی مسلمان ہونا چاہیے۔
۳۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا۔
۴۔ شکار کی نیت سے گولی چلائے۔
۵۔ جب جانور تک پہچے تو وہ مر چکا ہو اور اگر زندہ بھی ہو تو اس کے ذبح کا وقت نہ ہو یا ممکن نہ ہو۔
۲ سوال: اگر حوض کو خالی کرتے وقت کوئی مچلھی مر جائے تو کیا اسے شکار میں شمار کیا جائے گا؟
جواب: اسے شکار نہیں شمار کیا جایۓ گا۔
۳ سوال: کیا مچھلی کو جال میں پھنسا لینا اس کے حلال ہونے کے لیے کافی ہے یا اس کا پانی سے نکالنا ضروری ہے؟
جواب: اگر وہ جال میں مر بھی جائے تو حلال ہے۔
۴ سوال: مچھلی کے شکار کے لیے کیا شکارچی کا مسلمان ہونا ضروری ہے؟
جواب: ضروری نہیں ہے۔
۵ سوال: اگر مچھلی کے بدن پر ہونے والے چھلکے صرف خوردبین سے دکھائی دیتے ہوں تو اس کے شکار کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر عرف میں انہیں اس کے بدن کے چھلکے کہیں جائیں تو عرف کی بات کافی ہوگی۔
۶ سوال: مچھلی کو پانی میں بیہوش کر کے شکار کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حرج نہیں ہے۔
۷ سوال: اگر شکار کی جانے والی مچھلی کے پیٹ سے مردہ مچھلی نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: حرام ہے۔
۸ سوال: شکاری پرندوں کے شکار اور ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب: بذات خود اس کا میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français