مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » صدقہ

۱ سوال: وہ کپڑے جن کی کیفیت اچھی نہ ہو اور استعمال کے لایق نہ ہوں تو کیا انہیں صدقہ میں دیا جا سکتا ہے؟
جواب: صدقہ میں کوئی شرط نہیں ہے، بلکہ کافی ہے کہ وہ سامان قیمت رکھتا ہو البتہ اگر سید کو صدقہ دے رہے ہیں تو اتنا کم نہ ہو کہ اس کی توہیں ہو۔
۲ سوال: اگر لڑکا بالغ و رشید ہو اور اس کا باپ مالدار آدمی ہو مگر اسے پیسے نہ دیتا ہو تو کیا اسے مستحب صدقہ دیا جا سکتا ہے؟ بالغ نہ ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب: مستحب صدقہ میں فقیر ہونا شرط نہیں ہے، ہاں یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ نابالغ انسان صدقہ نہیں لے سکتا، اس کا ولی لے سکتا ہے۔
۳ سوال: کیا مستحب صدقے کسی غریب سید کو دیٔے جا سکتے ہیں؟
جواب: جایز ہے، لیکن اتنا کم نہ ہو کے سید کی توہین شمار ہو ۔
۴ سوال: آپ کی نظر میں کیا صدقے کے پیسے، امام باڑوں اور امدادی اداروں کی تعمیر، مذھبی کتب خانوں کی تاسیس اور کتب کی طباعت و نشر کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟
جواب: نہیں کر سکتے، مگر یہ کہ یقین ہو کہ اس کا مالک راضی ہے۔
۵ سوال: کیا صدقے کے پیسے سے بچہ کا علاج کرایا جا سکتا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۶ سوال: کیا امام باڑہ کی تعمیر میں صدقہ سے مدد کی جا سکتی ہے؟
جواب: وہ صدقہ جو فقیروں کے لیے جمع کیا گیا ہو، امام باڑے میں نہیں دیا جا سکتا۔
۷ سوال: صدقہ کا پیسہ نکال کر ڈبے میں رکھنا کافی ہے۔
جواب: اگر انسان اپنے صدقے کو کسی ڈبے وغیرہ میں جمع کرے تو ایسا کرنے سے مال اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوگا، ہاں اگر کوئي ایسی صندوق ہو جو عموم افراد کے لیۓ ہو کے اپنے صدقات اس میں ڈالیں اور کسی معین جہت میں استعمال کیا جاتا ہو تو یہ مال اس کی ملکیت سے خارج ہو جاۓ گا اور اس جہت کے ليۓ ہو جاۓ گا جس کے ليۓ صندوق کو رکھا گیا ہے ، اور اسے دوسرے جہت میں خرچ کرنا جایز نہیں ہے
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français