مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » صلہ رحم

۱ سوال: صلہ رحم میں رحم سے مراد کون سے رشتے دار ہیں اور صلہ رحم کی حد کیا ہے؟
جواب: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسان کے رحم میں شریک ہیں اور اس کے اعزاء میں شمار ہوتے ہیں، یہی سبب ہے کہ اس میں سببی اور دور کے نسبی رشتے دار شامل نہیں ہیں۔ واجب صلہ رحم یہ ہے کہ اگر انہیں ضرروت ہو تو جس طرح سے بھی ہو سکے ان سے نیکی اور احسان کرے مثلا بیماری میں عیادت کرے، دعوت کریں تو اسے قبول کرے، ملاقات ہونے پر مزاج پرسی کرے اور اگر پیسوں کا تقاضا کریں تو ان کی مدد کرے وغیرہ۔
۲ سوال: کیا صلہ رحم کرنا واجب ہے؟ اگر صلہ رحم غیبت یا کسی دوسرے حرام کے ارتکاب کا سبب ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: صلہ رحم واجب ہے اور قطع رحم حرام ہے، صلہ رحم اعزاء و اقارب سے نیکی اور احسان کرنا ہے، اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ان کی بزم میں شریک ہوا جائے اور اگر شرکت گناہ کا سبب ہو تو جایز نہیں ہے۔
۳ سوال: بے دین اور گناہگار رشتہ داروں سے صلہ رحم کرنے کا کیا حکم ہے؟ یا انہیں بھول جانا چاہیے اورا گر ہمارے سامنے کوئی گناہ انجام دیں تو کیا حکم ہے؟
جواب: صلہ رحم ترک نہیں ہونا چاہیے، ہاں صلہ رحم کا مطلب صرف ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا نہیں ہے بلکہ بالکل ناطہ توڑ لینا ہے، اور ہر حال میں ان کی ھدایت کے لیٔے کوشاں رہنا چاہیے۔
۴ سوال: اگر کوئی مجھ سے بات کرنا یا ملنا نہیں چاہتا ہو تو کیا پھر بھی میرے لیٔے اس سے صلہ رحم کرنا واجب ہوگا؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دوں؟
جواب: آپ اس سے اپنا رابطہ ختم نہ کریں، ملاقات کے وقت سلام کریں، مزاج پرسی کریں، اگر مریض ہو جائے تو اس کی عیادت کریں اور اگر ضرروت مند ہو جائے تو اس کی مدد کرنا ایسے انسان سے صلہ رحم کے لیے کافی ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français