مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » عقیقہ

۱ سوال: عقیقہ کے احکام بیان کریں؟
جواب: اولاد (بیٹا اور بیٹی) کا عقیقہ کرنا مستحب ہے ، اور مستحب ہے کہ ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیا جاۓ اورکسی وجہ سے یا بغیر کسی وجہ کہ تاخیر کرنے سے عقیقہ ساقط نہیں ہوجاتا، بلکہ اگر اسکا عقیقہ نہ ہو اور وہ بالغ ہو جاۓ اور بڑا ہو جاۓ اپنی طرف سے خود عقیقہ کرے، اور خود اپنی زندگی میں اپنا عقیقہ نہ کرے تو اشکال نہیں ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کا عقیقہ کرے، اور ضروری ہے کہ عقیقہ اونٹ یا گاۓ یا دنبے یا بکرے کا ہو، اور یہ کافی نہیں ہوگا کہ اس کی طرف سے قیمت ادا کی جاۓ لیکن اس کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔
اور مستحب ہے کہ عقیقہ کا جانور موٹا تازہ ہو اور بعض روایات میں آیا ہے کہ (ان میں سب سے موٹا، بہترین ہے)، اور جو شرائط قربانی کے جانور کے لے آئی ہیں وہ عقیقہ کے کے ضروری نہیں ہیں۔
سزاوار(بہتر ) ہے کہ عقیقہ کا گوشت بغیر ہڈی ٹوٹے ہوے کاٹا جاۓ،اور مستحب ہے کہ عقیقہ کا ۱/۴ گوشت داعی کو دیا جاۓ جس میں جانور کی ران اور پیر شامل ہوں۔ اور چاہیں تو عقیقہ کا گوشت پکا کر یا کچا تقسیم کریں، اور یہ بھی جایز ہے کہ پکایا جاے اوراس میں سے تھوڑا بہت مومنین کو دعوت دی جاے، اور بہتر ہے کہ دس افراد یا اس سے زیادہ اس میں سے کھائیں اور بچے کے لیے دعا کریں اور مکروہ ہے کہ باپ یا جو اس کی کفالت میں ہوں اس میں سے کھائیں ، اور اسی طرح بچے کی ماں بلکہ احتیاط مستحب ہے کہ اس میں سے نہ کھائیں،اور ایک عقیقہ فقط ایک (انسان ) کا شمار ہو گا۔
۲ سوال: کیا عورت گھر کے اخراجات میں سے اپنا عقیقہ کر سکتی ہے؟
جواب: اگر شوہر راضی ہے تو ایسا کر سکتی ہے۔
۳ سوال: پاب کس طرح سے بچے کے لیے بکرے کا عقیقہ کر سکتا ہے؟
جواب: بکرے کو صرف عقیقہ کی نیت سے قربانی کے لیے ذبح کر دینا کافی ہے اور کچھ مستحبات عقیقہ کے لیے کتابوں اور توضیح المسائل میں ذکر ہوئے ہیں، ان پر عمل کر سکتا ہے۔
۴ سوال: کیا بچے کے عقیقے کا گوشت اس کے والدین کھا سکتے ہیں؟
جواب: باپ اور جو افراد اس کے نان خوار ہیں ان کے لیے عقیقہ کا گو‎‎شت کا کھانا مکروہ ہے مخصوصا احتیاط مستحب ہے کہ بچے کی ماں اس گوشت سے نہ کھاۓ۔
۵ سوال: کیا عقیقہ واجب ہے؟
جواب: عقیقہ مستحب ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français