مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » غیبت

۱ سوال: میری ماں کا میرے سامنے میرے بھائی کی برائی کرنا غیبت ہے؟
جواب: اگر ایسا عیب ہے جو دوسروں سے چھپا ہے تو غیبت ہے۔
۲ سوال: جن لوگوں کی غیبتیں کر چکا ہوں، ان تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں حکم کیا ہے؟
جواب: آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ توبہ کریں۔
۳ سوال: غیبت و تہمت کے بارے مین توضیح دیں؟
جواب: غیبت دوسروں کے چھپے ہوئے عیب ظاہر کرنے کو کہتے ہیں جبکہ تہمت کسی کی طرف ناروا اور جھوٹی بات کی نسبت دینا ہے۔
۴ سوال: کس طرح کی باتیں غیبت مین شمار ہوتی ہیں؟ کیا غیبت کرنے والے کو نہی کرنا ضروری ہے اور جس کی غیبت ہو رہی ہو اس کا دفاع کرنا چاہیے؟
جواب: دوسروں کے چھپے ہوئے عیب کو ظاہر کرنا غیبت کہلاتا ہے، غیبت کرنے والا حرام کا ارتکاب کرتا ہے اسے نہی کرنا چاہیے اور جس کی غیبت ہو رہی ہے اس کی طرف سے دفاع کرے۔
۵ سوال: فاسق کسے کہتے ہیں اور اس کی غیبت کا کیا حکم ہے؟
جواب: فاسق معصیت اور گناہ کرنے والے کو کہتے ہیں، لیکن ہر فاسق کی غیبت کرنا جایز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ایسے گناہ کا ارتکاب کر رہا ہو جس کے بعد اس کی غیبت کرنا جایز ہو۔
۶ سوال: اگر کوئی ہم سے کسی شخص کے اخلاق و خصوصیات کے بارے میں سوال کرے تو کیا جواب دینا غیبت حساب ہوگا؟
جواب: اگر وہ کسی خاص امر میں مشورہ کرنا چاہتا ہے جسیے شادی وغیرہ تو ان موارد میں اس کی غیبت کرنا جایز ہے۔
۷ سوال: اگر میں نے کسی کی غیبت کی ہو اور حلالیت طلب کرنے کے لیٔے وہ دسترس میں نہ ہو تو میرا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: توبہ کر لینا کافی ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français