مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » فطرہ

۱ سوال: ایک شخص نے رسٹورینٹ میں لوگوں کی دعوت کی اس بات سے بے خبر کہ کل عید ہے، دعوت کے بعد معلوم ہوا کہ شب عید تھی تو کیا مہمانوں کا فطرہ میزبان کے ذمہ ہے؟
جواب: مہمانوں کا فطرہ اس سوال کے مطابق میزبان کے ذمہ نہیں ہے۔
۲ سوال: وہ خیراتی اور امدادی مراکز جو غریب و نادار گھرانوں کی کفالت کے لیے لوگوں سے فطرہ وغیرہ کی رقمیں لیتے ہیں کیا وہ انہیں دوسرے تجارتی کاموں میں جیسے میڈیکل اسٹور، ہاسپیٹل، کھانے پینے کی اشیاء کے لیے خرچ کر کے اس کے سود سے ایسے گھرانوں کی مدد کر سکتے ہیں؟
جواب: احتیاط واجب کی بناء پر فطرہ صرف فقیروں کو دیا جا سکتا ہے۔۔
۳ سوال: شب عید فطرہ الگ کر دینے بعد اگر اس سے گم ہو جائے یا خرچ ہو جائے تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: الگ کرنے کے بعد استعمال کرنا جایز نہیں ہے، اس کے بدلے دوبارہ فطرہ نکالنا واجب ہے، احتیاط واجب کی بناء پر قربت کی نیت کرے گا۔
۴ سوال: کیا سید کو زکات فطرہ دیا جا سکتا ہے؟
جواب: سید کا فطرہ سید کو دیا جا سکتا ہے۔
۵ سوال: اگر کوئی شخص عید سے پہلے اپنے شہر سے دوسرے شہر جائے اور کسی کا مہمان ہو جائے تو اس کا فطرہ اس کے ذمہ واجب ہے یا میزبان کے ذمہ؟
جواب: اگر عید کی شب میں اس کے گھر پر رہے اور اس کا مہمان شمار کیا جائے تو اس کا فطرہ میزبان پر واجب ہے۔
۶ سوال: اگر ماہ مبارک رمضان کی آخری شب میں کوئی شخص اچانک مہمان داری میں چلا جائے تو کیا میزبان پر اس کا فطرہ واجب ہو جائے گا؟
جواب: میزبان پر واجب ہیکہ اس مہمان کا فطرہ ۔ جو شب عید فطر غروب سے پہلے آیا ہے اور اس کا نان خوار گر چہ وقتی طور پر شمار ہو- ادا کرے
مثلا وہ مہمان جو شب عید فطر غروب سے پہلے انسان کے یہاں آ‏ئے اور میزبان اس کے لیے سارے آسایش کے لازم اسباب فراہم کرے تو گر چہ مہمان کچھ نہ کھاۓ یا اپنے کھانے سے افطار کرے، میزبان پر واجب ہے کہ اس کا فطرہ کرے۔
اور اگر مہمان شب عید فطر غروب کے بعد وارد ہو اور اس کا نان خوار گر چہ موقتا شمار ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر میزبان اور میہمان دونوں میہمان کا فطرہ ادا کریں، البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے وکالت لے کر ایک فطرہ ادا کرے تو دونو کی طرف کافی ہے۔
لیکن وہ مہمان جو عید فطر کی شب ‎صرف افطار کے ليے دعوت ہوا ہے اس پر نان خوار ہونا صادق نہیں آتا اس ليے اس کا فطرہ میزبان پر نہیں ہے۔
۷ سوال: فطرہ کن افراد پر اور کن چیزوں پر واجب ہے؟
جواب: عید الفطر کی (چاند) رات غروب آفتاب کے وقت جو شخص بالغ اور عاقل ہو اور نہ تو فقیر ہو نہ ہی کسی دوسرے کا غلام ہو ضروری ہے کہ اپنے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو اس کے ہاں کھانا کھاتے ہوں ہر شخص کے لیے ایک صاع جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تقریباً تین کلو ہوتا ہے ان غذاوں میں سے جو اس کے شہر (یا علاقے) میں استعمال ہوتی ہوں مثلاً گیہوں، آٹا، چاول وغیرہ مستحق شخص کو دے اور اگر ان کے بجائے ان کی قیمت نقد پیسے کی شکل میں دے تب بھی کافی ہے، اور احتیاط لازم یہ ہے کہ جو غذا اس کے شہر میں عام طور پر استعمال نہ ہوتی ہو نہ دے۔
۸ سوال: فطرہ کن افراد کو دیا جا‎ۓ؟
جواب: مندرجہ ذیل شرایط رکھنے والے افراد کو دیا جاۓ
۱۔ مومن ہو
۲۔ لینے والا اسے حرام میں خرچ نہ کرے پس اگر گناہ میں خرچ کرے تو نہ دیا جاۓ بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر اگر اس کو دینا گناہ اور اور قبیح کاموں میں مدد شمار ہو تو بھی نہ دیا جاۓ، گر چہ حرام میں خرچ نہ کرے اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر جو شخص نماز نہیں پڑھتا ، یا شراب پیتا ہے، یا کھلے عام گناہ کرتا ہو اسے بھی نہ دیا جاۓ۔
۳۔ اس کا خرچ فطرہ دینے والے پر واجب نہ ہو جیسے، فرزند، والدین، دائمی زوجہ
لیکن اگر خود ان افراد پر کسی کا نفقہ واجب ہو تو اسے دیا جا سکتا ہے، مثلا والد کی کوئي دوسری بیوی ہو جس کا خرچ والد پر واجب ہے اسے دے سکتے ہیں۔
۴۔سید نہ ہو پس سید کو زکات فطرہ نہیں دیا جا سکتا ، ہاں اگر دینے والا خود سید ہو تو سید کو دے سکتا ہے۔
۹ سوال: فطرہ کس وقت نکالنا لازم ہے؟
جواب: جو شخص نماز عید پڑھنا چاہتا ہے احتیاط واجب کی بنا پر فطرہ نماز سے پہلے ادا کرے ، لیکن جو شخص نما‍‍ز عید نہیں پڑھنا چاہتا وہ فطرہ دینے میں عید کے دن اذان ظہر تک تاخیر کر سکتا ہے۔
۱۰ سوال: اگر فطرہ نکالنا بھول جایں تو کیا کریں؟
جواب: اگر مکلف جان بوجھ کر یا بھولے فطرہ عید کے دن ظہر سے پہلے جدا نہ کرے احتیاط لازم کی بنا پر اس کا واجب ہونا ساقط نہیں ہوگا بلکہ اسے قربت مطلقہ کے قصد سے ادا اور قضا کی نیت کیۓ بغیر غریب کو دے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français