مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » قرائت

۱ سوال: میں ڈیڑھ سال پہلے بالغ ہوا ہوں اور تین ماہ سے تقلید کر رہا ہوں۔ اس ڈہڑھ سال میں ہمارے اسکول کے ایک ٹیچر یہ بات کہتے تھے کہ نماز عربی تلفظ کے بغیر بھی صحیح ہے (جبکہ مجھے آپ کا فتوی نہیں معلوم تھا) گزشتہ چھ سات ماہ سے میں ان کی بات پر عمل کر رہا تھا اس سے پہلے مجھے مسئلہ معلوم نہیں تھا، اب میرا وظیفہ کیا ہے؟
جواب: قراءت صحیح ہونا ضروری ہے اگر آپ نے اپنے استاد کی بات پر اعتماد کیا ہے تو آپ کو گزشتہ نمازوں کی قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔
۲ سوال: کیا واجب نماز کے قنوت کے بعد فارسی یا کسی دوسری زبان میں دعا پڑھنا جایز ہے؟
جواب: ہاں جایز ہے۔
۳ سوال: کیا نماز میں سورہ توحید کی جگہ سورہ حمد پڑھا جا سکتا ہے؟
جواب: نہیں پڑھ سکتے ہیں۔
۴ سوال: کیا مرد کو نماز بلند آواز سے پڑھنی چاہیے؟
جواب: احتیاط واجب کی بناء پر صبح، مغرب اور عشاء کی نماز بلند آواز سے پڑھنی چاہیے۔
۵ سوال: کیا نماز صحیح عربی تلفظ کے ساتھ پڑھنا واجب ہے؟
جواب: ہاں واجب ہے۔
۶ سوال: اگر نماز پڑھتے ہوئے قراءت کے وقت کوئی نا محرم اس کی آواز سن رہا ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی آواز کو اس طرح نازک اور خوبصورت نہ بناۓ کے معمولا ہیجان آور ہو۔
۷ سوال: ہماری مسجد کے امام لہجہ کی وجہ سے یوم کو یووم پڑھتے ہیں، جبکہ میرا لہجہ عربی اور قراءت صحیح ہے کیا میرے لیے ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: امام کی عدالت اور صحیح قراءت کا اطمینان کرنا ضروری ہے۔
۸ سوال: قراءت قرآن مجید میں حروف کے تلفظ میں اخفاء کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس کی رعایت نماز میں ضروری ہے؟
جواب: یہ ادغام ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر ایسا تجوید کے قواعد کا تقاضا ہو تو صحیح ہے لیکن نماز میں تجوید کے قواعد کی رعایت کرنا ضروری نہیں ہے، صرف قراءت کا صحیح ہونا کافی ہے۔
۹ سوال: نہاتے وقت قرآن پڑھنے اور سننے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حرج نہیں ہے۔
۱۰ سوال: کیا سورہ قریش و فیل اور الم نشرح و ضحی ایک ہی سورہ حساب ہوتے ہیں؟
جواب: احتیاط واجب کی بناء پر نماز میں ان میں سے ایک کے پڑھنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ دونوں پڑھنا چاہیے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français