مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » قضا روزے

۱ سوال: ماہ مبارک کے قضا روزے میں اگر بھولے سے (ظھر سے پہلے یا بعد) کچھ کھا لے اور قضا کے لیے وقت بھی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: بھولے سے کھا لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
۲ سوال: میت کے لیٔے نماز روزے کی قضا کئی لوگ ایک ساتھ کر سکتے ہیں؟ (مثلا دس سال کے نماز روزے ۵ لوگ ایک ساتھ دو دو سال کے لیے رکھ لیں)
جواب: ہاں کئی لوگ ایک ساتھ ایسا کر سکتے ہیں، اس کے لیے ترتیب ضروری نہیں ہے۔
۳ سوال: جس کے ذمے روزہ باقی ہو اور پورا سال گزرنے کے باوجود وہ نہ رکھ سکا ہو تو کیا وہ اس کے بدلے ساٹھ دن تک کوئی دوسرا کام انجام دے سکتا ہے؟
جواب: ہر اس دن کے بدلے جسمیں جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا ہے۔ ساٹھ فقیر کو کھانا کھلائے یا انھیں سب کو سات سو پچاس گرام گیھوں، روٹی، چاول وغیرہ دے۔
۴ سوال: ایک ہفتے سے کم کے سفر میں قضا روزوں کی قضا کی جا سکتی ہے؟
جواب: جس سفر میں نماز قصر ہے اس میں روزہ نہیں رکھ سکتے۔
۵ سوال: جس شخص پر قضا روزہ واجب ہے وہ مسحب روزہ رکھ سکتا ہے ؟
جواب: جس کے ذمے ماہ مبارک کے روزے ہوں اس کے لیے مستحب روزے رکھنا صحیح نہیں ہے، اس کا روزہ باطل ہے۔
۶ سوال: میری ماں کے ذمے کچھ قضا روزہ ہے، ماہ مبارک رمضان کے روزے بڑی مشکل سے رکھتی ہیں لیکن ان روزوں کے رکھنے کی طاقت (بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے) ان میں نہیں ہے، کیا میں ان کی اولاد ہونے کے ناطے (ان کی زندگی میں) ان کے روزے رکھ سکتی ہوں؟
جواب: ان کی زندگی میں جایز نہیں ہے۔
۷ سوال: کوئی محتلم شخص نماز اور روزہ رکھ رہا ہو جبکہ اسے خبر نہ ہو کہ وہ محتلم ہے، کچھ دن کے بعد معلوم ہو کہ وہ محتلم تھا، تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: روزے صحیح ہیں، نمازوں کی قضا کرےگا۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français