مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » کمپیوٹر

۱ سوال: ایرانی یا خارجی سافٹ ویر کی کاپی کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر خلاف قانون نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۲ سوال: میرے پاس قرآن کے ایرانی سافٹ ویر کی ایک کاپی ہے، جس کے جدید ایڈیشن بھی بازار میں آ چکے ہیں، کیا میں اس کاپی شدہ نسخہ سے استفادہ کر سکتا ہوں؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۳ سوال: کیا لاک توڑی جا چکی سی ڈی یا پروگرام سے کاپی کرنا جایز ہے؟
جواب: اگر خلاف قانون نہ ہو تو جایز ہے۔
۴ سوال: کیا مبتذل سی ڈی کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر توڑا یا فنی طور پر خراب کیا جا سکتا ہے؟
جواب: اگر نہی عن المنکر کے لیے مال غیر کو تلف یا خراب کرنا لازم ہو جائے تو احتیاط واجب کی بناء پر حاکم شرع سے اجازت لینا ضروری ہے۔
۵ سوال: کیا کسی کو رائٹ کرنے کے لیے سی ڈی دینا صحیح ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ قانونی اعتبار سے ممنوع ہو۔
۶ سوال: وہ مذھبی سی ڈی جس پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کو رائٹ کرنا شرعا حرام ہے، انہیں کاپی کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس کاپی سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر قانونی اعتبار سے ممنوع نہ ہو تو جایز ہے۔
۷ سوال: شطرنج و چوسر وغیرہ جیسے کھیل جن میں شرطیں لگائی جاتی ہیں، کیا کمپیوٹر پر کھلیے جا سکتے ہیں؟
جواب: احتیاط واجب کی بناء پر جایز نہیں ہیں۔
۸ سوال: اس بات کے مد نظر کہ کمپیوٹر سے دینی و علمی استفادہ بھی کیا سکتا ہے اور غیر اخلاقی بھی، اس کو روزی کا ذریعہ بنانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کا بیچنا جایز ہے۔
۹ سوال: کمپیوٹر پر تاش کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حرام ہے۔
۱۰ سوال: انٹر نیٹ کی غیر اخلاقی سائٹوں سے مفسدہ اور گناہ میں پڑنے کے احتمال کے ساتھ کیا نوجوانوں کو کمپیوٹر دلانا جایز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر ان کے گناہ اور فساد میں پڑنے کا خوف ہو تو جایز نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français