مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » مار پیٹ

۱ سوال: قرآن کریم میں مرد کے لیے عورت کی پٹائی کو جایز قرار دیا گیا ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ ایسا کس صورت میں ہے دوسرے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: یہ فقط اس صورت میں ہے جب بیوی حق استمتاع سے انکار کرے، پہلے اسے سمجھائے اور فایدہ نہ ہو تو مرد اس سے دوری کرے اور ہو جائے اور دوسری جگہ پر سونا شروع کرے اور اگر اس کا بھی اثر نہ ہو تو اگر مارنے سے سدھرنے کا امکان ہو تو مار سکتا ہے بہ شرط کے سرخ یا کبود یا سیاہ نہ پڑے اور مارنا انتقام کے لیٔے بھی نہ ہو.
۲ سوال: کیا بچوں کو مارنا پیٹنا جایز ہے؟
جواب:
اگر بچے کوئی فعل حرام انجام دیں یا کسی کو اذیت پہنچائیں، تو ولی یا اسکے اجازت یافتہ شخص کے علاوہ کسی کو بھی ادب سکھانے کے لیئے مارنے پیٹنے کا جواز نہیں ہے۔اور ولی یا اسکے اجازت یافتہ شخص کہ لیئے تادیب کی خاطر ہلکی و غیر مبرح (زخمی ) نہ کرنے والی پٹائی جو کہ بچے کی جلد کی سرخی کا سبب نہ بنے،جایز ہے بشرط کہ ۳ تین ضربوں سے زیادہ نہ ہوں، یہ بھی جب کہ ادب سکھانا پٹائی پر ہی موقوف ہو ۔بس اس بناء پر بڑے بھائی کے لیئے چھوٹے بھائی کی پٹائی کرنا جایز نہیں مگر یہ کہ بڑا بھائی اس بچے کے ولی سے اجازت رکہتا ہو،اور اسی طرح مدرسے یا اسکول میں پٹائی ہرگز جایز نہیں ہے مگر یہ کہ اسکے ولی کی اجازت ہو۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français