مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » میکپ

۱ سوال: کچھ بیوٹی پارلرز کو کام کے لیٔے لڑکیوں کی ضرورت ہے کیا ایک مسلمان عورت ایسی جگہ پر کام کر سکتی ہے؟ اور ایسی مسلمان و غیر مسلمان لڑکیوں کا میکپ کر سکتی ہیں جو نامحرم میں ظاہر ہوتی ہیں؟
جواب: بذات خود حرام نہیں ہے۔
۲ سوال: چہرہ نہ چھپانے والی عورت کے لیٔے، چہرے اور ابرو کے بال بنوانا اور اس پر ہلکہ سا طبیعی پوڈر لگانا کیسا ہے؟
جواب: چہرہ اور ابرو کے بال بنوا کر چہرہ کھلا رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ حرام سے محفوظ رہ سکے اور چہرہ کھلا رکھنا دوسرے کو گناہ میں ڈالنے کے قصد سے نہ ہو، اور پوڈر اگر اتنا کم ہو کہ عرفا زینت شمار نہ ہو تو جایز ہے۔
۳ سوال: بالوں یا اس کے کچھ حصہ میں رنگ لگا کر خواتین کی محفلوں میں شادی کے لیے پسند کیٔے جانے کی نیت سے جانا، کیا جایز ہے؟
جواب: اگر ایسا صرف خوب صورت لگنے کے لیے ہو، فریب و عیب پوشی اور کم عمر نظر آنے کے لیے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۴ سوال: مغربی ممالک میں آنکھوں میں لیز لگانا معمول ہو گیا ہے، کیا خوب صورتی اور باہر آنے جانے کے لیے ایسا کرنا جایز ہے؟
جواب: اگر اس کا شمار زینت میں کیا جاتا ہو تو جایز نہیں ہے۔
۵ سوال: خوبصورتی اور عورتوں کی محفلوں میں اپنے رشتہ اور ان کی نظروں میں آنے کے لیے ویگ لگانا، کیا جایز ہے؟ اور کیا ایسا کام عیب پوشی میں شمار ہوگا؟
جواب: اگر صرف خوب صورتی کے لیٔے ایسا کیا جائے، رشتے کے لیٔے دھوکہ اور عیب پوشی کی نیت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۶ سوال: کیا میکپ کیٔے ہوئے چہرے کو چھپانا، جبکہ میکپ ظاہر نہ ہو اور چہرہ طبیعی حالت میں معلوم ہو، ضروری ہے؟
جواب: اگر وہ زینت میں شمار نہ ہو تو اس کا چھپانا لازم نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français