مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » ہاتھ ملانا

۱ سوال: کیا گیلے ہاتھ سے کسی کافر یا اہل کتاب سے ہاتھ ملایا جا سکتا ہے؟
جواب: اگر یقین ہو کہ کافر غیر کتابی( عیسایٔی، یہودی و زرتشت کے علاوہ) ہے تو ہاتھ نجس ہو جاۓ گا۔
۲ سوال: مرد کا عورت اور عورت کا مرد سے ہاتھ ملانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر حائل یا دستانہ نہ ہو تو حرام ہے۔
۳ سوال: ایسی نامحرم عورتوں سے ہاتھ ملانا، جو ہاتھ نہ ملانے کو ایک طرح کی توہین محسوس کرتی ہیں، کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: جایز نہیں ہے مگر حائل یا دستانے کے ساتھ ۔
۴ سوال: کیا کافر عورتوں سے ہاتھ ملانا حرام ہے؟
جواب: ہاں، حرام ہے۔
۵ سوال: سلام میں ابتدا کرنے والی لڑکی یا عورت سے ہاتھ ملانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: حرام ہے۔
۶ سوال: کسی نامحرم عورت سے ہاتھ ملانے کا کیا حکم ہے جبکہ منع کرنے کی صورت میں ان کی ناراضگی اور قطع رابطہ یا والدین کے اعتراض کا سبب ہو سکتا ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: نامحرم سے ہاتھ ملانا جایز نہیں ہے ہاں اگر کسی حائل یا دستانے کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
۷ سوال: مغربی ممالک میں ہاتھ ملانا ایک طرح سے سلام کرنے کے مترادف ہے، کبھی ہاتھ نہ ملانا کام یا اسکول سے اخراج کا سبب بن جاتا ہے تو کیا ان حالات میں استثنائی طور پر مسلمان مرد یا عورت ہاتھ ملا سکتے ہیں؟
جواب: اگر کسی بڑے نقصان کا خطرہ ہو اور دستانوں وغیرہ سے بھی اس مشکل سے نجات نہ مل سکتی ہو تو ہاتھ ملا سکتے ہیں۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français