مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » ارشادات برائے زیارت امام حسین ؑ بروز چہلم

۱ سوال: ارشادات برائے زیارت امام حسین ؑ بروز چہلم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
جناب مرجع دینی ِبزرگوار،محترم سید السیستانی(مدظلہ)
السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ ۔۔اللہ آپ کو مصیبت امام حسین ؑ میں اجر عظیم عطاء فرمائے۔
اب جبکہ ہم لوگ چہلم امام مظلوم سید شہداء علیہ سلام کی مناسبت سے کربلاء مقدسہ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں تو اس سلسلے میں آپ کے پدرانہ ارشادات کے محتاج ہیں جو خاص طور پر اس مناسبت کے لیے ہو تاکہ اس زیارت کا فائدہ برتر اور اجر عظیم تر ہوجائے اور جن امور سے ہم غافل ہیں یا جن چیزوں کے اجر و ثواب کو ہم نہ جانتے ہوں ان کے بارے میں ایک تنبیہ ہو جائے ساتھ ہی ہم امید کرتے ہیں کے یہ ارشادات معاشرے کے ہر طبقےکے افراد کے لیے ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپکے وجود مبارک کی نعمت تا دیرباقی رکھے۔
از طرف مجموعہ مومنین۔
جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد و آلہ الطاہرین۔
بعد از آں جن مومنین کو اللہ تعالی نے اس زیارت ِشریفہ کی توفیق دی ہےانہیں اس بات کی طرف ملتفت ہونا چاہیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے انبیاء و اوصیاء قرار دیے تاکہ وہ لوگوں کے لیے اسوہ و نمونہ عمل اور ان پر اللہ کی حجت قرار پائیں اور ایسا اس لیے کہ لوگ انکے افعال کی اقتداء کرتے ہوئے انکی تعلیمات سے ہدایت حاصل کریں اور اسی نے ان کے ذکر کو باقی رکہنے اور ان کے مقام و منزلت کو بلند رکہنے کے لیے ان کی زیارت کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی تاکہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ اور اسکی تعلیمات و احکام کا تذکرہ باقی ر ہے۔ اور بیشک یہی انبیاء و اوصیاء علیہم السلام ہیں کہ جو پروردگار کی اطاعت،اسکی راہ میں جہاد کرنے اور اس کے دین ِقویم کی خاطر قربانی دینے میں مثل اعلیٰ ہیں۔
اسی بنا پر اس زیارت کے تقاضوں میں سے ہے کہ امام حسین ؑ کی فی سبیل اللہ قربانی کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ دین حنیف کی تعلیمات جیسا کہ نماز،حجاب،اصلاح،عفو و درگزر حلم،ادب،حرمات الطریق(عام راستوں پر حق عام کا خیال رکہنا) اور دیگر تمام اعلیٰ معانی کی مراعات ہونی چاہیے،تاکہ یہ زیارت بفضل خداوند تعالیٰ ان اچھے آداب و اقدار کی تربیت دینے کے لیے ایک ایسا قدم ہو سکے جسغکے آثار دائمی و تا دیر برقرار رہیں حتی کہ مستقبل میں آنے والی زیارتوں کے لیے بھی یادگار رہیں اور یہاں یہ واضح رہے کہ ان زیارتوں میں حاضر ہونا خود امام (ع) کی مجالس تعلیم و تربیت میں حاضر ہونے جیسا ہے۔
ہمیں اگرچہ دورِ حضور آئمۃ اہل بیت ؑتو حاصل نہیں ہوا کہ ہم خود ان سے سیکھتے اور تربیت حاصل کرتے اور ان کے دست مبارک سے پرورش پاتے، مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انکی تعلیمات اور ان کے موقف کو محفوظ فرمایا اور ہمیں انکے مشاہد و مزارات کی زیارت کا شوق عطاء کیا تاکہ وہ ہمارے لیے روشن مثالیں قرار پائیں اور ساتھ ہی اس زیارت کے ذریعے ہمارے اس دعوے کی سچائی کا امتحان بھی مقصود ہے کہ جو ہم ان حضرات کی محبت کی تمنیٰ کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم انکی تعلیمات و موعظۃ کو کس قدر قبول کرتے ہیں جیسا کہ پروردگار نے آئمۃ ؑ کے ساتھ رہنے والوں کا امتحان لیا تھا ۔
اب ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ کہیں ہمارا شوق حقیقت میں غیر صادق تو نہیں، ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگر ہم ویسے ہی بن جائیں کہ جیسا اہل بیت ؑ چاہتے ہیں تو امید ہے کہ ہم بھی ان کے ساتھ زندگی گزارنے والے ساتھیوں میں ہی محشور ہوں گے۔
جناب امیر المومنین ؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب آپ ؑ نے جنگ جمل کہ موقع پر فرمایا:(یقیناً ہمارے ساتھ اسوقت وہ لوگ بھی حاضر ہیں کہ جو ابھی تک مردوں کے اصلاب اور عورتوں کےارحام میں موجود ہیں)۔ پس ہم میں سے جو بھی تمناء اہل بیت ؑ میں سچا ہوگا اسکے لیے دشوار نہ ہوگا کہ تعلیمات اہل بیت ؑ پر عمل کرے اور انہی کی اقتداء کرے تاکہ وہ ان حضرات کی پاکیزگی سے تذکیہ حاصل کرے اور ان کے آداب سے آراستہ ہو جائے۔
اللہ اللہ نماز کا خیال کیا جائے!!جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا کہ یہ عمود (ستون) دین اور معراج مومنین ہے اگر یہ قبول ہوگئی تو باقی سب بھی قبول ہوگا اور اگر یہ رد ہوگئی تو پھر باقی سب اعمال رد ہوجائیں گے،مناسب ہے کہ نماز کی پابندی اول وقت میں کی جائے،چوں کہ اللہ کامحبوب ترین بندہ وہ ہے جو اسکی نداء پر سب سے پہلے لبیک کہے۔اور یہ ہرگز مناسب نہیں کہ مومن اول وقت نماز میں کسی اور اطاعت گزاری کے کام میں مشغول ہو۔یہ نماز سب سے افضل اطاعت ہے۔اور اہل بیت ؑ سے وارد ہوا ہے کے (ہماری شفاعت ان لوگوں کو نہ ملے گی جو نماز کو معمولی جانتےہوں)۔اورخود امام حسین ؑ بھی یوم عاشوراء بھی نماز کا خاص خیال کرتے ہوے نظر آتے ہیں یہاں تک کہ اس شخص سے فرمایا جس نے اول وقت میں نماز کا تذکرہ کیاتھا( تم نے نماز کو یاد کیا ،اللہ تمہیں مصلینِ میں سے قرار دے) پھر امام ؑ نے تیروں کی بارش میں میدان قتال میں نماز ادا کی۔
اللہ اللہ اخلاص کا سوچیں! کیوں کہ انسان کے عمل کی قدر و قیمت اور اسکی برکت اس ہی مقدار میں ہے کہ جتنی مقدار میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا اخلاص ہوگا ۔بیشک اللہ تعالیٰ تو صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالصتا اس کے لیے ہو اور اس کے غیر کی طلبگاری سے خالی ہو۔اور نبی اکرمﷺ سے یہ جملہ مسلمانوں کی مدینہ ہجرت کے وقت وارد ہوا کہ یقیناً جو کوئی اللہ ورسول کی طرف مہاجر ہوا تو اسکی ہجرت اللہ کے لیے ہوئی،اور جو دنیا کی جانب مہاجر ہوا تو اسکی ہجرت دنیا کے لیے ہوگی۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ یقیناً عمل کے ثواب کو درجہ اخلاص کے حساب سے بڑھا دیتا ہے حتی کہ سات سو گنا اضافہ بھی کردیتا ہے،اور اللہ تو جس کے لیے چاہے اضافہ کرتا ہے۔
بس زائرین کو چاہیئے کہ راہ زیارت میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کریں اور اپنے ہر قدم، ہر عمل میں اخلاص پیدا کریں اور یہ بات جان لینی چاہیئے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کوایسی کوئی نعمت مرحمت نہیں فرمائی کہ جیسی نعمت اعتقاد ، قول اور فعل میں اخلاص کی نعمت ہے۔بغیر اخلاص انجام دیا جانے والا عمل اس زندگی کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔صرف اللہ تعالیٰ کے لیئے خالص عمل مبارک و دائمی ہوگا ،جو اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد بھی باقی رہے گا۔
اللہ اللہ پردہ و حجاب کا خیال رہے،بیشک یہ وہ اہم ترین چیز ہے کہ جسکا اہل بیت علیہم السلام نے خیال رکہا حتی کہ کربلاء میں ان شدید مصائب میں بھی اہتمام کیا اور وہ اس معاملے میں مثل اعلیٰ ہیں۔اور انہوں نے دشمنوں کے حملوں سے بھی اتنی اذیت نہیں اٹھائی کہ جتنی تکلیف لوگوں کے سامنے بے پردگی و ہتک حرمت سے انہیں ہوئی۔لہذا تمام زوّار خاص طور پر مومنات پر لازم ہے کہ وہ اپنے لباس و منظر میں اور اپنے تمام افعال میں عفت کے تقاضوں کو پورا کریں اور ہر اس چیز سے اجتناب کریں کہ جو اس تقاضہ عفت کے منافی ہو جیسا کہ تنگ لباس زیب تن کرنا، لوگوں میں ایسے مخلوط ہونا کے جو باعث مذمت ہو،یا ایسی زینت کرنا کے جس سے منع کیا گیا ہے ۔بلکہ اس عظیم زیارت ،ان شعائر مقدسہ کو ہر قسم کی نامناسب تہمتوں سے دور رکہنے کے لیئے، منافی عفت چیزوں سے ہر ممکن اورآخری درجہ تک اجتناب کرنا چاہیئے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے ملتمس ہیں کے نبی المصطفیٰ ﷺاور انکے اہل بیت کے مقام کو دنیا وآخرت میں مزید بلند فرما ئےان قربانیوں کی بناء پر جو انہوں نے اسکی راہ میں دیں اور وہ
جدوجہد جو اسکی خلق کی ہدایت کے لیے کی۔اور ان پر وہ عظیم صلوات نازل فرما کہ جیسی انسےپہلےمصطفین،بالخصوص ابراہیم وآل ابراہیم (علیھم السلام)پر نازل کی۔اور اس ذات تعالیٰ سے یہ بھی دعا ہے کہ زوارِ ابی عبداللہ الحسین (ع) کی زیارت میں برکت عطاء فرمائے اور جو قبولیت وہ اپنے عباد صالحین کے عمال میں دیتا ہے اس زیارت کو اس سے بھی افضل شرف قبولیت عطاء فرمائے۔تاکہ زائرین اس زیارت اور اسکے بعد کی زندگی میں اپنے سیر وسلوک کے ساتھ دوسروں کے لیئے ایک مثال بن جائیں۔اور انکو اہل بیت(علیھم السلام) سے انکی ولایت و محبت ،اپنی زندگی میں انہی کی اقتداء کرنے، اور پیغام اہل بیت کی تبلیغ کرنے پر جزائے خیر عنایت فرمائے ۔امید ہے کہ انہیں روز قیامت اہل بیت (ع) کے ساتھ بلایا جائے گا جیسا کہ ہر شخص کو اسکے امام کے ساتھ بلایا جاۓ گا، اور ان کے شھداء کو شھداء امام حسین (ع) اور انکے اصحاب کے ساتھ محشور فرمائے چونکہ انہوں نے اپنے نفسوں کو قربان کیا اور ولایت کی خاطر ظلم و ستم سہے۔بیشک کہ وہ بہت سننے والا اور جواب دینے والا ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français