مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » نماز آيات

۱ سوال: نماز آیات کیا ہے؟
جواب: واجب نمازوں میں سے ایک نماز آیات ہے جو کہ حائض اور نفساء کے علاوہ ہر مکلف پر سورج گرھن،چاند گرھن میں( چاہے جزئی ہوں) واجب ہے۔اور اسی طرح احتیاط واجب کی بنا پر زلزلہ کے وقت بھی واجب ہے، جبکہ ہر مخوف سماوی (آیت سماوی کہ جس سے اکثر افراد خوفزدہ ہوجائیں جیسا کہ سیاہ یا سرخ یا زرد آندھی اور شدید اندھیرہ چھا جانا، بجلی کی گرج، یاآسمانی آگ کا ظاہر ہونا) بلکہ ہر مخوف ارضی میں بھی جیسا کہ زمین کا دہنس جانا یا پہاڑوں کا گر جانا یا اس کہ علاوہ جو بھی خوف زدہ کرنے والے علامات ہوں۔ تو احوط اولیٰ (مستحب)یہ ہے کہ ان حالات میں بھی پڑھی جائے۔
۲ سوال: نماز آیات کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: نماز آیات کی دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں۔اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کرنے کے بعد انسان تکبیر کہے اور ایک دفعہ الحمد اور ایک پورا سورہ پڑھے اور رکوع میں جائے اور پھر رکوع سے سر اٹھائے پھر دوبارہ ایک دفعہ الحمد اور ایک سورہ پڑھے اور پھر رکوع میں جائے۔ اس عمل کو پانچ دفعہ انجام دے اور پانچویں رکوع سے قیام کی حالت میں آنے کے بعد دو سجدے بجالائے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بجالائے اور تشہد اور سلام پڑھ کر نماز تمام کرے۔
اور نماز آیات میں یہ بھی ممکن یہ کہ انسان نیت کرنے اور تکبیر اور الحمد پڑھنے کے بعد ایک سورے کی آیتوں کے پانچ حصے کرے اور ایک آیت یا اس سے کچھ زیادہ پڑھے اور بلکہ ایک آیت سے کم بھی پڑھ سکتا ہے لیکن احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ مکمل جملہ ہو اور اس کے بعد رکوع میں جائے اور پھر کھڑا ہو جائے اور الحمد پڑھے بغیر اسی سورہ کا دوسرا حصہ پڑھے اور رکوع میں جائے اور اسی طرح اس عمل کو دہراتا رہے حتی کہ پانچویں رکوع سے پہلے سورے کو ختم کردے مثلاً سورہ فلق میں پہلے بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ ۔ قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ ۔ پڑھے اور رکوع میں جائے اس کے بعد کھڑا ہو اور پڑھے مِن شَرَّ مَاخَلَقَ۔ اور دوبارہ رکوع میں جائے اور رکوع کے بعد کھڑا ہو اور پڑھے۔ وَمِن شَرِّغَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔ پھر رکوع میں جائے اور پھر کھڑا ہو اور پڑھے ومِن شِرّالنَّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ اور رکوع میں چلا جائے اور پھر کھڑا ہو جائے اور پڑھے وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۔ اور اس کے بعد پانچویں رکوع میں جائے اور (رکوع سے) کھڑا ہونے کے بعد دو سجدے کرے اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح بجالائے اور اس کے دوسرے سجدے کے بعد تشہد اور سلام پڑھے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ سورے کو پانچ سے کم حصوں میں تقسیم کرے لیکن جس وقت بھی سورہ ختم کرے لازم ہے کہ بعد والے رکوع سے پہلے الحمد پڑھے۔
۳ سوال: کیا نماز آیات کے وجوب کہ لیئے آیت کا محسوس ہونا ضروری ہے؟
جواب: نماز آیات صرف اس جگہ واجب ہے جہاں پہ آیت ظاہر ہو ،پس اگر کوئی شہر بہت بڑا ہو کہ جس میں کسی ایک طرف آیت کہ واقع ہونے سے دوسری طرف اسکا احساس نہ ہو تو نماز صرف اس طرف واجب ہوگی جہاں آیت کا ظہور و احساس ہو۔
۴ سوال: چاند گرھن کی نماز کا وقت کیا ہے؟
جواب: نماز آیات کا وقت، چاند گرھن یا کسی بھی آیت کے ظاہر ہونے سے آخر انتھاء تک(گرھن سے پوری طرح نکل جانے تک )ہے۔
۵ سوال: استحاضۃ متوسطہ اور کثیرہ میں اگر نماز آیات واجب ہو جائے تو کیا مستحاضۃ خاتون پر لازم ہے کہ وہ نماز آیات کی لیئے بھی وضوء اور غسل کرے؟ یا نماز یومیہ کے لیئے کیا جانے والا وضوء اور غسل ہی کافی ہے؟
جواب: نماز یومیہ کے لیئے انجام دیا جانے والا غسل و وضوء ہی کافی ہے ،البتہ استحاضۃ کثیرہ ہو تو نماز یومیہ اور نماز آیات دونوں کو ایک ہی غسل سے انجام دیا جا سکتا ہے مگر اشکال سے خالی نہیں ہے۔
۶ سوال: کیا جیسے ہی آسمانی بجلی کی گرج سنی جائے ہم پر نماز آیات واجب ہوجائے گی؟ یا صرف ایسی گرج کہ جس سے خوف آتا ہو اس میں نماز آیات واجب ہوگی؟
جواب: اقوی(زیادہ قوی رجحان شرعی) یہ ہے کہ (صاعقۃ) بجلی کی گرج سے نماز آیات واجب نہیں ہوتی۔ہاں البتہ حالت خوف میں اسے انجام دینا احوط ِ اولی ہے، اور اس مورد میں احتیاط استحبابی ہے، خصوصا جبکہ اس سے غالب افراد کے لیئے خوف حاصل ہو، صرف بعض افراد کو خوف ہونا کوئی اثر نہیں رکھتا۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français