مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » چمڑا

۱ سوال: چمڑے کی جاکٹ پہن کر جو دوسرے ملک سے آیٔی ہو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر چمڑے کے اصلی ہو نے کے بارے میں شک ہو تو پاک ہے اور تحقیق کرنا ضروری نہیں اور اگر اس اصلی ہونے کے بارے میں یقین ہو تو اگر احتمال بھی نہیں ہو کہ یہ مسلمان ملک سے ہے یا حلال طریقے سے جانور کو ذبح کیا ہے ، تو ایسی کھال نجس کے حکم میں ہے اور اس کو نماز میں استعمال نہیں کر سکتے، اور اس کے علاوہ صورت میں پاک ہے اور اس میں نماز بھی جایز ہے۔
۲ سوال: باہر ممالک سے جو چمڑے کے سامان آتے ہیں جیسے بیلٹ ، جاکٹ ،جوتا وغیرہ ان کے استعمال کے بارے مین کیا حکم ہے؟
جواب: اگر یقین نہ ہو کہ یہ چمڑے اصلی ہیں تو پاک ہیں اور نماز ان میں پڑھی جا سکتی ہے، چھان بین بھی ضروری نہیں ہے اور اسی طرح اگر پتا ہو کہ اصلی ہیں لیکن احتمال دے رہا ہو کہ ایسے حیوان سے بنا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہے، یا بلاد مسلمین سے ہے تو طاہر ہے، لیکن اگر درندے کی کھال سے بنایا گیا ہو بلکہ بنا بر احتیاط واجب ہر وہ جانور کی کھال سے بنا ہو جس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہے، تو اس کا استعمال نماز میں جایز نہیں ہے، اور ان دو صورتوں کے علاوہ نجس ہے اور نماز بھی اس میں صحیح نہیں ہے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français