مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » حج ۔ احرام

۱ سوال: حج کے لیے خواتین کا احرام کیسا ہونا چاہیے؟
جواب: کویی خاص شرط نہیں رکھتا ہاں مستحب ہیکہ سفید ہو۔
۲ سوال: محرم کے لیے وضو کے وقت گلے میں تسبیح وغیرہ لٹکانا یا اسے ہاتھ پر باندھنا کیسا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔
۳ سوال: احرام باندھنے کے بعد اگر انسان سوتے میں محتلم ہو جائے تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: احتلام سے اس کے احرام پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۴ سوال: نذر سے احرام باندھ سکتے ہیں، اس سے کیا مراد ہے؟
جواب: حج کے لیے احرام، میقات والے شہر یا اس کی لائن میں آنے والے شہر کے علاوہ کہیں سے باندھنا جایز نہیں ہے اور اگر انسان میقات والے شہر سے پہلے احرام باندھنا چاہتا ہے تو اس طرح سے نذر شرعی کر سکتا ہے: میں اللہ کے لیے نذر مانتا ہوں کہ فلاں جگہ سے احرام باندھوں گا۔ اس طرح سے اس شہر سے احرام باندھنا اس کے لیے جایز ہو جائے گا اگر چہ وہ شہر میقات والا نہ بھی ہو۔
۵ سوال: ایرانی حاجیوں کی فلائٹ جدہ جاتی ہے تو کیا وہ وہاں سے احرام باندھ سکتے ہیں؟
جواب: شہر جدہ میقات نہیں ہے بلکہ کسی میقات کے ساتھ بھی نہیں ملتا ہے لہذا وہاں سے احرام باندھنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر حاجی جانتا ہو کہ جدہ اور مکہ (حرم) کے درمیان وہ شہر ہے جو میقات میں آتا ہے یا میقات والے شہر کی لائن میں پڑتا ہے تو بعید نہیں ہے کہ وہاں سے احرام باندھنا صحیح ہو، جیسے حاجی جحفہ سے گذر سکتا ہے جو میقات والا شہر ہے اور وہاں سے احرام باندھ سکتا ہے اور اگر نذر کی ہو تو حاجی جدہ سے بھی احرام باندھ سکتا ہے۔
۶ سوال: کیا احرام کی حالت میں مرد و عورت ناک اور منھ چھپانے والے ماسک استعمال کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو ایسے کپڑے والے ماسک جو سلے ہوئے ہوں ان کا کیا حکم ہے؟
جواب: ضرورت کے وقت مطلقا استعمال کر سکتے ہیں اور غیر ضرورت میں محرم عورت کیلۓ احتیاط واجب کی بنا پر استعمال کرنا جایز نہیں ہے ، اور محرم مرد اس صورت میں استعمال کر سکتا ہے کے اگر بدبو ناک تک اتفاقا آۓ تو اس سے مانع نہ ہو ۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français