مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » حج ۔ طواف

۱ سوال: کیا کعبۃ معظمۃ کے گرد بنائے گئے دو منزلہ پل پر حالت اختیار یا حالت اضطرار میں طواف کرنا درست ہے؟اور اس صورت میں نماز طواف کا حکم کیا ہوگا؟
جواب: جہاں تک پل کی پہلی منزل کا تعلقق ھے تو اس پر حالت اختیار میں بھی طواف کیا جا سکتا ہے،البتہ احتیاط واجب یہ ہے کہ طواف واجب اور اسکی نماز کے درمیان موالات(تسلسل بلا فاصلہ) کا خیال رکھا جائے۔ لہذا اگر پل کے اوپر ہی مقام ابراھیمؑ کے پیچہے قریب ہی نماز پڑھنا ممکن ہو جس سے طواف و نماز میں زیادہ فاصلہ نہ آئے تو کوئی حرج نہیں۔
اور دوسری منزل کے بارے میں اگر مکلف کو یقین ہو کے وہ دیوار کعبۃ شریفۃ سے کم بلندی پر ہے چاھے ایک بالشت ہی سہی تو اس پر بھی حالت اختیار میں طواف جائز ہوگا،مگر یہ کہ مکلف کہ لیئے یہ ممکن نہ ہو کہ وہ واجب طواف اور اسکی نماز کے درمیان موالات کو باقی رکھ سکے کیونکہ طواف کہ بعدنماز طواف کے لیئے دوسری منزل سے مسجد کہ صحن تک آنے میں کافی فاصلہ آجائے گا جو کہ دس منٹ کے معمولی فاصلہ کی طرح نہیں ہوگا لہذا اس صورت میں پل کہ اوپر سے کیا گیا طواف مجزی نہیں ہوگا۔
یہ بات تو حالت اختیار کی تھی، البتہ وہ شخص جس کو پل کی اوپر والی منزل پر ہی طواف کرنے پر مجبور کیا جائے(جیسا کہ مریض کہ جو ویل چیئر پر ہوتے ہیں) تو ان کے لیئے ایسا طواف جائز ہوگا اور حالت اضطرار میں طواف واجب اور اسکی نماز میں فاصلہ بھی ضرر نہیں دےگا۔
لیکن اگر مکلف، پل کی اوپر والی منزل کے دیوار کعبۃ شریفۃ سے کمتر بلند ہونے (چاہے ایک بالشت ہی سہی) کا یقین نہ رکھتا ہو تو پھر اس پر سے طواف کرنا مجزی و کافی نہ ہوگا۔لہذا اگر وہ ان لوگوں میں سے ہو کہ جنہیں ویل چیئر والوں کی طرح اوپر والی منزل سے ہی طواف کرنے پر مجبور کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ اوپر والی منزل سے طواف کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے شخص کو صحن مسجد، یا پہلی منزل سے طواف کرنے کے لیئے نائب بھی بنائے۔
ایک نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français