مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

بسمہ تعالی
آیت اللہ سیستانی مد ظلہ کی نظر میں ماہ شوال کا چاند عادی طور پر دیکہا جانا ثابت نہیں ہوا ہے، اس لیے کل بروز اتوار ماہ رمضان کی تیس تاریخ اور دوشنبہ کو شوال کی پہلی تاریخ ہوگی۔
دفتر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ

سوال و جواب » بییر

۱ سوال: آب جو (بییر) کا کیا حکم ہے۔
جواب: آب جو (بییر)جسے فقاع کہتے ہیں یقینا حرام ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر نجس ہے اور یہ معمولا مست ہونے کا باعث نہیں ہوتا بلکہ نشہ کا باعث ہے جسے ہلکی مستی کہا جا سکتا ہے اور ظاہرا اس کی وجہ اس میں کم مقدار الکحل کا ہونا ہے، پس اگرکو‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎ئی ایسی چیز ہو جو الکحل کے بغیر بنائی گئی ہو کہ اسے فقاع نہ کہا جاۓ تو حرج نہیں ہے ،اور اس صورت کے علاوہ حرام ہے گرچہ بنانے کے بعد الکحل کو اس سے مکمل جدا کر دیں۔
sistani.org/26029
۲ سوال: اگر آب جو (بییر) میں الکحل نہ ہو تو پی سکتے ہیں؟
جواب: اگر اس کے بناتے وقت الکحل حاصل ہو تو حرام ہے گرچہ الکحل کو اس سے نکال لیں لیکن اگر الکحل کے بغیر حاصل ہو تو حرج نہیں ہے، اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس طرح بنایا گیا ہے تو بھی پی سکتے ہیں۔
sistani.org/26030
نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français