مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

سوال و جواب » مٹی کھانا

۱ سوال: کیا مٹی ،ریت یا کیچر کو کھایا جا سکتا ہے؟
جواب: مٹی چاہے وہ گیلی کیچر کی طرح ہو یا خشک ہو یا ریت یا مٹی کے ڈھیلے ہوں -بناء بر احتیاط واجب- اس کا کھانا حرام ہے، ہاں البتہ جیسے کچھ پتھر یا مٹی ، گندم وغیرہ پیستے وقت آٹے میں مل کر ختم ہوجائیں یا پھل ، سبزی وغیرہ پر معمولی غبار اگر اتنا کم ہو کے مٹی کھانا نہ کہلائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس ہی طرح گدلا پانی جو کیچڑ سے مل گیا ہو مگر مطلق پانی ہی کہلائے تو پیا جاسکتا ہے لیکن پیتے وقت مٹی کے ذرات یا کیچڑ کا ذائقہ محسوس ہو تو -احتیاطا بہتر -یہ ہے کہ جب تک وہ صاف نہ ہو جائے نہ پیا جائے۔
sistani.org/26872
۲ سوال: آیا مٹی کھانے کی حرمت میں کچھ استثناء بھی ہے؟
جواب: مٹی کھانے کی حرمت کے حکم سے تربت امام الحسین علیہ سلام کا شفاء لے لئے کھانا مستثنی ہے جبکہ شفاء کی نیت کے علاوہ کھانا یا ایک درمیانے چنے کی مقدار سے زیادہ کھانا جائز نہیں اور اس استثنائی حکم میں کوئی اور مٹی حتی کہ قبر مبارک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) یا آئمہ طاھرین (علیہم السلام) کی قبور مبارکہ بھی شامل نہیں ہیں،البتہ معصومین (علیہم سلام) کی تربت بہت کم مقدار میں پانی میں ملایا جائے کہ جو پانی ہی میں ختم ہو جائے اور پھر اس پانی کو تبرک یا استشفاء کے لئے استعمال کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
sistani.org/26873
۳ سوال: تربت قبر امام الحسین (علیہ سلام) تناول کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: اس تربت مقدسہ کو حصول شفاء کے لئے تناول کرنے کے لئے چاٹا بھی جا سکتا ہے اور نگل کر بھی کھایا جا سکتا ہے جیسا کے پانی میں ملا کر تبرک و شفاءیابی کے لیئے پیا بھی جاسکتا ہے۔
sistani.org/26874
۴ سوال: آیا پتھر و معدنیات وغیرہ بھی مٹی کھانے کی حرمت میں شامل ہیں؟
جواب: پتھر اور مختلف انواع کی معدنیات اور درختوں کا کھانا ،مٹی کھانے کی حرمت سے ملحق نہیں ہیں۔ بلکہ ان چیزوں کا کھانا حلال ہے بشرط یکہ کوئی بڑا ضرر یا نقصان نہ ہوتا ہو۔
sistani.org/26875
۵ سوال: اگر ہمیں کسی تربت یا مٹی کے بارے یہ شک ہو کے وہ قبر امام حسین (علیہ سلام) کی ہے یا نہیں تو کیا اسے کھایا جاسکتا ہے؟
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر علم یا اطمئنان نہ ہو اور نہ ہی کوئی معتبر گواہی ہو تو اس صورت میں اسے نہ کھایا جائے یا پھر بہت ہی قلیل مقدار میں اسے پانی میں حل کر لیا جائے اور اس کے پانی میں گھل کر ختم ہو جانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔
sistani.org/26876
۶ سوال: ایک شخص جو ہر روز تربت امام حسین (علیہ سلام) کو کھانے کا عادی ہے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: وہ یہ کر سکتا ہے کہ اس کی بہت کم مقدار کو پانی میں حل کر لے اور پھر اس پانی کو پئی لے، البتہ اسے بتدریج اپنی اس عادت کو ترک کرنا چاہئے۔
sistani.org/26877
۷ سوال: مٹی کے دھیلےیا چکنی مٹی کو کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: مٹی کا ڈھیلا یا چکنی مٹی کا کھانا بھی حرام ہے سوائے یہ کہ تربت الحسین (علیہ سلام) کہ جسے صرف شفاء کی نیت سے ایک درمیانے چنے کی مقدار میں کھانا جائز ہے۔اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اس حکم میں صرف قبر مبارک سے حاصل کی گئی مٹی پر اقتصار کیا جائے یا اس کے قریب کی مٹی کہ جو عرفا اس ہی کے ساتھ شمار ہو جبکہ قبر مبارک سے دور کی مٹی کو نہ کھایا جائے بلکہ قلیل مقدار کو پانی میں حل کرلیا جائے پھر اس پانی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
sistani.org/26878
نیا سوال بھیجنے کے لیے یہاں کلیک کریں
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français