مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

مسافر کی نماز ← → احکام نماز

مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو

۱۱۳۵۔ بارہ چیزیں نماز کو باطل کرتی ہیں اور انہیں مبطلات کہا جاتا ہے۔

(اول) نماز کے دوران نماز کی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقد ہو جائے مثلاً نماز پڑھتے ہوئے متعلقہ شخص کو پتہ چلے کہ جس کپڑے سے اس نے سترپوشی کی ہوئی ہے وہ غصبی ہے۔

(دوم) نماز کے دوران عمداً یا سہواً یا مجبوری کی وجہ سے انسان کسی ایسی چیز سے دوچار ہو جو وضو یا غسل کو باطل کرے مثلاً اس کا پیشاب خطا ہو جائے اگرچہ احتیاط کی بنا پر اس طرح نماز کے آخری سجدے کے بعد سہواً یا مجبوری کی بنا پر تاہم جو شخص یا پاخانہ نہ روک سکتا ہو اگر نماز کے دوران میں اس کا پیشاب یا پاخانہ نکل جائے اور وہ اس طریقے پر عمل کرے جو احکام وضو کے ذیل میں بتایا گیا ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی اور اسی طرح اگر نماز کے دوران مُستَحاضہ کو خون آجائے تو اگر وہ اِستخاضہ سے متعلق احکام کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۳۶۔جس شخص کو بے اختیار نیند آجائے اگر اسے یہ پتہ نہ چلے کہ وہ نماز کے دوران سو گیا تھا یا اس کے بعد سویا تو ضروری نہیں کہ نماز دوبارہ پڑھے بشرطیکہ یہ جانتا ہو کہ جو کچھ نماز میں پڑھا ہے وہ اس قدر تھا کہ اسے عرف میں نماز کہیں۔

۱۱۳۷۔اگر کسی شخص کو علم ہو کہ وہ اپنی مرضی سے سویا تھا لیکن شک کرے کہ نماز کے بعد سویا تھا یا نماز کے دوران یہ بھول گیا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور سوگیا تو اس شرط کے ساتھ جو سابقہ مسئلے میں بیان کی گئی ہے اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۳۸۔ اگر کوئی شخص نیند سے سجدے کی حالت میں بیدار ہو جائے اور شک کرے کہ آیا نماز کے آخری سجدے میں ہے یا سجدہ شکر میں ہے تو اگر اسے علم ہو کہ بے اختیار سو گیا تھا تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر جانتا ہو کہ اپنی مرضی سے سویا تھا اور اس بات کا احتمال ہو کہ غفلت کی وجہ سے نماز کے سجدے میں سوگیا تھا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

(سوم) یہ چیز مبطلات نماز میں سے ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں کو عاجزای اور ادب کی نیت سے باندھے لیکن اس کام کی وجہ سے نماز کا باطل ہونا احتیاط کی بنا پر ہے اور اگر مشروعیت کی نیت سے انجام دے تو اس کام کے حرام ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۱۱۳۹۔ اگر کوئی شخص بھولے سے یا مجبوری سے یا تقیہ کی وجہ سے یا کسی اور کام مثلاً ہاتھ کھجانے اور ایسے ہی کسی کام کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

(چہارم) مبطلات نماز میں سے ایک یہ ہے کہ الحمد پڑھنے کے بعد آمین کہے۔ آمین کہنے سے نماز کا اس طرح باطل ہونا غیر ماموم میں احتیاط کی بنا پر ہے۔ اگرچہ آمین کہنے کو جائز سمجھتے ہوئے آمین کہے تو اس کے حرام ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ بہر حال اگر امین کو غلطی یا تقیہ کی وجہ سے کہے تو اس کی نماز میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

(پنجم) مبطلات نماز میں سے ہے کہ بغیر کسی عذر کے قبلے سے رخ پھیرے لیکن اگر کسی عذر مثلاً بھول کر یا بے اختیاری کی بنا پر مثلاً تیز ہوا کے تھپیڑے اسے قبلے سے پھیر دیں چنانچہ اگر دائیں یا بائیں سمت تک نہ پہنچے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ جسے ہی عذر دور ہو فوراً اپنا قبلہ دسرت کرے۔ اور اگر دائیں یا بائیں طرف مڑ جائے خواہ قبلے کی طرف پشت ہو یا نہ ہو اگر اس کا عذر بھولنے کی وجہ سے ہو اور جس وقت متوجہ ہو اور نماز کو توڑ دے تو اسے دوبارہ قبلہ رخ ہو کر پڑھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اگرچہ اس نماز کی ایک رکعت وقت میں پڑھے ورنہ اسی نماز پر اکتفا کرے اور اس پر قضا لازم نہیں اور یہی حکم ہے اگر قبلے سے اس کا پھرنا بے اختیاری کی بنا پر ہو چنانچہ قبلے سے پھرے بغیر اگر نماز کو دوبارہ وقت میں پڑھ سکتا ہو۔ اگرچہ وقت میں ایک رکعت ہی پڑھی جا سکتی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو نئے سرے سے پڑھے ورنہ ضروری ہے کہ اسی نماز کو تمام کرے اعادہ اور قضا اس پر لازم نہیں ہے۔

۱۱۴۰۔ اگر فقط اپنے چہرے کو قبلے سے گھمائے لیکن اس کا بدن قبلے کی طرف ہو چنانچہ اس حد تک گردن کو موڑے کہ اپنے سرکے پیچھے کچھ دیکھ سکے تو اس کے لئے بھی وہی حکم ہے جو قبلے سے پھر جانے والے کے لئے ہے جس کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ اور اگر اپنی گردن کو تھوڑا سا موڑے کہ عرفا کہا جائے اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلے کی طرف ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی اگرچہ یہ کام مکروہ ہے۔

(ششم) مبطلات نماز میں سے ایک یہ ہے کہ عمداً بات کرے اگرچہ ایسا کلمہ ہو کہ جس میں ایک حرف سے زیادہ نہ ہو اگر وہ حرف بامعنی ہو مثلاً (ق) کہ جس کے عربی زبان میں معنی حفاظت کرو کے ہیں یا کوئی اور معنی سمجھ میں آتے ہوں مثلاً (ب) اس شخص کے جواب میں کہ جو حروف تہجی کے حرف دوم کے بارے میں سوال کرے اور اگر اس لفظ سے کوئی معنی بھی سمجھ میں نہ آتے ہوں اور وہ دو یا دو سے زیادہ حرفوں سے مرکب ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر (وہ لفظ) نماز کو باطل کر دیتا ہے۔

۱۱۴۱۔اگر کوئی شخص سہواً کلمہ کہے جس کے حروف ایک یا اس سے زیادہ ہوں تو خواہ وہ کلمہ معنی بھی رکھتا ہو اس شخص کی نماز باطل نہیں ہوتی لیکن احتیاط کی بنا پر اس کے لئے ضروری ہے جیسا کہ بعد میں ذکر آئے گا نماز کے بعد وہ سجدہ سہو بجالائے۔

۱۱۴۲۔ نماز کی حالت میں کھانسنے، یا ڈکار لینے میں کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر نماز میں اختیار آہ نہ بھرے اور نہ ہی گریہ کرے۔ اور آخ اور آہ اور انہی جیسے الفاظ کا عمداً کہنا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔

۱۱۴۳۔ اگر کوئی شخص کوئی کلمہ ذکر کے قصدے سے کہے مثلاً ذکر کے قصہ سے اَللّٰہُ اَکبَرُ کہے اور اسے کہتے وقت آواز کو بلند کرے تاکہ دوسرے شخص کو کسی شخص کو کسی چیز کی طرف متوجہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور اسی طرح اگر کوئی کلمہ ذکر کے قصد سے کہے اگرچہ جانتا ہو کہ اس کام کی وجہ سے کوئی کسی مطلب کی طرف متوجہ ہوجائے گا تو کوئی اگر بالکل ذکر کا قصد نہ کرے یا ذکر کا قصد بھی ہو اور کسی بات کی طرف متوجہ بھی کرنا چاہتا ہو تو اس میں اشکال ہے۔

۱۱۴۴۔نماز میں قرآن پڑھنے (چار آیتوں کا حکم کہ جن میں واجب سجدہ ہے قراءت کے احکام مسئلہ نمبر ۹۹۲ میں بیان ہوچکا ہے) اور دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ عربی کے علاوہ کسی زبان میں دعا نہ کرے۔

۱۱۴۵۔ اگر کوئی شخص بغیر قصد جزئیت عمداً یا احتیاطاً الحمد اور سورہ کے کسی حصے یا اذ کار نماز کی تکرار کرے تو کوئی حرج نہیں۔

۱۱۴۶۔انسان کو چاہئے کہ نماز کی حالت میں کسی کو سلام نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اسے سلام کرے تو ضروری ہے کہ جواب دے لیکن جواب سلام کی مانند ہونا چاہئے یعنی ضروری ہے کہ اصل سلام پر اضافہ ہو مثلاً جواب میں یہ نہیں کہنا چاہئے۔ سَلاَمٌ عَلَیکُم وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ، بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ جواب میں عَلَیکُم یا عَلیَک کے لفظ کو سلام کے لفظ پر مقدم نہ رکھے اگر وہ شخص کہ جس نے سلام کیا ہے اس نے اس طرح نہ کیا ہو بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جواب مکمل طور پر دے جس طرح کہ اس نے سلام کیا ہو مثلاً اگر کہا ہو "سَلاَمُ عَلَیکُم" تو جواب میں کہے " سَلاَمُ عَلَیکُم" اور اگر کہا ہو "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم" تو کہے "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم" اور اگر کہا ہو "سَلاَمٌ عَلَیک" تو کہے "سَلاَمٌ عَلَیک" لیکن عَلَیکُم السَّلاَمُ" کے جواب میں جو لفظ چاہے کہہ سکتا ہے۔

۱۱۴۷۔ انسان کو چاہئے کہ خواہ وہ نماز کی حالت میں ہو یا نہ ہو سلام کا جواب فوراً دے اور اگر جان بوجھ کر یا بھولے سے سلام کا جواب دینے میں اتنا وقت کرے کہ اگر جواب دے تو وہ اس اسلام کا جواب شمار نہ ہو تو اگر وہ نماز کی حالت میں ہو تو ضروری ہے کہ جواب نہ دے اور اگر نماز کی حالت میں نہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں ہے۔

۱۱۴۸۔ انسان کو سلام کا جواب اس طرح دینا ضروری ہے کہ سلام کرنے والا سن لے لیکن اگر سلام کرنے والا بہرا ہو یا سلام کہہ کر جلدی سے گزر جائے چنانچہ ممکن ہو تو سلام کا جواب اشارے سے یا اسی طرح کسی طریقے سے اسے سمجھا سکے تو جواب دینا ضروری ہے۔ اس کی صورت کے علاوہ جواب دینا نماز کے علاوہ کسی اور جگہ پر ضروری نہیں اور نماز میں جائز نہیں ہے۔

۱۱۴۹۔ واجب ہے کہ نمازی اسلام کے جواب کو سلام کی نیت سے کہے۔ اور دعا کا قصد کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں یعنی خداوندعالم سے اس شخص کے لئے سلامتی چاہے جس نے سلام کیا ہو۔

۱۱۵۰۔ اگر عورت یا نامحرم مرد یا وہ بچہ جو اچھے برے میں تمیز کر سکتا ہو نماز پڑھنے والے کو سلام کرے تو ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والا اس کے سلام کا جواب دے اور اگر عورت "سَلاَمٌ عَلَیکَ" کہہ کر سلام کرے تو جواب میں کہہ سکتا ہے "سَلاَمٌ عَلَیکِ" یعنی کاف کو زیر دے۔

۱۱۵۱۔ اگر نماز پڑھنے والا سلام کا جواب نہ دے تو وہ گناہ گار ہے لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۵۲۔کسی ایسے شخص کے سلام کا جواب دینا جو مزاح اور تَمَسخُر کے طور پر سلام کرے اور ایسے غیر مسلم مرد اور عورت کے سلام کا جواب دینا جو ذمّی نہ ہوں واجب نہیں ہے اور اگر ذمّی ہوں تو اختیاط واجب کی بنا پر ان کے جواب میں کلمہ "عَلَیکَ" کہہ دینا کافی ہے۔

۱۱۵۴۔ اگر کوئی شخص کسی گروہ کو سلام کرے تو ان سب پر سلام کا جواب دینا واجب ہے لیکن اگر ان میں سے ایک شخص جواب دے دے تو کافی ہے۔

۱۱۵۵۔ اگر کوئی شخص کسی گروہ کو سلام کرے اور جواب ایک ایسا شخص دے جس کا سلام کرنے والے کو سلام کرنے کا ارادہ نہ ہو تو (اس شخص کے جواب دینے کے باوجود) سلام کا جواب اس گروہ پر واجب ہے۔

۱۱۵۶۔ اگر کوئی شخص کسی گروہ کو سلام کرے اور اس گروہ میں سے جوشخص نماز میں مشغول ہو وہ شک کرے کہ سلام کرنے والے کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا یا نہیں تو ضروری ہے کہ جواب نہ دے اور اگر نماز پڑھنے والے کو یقین ہو کہ اس شخص کا اراداہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا لیکن کوئی شخص سلام کا جواب دے دے تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر نماز پڑھنے والے کو معلوم ہو کہ سلام کرنے والے کا ارادہ اسے بھی سلام کرنے کا تھا اور کوئی دوسرا جواب نہ دے تو ضروری ہے کہ سلام کا جواب دے۔

۱۱۵۷۔ سلام کرنا مستحب ہے اور اس امر کی بہت تاکید کی گئی ہے کہ سوار پیدل کو اور کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔

۱۱۵۷۔ سلام کرنا مستحب ہے اور اس امر کی بہت تاکید کی گئی ہے کہ سوار پیدل کو اور کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔

۱۱۵۸۔ اگر دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اس کے سلام کا جواب دے۔

۱۱۵۹۔ اگر انسان نماز نہ پرھ رہا ہو تو مستحب ہے کہ سلام کا جواب اس سلام سے بہتر الفاظ میں دے مثلاً اگر کوئی شخص "سَلاَمٌ عَلَیکُم" کہے تو جواب میں کہے "سَلاَمٌ عَلَیکُم وَرَحمَۃُ اللہِ"۔

(ہفتم) نماز کے مبطلات میں سے ایک آواز کے ساتھ اور جان بوجھ کر ہنسنا ہے۔ اگرچہ بے اختیار ہنسے۔ اور جن باتوں کی وجہ سے ہنسے وہ اختیاری ہوں بلکہ احتیاط کی بنا پر جن باتوں کی وجہ سے ہنسی آئی ہو اگر وہ اختیاری نہ بھی ہوں تب بھی وہ نماز کے باطل ہونے کا موجب ہوں گی لیکن اگر جان بوجھ کر بغیر آواز یا سہواً آواز کے ساتھ ہنسے تو ظاہر یہ ہے کہ اس کی نماز میں کوئی اشکال نہیں۔

۱۱۶۰۔ اگر ہنسی کی آواز روکنے کے لئے کسی شخص کی حالت بدل جائے مثلاً اس کا رنگ سرخ ہو جائے تو اختیاط واجب یہ ہے کہ وہ نماز دوبارہ پڑھے۔

(ہشتم) احتیاط واجب کی بنا پر یہ نماز کے مبطلات میں سے ہے کہ انسان دنیاوی کام کے لئے جان بوجھ کر آواز سے یا بغیر آواز کے روئے لیکن اگر خوف خدا سے یا آخرت کے لئے روئے تو خواہ آہستہ روئے یا بلند آواز سے روئے کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بہترین اعمال میں سے ہے۔

(نہم) نماز باطل کرنے والی چیزوں میں سے ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جس سے نماز کی شکل باقی نہ رہے مثلاً اچھلنا کودنا اور اسی طرح کا کوئی عمل انجام دینا۔ ایسا کرنا عمداً ہو یا بھول چوک کی وجہ سے ہو۔ لیکن جس کام سے نماز کی شکل تبدیل نہ ہوتی ہو مثلاً ہاتھ سے اشارہ کرنا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۱۶۱۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران اس قدر ساکت ہو جائے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے۔

۱۱۶۲۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران کوئی کام کرے یا کچھ دیر ساکت رہے اور شک کرے کہ اس کی نماز ٹوٹ گئی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ نماز پوری کرے اور پھر دوبارہ پڑھے۔

(دہم) مبطلات نماز میں سے ایک کھانا اور پینا ہے۔ پس اگر کوئی شخص نماز کے دوران اس طرح کھائے یا پئے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نماز پڑھ رہا ہے تو خواہ اس کا یہ فعل عمداً ہو یا بھول چوک کی وجہ سے ہو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے۔ البتہ جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اگر وہ صبح کی اذان سے پہلے مستحب نماز پڑھ رہا ہو اور پیاسا ہو اور اسے ڈر ہو کہ اگر نماز پوری کرے گا تو صبح ہو جائے گی تو اگر پانی اس کے سامنے دو تین قدم کے فاصلے پر ہو تو وہ نماز کے دوران پانی پی سکتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام مثلاً "قبلے سے منہ پھیرنا" کرے جو نماز کو باطل کرتا ہے۔

۱۱۶۳۔ اگر کسی کا جان بوجھ کر کھانا یا پینا نماز کی شکل کو ختم نہ بھی کرے تب بھی احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے خواہ نماز کا تسلسل ختم ہو یعنی یہ نہ کہا جائے کہ نماز کو مسلسل پڑھ رہا ہے یا نماز کا تسلسل ختم نہ ہو۔

۱۱۶۴۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران کوئی ایسی غذا نگل لے جو اس کے منہ یا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہو تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر ذر اسی قند یا شکر یا انہیں جیسی کوئی چیز منہ میں رہ گئی ہو اور نماز کی حالت میں آہستہ آہستہ گُھل کر پیٹ میں چلی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

(یاز دہم) مبطلات نماز میں سے دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں یا چار رکعتی نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں شک کرنا ہے بشرطیکہ نماز پڑھنے والا شک کی حالت میں باقی رہے۔

(دوازدہم) مبطلات نماز میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص نماز کا رکن جان بوجھ کر یا بھول کر کم کردے یا ایک ایسی چیز کو جو رکن نہیں ہے جان بوجھ کر گھٹائے یا جان بوجھ کر کوئی چیز نماز میں بڑھائے۔ اسی طرح اگر کسی رکن مثلاً رکوع یا دو سجدوں کو ایک رکعت میں غلطی سے بڑھا دے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہو جائے گی البتہ بھولے سے تکبیرۃ الاحرام کی زیادتی نماز کو باطل نہیں کرتی۔

۱۱۶۵۔ اگر کوئی شخص نماز کے بعد شک کرے کہ دوران نماز اس نے کوئی ایسا کام کیا ہے یا نہیں جو نماز کو باطل کرتا ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

وہ چیزیں جو نماز میں مکروہ ہیں


۱۱۶۶۔ کسی شخص کا نماز میں اپنا چہرہ دائیں یا بائیں جانب اتنا کم موڑنا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس نے اپنا منہ قبلے سے موڑ لیا ہے مکروہ ہے۔ ورنہ جیسا کہ بیان ہوچکا ہے اس کی نماز باطل ہے۔ اور یہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی شخص نماز میں اپنی آنکھیں بند کرے یا دائیں اور بائیں طرف گھمائے اور اپنی ڈاڑھی اور ہاتھوں سے کھیلے اور انگلیاں ایک دوسری میں داخل کرے اور تھوکے اور قرآن مجید یا کسی اور کتاب یا انگوٹھی کی تحریر کو دیکھے۔ اور یہ بھی مکروہ ہے کہ الحمد، سورہ اور ذکر پڑھتے وقت کسی کی بات سننے کے لئے خاموش ہو جائے بلکہ ہر وہ کام جو خضوع و خشوع کو کالعدم کر دے مکروہ ہے۔

۱۱۶۷۔ جب انسان کو نیند آرہی ہو اور اس وقت بھی جب اس نے پیشاب اور پاخانہ روک رکھا ہو نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اسی طرح نماز کی حالت میں ایسا موزہ پہننا بھی مکروہ ہے جو پاوں کو جکڑ لے اور ان کے علاوہ دوسرے مکروہات بھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔

وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جاسکتی ہیں


۱۱۶۸۔ اختیاری حالت میں واجب نماز کا توڑنا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے لیکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچنے کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ظاہراً وہ تمام اہم دینی اور دنیاوی کام جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئے نماز توڑنے میں کوئی حرج نہیں۔

۱۱۶۹۔ اگر انسان اپنی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی نگہداشت واجب ہو اور وہ نماز توڑے بغیر ممکن نہ ہو تو انسان کو چاہئے کہ نماز توڑ دے۔

۱۱۷۰۔ اگر کوئی شخص وسیع وقت میں نماز پڑھنے لگے اور قرض خواہ اس سے اپنے قرضے کا مطالبہ کرے اور وہ اس کا قرضہ نماز کے دوران ادا کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسی حالت میں ادا کرے اور اگر بغیر نماز توڑے اس کا قرضہ چکانا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور اس کا قرضہ ادا کرے اور بعد میں نماز پڑھے۔

۱۱۷۱۔ اگر کسی شخص کو نماز کے دوران پتہ چلے کہ مسجد نجس ہے اور وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ نماز تمام کرے اور اگر وقت وسیع ہو اور مسجد کو پاک کرنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کے دوران اسے پاک کرے اور بعد میں باقی نماز پڑھے اور اگر نماز ٹوٹ جاتی ہو اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن ہو تو مسجد کو پاک کرنے کے لئے اس کا نماز توڑنا جائز ہے اور اگر نماز کے بعد مسجد کا پاک کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور مسجد کو پاک کرے اور بعد میں نماز پڑھے۔

۱۱۷۲۔ جس شخص کے لئے نماز کا توڑنا ضروری ہو اگر وہ نماز ختم کرے تو وہ گناہگار ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

۱۱۷۳۔اگر کسی شخص کو قراءت یا رکوع کی حد تک جھکنے سے پہلے یاد آجائے کہ وہ اذان اور اقامت یا فقط اقامت کہنا بھول گیا ہے اور نماز کا وقت وسیع ہو تو مستحب ہے کہ انہیں کہنے کے لئے نماز توڑ دے بلکہ اگر نماز ختم ہونے سے پہلے اسے یاد آئے کہ انہیں بھول گیا تھا تب بھی مستحب ہے کہ انہیں کہنے کے لئے نماز توڑ دے۔

شکّیات نماز


نماز کے شکیات کی ۲۲ قسمیں ہیں۔ان میں سے سات اس قسم کے شک ہیں جو نماز کو باطل کرتے ہیں اور چھ اس قسم کے شک ہیں جن کی پروا نہیں کرنی چاہئے اور باقی نو اس قسم کے شک ہیں جو صحیح ہیں۔

وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ہیں


۱۱۷۴۔ جو شک نماز کو باطل کرتے یہں وہ یہ ہیں:

۱۔ دو رکعتی واجب نماز مثلاً نماز صبح اور نماز مسافر کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں سک البتہ نماز مستحب اور نماز احتیاط کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک نماز کو باطل نہیں کرتا۔

۲۔ تین رکعتی نماز کی تعداد کے بارے میں شک۔

۳۔ چار رکعتی نماز میں کوئی شک کرے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ پڑھی ہیں۔

۴۔ چار رکعتی نماز میں دوسرے سجدہ میں داخل ہونے سے پہلے نمازی شک کرے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا زیادہ پڑھی ہیں۔

۵۔ دو اور پانچ رکعتوں میں یا دو اور پانچ سے زیادہ رکعتوں میں شک کرے۔

۶۔ تین اور چھ رکعتوں میں یا تین اور چھ سے زیادہ رکعتوں میں شک کرے۔

۷۔ چار اور چھ رکعتوں کے درمیان شک یا چار اور چھ سے زیادہ رکعتوں کے درمیان شک، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

۱۱۷۵۔ اگر انسان کو نماز باطل کرنے والے شکوک میں سے کوئی شک پیش آئے تو بہتر یہ ہے کہ جسیے ہی اسے شک ہو نماز نہ توڑے بلکہ اس قدر غور و فکر کرے کہ نماز کی شکل برقرار نہ رہے یا یقین یا گمان حاصل ہونے سے ناامید ہو جائے۔

وہ شک جن کی پروا نہیں کرنی چاہئے


۱۱۷۶۔ وہ شکوک جن کی پروا نہیں کرنی چاہئے مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ اس فعل میں شک جس کے بجالانے کا موقع گزر گیا ہو مثلاً انسان رکوع میں شک کرے کہ اس نے الحمد پڑھی ہے یا نہیں۔

۲۔ سلام نماز کے بعد شک۔

۳۔ نماز کا وقت گزر جانے کے بعد شک۔

۴۔ کثیرُالشک کا شک۔ یعنی اس شخص کا شک جو بہت زیادہ شک کرتا ہے۔

۵۔ رکعتوں کی تعداد کے بارے میں امام کا شک جب کہ ماموم ان کی تعداد جانتا ہو اور اسی طرح ماموم کا شک جبکہ امام نماز کی رکعتوں کی تعداد جانتا ہو۔

۶۔ مستحب نمازوں اور نماز احتیاط کے بارے میں شک۔

جس فعل کا موقع گزر گیا ہو اس میں شک کرنا


۱۱۷۷۔ اگر نمازی نماز کے دوران شک کرے کہ اس نے نماز کا ایک واجب فعل انجام دیا ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہو کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں جبکہ اس سابق کام کو عمداً ترک کر کے جس کام میں مشغول ہو اس کام میں شرعاً مشغول نہیں ہونا چاہئے تھا مثلاً سورہ پڑھتے وقت شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔ اس صورت کے علاوہ ضروری ہے کہ جس چیز کی انجام دہی کے بارے میں شک ہو، بجالائے۔

۱۱۷۸۔ اگر نمازی کوئی آیت پڑھتے ہوئے شک کرے کہ اس سے پہلے کی آیت پڑھی ہے یا نہیں یا جس وقت آیت کا آخری حصہ پڑھ رہا ہو شک کرے کہ اس کا پہلا حصہ پڑھا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۷۹۔ اگر نمازی رکوع یا سجود کے بعد شک کرے کہ ان کے واجب افعال۔ مثلاً ذکر اور بدن کا سکون کی حالت میں ہونا۔ اس نے انجام دیئے ہیں یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۸۰۔ اگر نمازی سجدے میں جاتے وقت شک کرے کہ رکوع بجا لایا ہے یا نہیں یا شک کرے کہ رکوع کے بعد کھڑا ہوا تھا یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۸۱۔ اگر نمازی کھڑا ہوتے وقت شک کرے کہ سجدہ یا تشہد بجالایا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۸۲۔ جو شخص بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر الحمد یا تسبیحات پڑھنے کے وقت شک کرے کہ سجدہ یا تشہد بجالایا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر الحمد یا تسبیحات میں مشغول ہونے سے پہلے شک کرے کہ سجدہ یا تشہد بجا لایا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ بجالائے۔

۱۱۸۳۔اگر نمازی شک کرے کہ نماز کا کوئی ایک رکن بجا لایا ہے یا نہیں اور اس کے بعد آنے والے فعل میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے اسے بجالائے مثلاً اگر تشہد پڑھنے سے پہلے شک کرے کہ دو سجدے بجالایا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ بجالائے اور اگر بعد میں اسے یاد آئے کہ وہ اس رکن کو بجالایا تھا تو ایک رکن بڑھ جانے کی وجہ سے احتیاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۱۱۸۴۔ اگر نمازی شک کرے کہ ایک ایسا عمل جو نماز کا رکن نہیں ہے بجالایا ہے یا نہیں اور اس کے بعد آنے والے فعل میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اسے بجالائے مثلاً اگر سورہ پڑھنے سے پہلے شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اور اگر اسے انجام دینے کے بعد اسے یاد آئے کہ اسے پہلے ہی بجالا چکا تھا تو چونکہ رکن زیادہ نہیں ہوا اس لئے اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۸۵۔ اگر نمازی شک کرے کہ ایک رکن بجالایا ہے یا نہیں مثلاً جب تشہد پڑھ رہا ہو شک کرے کہ دو سجدے بجا لایا ہے یا نہیں اور اپنے شک کی پروا نہ کرے اور بعد مین اسے یاد آئے کہ اس رکن کو بجا نہیں لایا ہے یا نہیں اور اپنے شک کی پروا نہ کرے اور بعد میں اسے یاد آئے کہ اس رکن کو بجا نہیں لایا تو اگر وہ بعد والے رکن میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اس رکن کو بجالائے اور اگر بعد والے رکن میں مشغول ہو گیا ہو تو اس کی نماز احتیاط لازم کی بنا پر باطل ہے مثلاً اگر بعد والی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آئے کہ دو سجدے نہیں بجا لایا تو ضروری ہے کہ بجالائے اور اگر رکوع میں یا اس کے بعد اسے یاد آئے (کہ دو سجدے نہیں بجالایا) تو اس کی نماز جیسا کہ بتایا گیا، باطل ہے۔

۱۱۸۶۔ اگر نماز شک کرے کہ وہ ایک غیر رکنی عمل بجالایا ہے یا نہیں اور اس کے بعد والے عمل میں مشغول ہو چکا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔ مثلاً جس وقت سورہ پڑھ رہا ہو شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں لایا اور ابھی بعد والے رکن میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اس عمل کو بجالائے اور اگر بعد والے رکن میں مشغول ہوگیا تو تو اس کی نماز صحیح ہے۔ اس بنا پر مثلاً اگر قنوت میں اسے یاد آجائے کہ اس نے الحمد نہیں پڑھی تھی تو ضروری ہے کہ پڑھے اور اگر یہ بات اسے رکوع میں یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۸۷۔ اگر نمازی شک کرے کہ اس نے نماز کا سلام پڑھا ہے یا نہیں اور تعقیبات یا دوسری نماز میں مشغول ہو جائے یا کوئی ایسا کام کرے جو نماز کو برقرار نہیں رکھتا اور وہ حالت نماز سے خارج ہوگیا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر ان صورتوں سے پہلے شک کرے تو ضروری ہے کہ سلام پڑھے اور اگر شک کرے کہ سلام درست پڑھا ہے یا نہیں تو جہاں بھی ہو اپنے شک کی پروانہ کرے۔

سلام کے بعد شک کرنا


۱۱۸۸۔ اگر نمازی سلام نماز کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز صحیح طور پر پڑھی ہے یا نہیں مثلاً شک کرے کہ رکوع ادا کیا ہے یا نہیں یا چار رکعتی نماز کے سلام کے بعد شک کرے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ، تو وہ اپنے شک کی پروانہ کرے لیکن اگر اسے دونوں طرف نماز کے باطل ہونے کا شک ہو مثلاً چار رکعتی نماز کے سلام کے بعد شک کرے کہ تین رکعت پڑھی ہیں یا پانچ رکعت تو اس کی نماز باطل ہے۔

وقت کے بعد شک کرنا


۱۱۸۹۔ اگر کوئی شخص نماز کا وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز پڑھی ہے یا نہیں یا گمان کرے کہ نہیں پڑھی تو اس نماز کا پڑھنا لازم نہیں لیکن اگر وقت گزرنے سے پہلے شک کرے کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں تو خواہ گمان کرے کہ پڑھی ہے پھر بھی ضروری ہے کہ وہ نماز پڑھے۔

۱۱۹۰۔ اگر کوئی شخص وقت گزرنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز دوست پڑھی ہے یا نہیں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۹۱۔اگر نماز ظہر اور عصر کا وقت گزر جانے کے بعد نمازی جان لے کہ چار رکعت نماز پڑھی ہے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ ظہر کی نیت سے پڑھی ہے یا عصر کی نیت سے تو ضروری ہے کہ چار رکعت نماز قضا اس نماز کی نیت سے پڑھے جو اس پر واجب ہے۔

۱۱۹۲۔ اگر مغرب اور عشا کی نماز کا وقت گزرنے کے بعد نمازی کو پتہ چلے کہ اس نے ایک نماز پڑھی ہے لیکن یہ علم نہ ہو کہ تین رکعتی نماز پڑھی ہے یا چار رکعتی، تو ضروری ہے کہ مغرب اور عشا دونوں نمازوں کی قضا کرے۔

کثیرُالشک کا شک کرنا


۱۱۹۳۔کثیرالشک وہ شخص ہے جو بہت زیادہ شک کرے اس معنی میں کہ وہ لوگ جو اس کی مانند ہیں ان کی نسبت وہ حواس فریب اسباب کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں زیادہ شک کرے۔ پس جہاں حواس کو فریب دینےوالا سبب نہ ہو اور ہر تین نمازوں میں ایک دفعہ شک کرے تو ایسا شخص اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۹۴۔ اگر کثیرالشک نماز کے اجزاء میں سے کسی جزو کے انجام دینے کے بارے میں شک کرے تو اسے یوں سمجھنا چاہئے کہ اس جزو کو انجام دے دیا ہے۔ مثلاً اگر شک کرے کہ رکوع کیا ہے یا نہیں تو اسے سمجھنا چاہئے کہ رکوع کر لیاہے اور اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں شک کرے جو مبطل نماز ہے مثلاً شک کرے کہ صبح کی نماز دو رکعت پڑھی ہے یا تین رکعت تو یہی سمجھے نماز ٹھیک پڑھی ہے۔

۱۱۹۵۔جس شخص کو نماز کے کسی جزو کے بارے میں زیادہ شک ہوتا ہو، اس طرح کہ وہ کسی مخصوص جزو کے بارے میں (کچھ) زیادہ (ہی) شک کرتا رہتا ہو، اگر وہ نماز کے کسی دوسرے جزو کے بارے میں شک کرے تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔ مثلاً کسی کو زیادہ شک اس بات میں ہوتا ہو کہ سجدہ کیا ہے یا نہیں، اگر اسے رکوع کرنے کےبعد شک ہو تو ضروری ہے شک کے حکم پر عمل کرے یعنی اگر ابھی سجدے میں نہ گیا ہو تو رکوع کرے اور اگر سجدے میں چلا گیا ہو تو شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۹۶۔ جو شخص کسی مخصوص نماز مثلاً ظہر کی نماز میں زیادہ شک کرتا ہو اگر وہ کسی دوسری نماز مثلاً عصر کی نماز میں شک کرے تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

۱۱۹۷۔ جو شخص کسی مخصوص جگہ پر نماز پڑھتے وقت زیادہ شک کرتا ہو اگر وہ کسی دوسری جگہ نماز پڑھے اور اسے شک پیدا ہو تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

۱۱۹۸۔ اگر کسی شخص کو اس بارے میں شک ہو کہ وہ کثیر الشک ہو گیا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے اور کثیر الشک شخص کو جب تک یقین نہ ہو جائے کہ وہ لوگوں کی عام حالت پر لوٹ آیا ہے اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۱۹۹۔ اگر کثیر الشک شخص، شک کرے کہ ایک رکن بجالایا ہے یا نہیں اور وہ اس شک کی پروا بھی نہ کرے اور پھر اسے یاد آئے کہ وہ رکن بجا نہیں لایا اور اس کے بعد کے رکن میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اس رکن کو بجالائے اور اگر بعد کے رکن میں مشغول ہوگیا ہو تو اس کی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے مثلاً اگر شک کرے کہ رکوع کیا ہے یا نہیں اور اس شک کی پروا نہ کرے اور دوسرے سجدے سے پہلے اسے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا تھا تو ضروری ہے کہ رکوع کرے اور اگر دوسرے سجدے کے دوسران اسے یاد آئے تو اس کی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔

۱۲۰۰۔ جو شخص زیادہ شک کرتا ہو اگر وہ شک کرے کہ کوئی ایسا عمل جو رکن نہ ہو انجام کیا ہے یا نہیں اور اس شک کی پروا نہ کرے اور بعد میں اسے یاد آئے کہ وہ عمل انجام نہیں دیا تو اگر انجام دینے کے مقام سے ابھی نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اسے انجام دے اور اگر اس کے مقام سے گزر گیا ہو تو اس کی نماز صحیح ہے مثلاً اگر شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں اور شک کی پروا نہ کرے مگر قنوت پڑھتے ہوئے اسے یاد آئے کہ الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اور اگر رکوع میں یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

امام اور مقتدی کا شک


۱۲۰۲۔ اگر کوئی شخص مستحب نماز کی رکعتوں میں شک کرے اور شک عدد کی زیادتی کی طرف ہو جو نماز کو باطل کرتی ہے تو اسے چاہئے کہ یہ سمجھ لے کہ کم رکعتیں پڑھی ہیں مثلاً اگر صبح کی نفلوں میں شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو یہی سمجھے کہ دو پڑھی ہیں۔ اور اگر تعداد کی زیادتی والا شک نماز کو باطل نہ کرے مثلاً اگر نمازی شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا ایک پڑھی ہے تو شک کی جس طرف پر بھی عمل کرے اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۲۰۳۔ رکن کا کم ہونا نفل نماز کو باطل کر دیتا ہے لیکن رکن کا زیادہ ہونا اسے باطل نہیں کرتا۔ پس اگر نمازی نفل کے افعال میں سے کوئی فعل بھول جائے اور یہ بات اسے اس وقت یاد آئے جب وہ اس کے بعد والے رکن میں مشغول ہو چکا ہو تو ضروری ہے کہ اس فعل کو انجام دے اور دوبارہ اس رکن کو انجام دے مثلاً اگر رکوع کے دوران اسے یاد آئے کہ سورۃ الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے کہ واپس لوٹے اور الحمد پڑھے اور دوبارہ رکوع میں جائے۔

۱۲۰۴۔ اگر کوئی شخص نفل کے افعال میں سے کسی فعل کے متعلق شک کرے خواہ وہ فعل رکنی ہو یا غیر رکنی اور اس کا موقع نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ اسے انجام دے اور اگر موقع گزر گیا ہو تو اپنے شک کی پروانہ کرے۔

۱۲۰۵۔ اگر کسی شخس کو دو رکعتی مستحب نماز میں تین یا زیادہ رکعتوں کے پڑھ لینے کا گمان ہو تو چاہئے کہ اس گمان کی پروا نہ کرے اور اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اس کا گمان دو رکعتوں کا یا اس سے کم کا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اسی گمان پر عمل کرے مثلاً اگر اسے گمان ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے تو ضروری ہے کہ احتیاط کے طور پر ایک رکعت اور پڑھے۔

۱۲۰۶۔ اگر کوئی شخص نفل نماز میں کوئی ایسا کام کرے جس کے لئے واجب نماز میں سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہو یا ایک سجدہ بھول جائے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ نماز کے بعد سجدہ سہو یا سجدے کی قضا بجالائے۔

صحیح شکوک


۱۲۰۸۔اگر کسی کو نو صورتوں میں چار رکعتی نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک ہو تو اسے چاہئے کہ فوراً غور و فکر کرے اور اگر یقین یا گمان شک کی کسی ایک طرف ہو جائے تو اسی کی اختیار کرے اور نماز کو تمام کرے ورنہ ان احکام کے مطابق عمل کرے جو ذیل میں بتائے جارہے ہیں۔

وہ نو صورتیں یہ ہیں:

۱۔ دوسرے سجدے کے دوران شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین ۔ اس صورت میں اسے یوں سمجھ لینا چاہئے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں اور ایک اور رکعت پڑھے پھر نماز کو تمام کرے اور احتیاط واجب کی بنا پر نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجالائے۔

۲۔ دوسرے سجدے کے دوران اگر شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو یہ سمجھ لے کہ چار پڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجالائے۔

۳۔ اگر کسی کو دوسرے سجدے کے دوران شک ہو جائے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین یا چار تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چار پڑھی ہیں اور وہ نماز ختم ہونے کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔

۴۔ اگر کسی شخص کو دوسرے سجدے کے دوران شک ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ تو وہ یہ سمجھے کہ چار پڑھی ہیں اور اس بنیاد پر نماز پوری کرے اور نماز کے بعد دو سجدہ سہو بجا لائے۔ اور بعید نہیں کہ یہی حکم ہر اس صورت میں ہو جہاں کم از کم شک چار رکعت پر ہو مثلاً چار اور چھ رکعتوں کے درمیان شک ہو اور یہ بھی بعید نہیں کہ ہر اس صورت میں جہاں چار رکعت اور اس سے کم یا اس سے زیادہ رکعتوں میں دوسرے سجدے کے دوران شک ہو تو چار رکعتیں قرار دے کر دونوں شک کے اعمال انجام دے یعنی اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے کم پڑھی ہیں نماز احتیاط پڑھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت سے زیادہ پڑھی ہیں بعد میں دو سجدہ سہو بھی کرے۔ اور تمام صورتوں میں اگر پہلے سجدے کے بعد اور دوسرے سجدے میں داخل ہونے سے پہلے سابقہ چار شک میں سے ایک اسے پیش آئے تو اس کی نماز باطل ہے ۔

۵۔ نماز کے دوران جس وقت بھی کسی کو تین رکعت اور چار رکعت کے درمیان شک ہو ضروری ہے کہ یہ سمجھ لے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کہ یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔

۶۔ اگر قیام کے دوران کسی کو چار رکعتوں اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور کا سلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔

۷۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔

۸۔ اگر قیام کے دوران کسی کو تین، چار اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور سلام نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھرے ہو ہو کر اور بعد میں دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔

۹۔ اگر قیام کے دوران کسی کو پانچ اور چھ رکعتوں کے بارے میں شک ہو جائے تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد اور نماز کا سلام پڑھے اور دو سجدہ سہو بجالائے اور احتیاط مستحب کی بنا پر ان چار صورتوں میں بےجا قیام کے لئے دو سجدہ سہو بھی بجالائے۔

۱۲۰۹۔ اگر کسی کو صحیح شکوک میں سے کوئی شک ہو جائے اور نماز کو وقت اتنا تنگ ہو کہ ناز از سرنو نہ پڑھ سکے تو نماز نہیں توڑنی چاہئے اور ضروری ہے کہ جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق عمل کرے۔ بلکہ اگر نماز کا وقت وسیع ہو تب بھی احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز نہ توڑے اور جو مسئلہ پہلے بیان کیا گیا ہے اس پر عمل کرے۔

۱۲۱۰۔ اگر نماز کے دوران انسان کو ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہو جائے جن کے لئے نماز احتیاط واجب ہے اور وہ نماز کو تمام کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز احتیاط پڑھے اور نماز احتیاط پڑھے بغیر از سر نو نماز نہ پڑھے اور اگر وہ کوئی ایسا فعل انجام دینے سے پہلے جونماز کو باطل کرتا ہو از سر نو نماز پرھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی دوسری نماز بھی باطل ہے لیکن اگر کوئی ایسا فعل انجام دینے کے بعد جونماز کو باطل کرتا ہو نماز میں مشغول ہو جائے تو اس کی دوسری نماز صحیح ہے۔

۱۲۱۱۔جب نماز کو باطل کرنے والے شکوک میں سے کوئی شک انسان کو لاحق ہو جائے اور وہ جانتا ہو کہ بعد کی حالت میں منتقل ہو جانے پر اس کے لئے یقین یا گمان پیدا ہوجائے گا تو اس صورت میں جبکہ اس کا باطل شک شروع کی دو رکعت میں ہو اس کے لئے شک کی حالت میں نماز جاری رکھنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً اگر قیام کی حالت میں اسے شک ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ پڑھی ہیں اور وہ جانتا ہو کہ اگر رکوع میں جائے تو کسی ایک طرف یقین یا گمان پیدا کرے گا تو اس حالت میں اس کے لئے رکوع کرنا جائز نہیں ہے اور باقی باطل شکوک میں بظاہر اپنی نماز جاری رکھ سکتا ہے تاکہ اسے یقین یا گمان حاصل ہو جائے۔

۱۲۱۲۔ اگر کسی شخص کا گمان پہلے ایک طرف زیادہ ہو اور بعد میں اس کی نظر میں دونوں اطراف برابر ہوجائیں تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے اور اگر پہلے ہی دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہوں اور احکام کے مطابق جو کچھ اس کا وظیفہ ہے اس پر عمل کی بنیاد رکھے اور بعد میں اس کا گمان دوسری طرف چلاجائے تو ضروری ہے کہ اسی طرف کو اختیار کرے اور نماز کو تمام کرے۔

۱۲۱۳۔ جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ اس کا گمان ایک طرف زیادہ ہے یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہیں تو ضروری ہے کہ شک کے احکام پر عمل کرے۔

۱۲۱۴۔اگرکسی شخص کو نماز کے بعد معلوم ہو کہ نماز کے دوران وہ شک کی حالت میں تھا مثلاً اسے شک تھا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین رکعتیں ہیں اور اس نے اپنے افعال کی بنیاد تین رکعتوں پر رکھی ہو لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ اس کے گمان میں یہ تھا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر تھیں تو نماز احتیاط پڑھنا ضروری ہے۔

۱۲۱۵۔ اگر قیام کے بعد شک کرے کہ دو سجدے ادا کئے تھے یا نہیں اور اسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک ہو جائے جو دو سجدے تمام ہونے کے بعد لاحق ہوتا تو صحیح ہوتا مثلاً وہ شک کرے کہ میں نے دو رکعت پڑھی ہیں یا تین اور وہ اس شک کے مطابق عمل کرے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اسے تشہد پڑھتے وقت ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہو جائے تو بالفرض اسے یہ علم ہو کہ دو سجدے ادا کئے ہیں تو ضروری ہے کہ یہ سمجھے کہ یہ ایسی دو رکعت میں سے ہے جس میں تشہد نہیں ہوتا تو اس کی نماز باطل ہے۔ اس مثلا کی طرح جو گزر چکی ہے ورنہ اس کی نماز صحیح ہے جیسے کوئی شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا چار رکعت۔

۱۲۱۶۔ اگر کوئی شخص تشہد میں مشغول ہونے سے پہلے یا ان رکعتوں میں جن میں تشہد نہیں ہے قیام سے پہلے شک کرے کہ ایک یا دو سجدے بجالایا ہے یا نہیں اور اسی وقت اسے ان شکوک میں سے کوئی شک لاحق ہو جائے جو دو سجدے تمام ہونے کے بعد صحیح ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۲۱۷۔ اگر کوئی شخص قیام کی حالت میں تین اور چار رکعتوں کے بارے میں یا تین اور چار اور پانچ رکعتوں کے بارے میں شک کرے اور اسے یہ بھی یاد آجائے کہ اس نے اس سے پہلی رکعت کا ایک سجدہ یا دونوں سجدے ادا نہیں کئے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۲۱۸۔ اگر کسی کا شک زائل ہوجائے اور کوئی دوسرا شک اسے لاحق ہو جائے مثلاً پہلے شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں تین رکعتیں اور بعد میں شک کیا تھا تو ہر دو شک کے حکم پر عمل کر سکتا ہے۔ اور نماز کو بھی توڑ سکتا ہے۔ اور جو کام نماز کو باطل کرتا ہے اسے کرنے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے۔

۱۲۲۰۔اگر کسی شخص کو نماز کے بعد پتہ چلے کہ نماز کی حالت میں اسے کوئی شک لاحق ہو گیا تھا لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ وہ شک نماز کو باطل کرنے والے شکوک میں سے تھا یا صحیح شکوک میں سے تھا اور اگر صحیح شکوک میں سے بھی تھا تو اس کا تعلق صحیح شکوک کی کون سے قسم سے تھا تو اس کے لئے جائز ہے کہ نماز کو کالعدم قرار دے اور دوبارہ پڑھے۔

۱۲۲۱۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر اسے ایسا شک لاحق ہو جائے جس کے لئے اسے ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہوکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھنی چاہئے تو ضروری ہے کہ ایک رکعت بیٹھ کر پڑھے اور اگر وہ ایسا شک کرے جس کے لئے اسے دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھنی چاہئے تو ضروری ہے کہ دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔

۱۲۲۲۔ جو شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہو اگر وہ نماز احتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا ہونے سے عاجز ہو تو ضروری ہے کہ نماز احتیاط اس شخص کی طرح پڑھے جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور جس کا حکم سابقہ مسئلے میں بیان ہو چکا ہے۔

۱۲۲۳۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو اگر نماز احتیاط پڑھنے کے وقت کھڑا ہوسکے تو ضروری ہے کہ اس شخص کے وظیفے کے مطابق عمل کرے جو کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے۔

نماز احتیاط پڑھنے کا طریقہ


۱۲۲۴۔ جس شخص پر نماز احتیاط واجب ہو ضروری ہے کہ نماز کے سلام کے فوراً بعد نماز احتیاط کی نیت کرے اور تکبیر کہے پھر الحمد پڑھے اور رکوع میں جائے اور دو سجدے بجالائے۔ پس اگر اس پر ایک رکعت نماز احتیاط واجب ہو تو دو سجدوں کے بعد تشہد اور سلام پڑھے۔ اور اگر اس پر دو رکعت نماز احتیاط واجب ہو تو دو سجدوں کے بعد پہلی رکعت کی طرح ایک اور رکعت بجالائے اور تشہد کے بعد سلام پڑھے۔

۱۲۲۵۔ نماز احتیاط میں سورہ اور قنوت نہیں ہے اور احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ یہ نماز آہستہ پڑھے اور اس کی نیت زبان پر نہ لائے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بِسمِ اللہ بھی آہستہ پڑھے۔

۱۲۲۶۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھنے سے پہلے معلوم ہو جائے کہ جو نماز اس نے پڑھی تھی وہ صحیح تھی تو اس کے لئے نماز احتیاط پڑھنا ضروری نہیں اور اگر نماز احتیاط کے دوران بھی یہ علم ہو جائے تو اس نماز کو تمام کرنا ضروری نہیں۔

۱۲۲۷۔اگر نماز احتیاط پڑھنے سے پہلے کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ اس نے نماز کی رکعتیں کم پڑھی تھیں اور نماز پڑھنے کے بعد اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ اس نے نماز کا جو حصہ نہ پڑھا ہو اسے پڑھے اور بے محل سلام کے لئے احتیاط لازم کی بنا پر دو سجدہ سہو ادا کرے اور اگر اس سے کوئی ایسا فعل سر زد ہوا ہے جو نماز کو باطل کرتا ہو مثلاً قبلے کی جانب پیٹھ کی ہو تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

۱۲۲۸۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط کے بعد پتہ چلے کی اس کی نماز میں کمی احتیاط کے برابر تھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے درمیان شک کی صورت میں ایک نماز احتیاط پڑھے اور بعد میں معلوم ہو کہ اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے۔

۱۲۳۰۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھنے کے بعد پتہ چلے کہ نماز میں جو کمی ہوئی تھی وہ نماز احتیاط سے زیادہ تھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے مابین شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھے اور بعد میں معلوم ہو کہ نماز کی دو رکعتیں پڑھی تھیں اور نماز احتیاط کے بعد کوئی ایسا کام کیا ہو جو نماز کو باطل کرتا ہو مثلاً قبلے کی جانب پیٹھ کی تو ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور اگر کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جونماز کو باطل کرتا ہو تو اس صورت میں بھی احتیاط لازم یہ ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے اور باقی ماندہ ایک رکعت ضم کرنے پر اکتفا نہ کرے۔

۱۲۳۱۔ اگر کوئی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور کھڑے ہو کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھنے کے بعد اسے یاد آئے کہ اس نے نماز کی دو رکعتیں پڑھی تھیں تو اس کے لئے بیٹھ کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھنا ضروری نہیں ۔

۱۲۳۲۔ اگر کوئی شخص تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت وہ ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھ ہو اسے یاد آئے کہ اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری ہے کہ نماز احتیاط کو چھوڑ دے چنانچہ رکوع میں داخل ہونے سے پہلے اسے یاد آیا ہو تو ایک رکعت ملا کر پڑھے اور اس کی نماز صحیح ہے اور احتیاط لازم کی بنا پر زائد سلام کے لئے دو سجدہ بجالائے اور اگر رکوع میں داخل ہونے کے بعد یاد آئے تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور احتیاط کی بنا پر باقی ماندہ رکعت ضم کرنے پر اکتفا نہیں کرسکتا۔

۱۲۳۳۔ اگر کوئی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت وہ دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھ رہا ہو اسے یاد آئے کہ اس نے نماز کی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو یہاں بھی بالکل وہی حکم جاری ہوگا جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں کیا گیا ہے۔

۱۲۳۴۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط کے دوران پتہ چلے کہ اس کی نماز میں کمی نماز احتیاط سے زیادہ یا کم تھی تو یہاں بھی بالکل وہی حکم جاری ہوگا جس کا ذکر مسئلہ ۱۲۳۲ میں کیا گیا ہے۔

۱۲۳۵۔ اگر کوئی شخص شک کرے کہ جو نماز احتیاط اس پر واجب تھی وہ اسے بجالایا ہے یا نہیں تو نماز کا وقت گزر جانے کی صورت میں اپنے شک کی پروانہ کرے اور اگر وقت باقی ہو تو اس صورت میں جبکہ شک اور نماز کے درمیان زیادہ وقفہ بھی گزرا ہو اور اس نے کوئی ایسا کام بھی نہ کیا ہو مثلاً قبلے سے منہ موڑنا جو نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز احتیاط پڑھے اور اگر کوئی ایسا کام کیا ہو جو نماز کو باطل کرتا ہو یا نماز اور اس کے شک کے درمیان زیادہ وقفہ ہوگیا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے ۔

۱۲۳۶۔ اگر ایک شخص نماز احتیاط میں ایک رکعت کی بجائے دو رکعت پڑھ لے تو نماز احتیاط باطل ہوجاتی ہے اور ضروری ہے کہ دوبارہ اصل نماز پڑھے۔ اور اگر وہ نماز میں کوئی رکن بڑھا دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا بھی یہی حکم ہے۔

۱۲۳۷۔ اگر کسی شخص کو نماز احتیاط پڑھتے ہوئے اس نماز کے افعال میں سے کسی کے متعلق شک ہو جائے تو اگر اس کا موقع نہ گزرا ہو تو اسے انجام دینا ضروری ہے اور اگر اس کا موقع گزر گیا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے شک کی پروانہ کرے مثلاً اگر شک کرے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں اور ابھی رکوع میں نہ گیا ہو تو ضروری ہے کہ الحمد پڑھے اور اگر رکوع میں جاچکا ہو تو ضروری ہے اپنے شک کی پروانہ کرے۔

۱۲۳۸۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط کی رکعتوں کے بارے میں شک کرے اور زیادہ رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ شک کی بنیاد کم رکھے اور اگر زیادہ رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نہ کرتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کی بنیاد زیادہ پر رکھے مثلا جب وہ دو رکعت نماز احتیاط پڑھ رہاہو اگر شک کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو چونکہ زیادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا ہے اس لئے اسے چاہئے کہ سمجھ لے کہ اس نے دو رکعتیں اور اگر شک کرے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں پڑھی ہیں تو چونکہ زیادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا اس لئے اس سمجھنا چاہئے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں۔

۱۲۳۹۔ اگر نماز احتیاط میں کوئی ایسی چیز جو رکن نہ ہو سہواً کم یا زیادہ ہو جائے تو اس کے لئے سجدہ سہو نہیں ہے۔

۱۲۴۰۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط کے سلام کے بعد شک کرے کہ وہ نماز کے اجزا اور شرائط میں سے کوئی ایک جزو یا شرط انجام دے چکا ہے یا نہیں تو وہ اپنے شک کی پروانہ کرے۔

۱۲۴۱۔ اگر کوئی شخص نماز احتیاط میں تشہد پڑھنا یا ایک سجدہ کرنا بھول جائے اور اس تشہد یا سجدے کا اپنی جگہ پر تدارک بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط اور ایک سجدے کی قضا یا دو سجدہ سہو واجب ہوں تو ضروری ہے کہ پہلے نماز احتیاط بجالائے۔

۱۲۴۳۔ نماز کی رکعتوں کے بارے میں گمان کا حکم یقین کے حکم کی طرح ہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں پڑھی ہیں اور گمان کرے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ سمجھے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں اور اگر چار رکعتی نماز میں گمان کرے کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے نماز احتیاط پڑھنے کی ضرورت نہیں لیکن افعال کے بارے میں گمان کرنا شک کا حکم رکھتا ہے پس اگر وہ گمان کرے کہ رکوع کیا ہے اور ابھی سجدہ میں داخل نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ رکوع کو انجام دے اور اگر وہ گمان کرے کہ الحمد نہیں پڑھی اور سورے میں داخل ہوچکا ہو تو گمان کی پروا نہ کرے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۲۴۴۔ روزانہ کی واجب نمازوں اور دوسری واجب نمازوں کے بارے میں شک اور سہو اور گمان کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہے مثلاً اگر کسی شخص کو نماز آیات کے دوران شک ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں تو چونکہ اس کا شک دو رکعتی نماز میں ہے لہذا اس کی نماز باطل ہے اور اگر وہ گمان کرے کہ یہ دوسری رکعت ہے یا پہلی رکعت تو اپنے گمان کے مطابق نماز کو تمام کرے۔

سجدہ سہو


۱۲۴۵۔ ضروری ہے کہ انسان سلام نماز کے بعد پانچ چیزوں کے لئے اس طریقے کے مطابق جس کا آئندہ ذکر ہوگا دو سجدے سہو بجالائے:

۱۔ نماز کی حالت میں سہواً کلام کرنا۔

۲۔ جہاں سلام نماز نہ کہنا چاہئے وہاں سلام کہنا۔ مثلاً بھول کر پہلی رکعت میں سلام پڑھنا۔

۳۔ تشہد بھول جانا۔

۴۔ چار رکعتی نماز میں دوسری سجدے کے دوران شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ، یا شک کرنا کہ چار رکعتیں پڑھی ہیں یا چھ، بالکل اسی طرح جیسا کہ صحیح شکوک کے نمبر ۴ میں گزر چکا ہے۔

ان پانچ صورتوں میں اگر نماز پر صحیح ہونے کا حکم ہو تو احتیاط کی بنا پر پہلی، دوسری اور پانچویں صورت میں اور اقوی کی بنا پر تیسری اور چوتھی صورت میں دو سجدہ سہو ادا کرنا ضروری ہے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ایک سجدہ بھول جائے جہاں کھڑا ہونا ضروری ہو مثلاً الحمد اور سورہ پڑھتے وقت وہاں غلطی سے بیٹھ جائے یا جہاں بیٹھنا ضروری ہو مثلا تشہد پڑھتے وقت وہاں غلطی سے کھڑا ہو جائے تو دو سجدہ سہو ادا کرے بلکہ ہر اس چیز کے لئے جو غلطی سے نماز میں کم یا زیادہ ہو جائے دو سجدہ سہو کر ان چند صورتوں کے احکام آئند مسائل میں بیان ہوں گے۔

۱۲۴۶۔اگر انساں غلطی سے یا اس خیال سے کہ وہ نماز پڑھ چکا ہے کلام کرے تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۴۷۔اس آواز کے لئے جو کھانسنے سے پیدا ہوتی ہے سجدہ سہو واجب نہیں لیکن اگر کوئی غلطی سے نالہ و بکا کرے یا (سرد) آہ بھرے یا (لفظ) آہ کہے تو ضروری ہے کہ احتیاط کی بنا پر سجدہ سہو کرے۔

۱۲۴۸۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی چیز کو جو اس نے غلط پڑھی ہو دوبارہ صحیح طور پر پڑھے تو اس کے دوبارہ پڑھنے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہے۔

۱۲۴۹۔ اگر کوئی شخص نماز میں غلطی سے کچھ دیر باتیں کرتا رہے اور عموماً اسے ایک دفعہ بات کرنا سمجھا جاتا ہو تو اس کے لئے نماز کے سلام کے بعد دو سجدہ سہو کافی ہیں۔

۱۲۵۰۔ اگر کوئی شخص غلطی سے تسبیحات اربعہ نہ پڑھے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز کے بعد دو سجدہ سہو بجالائے۔

۱۲۵۱۔ جہاں نماز کا سلام نہیں کہنا چاہئے اگر کوئی شخص غلطی سے اَلسَّلاَمُ عَلَیناَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہَ الصَّالِحیِن کہہ دے یا الَسَّلامُ عَلَیکُم کہے تو اگر چہ اس نے "وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ" نہ کہا ہو تب بھی احتیاط لازم کی بنا پرضروری ہے کہ دو سجدہ سہو کرے۔ لیکن اگر غلطی سے "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَ کَاتُہ" کہے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دو سجدے سہو بجالائے۔

۱۲۵۲۔ جہاں سلام نہیں پڑھنا چاہئے اگر کوئی شخص وہاں غلطی سے تینوں سلام پڑھ لے تو اس کے لئے دو سجدہ سہو کافی ہیں۔

۱۲۵۳۔اگر کوئی شخص ایک سجدہ یا تشہد بھول جائے اور بعد کی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آئے تو ضروری ہے کہ پلٹے اور (سجدہ یا تشہد) بجالائے اور نماز کے بعد احتیاط مستحب کی بنا پر بے جا قیام کے لئے دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۵۴۔اگر کسی شخس کو رکوع میں یا اس کے بعد یاد آئے کہ وہ اس سے پہلی رکعت میں ایک سجدہ یا تشہد بھول گیا ہے تو ضروری ہے کہ سلام نماز کے بعد سجدے کی قضا کرے اور تشہد کے لئے دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۵۵۔اگر کوئی شخص نماز کے سلام کے بعد جان بوجھ کر سجدہ سہو نہ کرے تو اس نے گناہ کیا ہے اور احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جس قدر جلدی ہوسکے اسے ادا کرے اور اگر اس نے بھول کر سجدہ سہو نہیں کیا تو جس وقت بھی اسے یاد آئے ضروری ہے کہ فوراً سجدہ کرے اور اس کے لئے نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں۔

۱۲۵۶۔ اگر کوئی شخص شک کرے کہ مثلاً اس پر دو سجدہ سہو واجب ہوئے ہیں یا نہیں تو ان کا بجالانا اس کے لئے ضروری نہیں۔

۱۲۵۷۔ اگر کوئی شخص شک کرے کہ مثلاً اس پر دو سجدہ سہو واجب ہوئے ہیں یا چار تو اس کا دو سجدے ادا کرنا کافی ہے۔

۱۲۵۸۔ اگر کسی شخص کو علم ہو کہ دو سجدہ سہو میں سے ایک سجدہ سہو نہیں بجالایا اور تدارک بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ دو سجدہ سہو بجالائے اور اگر اسے علم ہو کہ اس نے سہواً تین سجدے کئے ہیں تو احتیاط واجب یہ کہ دوبارہ دو سجدہ سہو بجالائے۔

سجدہ سہو کا طریقہ


۱۲۸۹۔ سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ سلام نماز کے بعد انسان فوراً سجدہ سہو کی نیت کرے اور احتیاط لازم کی بنا پر پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھ دے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدہ سہو میں ذکر پڑھے اور بہتر ہے کہ کہے : "بِسمِ اللہَ وَبِاللہِ اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ" اس کے بعد اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے اور دوبارہ سجدے میں جائے اور مذکورہ ذکر پڑھے اور بیٹھ جائے اور تشہد کے بعد کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم اور اَولیٰ یہ ہے کہ "وَرَحمۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ" کا اضافہ کرے۔

بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کی قضا


۱۲۶۰۔ اگر انسان سجدہ اور تشہد بھول جائے اور نماز کے بعد ان کی قضا بجالائے تو ضروری ہے کہ وہ نمازی کی تمام شرائط مثلاً بدن اور لباس کا پاک ہونا اور رو بہ قبلہ ہونا اور دیگر شرائط پوری کرتا ہو۔

۱۲۶۱۔ اگر انسان کئی دفعہ سجدہ کرنا بھول جائے مثلاً ایک سجدہ پہلی رکعت میں اور ایک سجدہ دوسری رکعت میں بھول جائے تو ضروری ہے کہ نماز کے بعد ان دونوں سجدوں کو قضا بجالائے اور بہتر یہ ہے کہ بھولی ہوئی ہر چیز کے لئے احتیاطاً دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۶۲۔ اگر انسان ایک سجدہ اور ایک تشہد بھول جائے تو احتیاطاً ہر ایک کے لئے دو سجدہ سہو بجالائے۔

۱۶۶۳۔ اگر انسان دو رکعتوں میں سے دو سجدے بھول جائے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ قضا کرتے وقت ترتیب سے بجالائے۔

۱۲۶۴۔ اگر انسان نماز کے سلام اور سجدے کی قضا کے درمیان کوئی ایسا کام کرے جس کے عمداً یا سہواً کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاً پیٹھ قبلے کی طرف کرے تو احیتاط مستحب یہ ہے کہ سجدے کی قضا کے بعد دوبارہ نماز پڑھے۔

۱۲۶۵۔ اگر کسی شخص کو نماز کے سلام کے بعد یاد آئے کہ آخری رکعت کا ایک سجدہ یا تشہد بھول گیا ہے تو ضروری ہے کہ لوٹ جائے اور نماز کو تمام کرے اور احتیاط واجب کی بنا پر بے محل سلام کے لئے دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۶۶۔ اگر ایک شخص نماز کے سلام اور سجدے کی قضا کے درمیان کوئی ایسا کام کرے۔ جس کے لئے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہو مثلاً بھولے سے کلام کرے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ پہلے سجدے کی قضا کرے اور بعد میں دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۶۷۔ اگر کسی شخص کو یہ علم نہ ہو کہ نماز میں سجدہ بھولا ہے یا تشہد تو ضروری ہے کہ سجدے کی قجا کرے اور دو سجدہ سہو ادا کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ تشہد کی بھی قضا کرے۔

۱۲۲۸۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ سجدہ یا تشہد بھولا ہے یا نہیں تو اس کے لئے ان کی قضا کرنا یا سجدہ سہو ادا کرنا واجب نہیں ہے۔

۱۲۲۹۔ اگر کسی شخص کو علم ہو کہ سجدہ بھول گیا ہے اور شک کرے کہ بعد کی رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آیا تھا اور اسے بجالایا تھا یا نہیں تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے کی قضا کرے۔

۱۲۷۰۔ جس شخص پر سجدے کی قضا ضروری ہو، اگر کسی دوسرے کام کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو واجب ہوجائے تو ضروری ہے کہ احتیاط کی بنا پر نماز ادا کرنے کے بعد اولاً سجدے کی قضا کرے اور اس کے بع سجدہ سہو کرے۔

۱۲۷۱۔اگر کسی شخص کو شک ہو کہ نماز پڑھنے کے بعد بھولے سجدے کی قضا بجالایا ہے یا نہیں اور نماز کا وقت نہ گزرا ہو تو اسے چاہئے کہ سجدے کی قضا کرے لیکن اگر نماز کا وقت بھی گزر گیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔

نماز کے اجزا اور شرائط کو کم یا زیادہ کرنا
۱۲۷۲۔جب نماز کے واجبات میں سے کوئی چیز جان بوجھ کر کم یا زیادہ کی جائے تو خواہ وہ ایک حرف ہی کیوں نہ ہو نماز باطل ہے۔

۱۲۷۳۔اگر کوئی شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز کے واجب ارکان میں سے کوئی ایک کم کر دے تو نماز باطل ہے۔ اور وہ شخص جو (کسی دور افتادہ مقام پر رہنے کی وجہ سے) مَسَائل تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہو یا وہ شخص جس نے کسی حجت (معتبر شخص یا کتاب وغیرہ) پر اعتماد کیا ہو اگر واجب غیر رکنی کو کم کرے یا کسی رکن کو زیادہ کرے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اگرچہ کوتاہی کی وجہ سے ہو صبح اور مغرب اور عشا کی نمازوں میں الحمد اور سورہ آہستہ پڑھے یا ظہر اور عصر کی نمازوں میں الحمد اور سورہ آواز سے پڑھے یا سفر میں ظہر، عصر اور عشا کی نمازوں کی چار رکعتیں پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۲۷۴۔ اگرنماز کے دوران کسی شخص کا دھیان اس طرف جائے کہ اس کا وضو یا غسل باطل تھا یا وضور یا غسل کئے بغیر نماز پڑھنے لگا ہے تو ضروری ہے کہ نماز توڑ دے اور دوبارہ وضو یا غسل کے ساتھ پڑھے اور اگر اس طرف اس کا دھیان نماز کے بعد جائے تو ضروری ہے کہ وضو یا غسل کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھے اور اگر نماز کا وقت گزر گیا ہو تو اس کی قضا کرے۔

۱۲۷۵۔ اگر کسی شخص کو رکوع میں پہنچنے کے بعد یاد آئے کہ پہلے والی رکعت کے دو سجدے بھول گیا ہے تو اس کی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے اور اگر یہ بات اسے رکوع میں پہنچنے سے پہلے یاد آئے تو ضروری ہے کہ واپس مڑے اور دو سجدے بجالائے اور پھر کھڑا ہو جائے اور الحمد اور سورہ یا تسبیحات پڑھے اور نماز کو تمام کرے اور نماز کے بعد احیتاط مستحب کی بنا پر بے محل قیام کے لئے دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۷۶۔ اگر کسی شخص کو اَلسَّلاَمُ عَلَینَا اور اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم کہنے سے پہلے یاد آئے کہ وہ آخری رکعت کے دو سجدے بجا نہیں لایا تو ضروری ہے کہ دو سجدے بجالائے اور دوبارہ تشہد اور سلام پڑھے۔

۱۲۷۷۔ اگر کسی شخص کو نماز کے سلام سے پہلے یاد آئے کہ اس نے نماز کے آخری حصے کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں تو ضروری ہے کہ جتنا حصہ بھول گیا ہو اسے بجالائے۔

۱۲۷۸۔اگر کسی شخص کو نماز کے سلام کے بعد یاد آئے کہ اس نے نماز کے آخری حصے کی ایک یاایک سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں اور اس سے ایسا کام بھی سر زد ہو چکا ہو کہ اگر وہ نماز میں عمداً یا سہواً کیا جائے تو نماز کو باطل کر دیتا ہو مثلا اس نے قبلے کی طرف پیٹھ کی ہو تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جس کا عمداً یا سہواً کرنا نماز کو باطل کرتا ہو تو ضروری ہے کہ جتنا حصہ پڑھنا بھول گیا ہو اسے فوراً بجا لائے اور زائد سلام کے لئے احتیاط لازم کی بنا پر دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۷۹۔ جب کوئی شخص نماز کے سلام کے بعد ایک کام انجام دے جو اگر نماز کے دوران عمداً سہواً سجدے بجانہیں لایا تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر نماز کو باطل کرنے والا کوئی کام کرنے سے پہلے اسے یہ بات یاد آئے تو ضروری ہے کہ جو دو سجدے ادا کرنا بھول گیا ہے انہیں بجالائے اور دوبارہ تشہد اور سلام پڑھے اور جو سلام پہلے پڑھا ہو اس کے لئے احتیاط واجب کی بنا پر دو سجدہ سہو کرے۔

۱۲۸۰۔ اگر کسی شخص کو پتہ چلے کہ اس نے نماز وقت سے پہلے پڑھ لی ہے تو ضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا کرے۔ اور اگر یہ پتہ چلے کہ قبلے کی طرف پیٹھ کر کے پڑھی ہے اور ابھی وقت نہ گزرا ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر چکا ہو اور تردد کا شکار ہو تو قضا ضروری ہے ورنہ قضا ضروری نہیں۔ اور اگر پتہ چلے کہ قبلے کی شمالی یا جنوبی سمت کے درمیان نماز ادا کی ہے اور وقت گزرنے کے بعد پتہ چلے تو قضا ضروری نہیں لیکن اگر وقت گزرنے سے پہلے متوجہ ہو اور قبلے کی سمت تبدیل کرنے سے معذور نہ ہو مثلاً قبلے کی سمت تلاش کرنے میں کوتاہی کی ہو تو احتیاط کی بنا پر دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے۔

مسافر کی نماز ← → احکام نماز
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français