مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

نماز جماعت ← → مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو

مسافر کی نماز

ضروری ہے کہ مسافر ظہر عصر اور عشا کی نماز آٹھ شرطیں ہوتے ہوئے قصر بجالائے یعنی دو رکعت پڑھے۔

(پہلی شرط) اس کا سفر آٹھ فرسخ شروع سے کم نہ ہو اور فرسخ شرعی ساڑھے پانچ کیلومیٹر سے قدرے کم ہوتا ہے (میلوں کے حساب سے آٹھ فرسخ شرعی تقریباً ۲۸ میل بنتے ہیں)۔

۱۲۸۱۔ جس شخص کے جانے اور واپس آنے کی مجموعی مسافت ملا کر آٹھ فرسخ ہو اور خواہ اس کے جانے کی یا واپسی کی مسافت چار فرسخ سے کم ہو یا نہ ہو ضروری ہے کہ نماز قصر کر کے پڑھے۔ اس بنا پر اگر جانے کی مسافت تین فرسخ اور واپسی کی پانچ فرسخ یا اس کے برعکس ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر یعنی دو رکعتی پڑھے۔

۱۲۸۲۔اگر سفر پر جانے اور واپس آنے کی مسافت آٹھ فرسخ ہو تو اگرچہ جس دن وہ گیا ہو اسی دن یا اسی رات کو واپس پلٹ کر نہ آئے ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے لیکن اس صورت میں بہتر ہے کہ احتیاطاً پوری نماز بھی پڑھے۔

۱۲۸۳۔ اگر ایک مختصر سفر آٹھ فرسخ سے کم ہو یا انسان کو علم نہ ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو اسے نماز قصر کرکے نہیں پڑھنی چاہئے اور اگر شک کرے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو اس کے لئے تحقیق کرنا ضروری نہیں اور ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۲۸۴۔ اگر ایک عادل یا قابل اعتماد شخص کسی کو بتائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے اور وہ اس کی بات سے مطمئن ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۲۸۵۔ ایسا شخص جسے یقین ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے اگر نماز قصر کر کے پڑھے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ آٹھ فرسخ نہ تھا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو اس کی قضا لائے۔

۱۲۸۶۔ جس شخص کو یقین ہو کہ جس جگہ وہ جانا چاہتا ہے وہاں کا سفر آٹھ فرسخ نہیں یا شک ہو کہ آٹھ فرسخ ہے یا نہیں اور راستے میں اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ تھا تو گو تھوڑا سا سفر باقی ہو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اور اگر پوری نماز پڑھ چکا ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ قصر پڑھے۔ لیکن اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا ضروری نہیں ہے۔

۱۲۸۷۔ اگر دو جگہوں کا درمیانی فاصلہ چار فرسخ سے کم ہو اور کوئی شخص کئی دفعہ ان کے درمیان جائے اور آئے تو خواہ ان تمام مسافتوں کا فاصلہ ملا کر آٹھ فرسخ بھہ ہو جائے اسے نماز پوری پڑھنی ضروری ہے۔

۱۲۸۸۔ اگر کسی جگہ جانے کے دو راستے ہوں اور ان میں سے ایک راستہ آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرا آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ ہو تو اگر انسان وہاں راستے سے جائے جو آٹھ فرسخ ہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اور اگر اس راستے سے جائے جو آٹھ فرسخ نہیں ہے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۲۸۹۔ آٹھ فرسخ کی ابتدا اس جگہ سے حساب کرنا ضروری ہے کہ جہاں سے گزر جانے کے بعد آدمی مسافر شمار ہوتا ہے اور غالباً وہ جگہ شہر کی انتہا ہوتی ہے لیکن بعض بہت بڑے شہروں میں ممکن ہے وہ شہر کا آخری محلہ ہو۔

(دوسری شرط) مسافر اپنے سفر کی ابتدا سے ہی آٹھ فرسخ طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یعنی یہ جانتا ہو کہ آٹھ فرسخ تک کا فاصلہ طے کرے گا لہذا اگر وہ اس جگہ تک کا سفر کرے جو آٹھ فرسخ سے کم ہو اور وہاں پہنچنے کے بعد کسی ایسی جگہ جانے کا ارادہ کرے جس کا فاصلہ طے کردہ فاصلے سے ملا کر آٹھ فرسخ ہو جاتا ہو تو چونکہ وہ شروع سے آٹھ فرسخ طے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس لئے ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے لیکن اگر وہ وہاں سے آٹھ فرسخ آگے جانے کا ارادہ کرے یا مثلاً چار فرسخ جانا چاہتا ہو اور پھر چار فرسخ طے کرکے اپنے وطن یا ایسی جگہ واپس آنا چاہتا ہو جہاں اس کا ارادہ دس دن ٹھہرنے کا ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۲۹۰۔ جس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ اس کا سفر کتنے فرسخ کا ہے مثلاً کسی گمشدہ (شخص یا چیز) کو ڈھونڈنے کے لئے سفر کر رہا ہو اور نہ جانتا ہو کہ اسے پالینے کے لئے اسے کہاں تک جانا پڑے گا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔ لیکن اگر واپسی پر اس کے وطن یا اس جگہ تک کا فاصلہ جہاں وہ دس دن قیام کرنا چاہتا ہو آتھ فرسخ یا اس سے زیادہ بنتا ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔ مزید براں اگر وہ سفر پر جانے کے دوران ارادہ کرے کہ وہ مثلاً چار فرسخ کی مسافت جاتے ہوئے اور چار فرسخ کی مسافت واپس آتے ہوئے طے کرے گا تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۲۹۱۔ مسافر کو نماز قصر کرکے اس صورت میں پڑھنی ضروری ہے جب اس کا آٹھ فرسخ طے کرنے کا پختہ ارادہ ہو لہذا اگر کوئی شخص شہر سے باہر جا رہا ہو اور مثال کے طور پر اس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر کوئی ساتھی مل گیا تو آٹھ فرسخ کے سفر پر چلاجاوں گا اور اسے اطمینان ہو کہ ساتھی مل جائے گا تو اسے نماز قصر کر کے پڑھنی ضروری ہے اور اگر اسے اس بارے میں اطمینان نہ ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۲۹۲۔جو شخص آٹھ فرسخ سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اگرچہ ہر روز تھوڑا فاصلہ طے کرے اور جب حَدِّ تَر خُّص ۔ جس کے معنی مسئلہ ۱۳۲۷ میں آئیں گے۔ تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے لیکن اگر ہر روز بہت کم فاصلہ طے کرے تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اپنی نمازی پوری بھی پڑھے اور قصر بھی پڑھے۔

۱۲۹۳۔ جو شخص سفر میں کسی دوسرے کے اختیار میں ہو مثلاً نوکر جو اپنے آقا کے ساتھ سفر کر رہا ہو اگر اسے علم ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ کا ہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اور اگر اسے علم نہ ہو تو پوری نماز پڑھے اور اس بارے میں پوچھنا ضروری نہیں۔

۱۲۹۴۔ جو شخص سفر میں کسی دوسرے کے اختیار میں ہو اگر وہ جانتا ہو یا گمان رکھتا ہو کہ چار فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اس سے جدا ہو جائے گا اور سفر نہیں کرے گا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۲۹۵۔ جو شخص سفر میں کسی دوسرے کے اختیار میں ہو اگر اسے اطمینان نہ ہو کہ چار فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اس سے جدا نہیں ہوگا اور سفر جاری رکھے گا تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے لیکن اگر اسے اطمینان ہو اگرچہ احتمال بہت کم ہو کہ اس کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

(تیسری شرط) راستے میں مسافر اپنے ارادے سے پھر نہ جائے۔ پس اگر وہ چار فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنا ارادہ بدل دے یا اس کا ارادہ مُتَزَلزل ہو جائے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پرھے۔

۱۲۹۶۔ اگر کوئی کوئی کچھ فاصلہ طرے کرنے کے بعد جو کہ واپسی کے سفر کو ملا کر آٹھ فرسخ ہو سفر ترک کر دے اور پختہ ارادہ کرلے کہ اسی جگہ رہے گا یا دس دن گزرنے کے بعد واپس جائے گا یا واپس جانے اور ٹھہرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر پائے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۲۹۷۔ اگر کوئی شخص کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد جو کہ واپسی کے سفر کو ملا کر آٹھ فرسخ ہو سفر ترک کردے اور واپس جانے کا پختہ ارادہ کرلے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اگرچہ وہ اس جگہ دس دن سے کم مدت کے لئے ہی رہنا چاہتا ہو۔

۱۲۹۸۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جانے کے لئے جو آٹھ فرسخ دور ہو سفر شروع کرے اور کچھ راستہ طے کرنے کے بعد کسی اور جگہ جانا چاہے اور جس جگہ سے اس نے سفر شروع کیا ہے وہاں سے اس جگہ تک جہان وہ اب جانا چاہتا ہے آٹھ فرسخ بنتے ہوں تو ضروری ہے کہ نماز قصر کر کے پڑھے۔

۱۲۹۹۔ اگر کوئی شخص آٹھ فرسخ تک فاصلہ طے کرنے سے پہلے متردد ہوجائے کہ باقی راستہ طے کرے یا نہیں اور دوران تردد سفر نہ کرے اور بعد میں باقی راستہ طے کرنے کا پختہ ارادہ کرلے تو ضروری ہے کہ سفر کے خاتمے تک نماز قصر پڑھے۔

۱۳۰۰۔اگر کوئی شخص آٹھ فرسخ کا فاصلہ طے کرنے سے پہلے تردد کا شکار ہو جائے کہ باقی راستہ طے کرے یا نہیں۔ اور حالت تردد میں کچھ فاصلہ طے کرلے اور بعد میں پختہ ارادہ کرلے کہ آٹھ فرسخ مزید سفر کرے گا یا ایسی جگہ جائے کہ جہاں تک اس کا جانا اور آنا آٹھ فرسخ ہو خواہ اسی دن یا اسی رات وہاں سے واپس آئے یا نہ آئے اور وہاں دس دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو ضروری ہے کہ سفر کے خاتمے تک نماز قصر پڑھے۔

۱۳۰۱۔ اگر کوئی شخص آٹھ فرسخ کا فاصلہ طے کرنے سے پہلے متردد ہو جائے کہ باقی راستہ طے کرے یا نہیں اور حالت تردد میں کچھ فاصلہ طے کرلے اور بعد میں پختہ ارادہ کرلے کہ باقی راستہ بھی طے کرے گا چنانچہ اس کا باقی سفر آٹھ فرسخ سے کم ہو تو پوری نماز پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن اس صورت میں جبکہ تردد سے پہلی کی طے کردہ مسافت اور تردد کے بعد کی طے کردہ مصافت ملا کر آٹھ فرسخ ہو تو اظہر یہ ہے کہ نماز قصر پڑھے۔

(چوتھی شرط) مسافر آٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرنے اور وہاں توقف کرنے یا کسی جگہ دس دن یا اس سے زیادہ دن رہنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ پس جو شخص یہ چاہتا ہو کہ آٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرے اور وہاں توقف کرے یا دس دن کسی جگہ پر رہے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

۱۳۰۲۔ جس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ آٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرے گا یا توقف کرے گا یا نہیں یا کسی جگہ دس دن ٹھہرنے کا قصد کرے گا یا نہیں تو ضروری ہے ک پوری پڑھے۔

۱۳۰۳۔ وہ شخص جو آٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرنا چاہتا ہو تا کہ وہاں توقف کرے یا کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو اور وہ شخص بھی جو وطن سے گزرنے یا کسی جگہ دس دن رہنے کے بارے میں مُتَردِّد ہو اگر وہ دس دن کہیں رہنے یا وطن سے گزرنے کا ارادہ ترک بھی کر دے تب بھی ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے لیکن اگر باقی ماندہ اور واپسی کا راستہ ملا کر آٹھ فرسخ ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

(پانچویں شرط) مسافر حرام کام کےلئے سفر نہ کرے اور اگر حرام کام مثلاً چوری کرنے کے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔ اور اگر خود سفر ہی حرام ہو مثلاً اس سفر میں اس کے لئے کوئی ایسا ضرر مُضمَر ہو جس کی جانب پیش قدمی شرعاً حرام ہو یا عورت شوہر کی اجازت کے بغیر ایسے سفر پر جائے جو اس پر واجب نہ ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر سفر حج کے سفر کی طرح واجب ہو تو نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے۔

۱۳۰۴۔جو سفر واجب نہ ہو اگر ماں باپ کی اولاد سے محبت کی وجہ سے ان کے لئے اذیت کا باعث ہو تو حرام ہے اور ضروری ہے کہ انسان اس سفر میں پوری نماز پڑھے اور (رمضان کا مہینہ ہو تو) روزہ بھی رکھے۔

۱۳۰۵۔ جس شخص کا سفر حرام نہ ہو اور وہ کسی حرام کام کے لئے بھی سفر نہ کر رہا ہو وہ اگرچہ سفر میں گناہ بھی کرے مثلاً غیبت کرے یا شراب پئے تب بھی ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۰۶۔ اگر کوئی شخص کسی واجب کام کو ترک کرنے کے لئے سفر کرے تو خواہ سفر میں اس کی کوئی دوسری غرض ہو یا نہ ہو اسے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔ پس جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرض چکا سکتا ہو اور قرض خواہ مطالبہ بھی کرے تو اگر وہ سفر کرتے ہوئے اپنا قرض چکا سکتا ہو اور قرض خواہ مطالبہ بھی کرے تو اگر وہ سفر کرتے ہوئے اپنا قرض ادا نہ کرسکے اور قرض چکانے سے فرار حاصل کرنے کے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے لیکن اگر اس کا سفر کسی اور کام کے لئے ہو تو اگرچہ وہ سفر میں ترک واجب کا مرتکب بھی ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۰۷۔اگر کسی شخص کا سفر میں سواری کا جانور یا سواری کی کوئی اور چیز جس پر وہ سوار ہو غصبی ہو یا اپنے مالک سے فرار ہونے کے لئے سفر کر رہا ہو یا وہ غصبی زمین پر سفر کر رہا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۳۰۸۔ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ سفر کر رہا ہو اگر وہ مجبور نہ ہو اور اس کا سفر کرنا ظالم کی ظلم کرنے میں مدد کا موجب ہو تو اسے پوری نماز پڑھنی ضروری ہے اور اگر مجبو ہو یا مثال کے طور پر کسی مظلوم کو چھڑانے کے لئے اس ظالم کے ساتھ سفر کرے تو اس کی نماز قصر ہوگی۔

۱۳۰۹۔ اگر کوئی شخص سیروتفریح (یعنی پکنک) کی غرض سے سفر کرے تو اس کا سفر حرام نہیں ہے اور ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۱۰۔ اگر کوئی شخص موج میلے اور سیرو تفریح کے لئے شکار کو جائے تو اس کی نماز جاتے وقت پوری ہے اور واپسی پر اگر مسافت کی حد پوری ہو تو قصر ہے۔ اور اس صورت میں کہ اس کی حد مسافت پوری ہو اور شکار پر جانے کی مانند نہ ہو لہذا اگر حصول معاش کے لئے شکار کو جائے تو اس کی نماز قصر ہے اور اگر کمائی اور افزائش دولت کے لئے جائے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے اگرچہ اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ نماز قصر کرکے بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔

۱۳۱۱۔اگر کوئی شخص گناہ کا کام کرنے کے لئے سفر کرے اور سفر سے واپسی کے وقت فقط اس کی واپسی کا سفر آٹھ فرسخ ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اور احیتاط مستحب یہ ہے کہ اگر اس نے توبہ نہ کی ہو تو نماز قصر کرکے بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔

۱۳۱۲۔ جس شخص کا سفر گناہ کا سفر ہو اگر وہ سفر کے دوران گناہ کا ارادہ ترک کردے خواہ باقی ماندہ مسافت یا کسی جگہ جانا اور واپس آنا آٹھ فرسخ ہو یا نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۱۳۔جش شخص نے گناہ کرنے کی غرض سے سفر نہ کیا ہو اگر وہ راستے میں طے کرے کہ بقیہ راستہ گناہ کے لئے طے کرے گا تو اسے چاہئے کہ نماز پوری پڑھے البتہ اس نے جو نمازیں قصر کرکے پڑھی ہوں وہ صحیح ہیں۔

(چھٹی شرط) ان لوگوں میں سے نہ ہو جن کے قیام کی کوئی (مستقل) جگہ نہیں ہوتی اور ان کے گھر ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یعنی ان صحرانشینوں (خانہ بدوشوں) کی مانند جو بیابانوں میں گھومتے رہتے ہیں اور جہاں کہیں اپنے لئے اور اپنے مویشیوں کے لئے دانہ پانی دیکھتے ہیں وہیں ڈیر اڈال دیتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔ پس ضروری ہے کہ ایسے لوگ سفر میں پوری نماز پڑھیں۔

۱۳۱۴۔ اگر کوئی صحرا نشین مثلاً جائے قیام اور اپنے حیوانات کے لئے چراگاہ تلاش کرنے کے لئے سفر کرے اور مال و اسباب اس کے ہمراہ ہو تو وہ پوری نماز پڑھے ورنہ اگر اس کاسفرآٹھ فرسخ ہو تو نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۱۵۔اگر کوئی صحرا نشین مثلاً حج، زیارت، تجارت یا ان سے ملتے جلتے کسی مقصد سے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

(ساتویں شرط) اس شخص کا پیشہ سفر نہ ہو۔ پس جس شخص کا پیشہ سفر ہو یعنی یا تو اس کا کام ہی فقط سفر کرنا ہو اس حد تک کہ لوگ اسے کثیر السفر کہیں یا جو پیشہ اس نے اپنے لئے اختیار کیا ہو اس کا انحصار سفر کرنے پر ہو مثلاً ساربان، ڈرائیور، گلہ بان اور ملاح۔ اس قسم کے افراد اگرچہ اپنے ذاتی مقصد مثلاً گھر کا سامان لے جانے یا اپنے گھر والوں کو منتقل کرنے کے لئے سفر کریں تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھیں۔ اور جس شخص کا پیشہ سفر ہو اس مسئلے میں اس شخص کے لئے بھی یہی حکم ہے جو کسی دوسری جگہ پر کام کرتا ہو (یا اس کی پوسٹنگ دوسری جگہ پر ہو) اور وہ ہر روز یا دو دن میں ایک مرتبہ وہاں تک کا سفر کرتا ہو اور لوٹ آتا ہو۔مثلاً وہ شخص جس کی رہائش ایک جگہ ہو اور کام مثلاً تجارت، معلمی وغیرہ دوسری جگہ ہو۔

۱۳۱۶۔جس شخص کے پیشے کا تعلق سفر سے ہو اگر وہ کسی دوسرے مقصد مثلاً حج یا زیارت کے لئے سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے لیکن اگر عرف عام میں کثیرالسفر کہلاتا ہو تو قصر نہ کرے لیکن اگر مثال کے طور پر ڈرائیور اپنی گاڑی زیارت کے لئے کرائے پر چلائے اور ضمناً خود بھی زیارت کرے تو ہر حال میں ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۳۱۷۔وہ بار بردار جو حاجیوں کو مکہ پہنچانے کے لئے سفر کرتا ہو اگر اس کا پیشہ سفر کرنا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اور اگر اس کا پیشہ سفر کرنا نہ ہو اور صرف حج کے دنوں میں بار برداری کے لئے سفر کرتا ہو تو اس کے لئے احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز پوری بھی پڑھے اور قصر کرکے بھی پڑھے لیکن اگر سفر کی مدت کم ہو مثلاً دو تین ہفتے تو بعید نہیں ہے کہ اس کے لئے نماز قصر کرکے پڑھنے کا حکم ہو۔

۱۳۱۸۔ جس شخص کا پیشہ بار برداری ہو اور وہ دور دراز مقامات سے حاجیوں کو مکہ لے جاتا ہو اگر وہ سال کا کافی حصہ سفر میں رہتا ہو تو اسے پوری نماز پڑھنی ضروری ہے ۔

۱۳۱۹۔ جس شخص کا پیشہ سال کے کچھ حصے میں سفر کرنا ہو مثلاً ایک ڈرائیور جو صرف گرمیوں یا سردیوں کے دنوں میں اپنی گاڑی کرائے پر چلاتا ہو ضروری ہے کہ اس سفر میں نماز پوری پڑھے اور احتیاط مستحب یہ ہے کو قصر کرکے بھی پڑھے اور پوری بھی پڑھے۔

۱۳۲۰۔ ڈرائیور اور پھیری والا جو شہر کے آس پاس دو تین فرسخ میں آتا جاتا ہو اگر وہ اتفاقاً آٹھ فرسخ کے سفر پر چلا جائے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۲۱۔ جش کا پیشہ ہی مسافرت ہے اگر دس دن یا اس سے زیادہ عرصہ اپنے وطن میں رہ جائے تو خواہ ابتدا سے دس دن رہنے کا اراداہ رکھتا ہو یا بغیر ارادے کے اتنے دن رہے تو ضروری ہے کہ دس دن کے بعد جب پہلے سفر پر جائے تو نماز پوری پڑھے اور اگر اپنے وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ رہنے کا قصد کرکے یا بغیر قصد کے دس دن وہاں مقیم رہے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۱۳۲۲۔ چار ۱ وادار جس کا پیشہ سفر کرنا ہو اگر وہ اپنے وطن یا وطن کے علاوہ کسی اور جگہ قصد کرکے یا بغیر قصد کے دس دن رہے تو احتیاط مستحب ہے کہ دس دن کے بعد جب وہ پہلا سفر کرے تو نمازیں مکمل اور قصر دونوں پڑھے۔

۱۳۲۳۔ چار وادار اور ساربان کی طرح جن کا پیشہ سفر کرنا ہے اگر معمول سے زیادہ سفر ان کی مشقت اور تھکاوٹ کا سبب ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھیں۔

۱۳۲۴۔ سیلانی کہ جو شہر بہ شہر سیاحت کرتا ہو اور جس نے اپنے لئے کوئی وطن معین نہ کیا ہو وہ پوری نماز پڑھے۔

۱۳۲۵۔جس شخص کا پیشہ سفر کرنا نہ ہو اگر مثلاً کسی شہر یا گاوں میں اس کا کوئی سامان ہو اور وہ اسے لینے کے لئے سفر پر سفر کرے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔ مگر یہ کہ اس کا سفر اس قدر زیادہ ہو کہ اسے عرفاً کثیرالسفر کہا جائے۔

۱۳۲۶۔ جو شخص ترک وطن کرکے دوسرا وطن اپنانا چاہتا ہو اگر اس کا پیشہ سفر نہ ہو تو سفر کی حالت میں اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے۔

(آٹھویں شرط) مسافر حدِّ تَرخّص تک پہنچ جائے لیکن وطن کے علاوہ حَدِّخُّض معتبر نہیں ہے اور جونہی کوئی شخص اپنی اقامت گاہ سے نکلے اس کی نماز قصر ہے۔

۱۳۲۷۔ حدترخض وہ جگہ ہے جہاں سے اہل شہر مسافر کو نہ دیکھ سکیں اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل شہر کو نہ دیکھ سکے۔

۱۳۲۸۔ جو مسافر اپنے وطن واپس آرہا ہو جب تک وہ اپنے وطن واپس نہ پہنچے قصر نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اور ایسے ہی جو مسافر وطن کی علاوہ کسی اور جگہ دس دن ٹھہرنا چاہتا ہو وہ جب تک اس جگہ نہ پہنچے اس کی نماز قصر ہے۔

۱۳۲۹۔ اگر شہر اتنی بلندی پر واقع ہو کہ وہاں کے باشندے دور سے دکھائی دیں یا اس قدر نشیب میں واقع ہو کہ اگر انسان تھوڑا سا دور بھی جائے تو وہاں کے باشندوں کو نہ دیکھ سکے تو اس شہر کے رہنے والوں میں سے جو شخص سفر میں ہو جب وہ اتنا دور چلا جائے کہ اگر وہ شہر ہموار زمین پر ہوتا تو وہاں کے باسندے اس جگہ سے دیکھے نہ جاسکتے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اور اسی طرح اگر راستے کی بلندی یا پستی معمول سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ معمول کا لحاظ رکھے۔

۱۳۳۰۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ سے سفر کرے جہاں کوئی رہتا نہ ہو تو جب وہ ایسی جگہ پہنچے کہ اگر کوئی اس مقام (یعنی سفر شروع کرنے کے مقام) پر رہتا ہوتا تو وہاں سے نظر نہ آتا تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۳۱۔ کوئی شخص کشتی یا ریل میں بیٹھے اور حد ترخص تک پہنچنے سے پہلے پوری نماز کی نیت سے نماز پڑھنے لگے تو اگر تیسی رکعت کے رکوع سے پہلے حد ترخص تک پہنچ جائے تو قصر نماز پڑھنا ضروری ہے۔

۱۳۳۲۔جو صورت پچھلے مسئلے میں گزر چکی ہے اس کے مطابق اگر تیسری رکعت کے رکوع کے بعد حد ترخص تک پہنچے تو اس نماز کو توڑ سکتا ہے اور ضروری ہے کہ اسے قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۳۳۔ اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ حدترخص تک پہنچ چکا ہے اورنماز قصر کرکے پڑھے اور اس کے بعد معلوم ہو کہ نماز کے وقت حدترخص تک نہیں پہنچا تھا تو نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے ۔ چنانچہ جب تک حدترخص تک نہ پہنچا ہو تو نمازی پوری پڑھنا ضروری ہے۔ اور اس صورت میں جب کہ حدترخص سے گزرچکا ہو نماز قصر کرکے پڑھے۔ اور اگر وقت نکل چکا ہو تو نماز کو اس کے فوت ہوتے وقت جو حکم تھا اس کے مطابق ادا کرے۔

۱۳۳۴۔ اگر مسافر کی قوت باصرہ غیر معمولی ہو تو اسے اس مقام پر پہنچ کر نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے جہاں سے متوسط قوت کی آنکھ اہل شہر کو نہ دیکھ سکے۔

۱۳۳۵۔ اگر مسافر کو سفر کے دوران کسی مقام پر شک ہو کہ حدِّ ترخّص پر پہنچاہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے۔

۱۳۳۶۔ جو مسافر سفر کے دوران اپنے وطن سے گزر رہا ہو اگر وہاں توقف کرے تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اور اگر توقف نہ کرے تو احتیاط لازم یہ ہے کہ قصر اور پوری نماز دونوں پڑھے۔

۱۳۳۷۔ جو مسافر اپنی مسافرت کے دوران اپنے وطن پہنچ جائے اور وہاں کچھ دیر ٹھہرے تو ضروری ہے کہ جب تک وہاں رہے پوری نماز پڑھے لیکن اگر وہ چاہے کہ وہاں سے آٹھ فرسخ کے فاصلے پر چلا جائے یا مثلاً چار فرسخ جائے اور پھر چار فرسخ طے کرکے لوٹے تو جس وقت وہ حدِّ ترخّص پر پہنچے ضروری ہے کہ نماز قصر کر کے پڑھے۔

۱۳۳۸۔ جس جگہ کو انسان نے اپنی مستقل سکونت اور بود و باش کے لئے منتخب کیا ہو وہ اس کا وطن ہے خواہ وہ وہاں پیدا ہوا ہو اور وہ اس کا آبائی وطن ہو یا اس نے خود اس جگہ کو زندگی بسر کرنے کے لئے اختیار کیا ہو۔

۱۳۳۹۔ اگر کوئی شخص اراداہ رکھتا ہو کہ تھوڑی سی مدت ایک ایسی جگہ رہے جو اس کا وطن نہیں ہے اور بعد میں کسی اور جگہ چلا جائے تو وہ اس کا وطن تصور نہیں ہوتا۔

۱۳۴۰۔ اگر انسان کسی جگہ کو زندگی گزارنے کے لئے اختیار کرے اگرچہ وہ ہمیشہ رہنے کا قصد نہ رکھتا ہو تاہم ایسا ہو کہ عرف عام میں اسے وہاں مسافر نہ کہیں اور اگرچہ وقتی طور پر دس دن یا دس دن سے زیادہ دوسری جگہ رہے اس کے باوجود پہلی جگہ ہی کو اس زندگی گزارنے کی جگہ کہیں گے اور وہی جگہ اس کے وطن کا حکم رکھتی ہے۔

۱۳۴۱۔ جو شخص دو مقامات پر زندگی گزارتا ہو مثلاً چھ مہینے ایک شہر میں اور چھ مہینے دوسرے شہر میں رہتا ہو تو دونوں مقامات اس کا وطن ہیں۔ نیز اگر اس نے دو مقامات سے زیادہ مقامات کو زندگی بسر کرنے کے لئے اختیار کر رکھا ہو تو وہ سب اس کا وطن شمار ہوتے ہیں۔

۱۳۴۲۔بعض فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص کسی ایک جگہ سکونتی مکان کا مالک ہو اگر وہ مسلسل چھ مہینے وہاں رہے تو جس وقت تک مکان اس کی ملکیت میں ہے یہ جگہ اس کے وطن کا حکم رکھتی ہے۔ پس جب بھی وہ سفر کے دوران وہاں پہنچے ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اگرچہ یہ حکم ثابت نہیں ہے۔

۱۳۴۳۔ اگر ایک شخص کسی ایسے مقام پر پہنچے جو کسی زمانے میں اس کا وطن رہا ہو اور بعد میں اس نے اسے ترک کر دیا ہو تو خواہ اس نے کوئی نیا وطن اپنے لئے منتخب نہ بھی کیا ہو ضروری ہے کہ وہاں پوری نماز پڑھے۔

۱۳۴۴۔ اگر کسی مسافر کا کسی جگہ پر مسلسل دس دن رہنے کا ارادہ ہو یا وہ جانتا ہو کہ بہ امر مجبوری دس دن تک ایک جگہ رہنا پڑے گا تو وہاں اسے پوری نماز پڑھنی ضروری ہے۔

۱۳۴۵۔ اگر کوئی مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو تو ضروری نہیں کہ اس کا ارادہ پہلی رات یا گیارہویں رات وہاں رہنےکا ہو جونہی وہ ارادہ کرے کہ پہلے دن کے طلوع آفتاب سے دسویں دن کے غروب آفتاب تک وہاں رہے گا ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اور مثال کے طور پر اس کا ارادہ پہلے دن کی ظہر سے گیارہویں دن کی ظہر تک وہاں رہنے کا ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۱۳۴۶۔ جو مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو اسے اس صورت میں پوری نماز پڑھنی ضروری ہے جب وہ سارے کے سارے دن ایک جگہ رہنا چاہتا ہو۔ پس اگر وہ مثال کے طور پر چاہے کہ دس دن نَجَف اور کوفہ یا تہران اور شمیران (یا کراچی اور گھارو) میں رہے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۴۷۔ جو مسافر کسی جگہ دس دن رہنا چاہتا ہو اگر شروع سے ہی قصد رکھتا ہو کہ ان دس دنوں کے درمیان اس جگہ کے آس پاس ایسے مقامات پر جائے گا جو حدِّ تَرخّص تک یا اس سے زیادہ دور ہوں تو اگر اس کے جانے اور آنے کی مدت عرف میں دس دن قیام کے منافی نہ ہو تو پوری نماز پڑھے اور اگر منافی ہو تو نماز قصر کرکے پڑھے۔ مثلاً اگر ابتداء ہی سے ارادہ ہو کہ ایک دن یا ایک رات کے لئے وہاں سے نکلے گا تو یہ ٹھہرنے کے قصر کے منافی ہے اور ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے لیکن اگر اس کا قصد یہ ہو کہ مثلاً آدھے دن بعد نکلے گا اور پھر فوراً لوٹے گا اگرچہ اس کی واپسی رات ہونے کے بعد ہو تو ضروری ہے کہ نماز پڑھے۔ مگر اس صورت میں کہ اسکے بار بار نکلنے کی وجہ سے عرفاً یہ کہا جائے کہ دو یا اس زیادہ جگہ قیام پذیر ہے (تو نماز قصر پڑھے)

۱۳۴۸۔ اگر کسی مسافر کا کسی جگہ دس دن رہنے کا مُصَمّمَ ارادہ نہ ہو مثلا اس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر اس کا ساتھی آگیا یا رہنے کو اچھا مکان مل گیا تو دس دن وہاں رہے گا تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۴۹ ۔ جب کوئی شخص کسی جگہ دس دن رہنے کا مصَمَّم ارادہ نہ ہو مثلاً اس کا ارادہ یہ ہو کہ اگر اس کہ اس کے وہاں رہنے میں کوئی روکاوٹ پیدا ہوگی اور اس کا یہ احتمال عقلاء کے نزدیک معقول ہو تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۵۰۔ اگر مسافر کو علم ہو کہ مہینہ ختم ہونے میں مثلاً دس یا دس سے زیادہ دن باقی ہیں اور کسی جگہ مہینے کے آخر تک رہنے کا ارادہ کرے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے لیکن اگر اسے علم نہ ہو کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن باقی ہیں اور مہینے کے آخر تک وہاں رہنے کا ارادہ کرے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے اگرچہ جس وقت اس نے ارادہ کیا تھا اس وقت سے مہینہ کے آخری دن تک دس یا اس سے زیادہ دن بنتے ہوں۔

۱۳۵۱۔ اگر مسافر کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کرے اور ایک چار رکعتی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں رہنے کا ارادہ ترک کردے یا مُذَبذِب ہو کہ وہاں رہے یا کہیں اور چلا جائے تو ضروری ہے کہ نماز قصر کرکے پڑھے لیکن اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد وہاں رہنے کا ارادہ ترک کر دے یا مُذَبذِب ہو جائے تو ضروری ہے کہ جس وقت تک وہاں رہے نماز پوری پڑھے۔

۱۳۵۲۔ اگر کوئی مسافر جس نے ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو روزہ رکھ لے اور ظہر کے بعد وہاں رہنے کا ارادہ ترک کردے جب کہ اس نے ایک چار رکعتی نماز پڑھ لی ہو تو جب تک وہ وہاں رہے اس کے روزے درست ہیں اور ضروری ہے کہ اپنی نمازیں پوری پڑھے اور اگر اس نے چار رکعتی نماز نہ پڑھی ہو تو احتیاطاً اس دن کا روزہ پورا کرنا نیز اس کی قضا رکھنا ضروری ہے۔ اور ضروری ہے کہ اپنی نماز نمازیں قصر کرکے پڑھے اور بعد کے دنوں میں وہ روزہ بھی نہیں رکھ سکتا۔

۱۳۵۳۔ اگر کوئی مسافر جس نے ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو وہاں رہنے کا ارادہ ترک کر دے اور شک کرے کہ وہاں رہنے کا ارادہ ترک کرنے سے پہلے ایک چار رکعتی نماز پڑھی تھی یا نہیں تو ضروری ہے کہ اپنی نمازیں قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۵۴۔ اگر کوئی مسافر نماز کو قصر کرکے پڑھنے کی نیت سے نماز میں مشغول ہو جائے اور نماز کے دوران مُصَمَّم ارادہ کرلے کہ دس یا اس سے زیادہ دن وہاں رہے گا تو ضروری ہے کہ نماز کو چار رکعتی پڑھ کر ختم کرے۔

۱۳۵۵۔ اگر کوئی مسافر جس نے ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو پہلی چار رکعتی نماز کے دوران اپنے ارادے سے باز آجائے اور ابھی تیسری رکعت میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ دو رکعتی پڑھ کر ختم کرے اور اپنی باقی نمازیں قصر کرکے پڑھے اور اسی طرح اگر تیسری رکعت میں مشغول ہو گیا ہو اور رکوع میں نہ گیا ہو تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور نماز کو بصورت قصر ختم کرے اور اگر رکوع میں چلا گیا ہو تو اپنی نماز توڑ سکتا ہے اور ضروری ہے کہ اس نماز کو دوبارہ قصر کرکے پڑھے اور جب تک وہاں رہے نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۵۶۔ جس مسافر نے دس دن کسی جگہ رہنے کا ارادہ کیا ہو اگر وہ وہاں دس سے زیادہ دن رہے تو جب تک وہاں سے سفر نہ کرے ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ دوبارہ دس دن رہنے کا ارادہ کرے۔

۱۳۵۷۔ جس مسافر نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو تو ضروری ہے کہ واجب روزے رکھے اور مستحب روزہ بھی رکھ سکتا ہے اور ظہر، عصر اور عشا کی نفلیں بھی پڑھ سکتا ہے۔

۱۳۵۸۔ اگر کوئی مسافر جس نے کسی جگہ دن رہنے کا ارادہ کیا ہو ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد یا وہاں دس دن رہنے کے بعد اگرچہ اس نے ایک بھی پوری نماز نہ پڑھی ہو یہ چاہے کہ ایک ایسی جگہ جائے جو چار فرسخ سے کم فاصلے پر ہو اور پھر لوٹ آئے اور اپنی پہلی جگہ پر دس دن یا اس سے کم مدت کے لئے جائے تو ضروری ہے کہ جانے کے وقت سے واپسی تک اور واپسی کے بعد اپنی نمازیں پوری پڑھے۔ لیکن اگر اس کا اپنی اقامت کے مقام پر واپس آنا فقط اس وجہ سے ہو کہ وہ اس کے سفر کے راستے میں واقع ہو اور اس کا سفر شرعی مسافت (یعنی آٹھ فرسخ) کا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جانے اور آنے کے دوران اور ٹھہرنے کی جگہ میں نماز قصر کر کے پڑھے۔

۱۳۵۹۔ اگر کوئی مسافر جس نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد چاہے کہ کسی اور جگہ چلا جائے جس کا فاصلہ آٹھ فرسخ سے کم ہو اور دس دن وہاں رہے تو ضروری ہے کہ روانگی کے وقت اور اس جگہ جہاں پر وہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھتا ہو اپنی نمازیں پوری پڑھے لیکن اگر وہ جگہ جہاں وہ جانا چاہتا ہو آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ دور ہو تو ضروری ہے کہ روانگی کے وقت اپنی نمازیں قصر کرکے پڑھے اور اگر وہ وہاں دس دن نہ رہنا چاہتا ہو تو ضروری ہے کہ جتنے دن وہاں رہے ان دنوں کی نمازیں بھی قصرکرکے پڑھے۔

۱۳۶۰۔ اگر کوئی مسافر جس نے کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہو ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد کسی ایسی جگہ جانا چاہے جس کا فاصلہ چار فرسخ سے کم ہو اور مُذَبذِب ہو کہ اپنی پہلی جگہ پر واپس آئے یا نہیں یا اس جگہ واپس آنے سے بالکل غافل ہو یا یہ چاہے کہ واپس ہوجائے لیکن مُذَبذِب ہو کہ دس دن اس جگہ ٹھہرے یا نہیں یا وہاں دس دن رہنے اور وہاں سے سفر کرنے سے غافل ہو جائے تو ضروری ہے کہ جانے کے وقت سے واپسی تک اور واپسی کے بعد اپنی نمازیں پوری پڑھے۔

۱۳۶۱۔ اگر کوئی مسافر اس خیال سے کہ اس کے ساتھی کسی جگہ دس دن رہنا چاہتے ہیں اس جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کرے اور ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس کے ساتھیوں نے ایسا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تو اگرچہ وہ خود بھی وہاں رہنے کا خیال ترک کر دے ضروری ہے کہ جب تک وہاں رہے نماز پوری پڑھے۔

۱۳۶۲۔ اگر کوئی مسافر اتفاقاً کسی جگہ تیس دن رہ جائے مثلاً تیس کے تیس دنوں میں وہاں سے چلے جانے یا وہاں رہنے کے بارے میں مُذَبزِب رہا ہو تو تیس دن گزرنے کے بعد اگرچہ وہ تھوڑی مدت ہی وہاں رہے تو ضروری ہے کہ نماز پوری پڑھے۔

۱۳۶۳۔ جو مسافر نو دن یا اس سے کم مدت کے لئے ایک جگہ رہنا چاہتا ہو اگر وہ اس جگہ نو دن یا اس سے کم مدت گزرانے کے بعد نو دن یا اس سے کم مدت کے لئے دوبارہ وہاں رہنے کا ارادہ کرے اور اسی طرح تیس دن گزر جائیں تو ضروری ہے کہ اکتیسویں دن پوری نماز پڑھے۔

۱۳۶۴۔ تیس دن گزرنے کے بعد مسافر کو اس صورت میں نماز پوری پڑھنی ضروری ہے جب وہ تیس دن ایک ہی جگہ رہا ہو پس اگر اس نے اس مدت کا کچھ حصہ ایک جگہ اور کچھ حصہ دوسری جگہ گزارا ہو تو تیس دن کے بعد بھی اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے۔

مُتَفَرِّق مَسَائِل


۱۳۶۵۔ مسافر مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد کوفہ میں بلکہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور کوفہ کے پورے شہروں میں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے نیز حضرت سَیِّدُالشہداء علیہ السلام کے حَرم میں بھی قبر مُطَہَّر سے ۱۴ گز کے فاصلے تک مسافر اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے۔

۱۳۶۶۔ اگر کوئی ایسا شخص جسے معلوم ہو کہ وہ مسافر ہے اور اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے ان چار جگہوں کے علاوہ جن کا ذکر سابقہ مسئلہ میں کیا گیا ہے کسی اور جگہ جان بوجھ کر پوری نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر بھول جائے کہ مسافر کو نماز قصر کرکے پڑھنی چاہئے اور پوری نماز پڑھ لے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن بھول جانے کی صورت میں اگر اسے نماز کے وقت کے بعد یہ بات یاد آئے تو اس نماز کا قضا کرنا ضروری نہیں۔

۱۳۶۷۔جو شخص جانتا ہو کہ وہ مسافر ہے اور اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے اگر وہ بھول کر پوری نماز پڑھ لے اور بروقت متوجہ ہو جائے تو نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے اور اگر وقت گزرنے کے بعد متوجہ ہو تو احتیاط کی بنا پر قضا کرنا ضروری ہے۔

۱۳۶۸۔ جو مسافر یہ نہ جانتا ہو کہ اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے اگر وہ پوری نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۳۶۹۔ جو مسافر جانتا ہو کہ اسے نماز قصر کرکے پڑھنی چاہئے اگر وہ قصر نماز کے بعض خصوصیات سے ناواقف ہو مثلاً یہ نہ جانتا ہو کہ آٹھ فرسخ کے سفر میں نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے تو اگر وہ پوری نماز پڑھ لے اور نماز کے وقت میں اس مسئلے کا پتہ چل جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے اور اگر دوبارہ نہ پڑھے تو اس کی قضا کرے لیکن اگر نماز کا وقت گزرنے کے بعد اسے (حکم مسئلہ) معلوم ہو تو اس نماز کی قضا نہیں ہے۔

۱۳۷۰۔ اگر ایک مسافر جانتا ہو کہ اسے نماز قصر کرکے پڑھنی چاہئے اور وہ اس گمان میں پوری نماز پڑھ لے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ سے کم ہے تو جب اسے پتہ چلے کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ کا تھا تو ضروری ہے کہ جو نماز پوری پڑھی ہو اسے دوبارہ قصر کرکے پڑھے اور اگر اسے اس بات کا پتہ نماز کا وقت گزر جانے کے بعد چلے تو قضا ضروری نہیں۔

۱۳۷۱۔ اگر کوئی شخص بھول جائے کہ وہ مسافر ہے اور پوری نماز پڑھ لے اور اسے نماز کے وقت کے اندر ہی یاد آجائے تو اسے چاہئے کہ قصر کرکے پڑھے اور اگر نماز کے وقت کے بعد یاد آئے تو اس نماز کی قضا اس پر واجب نہیں۔

۱۳۷۲۔ جس شخس کو پوری نماز پڑھنی ضروری ہے اگر وہ اسے قصر کرکے پڑھے تو اس کی نماز ہر صورت میں باطل ہے اگرچہ احتیاط کی بنا پر ایسا مسافر ہو جو کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھتا ہو اور مسئلے کا حکم نہ جاننے کی وجہ سے نماز قصر کرکے پڑھی ہو۔

۱۳۷۳۔ اگر ایک شخص چار رکعتی نماز پڑھ رہا ہو اور نماز کے دوران اسے یاد آئے کہ وہ تو مسافر ہے یا اس امر کی طرف متوجہ ہو کہ اس کا سفر آٹھ فرسخ ہے اور وہ ابھی تیسری رکعت کے رکوع میں نہ گیا ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو دو رکعتوں پر ہی تمام کر دے اور اگر تیسری رکعت کے رکوع میں جاچکا ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور اگر اس کے پاس ایک رکعت پڑھنے کے لئے بھی وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو نئے سرے سے قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۷۴۔ اگر کسی مسافر کو "نماز مسافر" کی بعض خصوصیات کا علم نہ ہو مثلاً وہ یہ جانتا ہو کہ اگر چار فرسخ تک جائے اور واپسی میں چار فرسخ کا فاصلہ طے کرے تو اسے نماز قصر کرکے پڑھنی ضروری ہے اور چار رکعت والی نماز کی نیت سے نماز میں مشغول ہو جائے اور تیسری رکعت کے رکوع سے پہلے مسئلہ اس کی سمجھ میں آجائے تو ضروری ہے کہ نماز کو دو رکعتوں پر ہی تمام کر دے اور اگر وہ رکوع میں اس امر کی جانب متوجہ ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور اس صورت میں اگر اس کے پاس ایک رکعت پڑھنے کے لئے بھی وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو نئے سرے سے قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۷۵۔ جس مسافر کو پوری نماز پڑھنی ضروری ہو اگر وہ مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے دو رکعتی نماز کی نیت سے نماز پڑھنے لگے اور نماز کے دوران مسئلہ اس کی سمجھ میں آجائے تو ضروری ہے کہ چار رکعتیں پڑھ کر نماز کو تمام کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز ختم ہونے کے بعد دوبارہ اس نماز کو چار رکعتی پڑھے۔

۱۳۷۶۔ جس مسافر نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو اگر وہ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے اپنے وطن پہنچ جائے یا ایسی جگہ پہنچے جہاں دس دن رہنا چاہتا ہو تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے اور جو شخص مسافر نہ ہو اگر اس نے نماز کے اول وقت میں نماز نہ پڑھی ہو اور سفر اختیار کرے تو ضروری ہے کہ سفر میں نماز قصر کرکے پڑھے۔

۱۳۷۷۔ جس مسافر کو نماز قصر کرکے پڑھنا ضروری ہو اگر اس کی ظہر یا عصر یا عشا کی نماز قضا ہو جائے تو اگرچہ وہ اس کی قضا اس وقت بجالائے جب وہ سفر میں نہ ہو ضروری ہے کہ اس کی دو رکعتی قضا کرے۔ اور اگر ان تین نمازوں میں سے کسی ایسے شخص کی کوئی نماز قضا ہو جائے جو مسافر نہ ہو تو ضروری ہے کہ چار رکعتی قضا بجالائے اگرچہ یہ قضا اس وقت بجالائے جب وہ سفر میں ہوا۔

۱۳۷۸۔مستحب ہے کہ مسافر ہر قصر کے نماز کے بعد تیس مرتبہ سُبحَانَ اللہِ وَالحَمدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکبَرُ کہے اور ظہر، عصر اور عشا کی تعقیبات کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے بلکہ بہتر ہے کہ مسافر ان تین نمازوں کی تعقیب میں یہی ذکر ساٹھ مرتبہ پڑھے۔

قضا نماز


۱۳۷۹۔ جس شخص نے اپنی یومیہ نمازیں ان کے وقت نہ پڑھی ہوں تو ضروری ہے کہ ان کی قضا بجالائے اگرچہ وہ نماز کے تمام وقت کے دوران سویا رہا ہو یا اس نے مدہوشی کی وجہ سے نماز نہ پڑھی ہو اور یہی حکم ہر دوسری واجب نماز کا ہے جسے اس کے وقت میں نہ پڑھا ہو۔ حتی کہ احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے اس نماز کا جو منت ماننے کی وجہ سے مُعَیَّین وقت میں اس پر واجب ہو چکی ہو۔ لیکن نماز عید فطر اور نماز عید قربان کی قضا نہیں ہے۔ ایسی ہی جو نمازیں کسی عورت نے حیض یا نفاس کی حالت میں نہ پڑھی ہوں ان کی قضا واجب نہیں خواہ وہ یومیہ نمازیں ہوں یا کوئی اور ہوں۔

۱۳۸۰۔ اگر کسی شخص کو نماز کے وقت کے بعد پتہ چلے کہ جو نماز اس نے پڑھی تھی وہ باطل تھی تو ضروری ہے کہ اس نماز کی قضا کرے۔

۱۳۸۱۔ جس شخص کی نماز قضا ہو جائے ضروری ہے کہ اس کی قضا پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے البتہ اس کا فوراً پڑھنا واجب نہیں ہے۔

۱۳۸۲۔ جس شخص پر کسی نماز کی قضا (واجب) ہو وہ مستحب نماز پڑھ سکتا ہے۔

۱۳۸۳۔ اگر کسی شخص کو احتمال ہو کہ قضا نماز اس کے ذمّے ہے یا جو نمازیں پڑھ چکا ہے وہ صحیح نہیں تھیں تو مستحب ہے کہ احتیاطاً نمازوں کی قضا کرے۔

۱۳۸۴۔ یومیہ نمازوں کی قضا میں ترتیب لازم نہیں ہے سوائے ان نمازوں کے جن کی ادا میں ترتیب ہے مثلاً ایک دن کی نماز ظہر و عصر یا مغرب و عشا۔ اگرچہ دوسری نمازوں میں بھی ترتیب کا لحاظ رکھنا بہتر ہے۔

۱۳۸۵۔ اگرکوئی شخص چاہے کہ یومیہ نمازوں کے علاوہ چند نمازوں مثلاً نماز آیات کی قضا کرے یا مثال کے طور پر چاہے کہ کسی ایک یومیہ نماز کی اور چند غیر یومیہ نمازوں کی قضا کرے تو ان کا ترتیب کے ساتھ قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔

۱۳۷۶۔ اگر کوئی شخص ان نمازوں کی ترتیب بھول جائے جو اس نے نہیں پڑھیں تو بہتر ہے کہ انہیں اس طرح پڑھے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے وہ اسی ترتیب سے پڑھی ہیں جس ترتیب سے وہ قضا ہوئی تھیں۔ مثلاً اگر ظہر کی ایک نماز اور مغرب کی ایک نماز کی قضا اس پر واجب ہو اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی پہلے قضا ہوئی تھی تو پہلے ایک نماز مغرب اور اس کے بعد ایک نماز ظہر اور دوبارہ نماز مغرب پڑھے یا پہلے ایک نماز ظہر اور اس کے بعد ایک نماز مغرب اور پھر دوبارہ ایک نماز ظہر پڑھے تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ جو نماز بھی پہلے قضا ہوئی تھی وہ پہلے ہی پڑھی گئی ہے۔

۱۳۸۷۔ اگر کسی شخص سے ایک دن کی نماز ظہر اور کسی اور دن کی نماز عصر یا دو نماز ظہر یا دو نماز عصر قضا ہوئی ہوں اور اسے معلوم نہ ہو کہ کونسی پہلے قضا ہوئی ہوے تو اگر وہ دو نمازیں چار رکعتی اس نیت سے پڑھے کہ ان میں سے پہلی نماز پہلے دن کی قضا ہے اور دوسری، دوسرے دن کی قضا ہے تو ترتیب حاصل ہونے کے لئے کافی ہے۔

۱۳۸۸۔ اگر کسی شخص کی ایک نماز ظہر اور ایک نماز عشا یا ایک نماز عصر اور ایک نماز عشا قضا ہوجائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی پہلے قضا ہوئی ہے تو بہتر ہے کہ انہیں اس طرح پڑھے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے انہیں ترتیب سے پڑھا ہے مثلاً اگر اس سے ایک نماز ظہر اور ایک نماز عشا قضا ہوئی ہو اور اسے یہ علم نہ ہو کہ پہلے کون سی قضا ہوئی تھی تو وہ پہلے ایک نماز ظہر، اس کے بعد ایک نماز عشا، اور پھر دوبارہ ایک نماز ظہر پڑھے یا پہلے ایک نماز عشا، اس کے بعد ایک نماز ظہر اور پھر دوبارہ ایک نماز عشا پڑھے۔

۱۳۸۹۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس نے ایک چار رکعتی نماز نہیں پڑھی لیکن یہ علم نہ ہو کہ وہ ظہر کی نماز تھی یا عشا کی تو اگر وہ ایک چار رکعتی نماز اس نماز کی قضا کی نیت سے پڑھے جو اس نے نہیں پڑھی تو کافی ہے اور اسے اختیار ہے کہ وہ نماز بلند آواز سے پڑھے یا آہستہ پڑھے۔

۱۳۹۰۔ اگر کسی شخص کی مسلسل پانچ نمازیں قضا ہو جائیں اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ان میں سے پہلی کون سی تھی تو اگر وہ نو نمازیں ترتیب سے پڑھے مثلاً نماز صبح سے شروع کرے اور ظہر و عصر اور مغرب و عشا پڑھنے کے بعد دوبارہ نماز صبح اور ظہر و عصر اور مغرب پڑھے تو اسے ترتیب کے بارے میں یقین حاصل ہو جائے گا۔

۱۳۹۱۔ جس شخص کو معلوم ہو کہ اس کی یومیہ نمازوں میں سے کوئی نہ کوئی ایک نہ ایک دن قضا ہوئی ہے لیکن ان کی ترتیب نہ جانتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ پانچ دن رات کی نمازیں پڑھے اور اگر چھ دنوں میں اس کی چھ نمازیں قضا ہوئی ہوں تو چھ دن رات کی نمازیں پڑھے اور اسی طرح ہر اس نماز کے لئے جس سے اس کی قضا نمازوں میں اضافہ ہو ایک مزید دن رات کی نمازیں پڑھے تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ اس نے نمازیں اسی ترتیب سے پڑھی ہیں۔ جس ترتیب سے قضا ہوئی تھیں مثلاً اگر ساتھ دن کی سات نمازیں نہ پڑھی ہوں تو سات دان رات کی نمازوں کی قضا کرے۔

۱۳۹۲۔ مثال کے طور پر اگر کسی کی چند صبح کی نمازیں یا چند ظہر کی نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور وہ ان کی تعداد نہ جانتا ہو یا بھول گیا ہو مثلاً یہ نہ جانتا ہو کہ وہ تین تھیں، چار تھیں یا پانچ تو اگر وہ چھوٹے عدد کے حساب سے پڑھ لے تو کافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اتنی نمازیں پڑھے کہ اسے یقین ہو جائے کہ ساری قضا نمازیں پڑھ لی ہیں۔ مثلا اگر وہ بھول گیا ہو کہ اس کی کتنی نمازیں قضا ہوئی تھیں اور اسے یقین ہو کہ دس سے زیادہ نہ تھیں تو احتیاطاً صبح کی دس نمازیں پڑھے۔

۱۳۹۳۔جس شخص کی گزشتہ دنوں کی فقط ایک نماز قضا ہوئی ہو اس کے لئے بہتر ہے کہ اگر اس دن کی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہوا ہو تو پہلے قضا پڑھے اور اس کے بعد اس دن کی نماز میں مشغول ہو۔ نیز اور اگر اس کی گزشتہ دنوں کی کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو لیکن اسی دن کی ایک یا ایک سے زیادہ نمازیں قضا ہوئی ہوں تو اگر اس دن کی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہوا ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس دن کی قضا نمازیں ادا نماز سے پہلے پڑھے۔

۱۳۹۴۔اگر کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے یاد آئے کہ اسی دن کی ایک یا زیادہ نمازیں اس سے قضا ہوگئی ہیں یا گزشتہ دنوں کی صرف ایک قضا نماز اس کے ذمے ہے تو اگر وقت وسیع ہو اور نیت کو قضا نماز کی طرف پھیرنا ممکن ہو اور اس دن کی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہوا ہو تو بہتر یہ ہے کہ قضا نماز کی نمیت کرے۔ مثلاً اگر ظہر کی نماز میں تیسری رکعت کے رکوع سے پہلے اسے یاد آئے کہ اس دن کی صبح کی نماز قضا ہوئی ہے اور اگر ظہر کی نماز کا وقت بھی تنگ نہ ہو تو نیت کو صبح کی نماز کی طرف پھیردے اور نماز کو دو رکعتی تمام کرے اور اس کے بعد نماز ظہر پڑھے ہاں اگر وقت تنگ ہو یا نیت کو قضا نماز کی طرف نہ پھیر سکتا ہو مثلاً نماز ظہر کی تیسری رکعت کے رکوع میں اسے یاد آئے کہ اس نے صبح کی نماز نہیں پڑھی تو چونکہ اگر وہ نماز صبح کی نیت کرنا چاہے تو ایک رکوع جو کہ رکن ہے زیادہ ہو جاتا ہے اس لئے نیت کو صبح کی قضا کی طرف نہ پھیرے۔

۱۳۹۵۔ اگر گزشتہ دنوں کی قضا نمازیں ایک شخص کے ذمے ہوں اور اس دن کی (جب نماز پڑھ رہا ہے) ایک یا ایک سے زیادہ نمازیں بھی اس سے قضا ہوگئی ہوں اور ان سب نمازوں کو پڑھنے کے لئے اس کے پاس وقت نہ ہو یا وہ ان سب کو اسی دن نہ پڑھنا چاہتا ہو تو مستحب ہے کہ اس دن کی قضا نمازوں کو ادا نماز سے پہلے پڑھے اور بہتریہ ہے کہ سابق نمازیں پڑھنے کے بعد ان قضا نمازوں کی جو اس دن ادا نماز سے پہلے پڑھی ہوں دوبارہ پڑھے۔

۱۳۹۶۔ جب تک انسان زندہ ہے خواہ وہ اپنی قضا نمازیں پڑھنے سے قاصر ہی کیوں نہ ہو کوئی دوسرا شخص اس کی قضا نمازیں نہیں پڑھ سکتا۔

۱۳۹۷۔ قضا نماز باجماعت بھی پڑھی جاسکتی ہے خواہ امام جماعت کی نماز ادا ہو یا قضا ہو اور یہ ضروری نہیں کہ دونوں ایک ہی نماز پڑھیں مثلاً اگر کوئی شخص صبح کی قضا نماز کو امام کی نماز ظہر یا نماز عصر کے ساتھ پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۳۹۸۔ مستحب ہے کہ سمجھدار بچے کو (یعنی اس بچے کو جو برے بھلے کی سمجھ رکھتا ہو نماز پڑھنے اور دوسری عبادات بجالانے کی عادت ڈالی جائے بلکہ مستحب ہے کہ اسے قضا نمازیں پڑھنے پر بھی آمادہ کیا جائے۔

باپ کی قضا نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں


۱۳۹۹۔ باپ نے اپنی کچھ نمازیں نہ پڑھی ہوں اور ان کی قضا پڑھنے پر قادر ہو تو اگر اس نے امر خداوندی کی نامرمانی کرتے ہوئے ان کو ترک نہ کیا ہو تو احیتاط کی بنا پر اسکے بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی قضا نمازیں پڑھے یا کسی کو اجرت دے کر پڑھوائے اور ماں کی قضا نمازیں اس پر واجب نہیں اگرچہ بہتر ہے (کہ ماں کی قضا نمازیں بھی پڑھے)۔

۱۴۰۰۔ اگر بڑے بیٹے کو شک ہو کہ کوئی قضا نماز اس کے باپ کے ذمے تھی یا نہیں تو پھر اس پر کچھ بھی واجب نہیں۔

۱۴۰۱۔ اگر بڑے بیٹے کو معلوم ہو کہ اس کے باپ کے ذمے قضا نمازیں تھیں اور شک ہو کہ اس نے وہ پڑھی تھیں یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کی قضا بجالائے۔

۱۴۰۲۔ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ بڑا بیٹا کون سا ہے تو باپ کی نمازوں کی قضا کسی بیٹے پر بھی واجب نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ بیٹے باپ کی قضا نمازیں آپس میں تقسیم کرلیں بجالانے کے لئے قرعہ اندازی کرلیں۔

۱۴۰۳۔ اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو کہ اس کی قضا نمازوں کے لئے کسی کو اجیر بنایا جائے (یعنی کسی سے اجرت پر نمازیں پڑھوائی جائیں) تو اگر اجیر اس کی نمازیں صحیح طور پر پڑھ دے تو اس کے بعد بڑے بیٹے پر کچھ واجب نہیں ہے۔

۱۴۰۴۔ اگر بڑا بیٹا اپنی ماں کی قضا نمازیں پڑھنا چاہے تو ضروری ہے کہ بلند آواز سے یا آہست نماز پڑھنے کے بارے میں اپنے وظیفے کے مطابق عمل کرے تو ضروری ہے کہ اپنی ماں کی صبح، مغرب اور عشا کی قضا نمازیں بلند آواز سے پڑھے۔

۱۴۰۵۔ جس شخص کے ذمے کسی نماز کی قضا ہو اگر وہ باپ اور ماں کی نمازیں بھی قضا کرنا چاہے تو ان میں سے جو بھی پہلے بجالائے صحیح ہے۔

۱۴۰۶۔ اگر باپ کے مرنے کے وقت بڑا بیٹا نابالغ یا دیوانہ ہو تو اس پر واجب نہیں کہ جب بالغ یا عاقل ہو جائے تو باپ کی قضا نمازیں پڑھے۔

۱۴۰۷۔ اگر بڑا بیٹا باپ کی قضا نمازیں پرھنے سے پہلے مرجائے تو دوسرے بیٹے پر کچھ بھی واجب نہیں۔

نماز جماعت ← → مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ سہو
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français