مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

نماز آیات ← → مسافر کی نماز

نماز جماعت

۱۴۰۸۔واجب نمازیں خصوصاً یومیہ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اور مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کو اور اس شخص کو جو مسجد کی اذان کی آواز سنتا ہو نماز صبح اور مغرب و عشا جماعت کے ساتھ پڑھنے کی بالخصوص بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

۱۴۰۹۔ مُعَتَبر روایات کے مطابق یا جماعت نماز فرادی نماز سے پچیس گنا افضل ہے۔

۱۴۱۰۔ بے اعتنائی برتتے ہوئے نماز جماعت میں شریک نہ ہونا جائز نہیں ہے اور انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ بغیر عذر کے نماز جماعت کو ترک کرے۔

۱۴۱۱۔مستحب ہے کہ انسان صبر کرے تاکہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور وہ باجماعت نماز جو مختصر پڑھی جائے اس فرادی نماز سے بہتر ہے جو طول دیکر پڑھی جائے اور وہ نماز با جماعت اس نماز سے بہتر ہے جو اول وقت میں فرادی یعنی تنہا پڑھی جائے اور وہ نماز با جماعت جو فضیلت کےوقت میں نہ پڑھی جائے اور فرادی نماز جو فضیلت کے وقت میں پڑھی جائے ان دونوں نمازوں میں سے کون سی نماز بہتر ہے معلوم نہیں۔

۱۴۱۲۔ جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جانے لگے تو مستحب ہے کہ جس شخص نے تنہا نماز پڑھی ہو وہ دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھے اور اگر اسے بعد میں پتہ چلے کہ اس کی پہلی نماز باطل تھی تو دوسری نماز کافی ہے۔

۱۴۱۳۔ اگر امام جماعت یا مقتدی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد اسی نماز کو دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہے تو اگرچہ اس کا مستحب ہونا ثابت نہیں لیکن رَجَاءً دوبارہ پڑھنے کی کوئی مُمَانَعت نہیں ہے۔

۱۴۱۴۔ جس شخص کو نماز میں اس قدر وسوسہ ہوتا ہو کہ اس نماز کے باطل ہونے کا موجب بن جاتا ہو اور صرف جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے اسے وسوسے سے نجات ملتی ہو تو ضروری ہے کہ وہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

۱۴۱۵۔اگر باپ یا ماں اپنی اولاد کو حکم دیں کہ نماز جماعت کے ساتھ پرھے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے البتہ جب بھی والدین کی طرف سے امرونہی محبت کی وجہ سے ہو اور اس کی مخالفت سے انہیں اذیت ہوتی ہو تو اولاد کے لئے ان کی مخالفت کرنا اگرچہ سرکشی کی حد تک نہ ہو تب بھی حرام ہے۔

۱۴۱۶۔ مستحب نماز کسی بھی جگہ احتیاط کی بنا پر جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاسکتی لیکن نماز اِستِقاء جو طلب باران کے لئے پڑھی جاتی ہے جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں اور اسی طرح وہ نماز جو پہلے واجب رہی ہو اور پھر کسی وجہ سے مستحب ہوگئی ہو مثلاً نماز عید فطر اور نماز عید قربان جو امام مہدی علیہ السلام کے زمانے تک واجب تھی اور ان کی غیبت کی وجہ سے مستحب ہوگئی ہے۔

۱۴۱۷۔ جس وقت امام جماعت یومیہ نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھا رہا ہو تو اس کی اقتدا کوئی سی بھی یومیہ نماز میں کی جاسکتی ہے۔

۱۴۱۸۔اگر امام جماعت یومیہ نماز میں سے قضا شدہ اپنی نماز پڑھ رہا ہو یا کسی دوسرے شخص کی ایسی نماز کی قضا پڑھ رہا ہو جس کا قضا ہونا یقینی ہو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر وہ اپنی یا کسی دوسرے کی نماز احتیاطاً پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا جائز نہیں مگر یہ کہ مقتدی بھی اختیاطاً پڑھ رہا ہو اور امام کی احتیاط کا سبب مقتدی کی احتیاط کا بھی سبب ہو لیکن ضروری نہیں ہے کہ مقتدی کی احتیاط کا کوئی دوسرا سبب نہ ہو۔

۱۴۱۹۔ اگر انسان کو یہ علم نہ ہو کہ نماز امام پڑھ رہا ہے وہ واجب پنج گانہ نمازوں میں سے ہے یا مستحب نماز ہے تو اس نماز میں اس امام کی اقتدا نہیں کی جاسکتی۔

۱۴۲۰۔جماعت کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے درمیان اور اسی طرح ایک مقتدی اور دوسرے ایسے مقتدی کے درمیان جو اس مقتدی اور امام کے درمیان واسطہ ہو کوئی چیز حائل نہ ہو اور حائل چیز سے مراد وہ چیز ہے جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرے خواہ دیکھنے میں مانع ہو جیسے کہ پردہ یا دیوار وغیرہ یا دیکھنے میں حائل نہ ہو جیسے شیشہ پس اگر نماز کی تمام یا بعض حالتوں میں امام اور مقتدی کے درمیان یا مقتدی اور دوسرے ایسے مقتدی کے درمیان جو اتصال کا ذریعہ ہو کوئی ایسی چیز حائل ہو جائے تو جماعت باطل ہوگی اور جیسا کہ بعد میں ذکر ہوگا عورت اس حکم سے مستثنی ہے۔

۱۴۲۱۔ اگر پہلی صف کے لمبا ہونے کی وجہ سے اس کے دونوں طرف کھڑے ہونے والے لوگ امام جماعت کو نہ دیکھ سکیں تب بھی وہ اقتدا کر سکتے ہیں اور اسی طرح اگر دوسری صفوں میں سے کسی صف کی لمبائی کی وجہ سے اس کے دونوں طرف کھڑے ہونے والے لوگ اپنے سے آگے والی صف کو نہ دیکھ سکیں تب بھی وہ اقتدا کر سکتے ہیں۔

۱۴۲۲۔ اگر جماعت کی صفیں مسجد کے دروازے تک پہنچ جائیں تو جو شخص دروازے کے سامنے صف کے پیچھے کھڑا ہو اس کی نماز صحیح ہے۔ نیز جو اشخاص اس شخص کے پیچھے کھڑے ہو کر امام جماعت کی اقتدا کر رہے ہوں ان کی نماز بھی صحیح ہے بلکہ ان لوگوں کی نماز بھی صحیح ہے جو دونوں طرف کھڑے نماز پڑھ رہے ہوں اور کسی دوسرے مقتدی کے توسط سے جماعت سے متصل ہوں۔

۱۴۲۳۔ جو شخص ستون کے پیچھے کھڑا ہو اگر وہ دائیں یا بائیں طرف سے کسی دوسرے مقتدی کے توسط سے امام جماعت سے اتصال نہ رکھتا ہو تو وہ اقتدا نہیں کرسکتا ہے۔

۱۴۲۴۔ امام جماعت کے کھڑے ہونی کی جگہ ضروری ہے کہ مقتدی کی جگہ سے زیادہ اونچی نہ ہو لیکن اگر معولی اونچی ہو تو حرج نہیں نیز اگر ڈھلوان زمین ہو اور امام اس طرف کھڑا ہو جو زیادہ بلند ہو تو اگر ڈھلوان زیادہ نہ ہو اور اس طرح ہو کہ عموماً اس زمین کو مسطح کہا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

۱۴۲۵۔ (نماز جماعت میں) اگر مقتدی کی جگہ امام کی جگہ سے اونچی ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر اس قدر اونچی ہو کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ وہ ایک جگہ جمع ہوئے ہیں تو جماعت صحیح نہیں ہے۔

۱۴۲۶۔ اگر ان لوگوں کے درمیان جو ایک صف میں کھڑے ہوں ایک سمجھدار بچہ یعنی ایسا بچہ جو اچھے برے کی سمجھ رکھتا ہو کھڑا ہو جائے اور وہ لوگ نہ جانتے ہوں کہ اسکی نماز باطل ہے تو اقتدا کر سکتے ہیں۔

۱۴۲۷۔ امام کی تکبیر کے بعد اگر اگلی صف کے لوگ نماز کے لئے تیار ہوں اور تکبیر کہنے ہی والے ہوں تو جو شخص پچھلی صف میں کھڑا ہو وہ تکبیر کہہ سکتا ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ انتظار کرے تاکہ اگلی صف والے تکبیر کہہ لیں۔

۱۴۲۸۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ اگلی صفوں میں سے ایک صف کی نماز باطل ہے تو وہ پچھلی صفوں میں اقتدا نہیں کر سکتا لیکن اگر اسے یہ علم نہ ہو کہ اس صف کے لوگوں کی نماز صحیح ہے یا نہیں تو اقتدا کرسکتا ہے۔

۱۴۲۹۔ جب کوئی شخص جانتا ہو کہ امام کی نماز باطل ہے مثلاً اسے علم ہو کہ امام وضو سے نہیں ہے تو خواہ امام خود اس امر کی جانب متوجہ نہ بھی ہو وہ شخص اس کی اقتدا نہیں کر سکتا۔

۱۴۳۰۔ اگر مقتدی کو نماز کے بعد پتہ چلے کہ امام عادل نہ تھا یا کافر تھا یا کسی وجہ سے مثلاً وضو نہ ہونے کی وجہ سے اس کی نماز باطل تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۴۳۱۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران شک کرے کہ اس نے اقتدا کی ہے یا نہیں چنانچہ علامتوں کی وجہ سے اسے اطمینان ہو جائے کہ اقتدا کی ہے مثلاً ایسی حالت میں ہو جو مقتدی کا وظیفہ ہے مثلاً امام کو الحمد اور سورہ پڑھتے ہوئے سن رہا ہو تو ضروری ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ ہی ختم کرے بصورت دیگر ضروری ہے کہ نماز فرادی کی نیت سے ختم کرے۔

۱۴۳۲۔اگر نماز کے دوران مقتدی کسی عذر کے بغیر فرادی کی نیت کرے تو اس کی جماعت کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔ لیکن اس کی نماز صحیح ہے مگر یہ کہ اس نے فرادی نماز میں اس کا جو وظیفہ ہے، اس پر عمل نہ کیا ہو یا ایسا کام جو فرادی نماز کو باطل کرتا ہے انجام دیا ہو اگرچہ سہواً ہو مثلاً رکوع زیادہ کیا ہو بلکہ بعض صورتوں میں اگر فرادی نماز میں اس کا جو وظیفہ ہے اس پر عمل نہ کیا ہو تو بھی اس کی نماز صحیح ہے ہے۔ مثلاً اگر نمازی کی ابتدا سے فرادی کی نیت نہ ہو اور قراءت بھی نہ کی ہو لیکن رکوع میں اسے ایسا قصد کرنا پڑھے تو ایسی صورت میں فرادی کی نیت سے تمام ختم کر سکتا ہے اور اسے دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

۱۴۳۳۔اگر مقتدی امام کے الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد کسی عذر کی وجہ سے فرادی کی نیت کرے تو الحمد اور سورہ پڑھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر (امام کے) الحمد اور سورہ ختم کرنے سے پہلے فرادی کی نیت کرے تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ (الحمد اور سورے) جتنی مقدار امام نے پڑھی ہو وہ بھی پڑھے۔

۱۴۳۴۔اگر کوئی شخص نماز جماعت کے دوران فرادی کی نیت کرے تو پھر وہ دوبارہ جماعت کی نیت نہیں کرسکتا لیکن اگر مُذَبذِب ہو کہ فرادی کی نیت کرے یا نہ کرے اور بعد میں نماز کو جماعت کے ساتھ تمام کرنے کا مُصَمَّم ارادہ کرے تو اسکی جماعت صحیح ہے۔

۱۴۳۵۔ اگر کوئی شخص شک کرے کہ نماز کے دوران اس نے فرادی کی نیت کی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ سمجھ لے کہ اس نے فرادی کی نیت نہیں کی۔

۱۴۳۶۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں ہو اور امام کے رکوع میں شریک ہو جائے اگرچہ امام نے رکوع کا ذکر پڑھ لیا ہو اس شخص کی نماز صحیح ہے اور وہ ایک رکعت شمار ہوگی لیکن اگر وہ شخص بقدر رکوع کے جھکے تاہم امام کو رکوع میں نہ پاسکے تو وہ شخص اپنی نماز فرادی کی نیت سے ختم کرسکتا ہے۔

۱۴۳۷۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں ہو اور بقدر رکوع کے جھکے اور شک کرے کہ امام کے رکوع میں شریک ہوا ہے یا نہیں تو اگر اس کا موقع نکل گیا ہو مثلاً رکوع کے بعد شک کرے تو ظاہر یہ ہے کہ اس کی جماعت صحیح ہے۔ اس کے علاوہ دوسری صورت میں نماز فرادی کی نیت سے پوری کرسکتا ہے۔

۱۴۳۸۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع میں ہو اور اس سے پہلے کہ وہ بقدر رکوع جھکے، امام رکوع سے سر اٹھالے تو اسے اختیار ہے کہ فرادی کی نیت کرکے نماز پوری کرے یا قربت مطلقہ کی نیت سے امام کے ساتھ سجدے میں جائے اور سجدے کے بعد قیام کی حالت میں تکبیرۃ الاحرام اور کسی ذکر کا قصد کیے بغیر دوبارہ تکبیر کہے اور نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

۱۴۳۹۔ اگر کوئی شخص نماز کی ابتدا میں یا الحمد اور سورہ کے دوران اقتدا کرے اور اتفاقاً اس سے پہلے کہ وہ رکوع میں جائے امام اپنا سر رکوع سے اٹھالے تو اس شخص کی نماز صحیح ہے۔

۱۴۴۰۔ اگر کوئی شخص نماز کے لئے ایسے وقت پہنچے جب امام نماز کا آخری تشہد پڑھ رہا ہو اور وہ شخص چاہتا ہو کہ نماز جماعت کا ثواب حاصل کرے تو ضروری ہے کہ نیت باندھنے اور تکبریہ الاحرام کہنے کے بعد بیٹھ جائے اوعر محض قربت کی نیت سے تشہد امام کے ساتھ پڑھے۔ لیکن سلام نہ کہے اور انتظام کرے تاکہ امام نماز کا سلام پڑھ لے۔ اس کے بعد وہ شخص کھڑا ہا جائے اور دوبارہ نیت کیے بغیر اور تکبیر کہے بغیر الحمد اور سورہ پڑھے اور اسے اپنی نماز کی پہلی رکعت شمار کرے۔

۱۴۴۱۔ مقتدی کو امام سے آگے نہیں کھڑا ہونا چاہئے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر مقتدی زیادہ ہوں تو امام کے برابر نہ کھڑے ہوں۔ لیکن اگر مقتدی ایک آدمی ہو تو امام کے برابر کھڑے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔

۱۴۴۲۔ اگر امام مرد اور مقتدی عورت ہو تو اگر اس عورت اور امام کے درمیان یا عورت اور دوسرے مرد مقتدی کے درمیان جو عورت اور امام کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہو پردہ وغیرہ لٹکا ہو تو کوئی حرج نہیں۔

۱۴۴۳۔ اگر نماز شروع ہونے کے بعد امام اور مقتدی کے درمیان یا مقتدی اور اس تشخص کے درمیان جس کے توسط سے مقتدی امام سے متصل ہو پردہ یا کوئی دوسری چیز حائل ہو جائے تو جماعت باطل ہو جاتی ہے اور لازم ہے کہ مقتدی فرادی نماز کے وظیفے پر عمل کرے۔

۱۴۴۴۔ احتیاط واجب ہے کہ مقتدی کے سجدے کی جگہ اور امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے بیچ ایک ڈگ سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور اگر انسان ایک ایسے مقتدی کے توسط سے جو اس کے آگے کھڑا ہو امام سے متصل ہو تب بھی یہی حکم ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ اور اس سے آگے والے شخص کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان اس سے زیادہ فاصلہ نہ ہو جو انسان کی حالت سجدہ میں ہوتی ہے۔

۱۴۴۵۔ اگر مقتدی کسی ایسے شخص کے توسط سے امام سے متصل ہو جس نے اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی ہو اور سامنے سے امام سے متصل نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس شخص سے جس نے اس کی دائیں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی ہو ایک ڈگ سے زیادہ فاصلے پر نہ ہو۔

۱۴۴۶۔ اگر نماز کے دوران مقتدی اور امام یا مقتدی اور اس شخص کے درمیان جس کے توسط سے مقتدی امام سے متصل ہو ایک ڈگ سے زیادہ فاصلہ ہوجائے تو وہ تنہا ہو جاتا ہے اور اپنی نماز فرادی کی نیت سے جاری رکھ سکتا ہے۔

۱۴۴۷۔جو لوگ اگلی صف میں ہوں اگر ان سب کی نماز ختم ہو جائے اور وہ فوراً دوسری نماز کے لئے امام کی اقتدا نہ کریں تو پچھلی صف والوں کی نماز جماعت باطل ہو جاتی ہے بلکہ اگر فوراً ہی اقتدا کر لیں تب بھی پچھلی صف کی جماعت صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

۱۴۴۸۔ اگر کوئی شخص دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو اس کے لئے الحمد اور سورہ پڑھنا ضروری نہیں البتہ قنوت اور تشہد امام کے ساتھ پڑھے اور احتیاط یہ ہے کہ تشہد پڑھتے وقت ہاتھوں کی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حصہ زمین پر رکھے اور گھٹنے اٹھالے اور تشہد کے بعد ضروری ہے کہ امام کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور الحمد اور سورہ پڑھے اور اگر سورے کے لئے وقت نہ رکھتا ہو تو الحمد کو تمام کرے اور اپنے رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے اور اگر پوری الحمد پڑھنے کے لئے وقت نہ ہو تو الحمد کو چھوڑ سکتا ہے اور امام کے ساتھ رکوع میں جائے۔ لیکن اس صورت میں احیتاط مستحب یہ ہے کہ نماز کو فرادی کی نیت سے پڑھے۔

۱۴۴۹۔ اگر کوئی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام چار رکعتی نماز کی دوسری رکعت پڑھا رہا ہو تو ضروری ہے کہ اپنی نماز کی دوسری رکعت میں جو امام کی تیسری رکعت ہوگی دو سجدوں کے بعد بیٹھ جائے اور واجب مقدار میں تشہد پڑھے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور اگر تین دفعہ تسبیحات پڑھنے کا وقت نہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ ایک دفعہ پڑھے اور رکوع میں اپنے آپ کو امام کے ساتھ شریک کرے۔

۱۴۵۰۔ اگر امام تیسری یا چوتھی رکعت میں ہو اور مقتدی جانتا ہو کہ اگر اقتدا کرے گا اور الحمد پڑھے گا تو امام کے ساتھ رکوع میں شامل نہ ہوسکے گا تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ امام کے رکوع میں جانے تک انتظار کرے اس کے بعد اقتدا کرے۔

۱۴۵۱۔اگر کوئی شخص امام کے تیسری یا چوتھی رکعت میں قیام کی حالت میں ہونے کے وقت اقتدا کرے تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے اور اگر سورہ پڑھنے کے لئے وقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ الحمد تمام کرے اور رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے اور اگر پوری الحمد پڑھنے کے لئے وقت نہ ہو تو الحمد کو چھوڑ کر امام کے ساتھ رکوع میں جائے لیکن اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ فرادی کی نیت سے نماز پوری کرے۔

۱۴۵۲۔ اگر ایک شخص جانتا ہو کہ اگر وہ سورہ یا قنوت پڑھے تو رکوع میں امام کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا اور وہ عمداً سورہ یا قنوت پڑھے اور رکوع میں امام کے ساتھ شریک نہ ہو تو اس کی جماعت باطل ہو جاتی ہے اور ضروری ہے کہ وہ فرادی طور پر نماز پڑھے۔

۱۴۵۳۔جس شخص کو اطمینان ہو کہ اگر سورہ شروع کرے یا اسے تمام کرے تو بشرطیکہ سورہ زیادہ لمبا نہ ہو وہ رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے گا تو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ سورہ شروع کرے یا اگر شروع کیا ہو تو اسے تمام کرے لیکن اگر سورہ اتنا زیادہ طویل ہو کہ اسے امام کا مقتدی نہ کہا جاسکے تو ضروری ہے کہ اسے شروع نہ کرے اور اگر شروع کر چکا ہو تو اسے پورا نہ کرے۔

۱۴۵۴۔ جو شخص یقین رکھتا ہو کہ سورہ پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہو جائے گا اور امام کی اقتدا ختم نہیں ہوگی لہذا اگر وہ سورہ پڑھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک نہ ہوسکے تو اس کی جماعت صحیح ہے۔

۱۴۵۶۔ اگر کوئی شخص اس خیال سے کہ امام پہلی یا دوسری رکعت میں ہے الحمد اور سورہ نہ پڑھے اور رکوع کے بعد اسے پتہ چل جائے کہ امام تیسری یا چوتھی رکعت میں تما تو مقتدی کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اسے رکوع سے پہلے اس بات کا پتہ چل جائے تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے اور اگر وقت تنگ ہو تو مسئلہ ۱۴۵۱ کے مطابق عمل کرے۔

۱۴۵۷۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتے ہوئے الحمد اور سورہ پڑھے کہ امام تیسری یا چوتھی رکعت میں ہے اور رکوع سے پہلے یا اس کے بعد اسے پتہ چلے کہ امام پہلی دوسری رکعت میں تھا تو مقتدی کی نماز صحیح ہے اور اگر یہ بات اسے الحمد اور سورہ پڑھتے ہوئے معلوم ہو تو (الحمد اور سورہ کا) تمام کرنا اس کے لئے ضروری نہیں۔

۱۴۵۸۔ اگر کوئی شخص مستحب نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت قائم ہو جائے اور اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ اگر مستحب نماز کو تمام کرے گا تو جماعت کے ساتھ شریک ہو سکے گا تو مستحب یہ ہے کہ جو نماز پڑھ رہا ہو اسے چوڑ دے اور نماز جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ اگر اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ پہلی رکعت میں شریک ہوسکے گا تب بھی مستحب ہے کہ اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

۱۴۵۹۔ اگر کوئی شخص تین رکعتی یا چار رکعتی نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت قائم ہوجائے اور وہ ابھی تیسری رکعت کے رکوع میں نہ گیا ہو اور اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ اگر نماز کو پورا کرے گا تو جماعت میں شریک ہوسکے گا تو مستحب ہے کہ مستحب نماز کی نیت کے ساتھ اس نماز کو دو رکعت پر ختم کر دے اور جماعت کے ساتھ شریک ہو جائے۔

۱۴۶۰۔ جو شخص امام سے ایک رکعت پیچھے ہو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ جب امام آخری رکعت کا تشہد پڑھ رہا ہو تو ہاتھوں کی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حصہ زمین پر رکھے اور گھٹنوں کو بلند کرے اور امام کے سلام پڑھنے کا انتظار کرے اور پھر کھڑا ہو جائے اور اگر اسی وقت فرادی کا قصد کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔

امام جماعت کی شرائط


۱۴۶۲۔ امام جماعت کے لئے ضروری ہے کہ بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، عادل اور حلال زادہ ہو اور نماز صحیح پڑھ سکتا ہو نیز اگر مقتدی مرد ہو تو اس کا امام بھی مرد ہونا ضروری ہے اور دس سالہ بچے کی اقتدا صحیح ہونا اگرچہ وجہ سے خالی نہیں، لیکن اشکال سے بھی خالی نہیں ہے۔

۱۴۶۳۔ جو شخص پہلے ایک امام کو عادل سمجھتا تھا اگر شک کرے کہ وہ اب بھی اپنی عدالت پرقائم ہے یا نہیں تب بھی اس کی اقتدا کرسکتا ہے۔

۱۴۶۴۔ جو شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہو وہ کسی ایسے شخص کی اقتدا نہیں کر سکتا جو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھتا ہو اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو وہ کسی ایسے شخص کی اقتدا نہیں کر سکتا جو لیٹ کر نماز پڑھتا ہو۔

۱۴۶۵۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہووہ اس شخص کی اقتدا کر سکتا ہے جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو لیکن جو شخص لیٹ کر نماز پڑھتا ہو اس کا کسی ایسے شخص کی اقتدا کرنا جو لیٹ کر یا بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو محل اشکال ہے۔

۱۴۶۶۔ اگر امام جماعت کسی عذر کی وجہ سے نجس لباس یا تیمم یا جبیرے کے وضو سے نماز پڑھے تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے۔

۱۴۶۷۔ اگر امام کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کی وجہ سے وہ پیشاب اور پاخانہ نہ روک سکتا ہو تو اس کی اقتدا کی جاسکتی ہے نیز جو عورت مستحاضہ نہ ہو وہ مستحاضہ عورت کی اقتدا کر سکتی ہے۔

۱۴۶۸۔ بہتر ہے کہ جو شخص جذام یا برص کا مریض ہو وہ امام جماعت نہ بنے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اس (سزا یافتہ ) شخص کی جس پر شرعی حد جاری ہوچکی ہو اقتدا نہ کی جائے۔

نماز جماعت کے احکام


۱۴۶۹ ۔ نماز کی نیت کرتے وقت ضروری ہے کہ مقتدی امام کو مُعَیَّین کرے لیکن امام کا نام جاننا ضروری نہیں اور اگر نیت کرے کہ میں موجودہ امام جماعت کی اقتدا کرتا ہوں تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۴۷۰۔ ضروری ہے کہ مقتدی الحمد اور سورہ کے علاوہ نماز کی سب چیزیں خود پڑھے لیکن اگر اس کی پہلی اور دوسری رکعت امام کی تیسری اور چوتھی رکعت ہو تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ بھی پڑھے۔

۱۴۷۱۔ اگر مقتدی نماز صبح و مغرب و عشا کی پہلی اور دوسری رکعت میں امام الحمد اور سورہ پڑھنے کی آواز سن رہا ہو تو خواہ وہ کلمات کو ٹھیک طرح نہ سمجھ سکے اسے الحمد اور سورہ نہیں پڑھنی چاہئے اور اگرامام کی آواز سن پائے تو مستحب ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے لیکن ضروری ہے کہ آہستہ پڑھے اور اگر سہواً بلند آواز سے پڑھے تو کوئی حرج نہیں۔

۱۴۷۲۔ اگر مقتدی امام کی الحمد اور سورہ کی قراءَت کے بعض کلمات سن لے تو جس قدر نہ سن سکے وہ پڑھ سکتا ہے۔

۱۴۷۳۔ اگر مقتدی سہواً الحمد اور سورہ پڑھے یا یہ خیال کرتے ہوئے کہ جو آواز سن رہا ہے وہ امام کی نہیں ہے الحمد اور سورہ پڑھے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ امام کی آواز تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۴۷۴۔ اگر مقتدی شک کرے کہ امام کی آواز سن رہا ہے یا نہیں یا کوئی آواز سنے اور یہ نہ جانتا ہو کہ امام کی آواز ہے یاکسی اور کی تو وہ الحمد اور سورہ پڑھ سکتا ہے۔

۱۴۷۵۔ مقتدی کو نماز ظہر و عصر کی پہلی اور دوسری رکعت میں احتیاط کی بنا پر الحمد اور سورہ نہیں پڑھنا چاہئے اور مستحب ہے کہ ان کی بجائے کوئی ذکر پڑھے۔

۱۴۷۶۔ مقتدی کو تکبیرۃ الاحرام امام سے پہلے نہیں کہنی چاہئے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک امام تکبیر نہ کہہ چکے مقتدی تکبیر نہ کہے۔

۱۴۷۷۔ اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے سلام کہہ دے تو اس کی نماز صحیح ہے اور ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ امام کے ساتھ سلام کہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر بھی امام سے پہلے سلام کہہ دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۴۷۸۔ اگر مقتدی تکبیرۃ الاحرام کے علاوہ نماز کی دوسری چیزیں امام سے پہلے پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر انہیں سن لے یا یہ جان لے کہ امام انہیں کس وقت پڑھتا ہے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ امام سے پہلے نہ پڑھے۔

۱۴۷۹۔ ضروری ہے کہ مقتدی جو کچھ نماز میں پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ نماز کے دوسرے افعال مثلاً رکوع اور سجود امام کے ساتھ یا اس سے تھوڑی دیر بعد بجالائے اور اگر وہ ان افعال کو عمداً امام سے پہلے یا اس سے کافی دیر بعد انجام دے تو اس کی جماعت باطل ہوگی۔ لیکن اگر فعادی شخص کے وظیفے پر عمل کرے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۴۸۰۔ اگر مقتدی بھول کر امام سے پہلے رکوع سے سر اٹھالے اور امام رکوع میں ہی ہو تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ دوبارہ رکوع میں چلاجائے اور امام کےساتھ ہی سر اٹھائے۔ اس صورت میں رکوع کی زیادتی جو کہ رکن ہے کہ نماز کو باطل نہیں کرتی لیکن اگر وہ دوبارہ رکوع میں جائے اور اس سے پیشتر کہ وہ امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہو امام سر اٹھالے تو احیتاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۱۴۸۱۔ اگر مقتدی سہواً سر سجدے سے اٹھالے اور دیکھے کہ امام ابھی سجدے میں ہے تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ دوبارہ سجدے میں چلا جائے اور ار دونوں سجدوں میں ایسا ہی اتفاق ہو جائے تو دو سجدوں کے زیادہ ہو جانے کی وجہ سے جو کہ رکن ہے نماز باطل نہیں ہوتی۔

۱۴۸۲۔جو شخص سہواً امام سے پہلے سجدے سے سر اٹھالے اگر اسے دوبارہ سجدے میں جانے پر معلوم ہو کہ امام پہلے ہی سر اٹھا چکا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر دونوں سجدوں میں ایسا ہی اتفاق ہو جائے تو احیتاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۱۴۸۳۔ اگر مقتدی غلطی سے سر رکوع یا سجدہ سے اٹھالے اور سہواً یا اس خیال سے کہ دوبارہ رکوع یا سجدے میں لوٹ جانے سے امام کے ساتھ شریک نہ ہوسکے گا رکوع یا سجدے میں نہ جائے تو اس کی جماعت اور نماز صحیح ہے۔

۱۴۸۴۔ اگر مقتدی سجدے سے سر اٹھالے اور دیکھے کہ امام سجدے میں ہے اور اس خیال سے کہ یہ امام کا پہلا سجدہ ہے اور اس نیت سے کہ امام کے ساتھ سجدہ کرے، سجدہ میں چلا جائے اور بعد میں اسے معلوم ہو کہ یہ امام کا دوسرا سجدہ تھا تو یہ مقتدی کا دوسرا سجدہ شمار ہو گا اور اگر اس خیال سے سجدے میں جائے کہ یہ امام کا دوسرا سجدہ ہے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ امام کا پہلا سجدہ تھا تو ضروری ہے کہ اس نیت سے سجدہ تمام کرے کہ امام کے ساتھ سجدہ کر رہا ہوں اور پھر دوبارہ امام کے ساتھ سجدے میں جائے اور دونوں صورتوں میں بہتر یہ ہے کہ نماز کو جماعت کے ساتھ تمام کرے اور پھر دوبارہ بھی پڑھے۔

۱۴۸۵۔ اگر کوئی مقتدی سہواً امام سے پہلے رکوع میں چلا جائے اور صورت یہ ہو کہ اگر دوبارہ قیام کی حالت میں آجائے تو امام کی قراءَت کا کچھ حصہ سن سکے تو اگر وہ سر اٹھالے اور دوبارہ امام کے ساتھ رکوع میں جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر وہ جان بوجھ کر دوبارہ قیام کی حالت میں نہ آئے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۴۸۶۔ اگر مقتدی سہواً امام سے پہلے رکوع میں چلا جائے اور صورت یہ ہو کہ اگر دوبارہ قیام کی حالت میں آئے تو امام کی قراءَت کا کوئی حصہ نہ سن سکے تو اگر وہ اس نیت سے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھے، اپنا سر اٹھالے اور امام کے ساتھ رکوع میں جائے تو اس کی جماعت اور نماز صحیح ہے اور اگر وہ عمداً دوبارہ قیام کی حالت میں نہ آئے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن فُرادی شمار ہوگی۔

۱۴۸۷۔ اگر مقتدی غَلَطی سے امام سے پہلے سجدے میں چلا جائے تو اگر وہ اس قصد سے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اپنا سر اٹھالے اور امام کے ساتھ سجدے میں جائے تو اس کی جماعت اور نماز صحیح ہے اور اگر عمداً سجدے سے سر نہ اٹھائے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن وہ فرادی شمار ہوگی۔

۱۴۸۸۔ اگر امام غلطی سے ایک ایسی رکعت میں قنوت پڑھ دے جس میں قنوت نہ ہو یا ایک ایسی رکعت میں جس میں تشہد نہ ہو غلطی سے تشہد پڑھنے لگے تو مقتدی کو قنوت اور تشہد نہیں پڑھنا چاہئے لیکن وہ امام سے پہلے نہ رکوع میں جاسکتا ہے اور نہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے کھڑا ہو سکتا ہے بلکہ ضروری ہے کہ امام کے تشہد اور قنوت ختم کرنے تک انتظار کرے اور باقی ماندہ نماز اس کے ساتھ پڑھے۔

جماعت میں امام اور مقتدی کے فرائض


۱۴۸۹۔ اگر مقتدی صرف ایک مرد ہو تو مستحب ہے کہ وہ امام کی دائیں طرف کھڑا ہو اور اگر ایک عورت ہو تب بھی مستحب ہے کہ امام کی دائیں طرف کھڑی ہو لیکن ضروری ہے کہ اس کے سجدہ کرنے کی جگہ امام سے اس کے سجدے کی حالت میں دو زانوں کے فاصلے پر ہو۔ اور اگر ایک مرد اور ایک عورت یا ایک مرد اور چند عورتیں ہوں تو مستحب ہے کہ مرد امام کی دائیں طرف اور عورت یا عورتیں امام کے پیچھے کھڑی ہوں۔ اور اگر چند مرد اور ایک یا چند عورتیں ہوں تو مردوں کا امام کے پیچھے اور عورتوں کا مردوں کے پیچھے کھڑا ہونا مستحب ہے۔

۱۴۹۰۔ اگر امام اور مقتدی دونوں عورتیں ہوں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سب ایک دوسری کے برابر برابر کھڑی ہوں اور امام مقتدیوں سے آگے نہ کھڑی ہو۔

۱۴۹۱۔ مستحب ہے کہ امام صف کے درمیان میں آگے کھڑا ہو اور صاحبان علم و فضل اور تقوی و ورع پہلی صف میں کھڑے ہوں۔

۱۴۹۲۔ مستحب ہے کہ جماعت کی صفیں منظم ہوں اور جو اشخاص ایک صف میں کھڑے ہوں ان کے درمیان فاصلہ نہ ہو اور ان کے کندھے ایک دوسرے کے کندھوں سے ملے ہوئے ہوں۔

۱۴۹۳۔ مستحب ہے کہ "قَدقَامَتِ الصَّلاَۃُ" کہنے کے بعد مقتدی کھڑے ہوجائیں۔

۱۴۹۴۔ مستحب ہے کہ امام جماعت اس مقتدی کی حالت کا لحاظ کرے جو دوسروں سے کمزور ہو اور قنوت اور رکوع اور سجود کو طول نہ دے بجز اس صورت کے کہ اسے علم ہو کہ تمام وہ اشخاص جنہوں نے اس کی اقتدا کی ہے طول دینے کی جانب مائل ہیں۔

۱۴۹۵۔ مستحب ہے کہ امام جماعت الحمد اور سورہ نیز بلند آواز سے پڑھے جانے والے اَذ کار پڑھتے ہوئے اپنی آواز کو اتنا بلند کرے کہ دوسرے سن سکیں لیکن ضروری ہے کہ آواز مناسب حد سے زیادہ بلند نہ کرے۔

۱۴۹۶۔ اگر امام کی حالت رکوع میں معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص ابھی ابھی آیا ہے اور اقتدا کرنا چاہتا ہے تو مستحب ہے کہ رکوع کو معمول سے دُگنا طُول دے اور پھر کھڑا ہو جائے خواہ اسے معلوم ہو جائے کہ کوئی دوسرا شخص بھی اقتدا کے لئے آیا ہے۔

نماز جماعت کے مکروہات


۱۴۹۷۔ اگر جماعت کی صفوں میں جگہ ہو تو انسان کےلئے تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے۔

۱۴۹۸۔ مقتدی کا نماز کے اذکار کو اس طرح پڑھنا کہ امام سن لے مکروہ ہے۔

۱۴۹۹۔ جو مسافر ظہر، عصر اور عشا کی نمازیں قصر کرکے پڑھتا ہو اس کے لئے ان نمازوں میں کسی ایسے شخص کو اقتدا کرنا مکروہ ہے جو مسافر نہ ہو اور جو شخص مسافر نہ ہو اس کے لئے مکروہ ہے کہ ان نمازوں میں مسافر کی اقتدا کرے۔

نماز آیات ← → مسافر کی نماز
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français