مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

زکوۃ کے احکام ← → روزے کے احکام

خمس کے احکام

۱۷۶۰۔ خمس سات چیزوں پر واجب ہے۔

۱۔ کاروبار (یا روزگار) کا منافع

۲۔ مَعدِنی کانیں

۳۔ گڑا ہوا خزانہ

۴۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہو جائے

۵۔ غوطہ خوری سے حاصل ہونے والے سمندری موتی اور مونگے

۶۔ جنگ میں ملنے والا مال غنیمت

۷۔ مشہور قول کی بنا پر وہ زمین جو ذمی کافر کسی مسلمان سے خریدے۔

ذیل میں ان کے احکام تفصیل سے بیان کئے جائیں گے۔

کاروبار کا منافع


۱۷۶۱۔ جب انسان تجارت، صنعت و حرفت یا دوسرے کام دھندوں سے روپیہ پیسہ کمائے مثال کے طور پر اگر کوئی اجیر بن کر کسی متوفی کی نمازیں پڑھے اور روزے رکھے اور اس طرح کچھ روپیہ کمائے لہذا اگر وہ کمائی خود اس کے اور اس کے اہل و عیال کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ زائد کمائی کا خمس یعنی پانچواں حصہ اس طریقے کے مطابق دے جس کی تفصیل بعد میں بیان ہوگی۔

۱۷۲۶۔ اگر کسی کو کمائی کئے بغیر کوئی آمدنی ہوجائے مثلاً کوئی شخص اسے بطور تحفہ کوئی چیز دے اور وہ اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

۱۷۶۳۔ عورت کو جو مہر ملتا ہے اور شوہر، بیوی کو طلاق خلع دینے کے عوض جو مال حاصل کرتا ہے ان پر خمس نہیں ہے اور اسی طرح جو میراث انسان کو ملے اس کا بھی میراث کے معتبر قواعد کی رو سے یہی حکم ہے۔ اور اگر اس مسلمان کو جو شیعہ ہے کسی اور ذریعے سے مثلاً پدری رشتے دار کی طرف سے میراث ملے تو اس مال کی "فوائد" میں شمار کیا جائے گا اور ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔ اسی طرح اگر اسے باپ اور بیٹے کے علاوہ کسی اور کی طرف سے میراث ملے کہ جس کا خود اسے گمان تک نہ ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ میراث اگر اس کے سال بھی کے اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کا خمس دے۔

۱۷۲۴۔ اگر کسی شخص کو کوئی میراث ملے اور اس معلوم ہو کہ جس شخص سے اسے یہ میراث ملی ہے اس نے اس کا خمس نہیں دیا تھا تو ضروری ہے کہ وارث اس کا خمس دے۔ اسی طرح اگر خود اس مال پر خمس واجب نہ ہو اور وارث کو علم ہو کہ جس شخص سے اسے وہ مال ورثے میں ملا ہے اس شخص کے ذمے خمس واجب الادا تھا تو ضروری ہے کہ اس کے مال سے خمس ادا کرے۔ لیکن دونوں صورتوں میں جس شخص سے مال ورثے میں ملا ہو اگر وہ خمس دینے کا معتقد نہ ہو یا یہ کہ وہ خمس دیتا ہی نہ ہو تو ضروری نہیں کہ وارث وہ خمس ادا کرے جو اس شخص پر واجب تھا۔

۱۷۶۵۔ اگر کسی شخص نے کفایت شعاری کے سبب سال بھر کے اخراجات کے بعد کچھ رقم پس انداز کی ہو تو ضروری ہے کہ اس بچت کا خمس دے۔

۱۷۶۶۔جس شخص کے تمام اخراجات کوئی دوسرا شخص برداشت کرتا ہو تو ضروری ہے کہ جنتا مال اس کے ہاتھ آئے اس کا خمس دے۔

۱۷۶۷۔ اگر کوئی شخص اپنی جائداد کچھ خاص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئے وقف کر دے اور وہ لوگ اس جائداد میں کھیتی باڑی اور شجرکاری کریں اور اس سے منافع کمائیں اور وہ کمائی ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کمائی کا خمس دیں۔ نیز یہ کہ اگر وہ کسی اور طریقے سے اس جائداد سے نفع حاصل کریں مثلاً اسے کرائے (یا ٹھیکے) پر دے دیں تو ضروری ہے کہ نفع کی جو مقدار ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو اس کا خمس دیں۔

۱۷۶۸۔ جو مال کسی فقیر نے واجب یا مستحب صدقے کے طور پر حاصل کیا ہو اگر وہ اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو یا جو مال اسے دیا گیا ہو اس سے اس نے نفع کمایا ہو مثلاً اس نے ایک ایسے درخت سے جو اسے دیا گیا ہو میوہ حاصل کیا ہو اور وہ اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔ لیکن جو مال اسے بطور خمس یا زکوۃ دیا گیا ہو ضروری نہیں کہ اس کا خمس دے۔

۱۷۶۹۔ اگر کوئی شخص ایسی رقم سے کوئی چیز خریدے جس کا خمس نہ دیا گیا ہو یعنی بیچنے والے سے کہے کہ "میں یہ چیز اس رقم سے خرید رہا ہوں" اگر بیچنے والا شیعہ اثنا عشری ہو تو ظاہر یہ ہے کہ کل مال کے متعلق معاملہ درست ہے اور خمس کا تعلق اس چیز سے ہو جاتا ہے جو اس نے اس رقم سے خریدی ہے اور (اس معاملے میں) حاکم شرع کی اجازت اور دستخط کی ضرورت نہیں ہے۔

۱۷۷۰۔ اگر کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور معاملہ طے کرنے کے بعد اس کی قیمت اس رقم سے ادا کرے جس کا خمس نہ دیا ہو تو جو معاملہ اس نےکیا ہے وہ صحیح ہے اور جو رقم اس نے فروشندہ کو دی ہے اس کے خمس کے لئے وہ خمس کے مستحقین کا مقروض ہے۔

۱۷۷۱۔اگر کوئی شیعہ اثنا عشری مسلمان کوئی ایسا مال خریدے جس کا خمس نہ دیا گیا ہو تو اس کا خمس بیچنے والے کی ذمہ داری ہے اور خریدار کے ذمے کچھ نہیں۔

۱۷۷۲۔اگر کوئی شخص کسی شیعہ اثنا عشری مسلمان کو کوئی ایسی چیز بطور عطیہ دے جس کا خمس نہ دیا گیا ہو تو اس کے خمس کی ادائیگی کی ذمہ داری عطیہ دینے والے پر ہے اور (جس شخص کو عطیہ دیا گیا ہو) اس کے ذمے کچھ نہیں۔

۱۷۷۳۔ اگر انسان کو کسی کافر سے یا ایسے شخص سے جو خمس دینے پر اعتقاد نہ رکھتا ہو کوئی مال ملے تو اس مال کا خمس دینا واجب نہیں ہے۔

۱۷۷۴۔ تاجر، دکاندار، کاریگر اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت سے جب انہوں نے کاروبار شروع کیا ہو، ایک سال گزر جائے تو جو کچھ ان کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو اس کا خمس دیں۔ اور جو شخص کسی کام دھندے سے کمائی نہ کرتا ہو اگر اسے اتفاقاً کوئی نفع حاصل ہو جائے تو جب اسے یہ نفع ملے اس وقت سے ایک سال گزرنے کے بعد جتنی مقدار اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

۱۷۷۵۔سال کے دوران جس وقت بھی کسی شخص کو منافع ملے وہ اس کا خمس دے سکتا ہے اور اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ سال کے ختم ہونے تک اس کی ادائیگی کو موخر کر دے اور اگر وہ خمس ادا کرنے کے لئے شمسی سال (رومن کیلنڈر) اختیار کرے تو کوئی حرج نہیں۔

۱۷۷۶۔ اگر کوئی تاجر یا دکاندار خمس دینے کے لئے سال کی مدت معین کرے اور اسے منافع حاصل ہو لیکن وہ سال کے دوران مر جائے تو ضروری ہے کہ اس کی موت تک کے اخراجات اس منافع میں سے منہا کر کے باقی ماندہ کا خمس دیا جائے۔

۱۷۷۷۔ اگر کسی شخص کے بغرض تجارت خریدے ہوئے مال کی قیمت بڑھ جائے اور وہ اسے نہ بیچے اور سال کے دوران اس کی قیمت گر جائے تو جتنی مقدار تک قیمت بڑھی ہو اس کا خمس واجب نہیں ہے۔

۱۷۷۸۔ اگر کسی شخص کے بغرض تجارت خریدے ہوئے مال کی قیمت بڑھ جائے اور وہ اس امید پر کہ ابھی اس کی قیمت اور بڑھے گی اس مال کو سال کے خاتمے کے بعد تک فروخت نہ کرے اور پھر اس کی قیمت گر جائے تو جس مقدار تک قیمت بڑھی ہو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

۱۷۷۹۔کسی شخص نے مال تجارت کے علاوہ کوئی مال خرید کر یا اسی کی طرح کسی طریقے سے حاصل کیا ہو جس کا خمس وہ ادا کر چکا ہو تو اگر اس کی قیمت بڑھ جائے اور وہ اسے بیچ دے تو ضروری ہے کہ جس قدر اس چیز کی قیمت بڑھی ہے اس کا خمس دے۔ اسی طرح مثلاً اگر کوئی درخت خریدے اور اس میں پھل لگیں یا (بھیڑ خریدے اور وہ) بھیڑ موٹی ہو جائے تو اگر ان چیزوں کی نگہداشت سے اس کا مقصد نفع کمانا تھا تو ضروری ہے کہ ان کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا خمس دے بلکہ اگر اس کا مقصد نفع کمانا نہ بھی رہا ہو تب بھی ضروری ہے کہ ان کا خمس دے۔

۱۷۸۰۔ اگر کوئی شخص اس خیال سے باغ (میں پودے) لگائے کہ قیمت بڑھ جانے پر انہیں بیچ دے گا تو ضروری ہے کہ پھلوں کی اور درختوں کی نشوونما اور باغ کی بڑھی ہوئی قیمت کا خمس دے لیکن اگر اس کا ارادہ یہ رہا ہو کہ ان درختوں کے پھل بیچ کر ان سے نفع کمائے گا تو فقط پھلوں کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۷۸۱۔ اگر کوئی شخص بید مشک اور چنار وغیرہ کے درخت لگائے تو ضروری ہے کہ ہر سال ان کے بڑھنے کا خمس دے اور اسی طرح اگر مثلاً ان درختوں کی ان شاخوں سے نفع کمائے جو عموماً ہر سال کاٹی جاتی ہیں اور تنہا ان شاخوں کی قیمت یا دوسرے فائدوں کو ملا کر اس کی آمدنی اس کے سال بھر کے اخراجات سے بڑھ جائے تو ضروری ہے کہ ہر سال کے خاتمے پر اس زائد رقم کا خمس دے۔

۱۷۸۲۔ اگر کسی شخص کی آمدنی کی متعدد ذرائع ہوں مثلاً جائداد کا کرایہ آتا ہو اور خرید و فروخت بھی کرتا ہو اور ان تمام ذرائع تجارت کی آمدنی اور اخراجات اور تمام رقم کا حساب کتاب یکجا ہو تو ضروری ہے کہ سال کے خاتمے پر جو کچھ اس کے اکراجات سے زائد ہو اس کا خمس ادا کرے۔ اور اگر ایک ذریعے سے نفع کمائے اور دوسرے ذریعے سے نقصان اٹھائے تو وہ ایک ذریعے کے نقصان کا دوسرے ذریعے کے نقصان سے تدارک کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے دو مختلف پیشے ہوں مثلاً تجارت اور زراعت کرتا ہو تو اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر وہ ایک پیشے کے نقصان کا تدارک دوسرے پیشے کے نفع سے نہیں کر سکتا۔

۱۷۸۳۔ انسان جو اخراجات فائدہ حاصل کرنے کے لئے مثلاً دلالی اور باربرداری کے سلسلے میں خرچ کرے تو انہیں منافع میں سے منہا کر سکتا ہے اور اتنی مقدار کا خمس ادا کرنا لازم نہیں۔

۱۷۸۴۔ کاروبار کے منافع سے کوئی شخص سال بھر میں جو کچھ خوراک، لباس، گھر کے ساز و سامان، مکان کی خریداری، بیٹے کی شادی، بیٹی کے جہیز اور زیارات وغیرہ پر خرچ کرے اوس پر خمس نہیں ہے بشرطیکہ ایسے اخراجات اس کی حیثیت سے زیادہ نہ ہوں اور اس نے فضول خرچی بھی نہ کی ہو۔

۱۷۸۵۔ جو مال انسان منت اور کفارے پر خرچ کرے وہ سالانہ اخراجات کا حصہ ہے۔ اسی طرح وہ مال بھی اس کے سالانہ اخراجات کا حصہ ہے جو وہ کسی کو تحفے یا انعام کے طور پر بشرطیکہ اس کی حیثیت سے زیادہ نہ ہو۔

۱۷۸۶۔ اگر انسان اپنی لڑکی شادی کے وقت تمام جہیز اکٹھا تیار نہ کر سکتا ہو تو وہ اسے کئی سالوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کر سکتا ہے چنانچہ اگر جہیز خریدے جو اس کی حیثیت سے بڑھ کر نہ ہو تو اس پر خمس دینا لازم نہیں ہے اور اگر وہ جہیز اس کی حیثیت سے بڑھ کر ہو یا ایک سال کے منافع سے دوسرے سال میں تیار کیا گیا ہو تو اس کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۷۸۷۔ جو مال کسی شخص نے زیارت بیت اللہ (حج) اور دوسری زیارات کے سفر پر خرچ کیا ہو وہ اس سال کے اخراجات میں شمار ہوتا ہے جس سال میں خرچ کیا جائے اور اگر اس کا سفر سال سے زیادہ طول کھینچ جائے تو جو کچھ وہ دوسرے سال میں خرچ کرے اس کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۷۸۸۔ جو شخص کسی پیشے یا تجارت وغیرہ سے منافع حاصل کرے اگر اس کے پاس کوئی اور مال بھی ہو جس پر خمس واجب نہ ہو تو وہ اپنے سال بھر کے اخراجات کا حساب فقط اپنے منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے کر سکتا ہے۔

۱۷۸۹۔ جو سامان کسی شخص نے سال بھر استعمال کرنے کے لئے اپنے منافع سے خریدا ہو اگر سال کے آخر میں اس میں سے کچھ بچ جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر خمس اس کی قیمت کی صورت میں دینا چاہے اور جب وہ سامان خریدا تھا اس کے مقابلے میں اس کی قیمت بڑھ گئی ہو تو ضروری ہے کہ سال کے خاتمے پر جو قیمت ہو اس کا حساب لگائے۔

۱۷۹۰۔ کوئی شخص خمس دینے سے پہلے اپنے منافع میں سے گھریلو استعمال کے لئے سامان خریدے اگر اس کی ضرورت منافع حاصل ہونے والے سال کے بعد ختم ہو جائے تو ضروری نہیں کہ اس کا خمس دے۔ اور اگر دوران سال اس کی ضرورت ختم ہو جائے تو بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر وہ سامان ان چیزوں میں سے جو عموماً آئندہ سالوں میں استعمال کے لئے رکھی جاتی ہو جیسے سردی اور گرمی کے کپڑے تو ان پر خمس نہیں ہوتا۔ اس صورت کے علاوہ جس وقت بھی اس سامان کی ضرورت ختم ہو جائے احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کا خمس دے اور یہی صورت زمانہ زیورات کی ہے جب کہ عورت کا انہیں بطور زینت استعمال کرنے کا زمانہ گزر جائے۔

۱۷۹۱۔ اگر کسی شخص کو کسی سال میں منافع نہ ہو تو وہ اس سال کے اخراجات کو آئندہ سال کے منافع سے منہا نہیں کر سکتا۔

۱۷۹۲۔ اگر کسی شخص کو سال کے شروع میں منافع نہ ہو اور وہ اپنے سرمائے سے خرچ اٹھائے اور سال کے ختم ہونے سے پہلے اسے منافع ہو جائے تو اس نے جو کچھ سرمائے میں سے خرچ کیا ہے اسے منافع سے منہا کر سکتا ہے۔

۱۷۹۳۔ اگر سرمائے کا کچھ حصہ تجارت وغیرہ میں ڈوب جائے تو جس قدر سرمایہ ڈوبا ہو انسان اتنی مقدار اس سال کے منافع میں سے منہا کرسکتا ہے۔

۱۷۹۴۔اگر کسی شخص کے مال میں سے سرمائے کے علاوہ کوئی اور چیز ضائع ہو جائے تو وہ اس چیز کو منافع میں سے مہیا نہیں کر سکتا لیکن اگر اسے اسی سال میں اس چیز کی ضرورت پڑجائے تو وہ اس سال کے دوران اپنے منافع سے مہیا کر سکتا ہے۔

۱۷۹۵۔اگر کسی شخص کو سارا سال کوئی منافع نہ ہو اور وہ اپنے اخراجات قرض لے کر پورے کرے تو وہ آئندہ سالوں کے منافع سے قرض کی رقم منہا نہیں کر سکتا لیکن اگر سال کے شروع میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض لے اور سال ختم ہونے سے پہلے منافع کمائے تو اپنے قرضے کی رقم اس منافع میں سے منہا کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح پہلے صورت میں وہ اس قرض کو اس سال کے منافع سے ادا کرسکتا ہے اور منافع کی اس مقدار سے خمس کا کوئی تعلق نہیں۔

۱۷۹۶۔ اگر کوئی شخص مال بڑھانے کی غرض سے یا ایسی املاک خریدنے کے لئے جس کی اسے ضرورت نہ ہو قرض لے تو وہ اس سال کے منافع سے اس قرض کو ادا نہیں کر سکتا۔ہاں جو مال بطور قرض لیا ہو یا جو چیز اس قرض سے خریدی ہو اگر وہ تلف ہوجائے تو اس صورت میں وہ اپنا قرض اس سال کے منافع میں سے ادا کر سکتا ہے۔

۱۷۹۷۔ انسان ہر اس چیز کا جس پر خمس واجب ہو چکا ہو اسی چیز کی شکل میں خمس دے سکتا ہے اور اگر چاہے تو جتنا خمس اس پر واجب ہو اس کی قیمت کے برابر رقم بھی دے سکتا ہے لیکن اگر کسی دوسری جنس کی صورت میں جس پر خمس واجب نہ ہو دینا چاہے تو محل اشکال ہے بجز اس کے کہ ایسا کرنا حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔

۱۷۹۸۔ جس شخص کے مال پر خمس واجب الادا ہو اور سال گزر گیا ہو لیکن اس نے خمس نہ دیا ہو اور خمس دینے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو وہ اس مال میں تصرف نہیں کر سکتا بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر اگر خمس دینے کا ارادہ رکھتا ہو تب بھی وہ تصرف نہیں کرسکتا۔

۱۷۹۹۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا ہو وہ یہ نہیں کر سکتا کہ اس خمس کو اپنے ذمے لے یعنی اپنے آپ کو خمس کے مستحقین کا مقروض تصور کرے اور سارا مال استعمال کرتا رہے اور اگر استعمال کرے اور وہ مال تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

۱۸۰۰۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا ہو اگر وہ حاکم شرع سے مفاہمت کرکے خمس کو اپنے ذمے لے لے تو سارا مال استعمال کر سکتا ہے اور مفاہمت کے بعد اس مال سے جو منافع اسے حاصل ہو وہ اس کا اپنا مال ہے۔

۱۸۰۱۔ جو شخص کاروبار میں کسی دوسرے کے ساتھ شریک ہو اگر وہ اپنے منافع پر خمس دے دے اور اس کا حصے دار نہ دے اور آئندہ سال وہ حصے دار اس مال کو جس کا خمس اس نے نہیں دیا ساجھے میں سرمائے کے طور پر پیش کرے تو وہ شخص (جس نے خمس ادا کر دیا ہو) اگر شیعہ اثنا عشری مسلمان ہو تو اس مال کو استمعال میں لاسکتا ہے۔

۱۸۰۲۔ اگر نابالغ بچے کے پاس کوئی سرمایہ ہو اور اس سے منافع حاصل ہو تو اقوی کی بنا پر اس کا خمس دینا ہوگا اور اسکے ولی پر واجب ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر ولی خمس نہ دے تو بالغ ہونے کے بعد واجب ہے کہ وہ خود اس کا خمس دے۔

۱۸۰۳۔ جس شخص کو کسی دوسرے شخص سے کوئی مال ملے اور اسے شک ہو کہ (مال دینے والے) دوسرے شخص نے اس کا خمس دیا ہے یا نہیں تو وہ (مال حاصل کرنے والا شخص) اس مال میں تصرف کرسکتا ہے۔ بلکہ اگر یقین بھی ہو کہ اس دوسرے شخص نے خمس نہیں دیا تب بھی اگر وہ شیعہ اثنا عشری مسلمان ہو تو اس مال میں تصرف کر سکتا ہے۔

۱۸۰۴۔ اگر کوئی شخص کاروبار کے منافع سے سال کے دوران ایسی جائداد خریدے جو اس کی سال بھر کی ضروریات اور اخراجات میں شمار نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ سال کے خاتمے پر اس کا خمس دے اور اگر خمس نہ دے اور اس جائداد کی قیمت بڑھ جائے تو لازم ہے کہ اس کی موجودہ قیمت پر خمس دے اور جائداد کے علاوہ قالین وغیرہ کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۱۸۰۵۔ جس شخص نے شروع سے (یعنی جب سے اس پر خمس کی ادائیگی واجب ہوئی ہو) خمس نہ دیا ہو مثال کے طور پر اگر وہ کوئی جائداد خریدے اور اس کی قیمت بڑھ جائے اور اگر اس نے یہ جائداد اس ارادے سے نہ خریدی ہو کہ اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو بیچ دے گا مثلا کھیتی باڑی کے لئے زمین خریدی ہو اور اس کی قیمت اس رقم سے ادا کی ہو جس پر خمس نہ دیا ہو تو ضروری ہے کہ قیمت خرید پر خمس دے اور مثلاً اگر بیچنے والے کو وہ رقم دی ہو جس پر خمس نہ دیا ہو اور اس سے کہا ہو کہ میں یہ جائداد اس رقم سے خریدتا ہوں تو ضروری ہے کہ اس جائداد کی موجودہ قیمت پر خمس دے۔

۱۸۰۶۔ جس شخص نے شروع سے (یعنی جب سے خمس کی ادائیگی اس پر واجب ہوئی) خمس نہ دیا ہو اگر اس نے اپنے کاروبار کے منافع سے کوئی ایسی چیز خریدی ہو جس کی اسے ضرورت نہ ہو اور اسے منافع کمائے ایک سال گزر گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر اس نے گھر کا سازوسامان اور ضرورت کی چیزیں اپنی حیثیت کے مطابق خریدی ہوں اور جانتا ہو کہ اس نے یہ چیزیں اس سال کے دوران اس منافع سے خریدی ہیں جس سال میں اسے منافع ہوا ہے تو ان پر خمس دینا لازم نہیں لیکن اگر اسے یہ معلوم نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ حاکم شرع سے مفاہمت کرے۔

معدنی کانیں


۱۸۰۷۔ سونے، چاندہ، سیسے، تانبے، لوہے (جیسی دھاتوں کی کانیں) نیز پیڑولیم، کوئلے، فیروزے، عقیق، پھٹکری یا نمک کی کانیں اور (اسی طرح کی) دوسری کانیں انفال کے زمرے میں آتی ہیں یعنی یہ امام عصر علیہ السلام کی ملکیت ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان میں سے کوئی چیز نکالے جب کہ شرعا کوئی حرج نہ ہو تو وہ اسے اپنی ملکیت قرار دے سکتا ہے اور اگر وہ چیز نصاب کے مطابق ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے۔

۱۸۰۸۔ کان سے نکلی ہوئی چیز کا نصاب ۱۵ مثقال مروجہ سکہ دار سونا ہے یعنی اگر کان سے نکالی ہوئی کسی چیز کی قیمت ۱۵ مثقال سکہ دار سونے تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس پر جو اخراجات آئے ہوں انہیں منہا کرکے جو باقی بچے اس کا خمس دے۔

۱۸۰۹۔ جس شخص نےکان سے منافع کمایا ہو اور جو چیز کان سے نکالی ہو اگر اس کی قیمت ۱۵ مثقال سکہ دار سونے تک نہ پہنچے تو اس پر خمس تب واجب ہوگا جب صرف یہ منافع یا اس کے دوسرے منافع اس منافع کو ملا کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہوجائیں۔

۱۸۱۰۔ جپسم، چونا، چکنی مٹی اور سرخ مٹی پر احتیاط لازم کی بنا پر معدنی چیزوں کے حکم کا اطلاق ہوتا ہے لہذا اگر یہ چیزیں حد نصاب تک پہنچ جائیں تو سال بھر کے اخراجات نکالنے سے پہلے ان کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۸۱۱۔ جو شخص کان سے کوئی چیز نکالے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے خواہ وہ کان زمین کے اوپر ہو یا زیر زمین اور خواہ ایسی زمین میں ہو جو کسی کی ملکیت ہو یا ایسی زمین میں ہو جس کا کوئی مالک نہ ہو۔

۱۸۱۲۔ اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ جو چیز اس نے کان سے نکالی ہے اس کی قیمت ۱۵ مثقال سکہ دار سونے کے برابر ہے یا نہیں تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو وزن کرکے یا کسی اور طریقے اس کی قیمت معلوم کرے۔

۱۸۱۳۔اگر کئی افراد مل کر کان سے کئی چیز نکالیں اور اس کی قیمت ۱۵ مثقال سکہ دار سونے تک پہنچ جائے لیکن ان میں سے ہر ایک کا حصہ اس مقدار سے کم ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ خمس دیں۔

۱۸۱۴۔ اگر کوئی شخص اس معدنی چیز کو جو زیر زمین دوسرے کی ملکیت میں ہو اس کی اجازت کے بغیر اس کی زمین کھود کر نکالے تو مشہور قول یہ ہے کہ "جو چیز دوسرے کی زمین سے نکالی جائے وہ اسی مالک کی ہے" لیکن یہ بات اشکال سے خالی نہیں اور بہتر یہ ہے کہ باہم معاملہ طے کرے اور اگر آپس میں سمجھوتہ نہ ہوسکے تو حاکم شرع کی طرف رجوع کریں تاکہ وہ اس تنازع کا فیصلہ کرے۔

گڑا ہوا دفینہ


۱۸۱۵۔ دفینہ وہ مال ہے جو زمین یا درخت یا پہاڑ یا دیوار میں گڑا ہوا ہو اور کوئی اسے وہاں سے نکالے اور اس کی صورت یہ ہو ہ اسے دفینہ کہا جاسکے۔

۱۸۱۶۔ اگر انسان کو کسی ایسی زمین سے دفینہ ملے جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے یعنی اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے لیکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۸۱۷۔دفینے کا نصاب ۱۰۵ مثقال سکہ دار چاندی اور ۱۵ مثقال سکہ دار سونا ہے یعنی جو چیز دفینے سے ملے اگر اس کی قیمت ان دونوں میں سے کسی ایک کے بھی برابر ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے۔

۱۸۱۸۔ اگر کسی شخص کو ایسی زمین سے دفینہ ملے جو اس نے کسی سے خریدی ہو اور اسے معلوم ہو کہ یہ ان لوگوں کا مال نہیں ہے جو اس سے پہلے اس زمین کے مالک تھے اور وہ یہ نہ جانتا ہو کہ مالک مسلمان ہے یا ذمی ہے اور وہ خود یا اس کے وارث زندہ ہیں تو وہ اس دفینے کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے لیکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔ اور اگر اسے احتمال ہو کہ یہ سابقہ مالک کا مال ہے جب کہ زمین اور اسی طرح دفینہ یا وہ جگہ ضمناً زمین میں شامل ہونے کی بنا پر اس کا حق ہو تو ضروری ہے کہ اسے اطلاع دے اور اگر یہ معلوم ہو کہ اس کا مال نہیں تو اس شکص کو اطلاع دے جو اس سے بھی پہلے اس زمین کا مالک تھا اور اس پر اس کا حق تھا اور اسی ترتیب سے ان تمام لوگوں کو اطلاع دے جو خود اس سے پہلے اس زمین کے مالک رہے ہوں اور اس پر ان کا حق ہو اور اگر پتہ چلے کہ وہ ان میں سے کسی کا بھی مال نہیں ہے تو پھر وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے لیکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔

۱۸۱۹۔اگر کسی شخص کو ایسے کئی برتنوں سے مال ملے جو ایک جگہ دفن ہوں اور اس مال کی مجموعی قیمت ۱۰۵ مثقال چاندی یا ۱۵ مثقال سونے کے برابر ہو تو ضروری ہے کہ اس مال کا خمس دے لیکن اگر مختلف مقامات سے دفینے ملیں تو ان میں سے جس دفینے کی قیمت مذکورہ مقدار تک پہنچے اس پر خمس واجب ہے اور جب دفینے کی قیمت اس مقدار تک نہ پہنچے اس پر خمس نہیں ہے۔

۱۸۲۰۔ جب دو اشخاص کو ایسا دفینہ ملے جس کی قیمت ۱۰۵ مثقال چاندی یا ۱۵ مثقال سونے تک پہنچتی ہو لیکن ان میں سے ہر ایک کا حصہ اتنا نہ بنتا ہو تو اس پر خمس ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔

۱۸۲۱۔اگر کوئی شخص جانور خریدے اور اس کے پیٹ سے اسے کوئی مال ملے تو اگر اسے احتمال ہو کہ یہ مال بیچنے والے یا پہلے مالک کا ہے اور وہ جانور پر اور جوکچھ اس کے پیٹ سے برآمد ہوا ہے اس پر حق رکھتا ہے تو ضروری ہے کہ اسے اطلاع دے اور اگر معلوم ہو کہ وہ مال ان میں سے کسی ایک کا بھی نہیں ہے تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اس کا خمس دے اگرچہ وہ مال دفینے کے نصاب کے برابر نہ ہو۔ اور یہ حکم مچھلی اور اس کی مانند دوسرے ایسے جانداروں کے لئے بھی ہے جن کی کوئی شخص کسی مخصوص جگہ میں افزائش و پرورش کرے اور ان کی غذا کا انتظام کرے۔ اور اگر سمندر یا دریا سے اسے پکڑے تو کسی کو اس کی اطلاع دینا لازم نہیں۔

وہ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہو جائے


۱۸۲۲۔ اگر حلال مال حرام مال کے ساتھ اس طرح مل جائے کہ انسان انہیں ایک دوسرے سے الگ نہ کر سکے اور حرام مال کے مالک اور اس مال کی مقدار کا بھی علم نہ ہو اور یہ بھی علم نہ ہو کہ حرام مال کی مقدار خمس سے کم ہے یا زیادہ تو تمام مال کا خمس قربت مطلقہ کی نیت سے ایسے شخص کو دے جو خمس کا اور مال مجہول المالک کا مستحق ہے اور خمس دینے کے بعد باقی مال اس شخص پر حلال ہے۔

۱۸۲۳۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے تو انسان حرام کی مقدار ۔ خواہ وہ خمس سے کم ہو یا زیادہ۔ جانتا ہو لیکن اس کے مالک کو نہ جانتا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار اس مال کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ حاکم شرع سے بھی اجازت لے۔

۱۸۲۴۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے اور انسان کو حرام کی مقدار کا علم نہ ہو لیکن اس مال کے مالک کو پہچانتا ہو اور دونوں ایک دوسرے کو راضی نہ کرسکیں تو ضروری ہے کہ جتنی مقدار کے بارے میں یقین ہو کہ دوسرے کا مال ہے وہ اسے دیدے۔ بلکہ اگر دو مال اس کی اپنی غلطی سے مخلوط ہوئے ہوں تو احتیاط کی بنا پر جس مال کے بارے میں اسے احتمال ہو کہ یہ دوسرے کا ہے اسے اس مال سے زیادہ دینا ضروری ہے۔

۱۸۲۵۔ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے دے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ حرام کی مقدار خمس سے زیادہ تھی تو ضروری ہے کہ جتنی مقدار کے بارے میں علم ہو کہ خمس سے زیادہ تھی اسے اس کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دے ۔

۱۸۲۶۔ اگر کوئی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے یا ایسا مال جس کے مالک کو نہ پہچانتا ہو مال کے مالک کی طرف سے صدقہ کر دے اور بعد میں اس کا مالک مل جائے تو اگر وہ راضی نہ ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے مال کے برابر اسے دینا ضروری ہے۔

۱۸۲۷۔ اگر حلال مال حرام مال سے مل جائے اور حرام کی مقدار معلوم ہو اور انسان جانتا ہو کہ اس کا مالک چند لوگوں میں سے ہی کوئی ایک ہے لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کون ہے تو ان سب کا اطلاع دے چنانچہ ان میں سے کوئی ایک کہے کہ یہ میرا مال ہے اور دوسرے کہیں کہ ہمارا مال نہیں یا اس مال کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کریں تو اسی پہلے شخص کو وہ مال دیدے اور اگر دو یا دو سے زیادہ آدمی کہیں کہ یہ ہمارا مال ہے اور صلح یا اسی طرح کسی طریقے سے وہ معاملہ حل نہ ہو تو ضروری ہے کہ تنازع کے حل کے لئے حاکم شرع سے رجوع کریں اور اگر وہ سب لاعلمی کا اظہار کریں اور باہم صلح بھی نہ کریں تو ظاہر یہ ہے کہ اس مال کے مالک کا تعین قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا اور احتیاط یہ ہے کہ حاکم شرع یا اس کا وکیل قرعہ اندازی کی نگرانی کرے۔

غَوَّاصِی سے حاصل کئے ہوئے موتی


۱۸۲۸۔اگر غواصی کے ذریعے یعنی سمندر میں غوطہ لگا کر لُئولُئو، مرجان یا دوسرے موتی نکالے جائیں تو خواہ وہ ایسی چیزوں میں سے ہوں جو اگتی ہیں۔ یا معدنیات میں سے ہوں اگر اس کی قیمت ۱۸ چنے سونے کے برابر ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دیا جائے خواہ انہیں ایک دفعہ میں سمندر سے نکالا گیا ہو یا ایک سے زیادہ دفعہ میں بشرطیکہ پہلی دفعہ اور دوسری دفعہ غوطہ لگانے میں زیادہ فاصلہ نہ ہو مثلاً یہ کہ دو موسموں میں غواصی کی ہو۔ بصورت دیگر ہر ایک دفعہ میں ۱۸ چنے سونے کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس کا خمس دینا واجب نہیں ہے۔ اور اسی طرح جب غواصی میں شریک تمام غوطہ خوروں میں سے ہر ایک کا حصہ ۱۸ چنے سونے کی قیمت کے برابر نہ ہو تو ان پر اس خمس دینا واجب نہیں ہے۔

۱۸۲۹۔ اگر سمندر میں غوطہ لگائے بغیر دوسرے ذرائع سے موتی نکالے جائیں تو احتیاط کی بنا پر ان پر خمس واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص سمندر کے پانی کی سطح یا سمندر کے کنارے سے موتی حاصل کرے تو ان کا خمس اسے اس صورت میں دینا ضروری ہے جب جو موتی اسے دستیاب ہوئے ہوں وہ تنہا یا اس کے کاروبار کے دوسرے منافع سے مل کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو۔

۱۸۳۰۔ مچھلیوں اور ان دوسرے (آبی) جانوروں کا خمس جنہیں انسان سمندر میں غوطہ لگائے بغیر حاصل کرتا ہے اس صورت میں واجب ہوتا ہے جب ان چیزوں سے حاصل کردہ منافع تنہا یا کاروبار کے دوسرے منافع سے مل کر اس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو۔

۱۸۳۱۔ اگر انسان کوئی چیز نکالنے کا ارادہ کئے بغیر سمندر میں غوطہ لگائے اور اتفاق سے کوئی موتی اس کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے اپنی ملکیت میں لینے کا ارادہ کرے تو اس کا خمس دینا ضروری ہے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ ہر حال میں اس کا خمس دے۔

۱۸۳۲۔اگر انسان سمندر میں غوطہ لگائے اور کوئی جانور نکال لائے اور اس کے پیٹ میں سے اسے کوئی موتی ملے تو اگر وہ جانور سیپی کی مانند ہو جس کے پیٹ میں عموماً موتی ہوتے ہیں اور وہ نصاب تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے اور اگر وہ کوئی ایسا جانور ہو جس نے اتفاقاً موتی نگل لیا ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اگرچہ وہ حدنصاب تک نہ پہنچے تب بھی اس کا خمس دے۔

۱۸۳۳۔ اگر کوئی شخص بڑے دریاوں مثلاً دجلہ اور فرات میں غوطہ لگائے اور موتی نکال لائے تو اگر اس دریا میں موتی پیدا ہوتے ہوں تو ضروری ہے کہ (جو موتی نکالے) ان کا خمس دے۔

۱۸۳۴۔ اگر کوئی شخص پانی میں غوطہ لگائے اور کچھ عنبر نکال لائے اور اس کی قیمت ۱۸ چنے سونے یا اس سے زیادہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا خمس دے بلکہ اگر پانی کی سطح یا سمندر کے کنارے سے بھی حاصل کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

۱۸۳۵۔ جس شخص کا پیشہ غوطہ خوری یا کان کنی ہو اگر وہ ان کا خمس ادا کر دے اور پھر اس کے سال بھر کے اخراجات سے کچھ بچ رہے تو اس کےلئے یہ لازم نہیں کہ دوبارہ اس کا خمس ادا کرے۔

۱۸۳۶۔ اگر بچہ کوئی معدنی چیز نکالے یا اسے کوئی دفینہ مل جائے یا سمندر میں غوطہ لگا کر موتی نکال لائے تو بچے کا ولی اس کا خمس دے اور اگر ولی خمس ادا نہ کرے تو ضروری ہے کہ بچہ بالغ ہونے کے بعد خود خمس ادا کرے اور اسی طرح اگر اس کے پاس حرام مال میں حلال مال میں حلال مال ملا ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اس کا ولی اس مال کا پاک کرے۔

مال غنیمت


۱۸۳۷۔ اگر مسلمان امام علیہ السلام کے حکم سے کفار سے جنگ کریں اور جو چیزیں جنگ میں ان کے ہاتھ لگیں انہیں "غنیمت" کہا جاتا ہے۔ اور اس مال کی حفاظت یا اس کی نقل و حمل وغیرہ کے مصارف منہا کرنے کے بعد اور جو رقم امام علیہ السلام اپنی مصلحت کے مطابق خرچ کریں اور جو مال، خاص امام علیہ السلام کا حق ہے اسے علیحدہ کرنے کے بعد باقیماندہ پر خمس ادا کیا جائے۔ مال غنیمت پر خمس ثابت ہونے میں اشیائے منقولہ اور غیر منقولہ میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں جن زمینوں کا تعلق "انفال" سے ہے وہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں اگرچہ جنگ امام علیہ السلام کی اجازت سے نہ ہو۔

۱۸۳۸۔ اگر مسلمان کافروں سے امام علیہ السلام کی اجازت کے بغیر جنگ کریں اور ان سے مال غنیمت حاصل ہو تو جو غنیمت حاصل ہو وہ امام علیہ السلام کی ملکیت ہے اور جنگ کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔

۱۸۳۹۔ جو کچھ کافروں کے ہاتھ میں ہے اگر اس کا مالک مُحتَرمُ المَال یعنی مسلمان یا کافرِ ذمّی ہو تو اس پر غنیمت حاصل ہو تو جو غنیمت حاصل ہو وہ امام علیہ السلام کی ملکیت ہے اور جنگ کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔

۱۸۴۰۔ کافر حَربہ کا مال چرانا اور اس جیسا کوئی کام کرنا اگر خیانت اور نقص امن میں شمار ہو تو حرام ہے اور اس طرح کی جو چیزیں ان سے حاصل کی جائیں احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ انہیں لوٹا دی جائیں۔

۱۸۴۱۔ مشہور یہ ہے کہ ناصبی کا مال مومن اپنے لئے لے سکتا ہے البتہ اس کا خمس دے لیکن یہ حکم اشکال سے خالی نہیں ہے۔

وہ زمین جو ذمی کافر کسی مسلمان سے خریدے


۱۸۴۲۔اگر کافر ذمی مسلمان سے زمین خریدے تو مشہور قول کی بنا پر اس کا خمس اسی زمین سے یا اپنے کسی دوسرے مال سے دے لیکن خمس کے عام قواعد کے مطابق اس صورت میں خمس کے واجب ہونے میں اشکال ہے۔

خمس کا مصرف


۱۸۴۳۔ ضروری ہے کہ خمس دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس کا ایک حصہ سادات کا حق ہے اور ضروری ہے کہ کسی فقیر سید یا یتیم سید یا ایسے سید کو دیا جائے جو سفر میں ناچار ہوگیا ہو۔ اور دوسرا حصہ امام علیہ السلام کا ہے جو ضروری ہے کہ موجودہ زمانے میں جامع الشرائط مجہتد کر دیا جائے یا ایسے کاموں پر جس کی وہ مجتہد اجازت دے خرچ کیا جائے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ مرجع اعلم عمومی مصلحتوں سے آگاہ ہو۔

۱۸۴۴۔ جس یتیم سید کو خمس دیا جائے ضروری ہے کہ وہ فقیر بھی ہو لیکن جو سید سفر میں ناچار ہو جائے وہ خواہ اپنے وطن میں فقیر نہ بھی ہو اسے خمس دیا جاسکتا ہے۔

۱۸۴۵۔ جو سید سفر میں ناچار ہوگیا ہو اگر اس کا سفر گناہ کا سفر ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اسے خمس نہ دیا جائے۔

۱۸۴۶۔ جو سید عادل نہ ہو اسے خمس دیا جاسکتا ہے لیکن جو سید اثنا عشری نہ ہو تو ضروری ہے کہ اسے خمس نہ دیا جائے۔

۱۸۴۷۔ جو سید گناہ کا کام کرتا ہو اگر اسے خمس دینے سے گناہ کرنے میں اس کی مدد ہوتی ہو تو اسے خمس نہ دیا جائے اور احوط یہ ہے کہ اس سید کو بھی خمس نہ دیا جائے جو شراب پیتاہو یا نماز نہ پڑھتا ہو یا علانیہ گناہ کرتا ہو گو خمس دینے سے اسے گناہ کرنے میں مدد نہ ملتی ہو۔

۱۸۴۸۔ جو شخص کہے کہ سید ہوں اسے اس وقت تک خمس نہ دیا جائے جب تک دو عادل اشخاص اس کے سید ہونے کی تصدیق نہ کردیں یا لوگوں میں اس کا سید ہونا اتنا مشہور ہو کہ انسان کو یقین اور اطمینان ہو جائے کہ وہ سید ہے۔

۱۸۴۹۔کوئی شخص اپنے شہر میں سید مشہور ہو اور اس کے سید نہ ہونے کے بارے میں جو باتیں کی جاتی ہوں انسان کو ان پر یقین یا اطمینان نہ ہو تو اسے خمس دیا جاسکتا ہے۔

۱۸۵۰۔ اگر کسی شخص کی بیوی سیدانی ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ شوہر اسے اس مقصد کے لئے خمس نہ دے کہ وہ اسے اپنے ذاتی استعمال میں لے آئیں لیکن اگر دوسرے لوگوں کی کفالت اس عورت پر واجب ہوں اور وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے قاصر ہو تو انسان کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کو خمس دے تاکہ وہ زیر کفالت لوگوں پر خرچ کرے۔ اور اس عورت کو اس غرض سے خمس دینے کے بارے میں بھی یہی حکم ہے جبکہ وہ (یہ رقم) اپنے غیر واجب اخراجات پر صرف کرے (یعنی اس مقصد کے لئے اس خمس نہیں دینا چاہئے)۔

۱۸۵۱۔ اگر انسان پر کسی سید کے یا ایسی سیدانی کے اخراجات واجب ہوں جو اس کی بیوی نہ ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر وہ اس سید یا سیدانی کے خوراک اور پوشاک کے اخراجات اور باقی واجب اخراجات اپنے خمس سے ادا نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر وہ اس سید یا سیدانی کو خمس کی کچھ رقم اس مقصد سے دے کہ وہ واجب اخراجات کے علاوہ اسے دوسری ضروریات پر خرچ کرے تو کوئی حرج نہیں۔

۱۸۵۲۔ اگر کسی فقیر سید کے اخراجات کسی دوسرے شخص پر واجب ہوں اور وہ شخص اس سید کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو یا استطاعت رکھتا ہو لیکن نہ دیتا ہو تو اس سید کو خمس دیا جاسکتا ہے۔

۱۸۵۳۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ کسی ایک فقیر سید کو اس کے ایک سال کے اخراجات سے زیادہ خمس نہ دیا جائے ۔

۱۸۵۴۔ اگر کسی شخص کے شہر میں کوئی مستحق سید نہ ہو اور اسے یقین یا اطمینان ہو کہ کوئی ایسا سید بعد میں بھی نہیں ملے گا یا جب تک کوئی مستحق سید ملے خمس کی حفاظت کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ خمس دوسرے شہر لے جائے اور مستحق کو پہنچا دے اور خمس دوسرے شہر لے جانے کے اخراجات خمس میں سے لے سکتا ہے اور اگر خمس تلف ہو جائے تو اگر اس شخص نے اس کی نگہداشت میں کوتاہی برتی ہو تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے اور اگر کوتاہی نہ برتی ہو تو اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔

۱۸۵۵۔ جب کسی شخص کے اپنے شہر میں خمس کا مستحق شخص موجود نہ ہو تو اگرچہ اسے یقین یا اطمینان ہو کہ بعد میں مل جائے گا اور خمس کے مستحق شخص کے ملنے تک خمس کی نگہداشت بھی ممکن ہو تب بھی وہ خمس دوسرے شہر لے جاسکتا ہے اور اگر وہ خمس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ برتے اور وہ تلف ہو جائے تو اس کے لئے کوئی چیز دینا ضروری نہیں لیکن وہ خمس کے دوسری جگہ لے جانے کے اخراجات خمس میں سے نہیں لے سکتا ہے۔

۱۸۵۶۔ اگر کسی شخص کے اپنے شہر میں خمس کا مستحق مل جائے تب بھی وہ خمس دوسرے شہر لے جاکر مستحق کو پہنچاسکتا ہے البتہ خمس کا ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا اس قدرتاخیر کا موجب نہ ہو کہ خمس پہنچانے میں سستی شمار ہو لیکن ضروری ہے کہ اسے لے جانے کے اخراجات خود ادا کرے۔ اور اس صورت میں اگر خمس ضائع ہو جائے تو اگرچہ اس نے اس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ برتی ہو وہ اس کا ذمہ دار ہے۔

۱۸۵۷۔ اگر کوئی شخص حاکم شرع کے حکم سے خمس دوسرے شہر لے جائے اور وہ تلف ہو جائے تو اس کے لئے دوبارہ خمس دینا لازم نہیں اور اسی طرح اگر وہ خمس حاکم شرع کے وکیل کو دے دے جو خمس کی وصولی پر مامور ہو اور وہ وکیل خمس کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جائے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۱۸۵۸۔ یہ جائز نہیں کہ کسی چیز کی قیمت اس کی اصل قیمت سے زیادہ لگا کر اسے بطور خمس دیا جائے۔ اور جیسا کہ مسئلہ ۱۷۹۷ میں بتایا گیا ہے کہ کسی دوسری جنس کی شکل میں خمس ادا کرنا ما سوا سونے اور چاندی کے سکوں اور انہین جیسی دوسری چیزوں کے ہر صورت میں محل اشکال ہے۔

۱۸۵۹۔جس شخص کو خمس کے مستحق شخص سے کچھ لینا ہو اور چاہتا ہو کہ اپنا قرضہ خمس کی رقم سے منہا کر لے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ یا تو حاکم شرع سے اجازت لے یا خمس اس مستحق کو دیدے اور بعد میں مستحق شخص اسے وہ مال قرضے کی ادائیگی کے طور پر لوٹا دے اور وہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ خمس کے مستحق شخص کی اجازت سے اس کا وکیل بن کر خود اس کی طرف سے خمس لے لے اور اس سے اپنا قرض چکا لے۔

۱۸۶۰۔ مالک، خمس کے مستحق شخص سے یہ شرط نہیں کر سکتا کہ وہ خمس لینے کے بعد اسے واپس لوٹا دے۔ لیکن اگر مستحق شخص خمس لینے کے بعد اسے واپس دینے پر راضی ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً جس شخص کے ذمے خمس کی زیادہ رقم واجب الادا ہو اور وہ فقیر ہو گیا ہو اور چاہتا ہو کہ خمس کے مستح لوگوں کا مقروض نہ رہے تو اگر خمس کا مستحق شخص راضی ہو جائے کہ اس سے خمس لے کر پھر اسی کو بخش دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

زکوۃ کے احکام ← → روزے کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français