مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

حج کے اَحکام ← → خمس کے احکام

زکوۃ کے احکام

۱۸۶۱۔ زکوٰۃ چند چیزوں پر واجب ہے۔

۱۔ گیہوں ۲۔ جَو ۳۔ کھجور ۴۔ کشمش ۵۔ سونا ۶۔ چاندی ۷۔ اونٹ ۸۔ گائے ۹۔بھیڑ بکری ۱۰۔احتیاط لازم کی بنا پر مال تجارت۔

اگر کوئی شخص ان دس چیزوں میں سے کسی ایک کا مالک ہو تو ان شرائط کے تحت جن کا ذکر بعد میں کیا جائے گا ضروری ہے کہ جو مقدار مقرر کی گئی ہے اسے ان مصارف میں سے کسی ایک مد میں خرچ کرے جن کا حکم دیا گیا ہے۔

۱۸۶۲۔ سلت پر جو گیہوں کی طرح ایک نرم اناج ہے اور جسے بے چھلکے کا جَو بھی کہتے ہیں اور علس پر جو گیہوں کی ایک قسم ہے اور صنعا (یمن) کے لوگوں کی غذا ہے احتیاط واجب کی بنا پر زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔

زکوۃ واجب ہونے کی شرائط

۱۸۶۳۔ زکوٰۃ کورہ دس چیزوں پر اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب مال اس نصاب کی مقدار تک پہنچ جائے جس کا ذکر بعد میں کیاجائے گا اور وہ مال انسان کی اپنی ملکیت ہو اور اس کا مالک آزادہو۔

۱۸۶۴۔ اگر انسان گیارہ مہینے گائے، بھیڑ بکری، اونٹ، سونے یا چاندی کا مالک رہے تو اگرچہ بارھویں مہینے کی پہلی تاریخ کو زکوٰۃ اس پر واجب ہو جائے گی لیکن ضروری ہے کہ اگلے سال کی ابتدا کی حساب بارھویں مہینے کے خاتمے کے بعد سے کرے۔

۱۸۶۵۔ سونے، چاندی اور مال تجارت پر زکوۃ کے واجب ہونے کی شرط یہ ہے کہ ان چیزوں کا مالک، بالغ اور عاقل ہو۔ لیکن گیہوں،جَو، کھجور، کشمش اور اسی طرح اونٹ، گائے اور بھیڑ بکریوں میں مالک کا بالغ اور عاقل ہونا شرط نہیں ہے۔

۱۸۶۶۔ گیہوں اور جَو پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب انہیں "گیہوں" اور "جَو" کہا جائے۔ کشمش پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ ابھی انگور ہی کی صورت میں ہوں۔ اور کھجور پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب (وہ پک جائیں اور) عرب اسے تمر کہیں لیکن گیہوں اور جَو میں زکوۃ کا نصاب دیکھنے اور زکوۃ دینے کا وقت وہ ہوتا ہے جب یہ غلہ کھلیان میں پہنچے اور ان (کی بالیوں) سے بھوسا اور (دانہ) الگ کیا جائے۔ جبکہ کھجور اور کشمش میں یہ وقت وہ ہوتا ہے جب انہیں اتار لیتے ہیں۔ اس وقت کو خشک ہونے کا وقت بھی کہتے ہیں۔

۱۸۶۷۔ گیہوں، جَو، کشمش اور کھجور میں زکوۃ ثابت ہونے کے لئے جیسا کہ سابقہ مسئلے میں بتایا گیا ہے اقوی کی بنا پر معتبر نہیں ہے کہ ان کا مالک ان میں تصرف کر سکے۔ پس اگر مالک غائب ہو اور مال بھی اس کے یا اس کے وکیل کے ہاتھ میں نہ ہو مثلا کسی نے ان چیزوں کو غصب کر لیا ہو تب بھی زکوۃ ان چیزوں میں ثابت ہے۔

۱۸۶۸۔ سونے، چاندی اور مال تجارت میں زکوۃ ثابت ہونے کے لئے ۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ۔ ضروری ہے کہ مالک عاقل ہو اگر مالک پورا سال یا سال کا کچھ حصہ دیوانہ رہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۸۶۹۔ اگر گائے، بھیڑ، اونٹ، سونے اور چاندی کا مالک سال کا کچھ حصہ مست (بے حواس) یا بے ہوش رہے تو زکوۃ اس پر سے ساقط نہیں ہوتی اور اسی طرح گیہوں، جَو، اور کشمش کا مالک زکوٰۃ واجب ہونے کے موقع پر مست یا بے ہوش ہوجائے تو بھی یہی حکم ہے۔

۱۸۷۰۔گیہوں، جَو، کھجور اور کشمش کے علاوہ دوسری چیزوں میں زکوۃ ثابت ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ مالک اس مال میں تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہو پس اگر کسی نے اس مال کی غصب کر لیا ہو اور مالک اس مال میں تصرف نہ کر سکتا ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

۱۸۷۱۔ اگر کسی نے سونا اور چاندی یا کوئی اور چیز جس پر زکوۃ دینا واجب ہو کسی سے قرض لی ہو اور وہ چیز ایک سال تک اس کے پاس رہے تو ضروری ہے کہ اس کی زکوٰۃ دے اور جس نے قرض دیا ہو اس پر کچھ واجب نہیں ہے۔

گیہوں، جَو، کھجور اور کشمش کی زکوۃ


۱۸۷۲۔ گیہوں، جَو، کھجور اور کشمش پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ نصاب کی حد تک پہنچ جائیں اور ان کا نصاب تین سو صاع ہے جو ایک گروہ (علماء) کے بقول تقریباً ۸۴۷ کیلو ہوتا ہے۔

۱۸۷۳۔جس انگور، کھجور ، جو اور گیہوں پر زکوٰۃ واجب ہوچکی ہو اگر کوئی شخص خود یا اس کے اہل و عیال اسے کھالیں یا مثلاً وہ یہ اجناس کسی فقیر کو زکوۃ کی نیت کے بغیر دے دے تو ضروری ہے کہ جتنی مقدار استعمال کی ہو اس پر زکوٰۃ دے۔

۱۸۷۴۔ اگر گیہوں،جَو،کھجور اور انگور پر زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد ان چیزوں کا مالک مرجائے تو جتنی زکوٰۃ بنتی ہو وہ اس کے مال سے دینی ضروری ہے لیکن اگر وہ شخص زکوۃ واجب ہونے سے پہلے مرجائے تو ہر وہ وارث جس کا حصہ نصاب تک پہنچ جائے ضروری ہے کہ اپنے حصے کی زکوۃ خود ادا کرے۔

۱۸۷۵۔ جو شخص حاکم شرح کی طرف سے زکوٰۃ جمع کرنے پر مامور ہو وہ گیہوں اور جو کے کھلیان میں بھوسا (اور دانہ) الگ کرنے کے وقت اور کھجور اور انگور کے خشک ہونےکے وقت زکوٰۃ کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگرمالک نہ دے اور جس چیز پر زکوٰۃ واجب ہوگئی ہو وہ تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

۱۸۷۶۔اگر کسی شخص کے کھجور کے درختوں، انگور کی بیلوں یا گیہوں اور جَو کے کھیتوں (کی پیداوار) کا مالک بننے کے بعد ان چیزوں پر زکوٰۃ واجب ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان پر زکوٰۃ دے۔

۱۸۷۷۔اگر گیہوں، جَو، کھجور اور انگور پر زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد کوئی شخص کھیتوں اور درختوں کو بیچ دے تو بیچنے والے پر ان اجناس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور جب وہ زکوۃ ادا کر دے تو خریدنے والے پر کچھ واجب نہیں ہے۔

۱۸۷۸۔اگر کوئی شخص گیہوں، جَو، کھجور یا انگور خریدے اور اسے علم ہو کہ بیچنے والے نے ان کی زکوٰۃ دے دی ہے یا شک کرے کہ اس نے زکوٰۃ دی ہے یا نہیں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے اور اگر اسے معلوم ہو کہ بیچنے والے نے ان پر زکوٰۃ نہیں دی تو ضروری ہے کہ وہ خود اس پر زکوٰۃ دیدے لیکن اگر بیچنے والے نے دغل کیا ہو تو وہ زکوۃ دینے کے بعد اس سے رجوع کر سکتا ہے اور زکوۃ کی مقدار کا اس سے مطالبہ کر سکتا ہے۔

۱۸۷۹۔ اگر گیہوں، جَو، کھجور اور انگور کا وزن تر ہونے کے وقت نصاب کی حد تک پہنچ جائے اور خشک ہونے کے وقت اس حد سے کم ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۸۸۰۔اگر کوئی شخص گیہوں، جَو اور کھجور کو خشک ہونے کے وقت سے پہلے خرچ کرے تو اگر وہ خشک ہو کر نصاب پر پوری اتریں تو ضروری ہے کہ ان کو زکوٰۃ دے۔

۱۸۸۱۔ کھجور کی تین قسمیں ہیں :۔

۱۔ وہ جسے خشک کیا جاتا ہے (یعنی چھوارے)۔ اس کی زکوٰۃ کا حکم بیان ہو چکا ہے۔

۲۔ وہ جو رُطَب (پکی ہوئی رس دار) ہونے کی حالت میں کھائی جاتی ہے ۔

۳۔ وہ جو کچی ہی کھائی جاتی ہے۔

دوسری قسم کی مقدار اگر خشک ہونے پر نصاب کی حد تک پہنچ جائے تو احتیاط مستحب ہے کہ اس کی زکوۃ دی جائے۔ جہان تک تیسری قسم کا تعلق ہے ظاہر یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۸۸۲۔ جس گیہوں، جَو، کھجور اور کشمش کی زکوٰۃ کسی شخص نے دے دی ہو اگر وہ چند سال اس کے پاس پڑی بھی رہیں تو ان پر دوبارہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

۱۸۸۳۔ اگر گیہوں،جَو، کھجور اور انگور (کی کاشت) بارانی یا نہری زمین پر کی جائے یا مصر زراعت کی طرح انہیں زمین کی نمی سے فائدہ پہنچے تو ان پر زکوۃ دسواں حصہ ہے اور اگر ان کی سینچائی (جھیل یا کنویں وغیرہ) کے پانی سے بذریعہ ڈول کی جائے تو ان پر زکوۃ بیسواں حصہ ہے۔

۱۸۸۴۔ اگر گیہوں، جو، کھجور اور انگور (کی کاشت) بارش کےپانی سے بھی سیراب ہو اور اسے ڈول وغیرہ کے پانی سے بھی فائدہ پہنچے تو اگر یہ سینچائی ایسی ہو کہ عام طور پر کہا جاسکے کہ ان کی سینچائی ڈول وغیرہ سے کی گئی ہے تو اس پر زکوۃ بیسواں حصہ ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ نہر اور بارش کے پانی سے سیراب ہوئے ہیں تو ان پر زکوٰۃ دسواں حصہ ہے اور اگر سینچائی کی صورت یہ ہو کہ عام طور پر کہا جائے کہ دونوں ذرائع سے سیراب ہوئے ہیں تو اس پر زکوۃ ساڑھے سات فی صد ہے۔

۱۸۸۵۔ اگر کوئی شک کرے کہ عام طور پر کون سی بات صحیح سمجھی جائے گی اور اسے علم نہ ہو کہ سینچائی کی صورت ایسی ہے کہ لوگ عام طور پر کہیں کہ دونوں ذرائع سے سینچائی ہوئی یا یہ کہیں کہ مثلاً بارش کے پانی سے ہوئی ہے تو اگر وہ ساڑھے سات فی صد زکوٰۃ دے تو کافی ہے۔

۱۸۸۶۔ اگر کوئی شک کرے اور اسے علم نہ ہو کہ عموماً کہتے ہیں کہ دونوں ذرائع سے سینچائی ہوئی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ڈول وغیرہ سے ہوئی ہے تو اس صورت میں بیسواں حصہ دینا کافی ہے۔ اور اگر اس بات کا احتمال بھی ہو کہ عموماً لوگ کہیں کہ بارش کے پانی سے سیرابی ہوئی ہے تب بھی یہی حکم ہے۔

۱۸۸۷۔ اگر گیہوں،جَو، کھجور اور انگور بارش اور نہر کے پانی سے سیراب ہوں اور انہیں ڈول وغیرہ کے پانی کی حاجت نہ ہو لیکن ان کی سینچائی ڈول کے پانی سے بھی ہوئی ہو اور ڈول کے پانی سے آمدنی میں اضافے میں کوئی مدد نہ ملی ہو تو ان پر زکوٰۃ دسواں حصہ ہے اور اگر ڈول وغیرہ کے پانی سے سینچائی ہوئی ہو اور نہر اور بارش کے پانی کی حاجت نہ ہو لیکن نہر اور بارش کے پانی سے بھی سیراب ہوں اور اس سے آمدنی میں اضافے میں کوئی مدد نہ ملی ہو تو ان پر زکوٰۃ بیسواں حصہ ہے۔

۱۸۸۸۔اگر کسی کھیت کی سینچائی ڈول وغیرہ سے کی جائے اور اس سے ملحقہ زمین میں کھیتی باڑی کی جائے اور وہ ملحقہ زمین اس زمین سے فائدہ اٹھائے اور اسے سینچائی کی ضرورت نہ رہے تو جس زمین کی سینچائی ڈول وغیرہ سے کی گئی ہے اس کی زکوٰۃ بیسواں حصہ اور اس سے ملحقہ کھیت کی زکوٰۃ احتیاط کی بنا پر دسواں حصہ ہے۔

۱۸۸۹۔جو اخراجات کسی شخص نے گیہوں، جو، کھجور اور انگور پر کئے ہوں انہیں وہ فصل کی آمدنی سے منہا کرکے نصاب کا حساب نہیں لگا سکتا لہذا اگر ان میں سے کسی ایک کا وزن اخراجات کا حساب لگانے سے پہلے نصاب کی مقدار تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس پر زکوٰۃ دے۔

۱۸۹۰۔ جس شخص نے زراعت میں بیج استعمال کیا ہو خواہ وہ اس کے پاس موجود ہو یا اس نے خریدا ہو وہ نصاب کا حساب اس بیچ کو فصل کی آمدنی سے منہا کر کے نہیں کر سکتا بلکہ ضروری ہے کہ نصاب کا حساب پوری فصل کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے۔

۱۸۹۱۔ جو کچھ حکومت اصلی مال سے (جس پر زکوٰۃ واجب ہو) بطور محصول لے لے اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے مثلاً اگر کھیت کی پیداوار ۲۰۰۰ کیلو ہو اور حکومت اس میں سے ۱۰۰۰ کیلو بطور لگان کے لے لے تو زکوٰۃ فقط ۱۹۰۰ کیلو پر واجب ہے۔

۱۸۹۲۔ احتیاط واجب کی بنا پر انسان یہ نہیں کر سکتا کہ جو اخراجات اس نے زکوٰۃ واجب ہونے سے پہلے کئے ہوں انہیں وہ پیداوار سے منہا کرے اور صرف باقی ماندہ پر زکوۃ دے۔

۱۸۹۳۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد جو اخراجات کئے جائیں اور جو کچھ زکوۃ کی کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے وہ پیداوار سے منہا نہیں کیا جاسکتا اگرچہ احتیاط کی بنا پر حکم شرع یا اس کے وکیل سے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے لی ہو۔

۱۸۹۴۔ کسی شخص کے لئے یہ واجب نہیں کہ وہ انتظار کرے تاکہ جو اور گیہوں کھلیان تک پہنچ جائیں اور انگور اور کھجور کے خشک ہونے کا وقت ہو جائے پھر زکوٰۃ دے بلکہ جونہی زکوٰۃ واجب ہو جائز ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کا اندازہ لگا کر وہ قیمت بطور زکوٰۃ دے۔

۱۸۹۵۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد متعلقہ شخص یہ کر سکتا ہے کہ کھڑی فصل کاٹنے یا کھجور اور انگور کو چننے سے پہلے زکوٰۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وکیل کو مشترکہ طور پیش کر دے اور اس کے بعد وہ اخراجات میں شریک ہوں گے۔

۱۸۹۶۔ جب کوئی شخص فصل یا کھجور اور انگور کی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وکیل کو دے دے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ بلا معاوضہ مشترکہ طور پر ان چیزوں کی حفاظت کرے بلکہ وہ فصل کی کٹائی یا کھجور اور انگور کے خشک ہونےتک مال زکوٰۃ اپنی زمین میں رہنے کے بدلے اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

۱۸۹۷۔ اگر انسان کئی شہریوں میں فصل پکنے کا وقت ایک دوسرے سے مختلف ہو اور ان سب شہروں سے فصل اور میوے ایک ہی وقت میں دستیاب نہ ہوتے ہوں اور یہ سب ایک سال کی پیداوار شمار ہوتے ہوں تو اگر ان میں سے جو چیز پہلے پک جائے وہ نصاب کے مطابق ہو تو ضروری ہے کہ اس پر اس کے پکنے کے وقت زکوٰۃ دے اور باقی ماندہ اجناس پر اس وقت زکوٰۃ دے جب وہ دستیاب ہوں اور اگر پہلے پکنے والی چیز نصاب کے برابر نہ ہو تو انتظار کرے تاکہ باقی اجناس پک جائیں۔ پھر اگر سب ملا کر نصاب کے برابر ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر نصاب کے برابر نہ ہوں تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔

۱۸۹۸۔ اگر کھجور اور انگور کے درخت سال میں دو دفعہ پھل دیں اور دونوں مرتبہ کی پیداوار جمع کرنے پر نصاب کے برابر ہوجائے تو احتیاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہے۔

۱۸۹۹۔ اگر کسی شخص کے پاس غیر خشک شدہ کھجوریں ہوں یا انگور ہوں جو خشک ہونے کی صورت میں نصاب کے مطابق ہوں تو اگر ان کے تازہ ہونے کی حالت میں وہ زکوٰۃ کی نیت سے ان کی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف میں لے آئے جتنی ان کے خشک ہونے پر زکوۃ کی اس مقدار کے برابر ہو جو اس پر واجب ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

۱۹۰۰۔ اگر کسی شخص پر خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب ہو تو وہ ان کی زکوٰۃ تازہ کھجور یا انگور کی شکل میں نہیں دے سکتا بلکہ اگر وہ خشک کھجور یا کشمش کی زکوۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازہ کھجوریں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھجوریں اس قیمت کے طور پر دے تو اس میں بھی اشکال ہے نیز اگر کسی پر تازہ کھجور یا انگور کی زکوۃ واجب ہو تو وہ خشک کھجور یا کشمش دے کر وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتا بلکہ اگر وہ قیمت لگا کر کوئی دوسری کھجور یا انگور دے تو اگرچہ وہ تازہ ہی ہو اس میں اشکال ہے۔

۱۹۰۱۔ جو کچھ حکومت اصلی مال سے (جس پر زکوٰۃ واجب ہو) بطور محصول لے لے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے مثلاً اگر کھیت کی پیداوار ۲۰۰۰ کیلو ہو اور حکومت اس میں سے ۱۰۰ کیلو بطور لگان کے لے لے تو زکوٰۃ فقط ۱۹۰۰ کیلو پر واجب ہے۔

۱۸۹۲۔ احتیاط واجب کی بنا پر انسان یہ نہیں کر سکتا کہ جو اخراجات اس نے زکوۃ واجب ہونے سے پہلے کئے ہوں انہیں وہ پیداوار سے منہا کرے اور صرف باقی ماندہ پر زکوٰۃ دے۔

۱۸۹۳۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد جو اخراجات کئے جائیں اور جو کچھ زکوٰۃ کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے وہ پیداوار سے منہا نہیں کیا جاسکتا اگرچہ احتیاط کی بنا پر ھاکم شرع یا اس کے وکیل سے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے لی ہو۔

۱۸۹۴۔ کسی شخص کے لئے یہ واجب نہیں کہ وہ انتظار کرے تاکہ جو اور گیہوں کھلیان تک پہنچ جائیں اور انگور اور کھجور کے خشک ہونے کا وقت ہو جائے پھر زکوٰۃ دے بلکہ جونہی زکوٰۃ دے بلکہ جونہی زکوٰۃ واجب ہوجائز ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کا اندازہ لگا کر وہ قیمت بطور زکوۃ دے۔

۱۸۹۵۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد متعلقہ شخص یہ کر سکتا ہے کہ کھڑی فصل کاٹنے یا کھجور اور انگور کو چننے سے پہلے زکوٰۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وکیل کو مشترکہ طور پر پیش کر دے اور اس کے بد وہ اخراجات میں شریک ہوں گے۔

۱۸۹۶۔ جب کوئی شخص فصل یا کھجور اور انگور کی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وکیل کو دے دے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ بلامعاوضہ مشترکہ طور پر ان چیزوں کی حفاظت کرے بلکہ وہ فصل کی کٹائی یا کھجور اور انگور کے خشک ہونے تک مال زکوٰۃ اپنی زمین میں رہنے کے بدلے اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

۱۸۹۷۔ اگر انسان کئی شہروں میں گیہوں،جَو، کھجور یا انگور کا مالک ہو اور ان شہروں میں فصل پکنے کا وقت ایک دوسرے سے مختلف ہو اور ان سب شہروں سے فصل اور میوے ایک ہی وقت میں دستیاب نہ ہوتے ہوں اور یہ سب ایک سال کی پیداوار شمار ہوتے ہوں تو اگر ان میں سے جو چیز پہلے پک جائے وہ نصاب کے مطابق ہو تو ضروری ہے کہ اس پر اس کے پکنے کے وقت زکوٰۃ دے اور باقی ماندہ اجناس پر اس وقت زکوٰۃ دے جب وہ دستیاب ہوں اور اگر پہلے پکنے والی چیز نصاب کے برابر نہ ہو تو انتظار کرے تاکہ باقی اجناس پک جائیں۔ پھر اگر سب ملا کر نصاب کے برابر ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر نصاب کے برابر نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۸۹۸۔ اگر کھجور اور انگور کے درخت سال میں دو دفعہ پھل دیں اور دونوں مرتبہ کی پیداوار جمع کرنے پر نصاب کے برابر ہوجائے تو احتیاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہے۔

۱۸۹۹۔ اگر کسی شخص کے پاس غیر خشک شدہ کھجوریں ہوں یا انگور ہوں جو خشک ہونے کی صورت میں نصاب کے مطابق ہوں تو اگر ان کے تازہ ہونے کی حالت میں وہ زکوٰۃ کی نیت سے ان کی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف میں لے آئے جتنی ان کے خشک ہونے پر زکوٰۃ کی اس مقدار کے برابر ہو جو اس پر واجب ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

۱۹۰۰۔ اگر کسی شخص پر خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب ہو تو وہ ان کی زکوٰۃ تازہ کھجور یا انگور کی شکل میں نہیں دے سکتا بلکہ اگر وہ خشک کھجور یا کشمش کی زکوٰۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازہ کھجوریں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھجوریں اس قیمت کے طور پر دے تو اس میں بھی اشکال ہے نیز اگر کسی پر تازہ کھجور یا انگور کی زکوٰۃ واجب ہو تو وہ خشک کھجور یا کشمش دے کر وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتا بلکہ اگر وہ قیمت لگا کر کوئی دوسری کھجور یا انگور دے تو اگرچہ وہ تازہ ہی ہو اس میں اشکال ہے۔

۱۹۰۱۔ اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جو مقروض ہو اور اس کے پاس ایسا مال بھی ہو جس پرزکوٰۃ وجاب ہوچکی ہو تو ضروری ہے کہ جس مال پر زکوٰۃ واجب ہوچکی ہو پہلے اس میں سے تمام زکوٰۃ دی جائے اور اس کے بعد اس کا قرضہ ادا کیا جائے۔

۱۹۰۲۔ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جو مقروض ہو اور اس کے پاس گیہوں،جَو، کھجور یا انگور بھی ہو اور اس سے پہلے کہ ان اجناس پر زکوٰۃ واجب ہو اس کے ورثاء اس کا قرضہ کسی دوسرے مال سے ادا کردیں تو جس وارث کا حصہ نصاب کی مقدار تک پہنچتا ہو ضروری ہے کہ زکوٰۃ دے اور اگر اس سے پہلے کہ زکوۃ ان اجناس پر واجب ہو متوفی کا قرضہ ادا نہ کریں اور اگر اس کا مال فقط اس قرضے جتنا ہو تو ورثاء کے لئے واجب نہیں کہ ان اجناس پر زکوٰۃ دیں اوعر اگر متوفی کا مال اس کے قرض سے زیادہ ہو جبکہ متوفی پر اتنا قرض ہو کہ اگر اسے ادا کرنا چاہیں تو ادا کرسکیں ضروری ہے کہ گیہوں، جَو، کھجور اور انگور میں سے کچھ مقدار بھی قرض خواہ کو دیں لہذا جو کچھ قرض خواہ کو دیں اس پر زکوۃ نہیں ہے اور باقی ماندہ مال پر وارثوں میں سے جس کا بھی حصہ زکوۃ کے نصاب کے برابر ہو اس کی زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔

۱۹۰۳۔ جس شخص کے پاس اچھی اور گھٹیا دونوں قسم کی گندم، جَو، کھجور اور انگور ہوں جن پر زکوٰۃ واجب ہوگئی ہو اس کے لئے احتیاط واجب یہ ہے کہ اچھی اور گھٹیادونوں اقسام میں سے الگ الگ زکوٰۃ نکالے۔

سونے کا نصاب


۱۹۰۴۔ سونے کے نصاب دو ہیں :

اس کا پہلا انصاب بیس مثقال شرعی ہے جب کہ ہر مثقال شرعی ۱۸ نخود کا ہوتا ہے پس جس وقت سونے کی مقدار بیس مثقال شرعی تک جو آجکل کے پندرہ مثقال کے برابر ہوتے ہیں پہنچ جائے اور وہ دوسری شرائط بھی پوری ہوتی ہوں جو بیان کی جاچکی ہیں تو ضروری ہے کہ انسان اس کا چالیسواں حصہ جو ۹ نخود کے برابر ہوتا ہے۔ زکوٰۃ کے طور پر دے اور اگر سونا اس مقدار تک نہ پہنچے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اور اس کا دوسرا انصاب چار مثقال شرعی ہے جو آجکل کے تین مثقال کے برابر ہوتے ہیں یعنی اگر پندرہ مثقال پر تین مثقال کا اضافہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ تمامتر ۱۸ مثقال پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دے اور اگر تین مثقال سے کم اضافہ ہو تو ضروری ہے کہ صرف ۱۵ مثقال پر زکوٰۃ دے اور اس صورت میں اضافے پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جوں جوں اضافہ ہو اس کے لئے یہی حکم ہے یعنی اگر تین مثقال اضافہ ہو تو ضروری ہے کہ تمامتر مقدار پر زکوٰۃ دے اور اگر اضافہ تین مثقال سے کم ہو تو جو مقدار بڑھی ہو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔

چاندی کا نصاب


۱۹۰۵۔ چاندی کے نصاب دو ہیں :

اس کا پہلا نصاب ۱۰۵ مروجہ مثقال ہے لہذا جب چاندی کی مقدار ۱۰۵ مثقال تک پہنچ جائے اور وہ دوسری شرائط بھی پوری کرتی ہو جو بیان کی جاچکی ہیں تو ضروری ہے کہ انسان اس کا ڈھائی فیصد جو دو مثقال اور ۱۵ نخود بنتا ہے بطور زکوٰۃ دے اور اگر وہ اس مقدار تک نہ پہنچے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے اور اس کا دوسرا نصاب ۲۱ مثقال ہے یعنی اگر ۱۰۵ مثقال پر ۲۱ مثقال کا اضافہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے پورے ۱۶۶ مثقال پر زکوٰۃ دے اور اگر ۲۱ مثقال سے کم اضافہ ہو تو ضروری ہے کہ صرف ۱۰۵ مثقال پر زکوٰۃ دے اور جو اضافہ ہوا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جتنا بھی اضافہ ہوتا جائے یہی حکم ہے یعنی اگر ۲۱ مثقال کا اضافہ ہو تو ضروری ہے تمامتر مقدار پر زکوٰۃ دے اور اگر اس سے کم اضافہ ہو تو وہ مقدار جس کا اضافہ ہوا ہے اور جو ۲۱ مثقال سے کم ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس بنا پر انسان کے پاس جتنا سونا یا چاندی ہو اگر وہ اس کا چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ دے تو وہ ایسی زکوۃ ادا کرے گا جو اس پر واجب تھی اور اگر وہ کسی وقت واجب مقدار سے کچھ زیادہ دے مثلاً اگر کسی کے پاس ۱۱۰ مثقال چاندی ہو اور وہ اس کا چالیسوں حصہ دے تو ۱۰۵ مثقال کی زکوٰۃ تو وہ ہوگی جو اس پر واجب تھی اور ۵ مثقال پر وہ ایسی زکوٰۃ دے گا جو اس پر واجب نہ تھی۔

۱۹۰۶۔ جس شخص کے پاس نصاب کے مطابق سونا یا چاندی ہو اگرچہ وہ اس پر زکوۃ دے دے لیکن جب تک اس کے پاس سونا یا چاندی پہلے نصاب سے کم نہ ہوجائے ضروری ہے کہ ہر سال ان پر زکوٰۃ دے۔

۱۹۰۷۔ سونے اور چاندی پر زکوۃ اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب وہ ضروری ہے ڈھلے ہوئے سکوں کی صورت میں ہوں اور ان کے ذریعے لین دین کا رواج ہو اور اگر ان کی مہر مٹ بھی چکی ہو تب بھی ضروری ہے کہ ان زکوۃ دی جائے۔

۱۹۰۷۔ سونے اور چاندی پر زکوٰۃ اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب وہ ضروری ہے ڈھلے ہوئے سکوں کی صورت میں ہوں اور ان کے ذریعے لین دین کا رواج ہو اور اگر ان کی مہر مٹ بھی چکی ہو تب بھی ضروری ہے کہ ان پر زکوٰۃ دی جائے۔

۱۹۰۸۔ وہ سکہ دار سونا اور چاندی جنہیں عورتیں بطور زیور پہنتی ہوں جب تک وہ رائج ہوں یعنی سونے اور چاندی کے سکوں کے طور پر ان کے ذریعے لین دین ہوتا ہو احتیاط کی بنا پر ان کی زکوٰۃ دینا واجب ہے لیکن اگر ان کے ذریعے لین دین کا رواج باقی نہ ہو تو ان زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۹۰۹۔ جس شخص کے پاس سونا اور چاندی دونوں ہون اگر ان میں سے کوئی بھی پہلے نصاب کے برابر نہ ہو مثلاً اس کے پاس ۱۰۴ مثقال چاندی اور ۱۴ مثقال سونا ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

۱۹۱۰۔جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے سونے اور چاندی پر زکوٰۃ اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب وہ گیارہ مہینے نصاب کی مقدار کے مطابق کسی شخص کی ملکیت میں رہیں اور اگر گیارہ مہینوں میں کسی وقت سونا اور چاندی پہلے نصاب سے کم ہوجائیں تو اس شخص زکوۃ واجب نہیں ہے۔

۱۹۱۱۔ اگر کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو اور وہ گیارہ مہینے کے دوران انہیں کسی دوسری چیز سے بدل لے یا انہیں پگھلا لے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔لیکن اگر وہ زکوٰۃ سے بچنے کے لئے ان کو سونے یا چاندی سے بدل لے یعنی سونے کو سونے یا چاندی سے یاچاندی کو چاندی یا سونے سے بدل لے تو احتیاط واجب ہے کہ زکوٰۃ دے۔

۱۹۱۲۔ اگر کوئی شخص بارھویں مہینے میں سونا یا چاندی پگھلائے تو ضروری ہے کہ ان پر زکوٰۃ دے اور اگر پگھلانے کی وجہ سے ان کا وزن یا قیمت کم ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان چیزوں کو پگھلانے سے پہلے جو زکوۃ اس پر واجب تھی وہ دے۔

۱۹۱۳۔اگر کسی شخص کے پاس جو سونا اور چاندی ہو اس میں سے کچھ بڑھیا اور کچھ گھٹیا قسم کا ہو تو وہ بڑھیا کی زکوۃ بڑھیا میں سے اور گھٹیا کی زکوٰۃ گھٹیا میں سے دے سکتا ہے۔ لیکن احتیاط کی بنا پر وہ گھٹیا حصے میں سے تماما زکوٰۃ نہیں دے سکتا بلکہ بہتر یہ ہے کہ ساری زکوٰۃ بڑھیا سونے اور چاندی میں سے دے۔

۱۹۱۴۔ سونے اور چاندی کے سکے جن میں معمول سے زیادہ دوسری دھات کی آمیزش ہو اگر انہیں چاندی اور سونے کے سکے کہا جاتا ہو تو اس صورت میں جب وہ نصاب کی حد تک پہنچ جائیں ان پر زکوٰۃ واجب ہے گو ان کا خالص حصہ نصاب کی حد تک نہ پہنچے لیکن اگر انہیں سونے اور چاندی کے سکے نہ کہا جاتا ہو تو خواہ ان کا خالص حصہ نصاب کی حد تک پہنچ بھی جائے ان پر زکوٰۃ کا واجب ہونا محل اشکال ہے۔

۱۹۱۵۔ جس شخص کے پاس سونے اور چاندی کے سکے ہوں اگر ان میں دوسری دھات کی آمیزش معمول کے مطابق ہو تو اگر وہ شخص ان کی زکوٰۃ سونے اور چاندی کے ایسے سکوں میں دے جن میں دوسری دھات کی آمیزش معمول سے زیادہ ہو یا ایسے سکوں میں دے جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے نہ ہوں لیکن یہ سکے اتنی مقدار میں ہوں کہ ان قیمت اس زکوٰۃ کی قیمت کے برابر ہو جو اس پر واجب ہوگئی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اونٹ، گائے بھیڑ، بکری کی زکوٰۃ


۱۹۱۶۔ اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری کی زکوٰۃ کے لئے ان شرائط کے علاوہ جن کا ذکر آچکا ہے ایک شرط اور بھی ہے اور وہ یہ کہ حیوان سارا سال صرف (خودرو) جنگلی گھاس چرتا رہا ہو۔ لہذا اگر سارا سال یا اس کا کچھ حصہ کاٹی ہوئی گھاس کھائے یا ایسی چراگاہ میں چرے جو خود اس شخص کی (یعنی حیوان کے مالک کی) یا کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہو تو اس حیوان پر زکوٰۃ نہیں ہے لیکن اگر وہ حیوان سال بھر میں ایک یا دودن مالک کی مملوکہ گھاس (یاچارا)کھائے تو اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔ لیکن اونٹ، گائے اور بھیڑ کی زکوٰۃ واجب ہونے میں احتیاط کی بنا پر شرط یہ نہیں ہے کہ سارا سال حیوان بے کار رہے بلکہ اگر آبیاری یاہل چلانے یا ان جسے امور میں ان حیوانوں سے استفادہ کیا جائے تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کی زکوٰۃ دے۔

اونٹ کے نصاب


۱۹۱۸۔ اونٹ کی نصاب بارہ ہیں۔

۱۔ پانچ اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ ایک بھیڑ ہے اور جب تک اونٹوں کی تعداد اس حد تک نہ پہنچے، زکوٰۃ (واجب) نہیں ہے۔

۲۔ دس اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ دو بھیڑیں ہیں۔

۳۔ پندرہ اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ تین بھیڑیں ہیں۔

۴۔ بیس اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ چار بھیڑیں ہیں ۔

۵۔ پچیس اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ پانچ بھیڑیں ہیں۔

۶۔ چھبیس اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو۔

۷۔ چھتیس اونٹ۔اور ان کی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

۸۔ چھیالیس اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

۹۔ اکسٹھ اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو پانچویں سال میں داخل ہوچکا ہو۔

۱۰۔ چھتر اونٹ۔ اور ان کی زکوٰۃ دو ایسے اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں ۔

۱۱۔ اکیانوے اونٹ ۔ اور ان کی زکوٰۃ دو ایسے اونٹ ہیں جو چوتھے سال میں داخل ہوں۔

۱۲۔ ایک سو اکیس اونٹ اور اس سے اوپر جتنے ہوتے جائیں ضروری ہے کہ زکوٰۃ دینے والا یا تو ان کا چالیس سے چالیس تک حساب کرے اور ہر چالیس اونٹوں کے لئے ایک اونٹ دے جو چوتھے سال میں داخل ہوچکا ہو یا چالیس اور پچاس دونوں سے حساب کرے لیکن ہر صورت میں اس طرح حساب کرنا ضروری ہے کہ کچھ باقی نہ بچے یا اگر بچے بھی تو نو سے زیادہ نہ ہو مثلاً اگر اس کے پاس ۱۴۰ اونٹ ہوں تو ضروری ہے کہ ایک سو لئے دو ایسے اونٹ دے جو چوتھے سال میں داخل ہوچکے ہوں اور چالیس کے لئے ایک ایسا اونٹ دے جو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو اور جو اونٹ زکوٰۃ میں دیا جائے اس کا مادہ ہونا ضروری ہے۔

۱۹۱۹۔ دو نصابوں کے درمیان زکوٰۃ واجب نہیں ہے لہذا اگر ایک شخص جو اونٹ رکھتا ہو ان کی تعداد پہلے نصاب سے جو پانچ ہے، بڑھ جائے تو جب تک وہ دوسرے نصاب تک جو دس ہے نہ پہنچے ضروری ہے کہ فقط پانچ پر زکوٰۃ دے اور باقی نصابوں کی صورت بھی ایسی ہی ہے۔

گائے کا نصاب


۱۹۲۰۔ گائے کےدو نصاب ہیں:

اس کا پہلا نصاب تیس ہے۔ جب کسی شخص کی گایوں کی تعداد تیس تک پہنچ جائے اور وہ شرائط بھی پوری ہوتی ہوں جن کا ذکر کیا جاچکا ہے تو ضروری ہے کہ گائے کا ایک ایسا بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو زکوٰۃ کے طور پر دے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ بچھڑا ہو۔ اور اس کا دوسرا نصاب چالیس ہے اور اس کی زکوٰۃ ایک بچھیا ہے جو تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو اور تیس اور چالیس کے درمیان زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ مثلاً جس شخص کے پاس انتالیس گائیں ہوں ضروری ہے کہ صرف تیس کی زکوٰۃ دے اور اگر اس کے پاس چالیس سے زیادہ گائیں ہوں تو جب تک ان کی تعداد ساٹھ تک نہ پہنچ جائے ضروری ہے کہ صرف چالیس پر زکوٰۃ دے۔ اور جب ان کی تعداد ساٹھ تک پہنچ جائے تو چونکہ یہ تعداد پہلے نصاب سے دگنی ہے اس لئے ضروری ہے کہ دو ایسے بچھڑے بطور زکوٰۃ دے جو دوسرے سال میں داخل ہوچکے ہوں اور اسی طرح جوں جوں گایوں کی تعداد بڑھتی جائے ضروری ہے کہ یا تو تیس سے تیس تک حساب کرے یا چالیس سے چالیس تک یا تین اور چالیس دونوں کا حساب کرے اور ان پر اس طریقے کے مطابق زکوٰۃ دے جو بتایا گیا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ اس طرح حساب کرے کہ کچھ باقی نہ بچے اور اگر کچھ بچے تو نو سے زیادہ نہ ہو مثلا اگر اس کے پاس ستر گائیں ہوں تو ضروری ہے کہ تیس اور چالیس کے مطابق حساب کرے اور تیس کے لئے تیس کی اور چالیس کی زکوٰۃ دے کیونکہ اگر وہ تیس کے لحاظ سے حساب کرے گا تو دس گائیں بغیر زکوٰۃ دیئے رہ جائیں گی۔

بھیڑ کا نصاب


۱۹۲۱۔ بھیڑ کے پانچ نصاب ہیں۔

پہلا نصاب ۴۰ ہے اور اس کی زکوٰۃ ایک بھیڑ ہے اور جب تک بھیڑوں کی تعداد چالیس تک نہ پہنچے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

دوسرا نصاب ۱۲۱ ہے اور اس کی زکوٰۃ دو بھیڑیں ہیں۔

تیسرا نصاب ۲۰۱ ہے اور اس کی زکوۃ تین بھیڑیں ہیں۔

چوتھا نصاب ۳۰۱ ہے اور اس کی زکوٰۃ چار بھیڑیں ہیں۔

پانچواں نصاب ۴۰۰ اور اس سے اوپر ہے اور ان کا حساب سو سے سو تک کرنا ضروری ہے اور ہر سو بھیڑوں پر ایک بھیڑ دی جائے اور یہ ضروری نہیں کہ زکوٰۃ انہی بھیڑوں میں سے دی جائے بلکہ اگر کوئی اور بھیڑیں دے دی جائیں یا بھیڑوں کی قیمت کے برابر نقدی دے دی جائے تو کافی ہے۔

۱۹۲۲۔ دو نصابوں کے درمیان زکوٰۃ واجب نہیں ہے لہذا اگر کسی کی بھیڑوں کی تعداد پہلے نصاب سے جو کہ چالیس ہے زیادہ ہو لیکن دوسرے نصاب تک جو ۱۲۱ ہے نہ پہنچی ہو تو اسے چاہئے کہ صرف چالیس پر زکوٰۃ دے اور جو تعداد اس سے زیادہ ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اور اس کے بعد کے نصابوں کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۱۹۲۳۔ اونٹ، گائیں اور بھیڑیں جب نصاب کی حد تک پہنچ جائیں تو خواہ وہ سب نرہوں یا مادہ یا کچھ نر ہوں اور کچھ مادہ ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔

۱۹۲۴۔ زکوٰۃ کے ضمن میں گائے اور بھینس ایک جنس شمار ہوتی ہیں اور عربی میں غیر عربی اونٹ ایک جنس ہیں۔ اسی طرح بھیڑ، بکرے اور دنبے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۱۹۲۵۔ اگر کوئی شخص زکوٰۃ کے طور پر بھیڑ دے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ کم از کم دوسرے سال میں داخل ہوچکی ہو اور اگر بکری دے تو احتیاط ضروری ہے کہ وہ تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔

۱۹۲۶۔ جو بھیڑ کوئی شخص زکوٰۃ کے طور پر دے اگر اس کی قیمت اس کی بھیڑوں سے معمولی سی کم بھی ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن بہتر ہے کہ ایسی بھیڑ دے جس کی قیمت اس کی ہر بھیڑ سے زیادہ ہو۔ نیز گائے اور اونٹ کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔

۱۹۲۷۔ اگر کئی افراد باہم حصے دار ہوں تو جس جس کا حصہ پہلے نصاب تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ زکوٰۃدے اور جس کا حصہ پہلے نصاب سے کم ہو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

۱۹۲۸۔ اگر ایک شخص کی گائیں یا اونٹ یا بھیڑیں مختلف جگھوں پر ہوں اور وہ سب ملا کر نصاب کے برابر ہوں تو ضروری ہے کہ ان کی زکوٰۃ دے۔

۱۹۲۹۔ اگر کسی شخص کی گائیں، بھیڑیں یا اونٹ بیمار اور عیب دار ہوں تب بھی ضروری ہے کہ ان کی زکوٰۃ دے۔

۱۹۳۰۔ اگر کسی شخص کی ساری گائیں، بھیڑیں یا اونٹ بیمار یا عیب دار یا بوڑھے ہوں تو وہ خود انہی میں سے زکوٰۃ دے سکتا ہے لیکن اگر وہ سب تندرست، بے عیب اور جوان ہوں تو وہ ان کی زکوٰۃ میں بیمار یا عیب دار یا بوڑھے جانور نہیں دے سکتا بلکہ اگر ان میں سے بعض تندرست اور بعض بیمار، کچھ عیب دار اور کچھ بے عیب اور کچھ بوڑھے اور کچھ جوان ہوں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ان کی زکوٰۃ میں تندرست، بے عیب اور جوان جانور دے۔

۱۹۳۱۔ اگر کوئی شخص گیارہ مہینے ختم ہونے سے پہلے اپنی گائیں، بھیڑیں اور اونٹ کسی دوسری چیز سے بدل لے یا جو نصاب بنتا ہو اسے اسی جنس کے اتنے ہی نصاب سے بدل لے مثلاً چالیس بھیڑیں دے کر چالیس اور بھیڑیں لے لے تو اگر ایسا کرنا زکوٰۃ سے بچنے کی نیت سے نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر زکوٰۃ سے بچنے کی نیت سے ہو تو اس صورت میں جب کہ دونوں چیزیں ایک ہی نوعیت کا فائدہ رکھتی ہوں مثلاً دونوں بھیڑیں دودھ دیتی ہوں تو احتیاط لازم یہ ہے کہ اس کی زکوٰۃ دے۔

۱۹۳۲۔ جس شخص کو گائے۔ بھیڑ اور اونٹ کی زکوٰۃ دینی ضروری ہو اگر وہ ان کی زکوٰۃ اپنے کسی دوسرے مال سے دے دے تو جب تک ان جانوروں کی تعداد نصاب سے کم نہ ہو ضروری ہے کہ ہر سال زکوٰۃ دے اور اگر وہ زکوٰۃ انہی جانوروں میں سے دے اور وہ پہلے نصاب سے کم ہو جائیں تو زکوٰۃ اس پر واجب نہیں ہے مثلاً جو شخص چالیس بھیڑیں رکھتا ہو اگر وہ ان کی زکوٰۃ اپنے دوسرے مال سے دے دے تو جب تک اس کی بھیڑیں چالیس سے کم نہ ہوں ضروری ہے کہ ہر سال ایک بھیڑ دے اور اگر خود ان بھیڑوں میں سے زکوٰۃ دے تو جب تک ان کی تعداد چالیس تک نہ پہنچ جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

مال تجارت کی زکوٰۃ


جس مال کا انسان معاوضہ دے کر مالک ہوا ہو اور اس نے وہ مال تجارت اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے محفوظ رکھا ہو تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ (مندرجہ ذیل) چند شرائط کے ساتھ اس کی زکوٰۃ دے جو چالیسوں حصہ ہے۔

۱۔ مالک بالغ اور عاقل ہو۔

۲۔ مال نصاب کی مقدار تک پہنچ گیا ہو اور وہ نصاب سونے اور چاندی کے نصاب کے برابر ہے۔

۳۔ جس وقت سے اس مال سے فائدہ اٹھانے کی نیت کی ہو، اس پر ایک سال گزر جائے

۴۔ فائدہ اٹھانے کی نیت پورے سال باقی رہے۔ پس اگر سال کے دوران اس کی نیت بدل جائے مثلاً اس کو اخراجات کی مد میں صرف کرنے کی نیت کرے تو ضروری نہیں کہ اس پر زکوٰۃ دے۔

۵۔ مالک اس مال میں پورا سال تصرف کر سکتا ہو۔

۶۔ تمام سال اس کے سرمائے کی مقدار یا اس سے زیادہ پر خریدار موجود ہو۔ پس اگر سال کے کچھ حصے میں سرمائے سے کم تر مال کا خریدار ہو تو اس پر زکوٰۃ دینا واجب نہیں ہے۔

زکوٰۃ کا مصرف


۱۹۳۳۔ زکوٰۃ کا مال آٹھ مصرف میں خرچ ہوسکتا ہے۔

۱۔ فقیر۔ وہ (غریب محتاج)شخص جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں فقیر ہے لیکن جس شخص کے پاس کوئی ہنر یا جائداد یا سرمایہ ہو جس سے وہ اپنے سال بھر کے اخراجات پورے کر سکتا ہو وہ فقیر نہیں ہے۔

۲۔ مَسکِین۔ وہ شخص جو فقیر سے زیادہ تنگدست ہو، مسکین ہے۔

۳۔ وہ شخص جو امام عصر علیہ السلام یا نائب امام کی جانب سے اس کام پر مامور ہو کہ زکوٰۃ جمع کرے، اس کی نگہداشت کرے، حساب کی جانچ پڑتال کرے اور جمع کیا ہوا مال امام علیہ السلام یا نائب امام یا فقراء (و مساکین) کو پہنچائے۔

۴۔ وہ کفار جنہیں زکوٰۃ دی جائے تو وہ دین اسلام کی جانب مائل ہوں یا جنگ میں یا جنگ کے علاوہ مسلمانوں کی مدد کریں۔ اسی طرح وہ مسلمان جن کا ایمان ان بعض چیزوں پر جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہیں کمزور ہو لیکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بن جائے یا جو مسلمان (شہنشاہ ولایت) امام علی علیہ السلام کی ولایت پر ایمان نہیں رکھتے لیکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو وہ امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت (کبری) کی طرف مائل ہوں اور اس پر ایمان لے آئیں۔

۵۔ غلاموں کو خرید کر انہیں آزاد کرنا۔ جس کی تفصیل اس کے باب میں بیان ہوئی ہے۔

۶۔ وہ مقروض جو اپنا قرض ادا نہ کرسکتا ہو۔

۷۔ فِی سَبِیلِ اللہ یعنی وہ کام جن کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچتا ہو مثلاً مسجد بنانا، ایسا مدرسہ تعمیر کرنا جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہو، شہر کی صفائی کرنا نیز سڑکوں کو پختہ بنانا اور انہیں چوڑا کرنا اور انھی جیسے دوسرے کام کرنا۔

۸۔ اِبنُ السَّبِیل یعنی وہ مسافر جو سفر میں ناچار ہوگیا ہو۔

یہ وہ مدیں ہیں جہاں زکوٰۃ خرچ ہوتی ہے لیکن اقوی کی بنا پر مالک زکوٰۃ کو امام یا نائب امام کی اجازت کے بغیر مد نمبر ۳ اور مد نمبر ۴ میں خرچ نہیں کر سکتا اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر مد نمبر ۷ کا حکم بھی یہی ہے اور مذکورہ مدوں کے احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

۱۹۳۴۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ فقیر اور مسکین اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ زکوٰۃ نہ لے اور اگر اس کے پاس کچھ رقم یا جنس ہو تو فقط اتنی زکوٰۃ لے جتنی رقم یا جنس اس کے سال بھر کے اخراجات کے لئے کم پڑتی ہو۔

۱۹۳۵۔ جس شخص کے پاس اپنا پورے سال کا خرچ ہو اگر وہ اس کا کچھ حصہ استعمال کر لے اور بعد میں شک کرے کہ جو کچھ باقی بچا ہے وہ اس کے سال بھر کے اخراجات کے لئے کافی ہے یا نہیں تو وہ زکوٰۃ نہیں لے سکتا ۔

۱۹۳۶۔ جس ہنرمند یا صاحب جائداد یا تاجر کی آمدنی اس کے سال بھر کے اخراجات سے کم ہو وہ اپنے اخراجات کی کمی پوری کرنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا ہے اور لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے کام کے اوزار یا جائداد یا سرمایہ اپنے اخراجات کے مصرف میں لے آئے۔

۱۹۳۷۔ جس فقیر کے پاس اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے سال بھر کا خرچ نہ ہو لیکن ایک گھر کا مالک ہو جس میں وہ رہتا ہو یا سواری کی چیز رکھتا ہو اور ان کے بغیر گزر بسر نہ کرسکتا ہو خواہ یہ صورت اپنے عزت رکھنے کے لئے ہی ہو وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے اور گھر کے سامان، برتنوں اور گرمی و سردی کے کپڑوں اور جن چیزوں کی اسے ضرورت ہو ان کے لئے بھی یہی حکم ہے اور جو فقیر یہ چیزیں نہ رکھتا ہو اگر اسے ان کی ضرورت ہو تو وہ زکوٰۃ میں سے خرید سکتا ہے۔

۱۹۳۸۔ جس فقیر کے لئے ہنر سیکھنا مشکل نہ ہو احتیاط واجب کی بنا پر زکوٰۃ پرزندگی بسر نہ کرے لیکن جب تک ہنر سکیھنے میں مشغول ہو زکوٰۃ لے سکتا ہے۔

۱۹۳۹۔جو شخص پہلے فقیر رہا ہو اور وہ کہتا ہو کہ میں فقیر ہوں تو اگرچہ اس کے کہنے پر انسان کو اطمینان نہ ہو پھر بھی اسے زکوٰۃ دے سکتا ہے۔ لیکن جس شخص کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ وہ پہلے فقیر رہا ہے یا نہیں تو احتیاط کی بنا پر جب تک اس کے فقیر ہونے کا اطمینان نہ ہو پھر بھی اسے زکوٰۃ دے سکتا ہے۔

۱۹۴۰۔ جو شخص کہے کہ میں فقیر ہوں اور پہلے فقیر نہ رہا ہو اگر اس کے کہنے سے اطمینان نہ ہوتا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے زکوٰۃ نہ دی جائے۔

۱۹۴۱۔ جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو اگر کوئی فقیر اس کا مقروض ہو تو وہ زکوٰۃ دیتے ہوئے اپنا قرض اس میں سے وصول کر سکتا ہے۔

۱۹۴۱۔ اگر فقیر مر جائے اور اس کا مال اتنا نہ ہو جتنا اس نے قرضہ دینا ہو تو قرض خواہ قرضے کو زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے بلکہ متوفی کا مال اس پر واجب الادا قرضے کے برابر ہو اور اس کے ورثا اس کا قرضہ ادا نہ کریں یا کسی اور وجہ سے قرض خواہ اپنا قرضہ واپس نہ لے سکتا ہو تب بھی وہ اپنا قرضہ واپس نہ لے سکتا ہو تب بھی وہ اپنا قرضہ زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔

۱۹۴۳۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص جو چیز فقیر کو بطور زکوٰۃ دے اس کے بارے میں اسے بتائے کہ یہ زکوٰۃ ہے بلکہ اگر فقیر زکوٰۃ لینے میں خفت محسوس کرتا ہو تو مستحب ہے کہ اسے مال تو زکوٰۃ کی نیت سے دیا جائے لیکن اس کا زکوٰۃ ہونا اس پر ظاہر نہ کیا جائے۔

۱۹۴۴۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتے ہوئے کسی کو زکوٰۃ دے کہ وہ فقیر ہے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ وہ فقیر نہ تھا یا مسئلے سے ناواقف ہونے کی بنا پر کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ دے دے جس کے متعلق اسے علم ہو کہ وہ فقیر نہیں ہے تو یہ کافی نہیں ہے لہذا اس نے جو چیز اس شخص کو بطور زکوٰۃ دی تھی اگر وہ باقی ہو تو ضروری ہے کہ اس شخص سے واپس لے کر مستحق کو دے سکتا ہے اور اگر لینے والے کو یہ علم نہ تھا کہ وہ مال زکوٰۃ ہے تو اس سے کچھ نہیں لے سکتا اور انسان کو اپنے مال سے زکوٰۃ کا عوض مستحق کو دینا ضروری ہے۔

۱۹۴۵۔جو شخص مقروض ہو اور قرضہ ادا نہ کرسکتا ہو اگر اس کے پاس اپنا سال بھر کا خرچ بھی ہو تب بھی اپنا قرضہ ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ لے سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ اس نے جو مال بطور قرض لیا ہو اسے کسی گناہ کے کام میں خرچ نہ کیا ہو۔

۱۹۴۶۔ اگر انسان ایک ایسے شخص کو زکوٰۃ دے جو مقروض ہو اور اپنا قرضہ ادا نہ کرسکتا ہو اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اس شخص نے جو قرضہ لیا تھا وہ گناہ کے کام پر خرچ کیا تھا تو اگر وہ مقروض فقیر ہو تو انسان نے جو کچھ اسے دیا ہوا اسے سَہم فقراء میں شمار کر سکتا ہے۔

۱۹۴۷۔ جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرضہ ادا نہ کرسکتا ہو اگرچہ وہ فقیر نہ ہو تب بھی قرض خواہ قرضے کو جو اسے مقروض سے وصول کرنا ہے زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔

۱۹۴۸۔ جس مسافر کا زاد راہ ختم ہو جائے یا اس کی سواری قابل استعمال نہ رہے اگر اس کا سفر گناہ کی غرض سے نہ ہو اور وہ قرض لے کر یا اپنی کوئی چیز بیچ کر منزل مقصود تک نہ پہنچ سکتا ہو تو اگرچہ وہ اپنے سفر کے اخراجات حاصل کر سکتا ہو تو وہ فقط اتنی مقدار میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔

۱۹۴۹۔جو مسافر سفر میں ناچار ہوجائے اور زکوٰۃ لے اگر اس کے وطن پہنچ جانے کے بعد زکوٰۃ میں سے کچھ بچ جائے اسے زکوٰۃ دینے والے کو واپس نہ پہنچا سکتا ہو تو ضروری ہے کہ وہ زائد مال حاکم شرع کو پہنچا دے اور اسے بتا دے کہ یہ مال زکوٰۃ ہے۔

مُستحِقّینِ زکوٰۃ کی شرائط


۱۹۵۰۔(مال کا) مالک جس شخص کو اپنی زکوٰۃ دینا چاہتا ہو ضروری ہے کہ وہ شیعہ اثنا عشری ہو۔ اگر انسان کسی کو شیعہ سمجھتے ہوئے زکوٰۃ دے دے اور بعد میں پتہ چلے کہ وہ شیعہ نہ تھا تو ضروری ہے کہ دوبارہ زکوٰۃ دے۔

۱۹۵۱۔ اگر کوئی شیعہ بچہ یا دیوانہ فقیر ہو تو انسان اس کے سرپرست کو اس نیت سے زکوٰۃ دے سکتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ بچے یا دیوانے کی ملکیت ہوگی۔

۱۹۵۲۔ اگر انسان بچے یا دیوانے کے سرپرست تک نہ پہنچ سکے تو وہ خود یا کسی امانت دار شخص کے ذریعے زکوٰۃ کا مال ان پر خرچ کرسکتا ہے اور جب زکوٰۃ ان لوگوں پر خرچ کی جارہی ہو تو ضروری ہے کہ زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ کی نیت کرے۔

۱۹۵۳۔ جو فقیر بھیک مانگتا ہو اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے لیکن جو شخص مال زکوٰۃ گناہ کے کام پر خرچ کرتا ہو ضروری ہے کہ اسے زکوٰۃ نہ دے جائے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ وہ شخص جسے زکوٰۃ دینا گناہ کی طرف مائل کرنے کا سبب ہو اگرچہ وہ اسے گناہ کے کام میں خرچ نہ بھی کرے اس زکوٰۃ نہ دی جائے۔

۱۹۵۴۔جو شخص شراب پیتا ہو یا نماز نہ پڑھتا ہو اور اسی طرح جو شخص کُھلّم کُھلاّ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہو تو احیتاط واجب یہ ہے کہ اسے زکوٰۃ نہ دی جائے۔

۱۹۵۵۔جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرضہ ادا نہ کر سکتا ہو اس کا قرضہ زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے خواہ اس شخص کے اخراجات زکوٰۃ دینے والے پر ہی واجب کیوں نہ ہوں۔

۱۹۵۶۔ انسان ان لوگوں کے اخراجات جن کی کفالت اس پر واجب ہو۔ مثلاً اولاد کے اخراجات ۔ زکوٰۃ سے ادا نہیں کرسکتا لیکن اگر وہ خود اولاد کا خرچہ نہ دے تو دوسرے لوگ انہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔

۱۹۵۷۔اگر انسان اپنے بیٹے کو زکوٰۃ اس لئے دے تاکہ وہ اسے اپنی بیوی اور نوکر اور نوکرانی پر خرچ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۹۵۸۔باپ اپنے بیٹے کو سَہم "فیِ سَبِیلِ اللہ" میں سے علمی اور دینی کتابیں جن کی بیٹے کی ضرورت ہو خرید کر نہیں دے سکتا۔ لیکن اگر رفاہ عامہ کے لئے ان کتابوں کی ضرورت ہو تو احتیاط کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت لے لے۔

۱۹۵۹۔جو باپ بیٹے کی شادی کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ بیٹے کی شادی کے لئے زکوٰۃ میں سے خرچ کر سکتا ہے اور بیٹا بھی باپ کے لئے ایسا ہی کرسکتا ہے۔

۱۹۶۰۔ کسی ایسی عورت کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی جس کا شوہر اسے خرچ دیتا ہو اور ایسی عورت جسے اس کا شوہر خرچ نہ دیتا ہو لیکن جو حاکم شرع سے رجوع کرکے شوہر کو خرچ دینے پر مجبور کر سکتی ہو اسے زکوٰۃ نہ دی جائے۔

۱۹۶۱۔ جس عورت نے مُتعَہ کیا ہو اگر وہ فقیر ہو تو اس کا شوہر اور دوسرے ہیں۔ ہاں اگر عَقد کے کہ موقع پر شوہر نے یہ شرط قبول کی ہو کہ س کا خرچ دے گا یا کسی اور وجہ سے اس کا خرچ دینا شوہر پر واجب ہو اور وہ اس عورت کے اخراجات دیتا ہو تو اس عورت کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔

۱۹۶۲۔ عورت اپنے فقیر شوہر کو زکوٰۃ دے سکتی ہے خواہ شوہر وہ زکوٰۃ اس عورت پر ہی کیوں نہ خرچ کرے۔

۱۹۶۳۔سید غیر سید سے زکوٰۃ نہیں لے سکتا لیکن اگر خمس اور دوسرے ذرائع آمدنی اس کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہوں اور غیر سید سے زکوٰۃ لینے پر مجبور ہو تو اس سے زکوٰۃ لے سکتا ہے۔

۱۹۲۴۔ جس شخص کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ سید ہے یا غیر سید، اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔

زکوٰۃ کی نیت


۱۹۶۵۔ ضروری ہے کہ انسان بہ قصد قربت یعنی اللہ تبارک و تعالی کی خوشنودی کی نیت سے زکوٰۃ دے اور اپنی نیت میں معین کرے کہ جو کچھ دے رہا ہے وہ مال کی زکوٰۃ ہے یا زکوٰۃ فطرہ ہے بلکہ مثال کے طور پر اگر گیہوں اور جَو کی زکوٰۃ اس پر واجب ہو اور وہ کچھ رقم زکوٰۃ کے طور پر دینا چاہے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ معیں کرے کہ گیہوں کی زکوٰۃ دے رہا ہے یا جَو کی۔

۱۹۶۶۔اگر کسی شخص پر متعد چیزوں کی زکوٰۃ واجب ہو اور وہ زکوٰۃ میں کوئی چیز دے لیکن کسی بھی چیز کی "نیت نہ کرے" تو جو چیز اس نے زکوٰۃ میں دی ہے اگر اس کی جنس وہی ہو جو ان چیزوں میں سے کسی ایک کی ہے تو وہ اسی جنس کی زکوٰۃ شمار ہوگی۔ فرض کریں کہ کسی شخص پر چالیس بھیڑوں اور پندرہ مثقال سونے کی زکوۃ واجب ہے اگر وہ مثلاً ایک بھیڑ زکوٰۃ میں دے اور ان چیزوں میں سے (کہ جن پر زکوٰۃ واجب ہے) کسی کی بھی "نیت" نہ کرے تو وہ بھیڑوں کی زکوٰۃ شمار ہوگی۔ لیکن اگر وہ چاندی کے سکے یا کرنسی نوٹ دے جو ان (چیزوں) کے ہم جنس نہیں ہے تو بعض (علماء) کے بقول وہ (سکے یا نوٹ) ان تمام (چیزوں) پر حساب سے بانٹ دیئے جائیں لیکن یہ بات اشکال سے خالی نہیں ہے بلکہ احتمال یہ ہے کہ وہ ان چیزوں میں سے کسی کی بھی (زکوٰۃ ) شمار نہ ہونگے اور (نیت نہ کرنے تک) مالک مال کی ملکیت رہیں گے۔

۱۹۶۷۔ اگر کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ (مستحق تک) پہنچانے کے لئے کسی کو وکیل بنائے تو جب وہ مال زکوٰۃ وکیل کے حوالے کرے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ نیت کرے کہ جو کچھ اس کا وکیل بعد میں فقیر کو دے گا وہ زکوٰۃ ہے اور اَحوطَ یہ ہے کہ زکوٰۃ فقیر تک پہنچے کے وقت تک پہنچنے کےوقت تک وہ اس نیت پر قائم رہے۔

۱۹۶۸۔ اگر کوئی شخص مال زکوٰۃ قصد قربت کے بغیر زکوٰۃ کی نیت سے حاکم شرع یا فقیر کو دے دے تو اقوی کی بنا پر وہ مال زکوٰۃ میں شمار ہوگا اگرچہ اس نے قصد قربت کے بغیر ادا کرکے گناہ کیا ہے۔

زکوٰۃ کے مُتَفَرِّق مَسائِل


۱۹۶۹۔ احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ انسان گیہوں اور جَو کو بھوسے سے الگ کرنے کے موقع پر اور کھجور اور انگور کے خشک ہونے کے وقت زکوٰۃ فقیر کو دے دے یا اپنے مال سے علیحدہ کر دے۔ اور ضروری ہے کہ سونے، چاندی، گائے، بھیڑ اور اونٹ کی زکوٰۃ گیارہ مہینے ختم ہونے کے بعد فقیر کو دے یا اپنے مال سے علیحدہ کر دے لیکن اگر وہ شخص کسی خاص فقیر کا منتظر ہو یا کسی ایسے فقیر کو زکوٰۃ دینا چاہتا ہو جو کسی لحاظ سے (دوسرے پر) برتری رکھتا ہو تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ زکوٰۃ علیحدہ نہ کرے۔

۱۹۷۰۔ زکوٰۃ علیحدہ کرنے کے بعد ایک شخص کے لئے لازم نہیں کہ اسے فوراً مستحق شخص کو دے دے۔ لیکن اگر کسی ایسے شخص تک اس کی رسائی ہو، جسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے میں تاخیر نہ کرے۔

۱۹۷۱۔ جو شخص زکوٰۃ مستحق شخص کو پہنچا سکتا ہو اگر وہ اسے زکوٰۃ نہ پہنچائے اور اس کے کوتاہی برتنے کی وجہ سے مال زکوٰۃ تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

۱۹۷۲۔ جو شخص زکوٰۃ مستحق تک پہنچا سکتا ہو اگر وہ اسے زکوٰۃ پہنچائے اور مال زکوٰۃ حفاظت کرنے کے باوجود تلف ہوجائے تو زکوٰۃ ادا کرنے میں تاخیر کی کوئی صحیح وجہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا عِوض دے لیکن اگر تاخیر کرنے کی کوئی صحیح وجہ تھی مثلاً ایک خاص فقیر اس کی نظر میں تھا یا تھوڑا تھوڑا کر کے فقراء کو دینا چاہتا تھا تو اس کا ضامن ہونا معلوم نہیں ہے۔

۱۹۷۳۔ اگر کوئی شخص زکوٰۃ (عین اسی ) مال سے ادا کر دے تو وہ باقیماندہ مال میں تصرف کر سکتا ہے اور اگر وہ زکوٰۃ اپنے کسی دوسرے مال سے ادا کر دے تو اس پورے مال میں تصرف کرسکتا ہے۔

۱۹۷۴۔ انسان نے جو مال زکوٰۃ علیحدہ کیا ہو اسے اپنے لئے اٹھا کر اس کی جگہ کوئی دوسری چیز نہیں رکھ سکتا۔

۱۹۷۵۔ اگر اس مال زکوٰۃ سے جو کسی شخص نے علیحدہ کر دیا ہو کوئی منفعت حاصل ہو مثلاً جو بھیڑ بطور زکوٰۃ علیحدہ کی ہو وہ بچہ جنے تو وہ منفعت فقیر کا مال ہے۔

۱۹۷۶۔ جب کوئی شخص مال زکوٰۃ علیحدہ کر رہا ہو اگر اس وقت کوئی مستحق موجود ہو تو بہتر ہے کہ زکوٰۃ اسے دے دے بجز اس صورت کے کہ کوئی ایسا شخص اس کی نظر میں ہو جسے زکوٰۃ دینا کسی وجہ سے بہتر ہو۔

۱۹۷۷۔ اگر کوئی شخص حاکم شرع کی اجازت کے بغیر اس مال سے کاروبار کرے جو اس نے زکوٰۃ کے لئے علیحدہ کر دیا ہو اور اس میں خسارہ ہو جائے تو اس زکوٰۃ میں کوئی کمی نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر منافع ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ مستحق کو دے دے۔

۱۹۷۸۔ اگر کوئی شخص اس سے پہلے کہ زکوٰۃ اس پر واجب ہو کوئی چیز بطور زکوٰۃ فقیر کو دے دے تو وہ زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوگی اور اگر اس پر زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد وہ چیز جو اس نے فقیر کو دی تھی تلف نہ ہوئی ہو اور فقیر ابھی تک فقیری میں مبتلا ہو تو زکوٰۃ دینے والا اس چیز کو جو اس نے فقیر کو دی تھی زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔

۱۹۷۹۔ اگر فقیر یہ جانتے ہوئے کہ زکوٰۃ ایک شخص پر واجب نہیں ہوئی اس سے کوئی چیز بطور زکوٰۃ کے لے لے اور وہ چیز فقیر کی تحویل میں تلف ہو جائے تو فقیر اس کا ذمہ دار ہے اور جب زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہو جائے اور فقیر اس وقت تک تنگدست ہو تو جو چیز اس شخص نے فقیر کو دی تھی اس کا عوض زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔

۱۹۸۰۔ اگر کوئی فقیر یہ نہ جانتے ہوئے کہ زکوٰۃ ایک شخص پر واجب ہوئی اس سے کوئی چیز بطور زکوٰۃ لے لے اور وہ چیز فقیر کی تحویل میں تلف ہوجائے تو فقیر ذمے دار نہیں اور دینے والا شخص اس چیز کا عوض زکوۃ میں شمار نہیں کر سکتا ۔

۱۹۸۱۔ مستحب ہے کہ گائے، بھیڑ اور اونٹ کی زکوۃ آبرومند فقرا (سفید پوش غریب غربا) کو دی جائے اور زکوٰۃ دینے میں اپنے رشتہ داروں کو دوسروں پر اور اہل علم کو بے علم لوگوں پر اور جو لوگ ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں ان کو منگتوں پر ترجیح دی جائے۔ ہاں اگر فقیر کو کسی اور وجہ سے زکوٰۃ دینا بہتر ہو تو پھر مستحب ہے کہ زکوٰۃ اس کو دی جائے۔

۱۹۸۲۔ بہتر ہے کہ زکوٰۃ علانیہ دی جائے اور مستحب صدقہ پوشیدہ طور پر دیا جائے۔

۱۹۸۳۔جو شخص زکوۃ دینا چاہتا ہو اگر اس کے شہر میں کوئی مستحق نہ ہو اور وہ زکوٰۃ اس کے لئے مُعَیّن مَد میں بھی صرف نہ کرسکتا ہو تو اگر اسے امید نہ ہو کہ بعد میں کوئی مستحق شخص اپنے شہر میں مل جائے گا تو ضروری ہے کہ زکوٰۃ دوسرے شہر لے جائے اور زکوٰۃ کی مُعیّن مد میں صرف کرے اور اس شہر میں لے جانے کے اخراجات حاکم شرع کی اجازت سے مال زکوٰۃ میں سے لے سکتا ہے اور اگر مال زکوٰۃ تلف ہو جائے تو وہ ذمے دار نہیں ہے۔

۱۹۸۴۔ اگر زکوٰۃ دینے والے کو اپنے شہر میں کوئی مستحق مل جائے تب بھی وہ مال زکوٰۃ دوسرے شہر لے جاسکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ اس شہر میں لے جانے کے اخراجات خود برداشت کرے اور اگر مال زکوٰۃ تلف ہو جائے تو وہ خود ذمے دار ہے بجز اس صورت کے کہ مال زکوٰۃ دوسرے شہر میں حاکم شرع کے حکم سے لے گیا ہو۔

۱۹۸۵۔ جو شخص گیہوں، جَو، کشمش اور کھجور بطور زکوٰۃ دے رہا ہو، ان اجناس کے ناپ تول کی اجرت اس کی اپنی ذمے داری ہے۔

۱۹۸۶۔ جس شخص کو زکوٰۃ میں ۲ مثقال اور ۱۵ نخود یا اس سے زیادہ چاندی دینی ہو وہ احتیاط مستحب کی بنا پر ۲ مثقال اور ۱۵ نخود کم چاندی کسی فقیر کو نہ دے نیز اگر چاندی کے علاوہ کوئی دوسری چیز مثلا گیہوں اور جو دینے ہوں اور ان کی قیمت ۲ مثقال اور ۱۵ نخود چاندی تک پہنچ جائے تو احتیاط مستحب کی بنا پر وہ ایک فقیر کو اس سے کم نہ دے۔

۱۹۸۷۔ انسان کے لئے مکروہ ہے کہ مستحق سے درخواست کرے کہ جو زکوٰۃ اس نے اس سے لی ہے اسی کے ہاتھ فروخت کردے لیکن اگر مستحق نے جو چیز بطور زکوٰۃ لی ہے اسے بیچنا چاہے تو جب اس کی قیمت طے ہو جائے تو جس شخص نے مستحق کو زکوٰۃ دی ہو اس چیز کو خریدنے کے لئے اس کا حق دوسروں پر فائق ہے۔

۱۹۸۸۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ جو زکوٰۃ اس پر واجب ہوئی تھی وہ اس نے دی ہے یا نہیں اور جس مال میں زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ بھی موجود ہو تو ضروری ہے کہ زکوٰۃ دے خواہ اس کا شک گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔ اور (جس مال میں زکوٰۃ واجب ہوئی تھی) اگر وہ ضائع ہو چکا ہو تو اگرچہ اسی سال کی زکوٰۃ کے متعلق ہی شک کیوں نہ ہو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

۱۹۸۹۔فقیر یہ نہیں کر سکتا کہ زکوٰۃ لینے سے پہلے اس کی مقدار سے کم مقدار پر سمجھوتہ کر لے یا کسی چیز کو اس کی قیمت سے زیادہ قمیت پر بطور زکوٰۃ قبل کرے اور اسی طرح مالک بھی یہ نہیں کر سکتا کہ مستحق کو اس شرط پر زکوٰۃ دے کہ وہ مستحق اسے واپس کر دے گا لیکن اگر مستحق زکوٰۃ لینے کے بعد راضی ہو جائے اور اس زکوٰۃ کو اسے واپس کر دے تو کوئی حرج نہیں مثلاً کسی شخص پر بہت زیادہ زکوٰۃ واجب ہو اور فقیر ہو جانے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ ادا نہ کرسکتا ہو اور اس نے توبہ کرلی ہو تو اگر فقیر راضی ہوجائے کہ اس سے زکوٰۃ لے کر پھر اسے بخش دے تو کوئی حرج نہیں ۔

۱۹۹۰۔انسان قرآن مجید، دینی کتابیں یا دعا کی کتابیں سَہم فیِ سَبِیلِ اللہ سے خرید کر وقف نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر رفاہ عامہ کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت لے لے۔

۱۹۹۱۔ انسان مال زکوٰۃ سے جائداد خرید کر اپنی اولاد یا ان لوگوں کو وقف نہیں کر سکتا جن کا خرچ اس پر واجب ہو تاکہ وہ اس جائداد کی منفعت اپنے مصرف میں لے آئیں۔

۱۹۹۲۔ حج اور زیارات وغیرہ پر جانے کے لئے انسان فِی سَبِیلِ اللہ کے حصے سے زکوٰۃ لے سکتاہے اگرچہ وہ فقیر نہ ہو یا اپنے سال بھر کے اخراجات کے لئے زکوٰۃ لے چکا ہو لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کا حج اور زیارات وغیرہ کے لئے جانا لوگوں کے مفاد میں ہو اور احیتاط کی بنا پر ایسے کاموں میں زکوٰۃ خرچ کرنے کے لئے حاکم شرع سے اجازت لے لے۔

۱۹۹۳۔اگر ایک مالک اپنے مال کی زکوٰۃ دینے کے لئے کسی فقیر کو وکیل بنائے اور فقیر کو یہ احتمال ہو کہ مالک کا ارادہ یہ تھا کہ وہ خود (یعنی فقیر) اس مال سے کچھ نہ لے تو اس صورت میں وہ کوئی چیز اس میں سے اپنے لئے نہیں لے سکتا اور اگر فقیر کو یہ یقین ہو کہ مالک کا ارادہ یہ نہیں تھا تو وہ اپنے لئے بھی لے سکتا ہے۔

۱۹۹۴۔ اگر کوئی فقیر اونٹ، گائیں، بھیڑیں، سونا اور چاندی بطور زکوٰۃ حاصل کرے اور ان میں وہ سب شرائط موجود ہوں جو زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے بیان کی گئی ہیں ضروری ہے کہ فقیران پر زکوٰۃ دے۔

۱۹۹۵۔ اگر دو اشخاص ایک ایسے مال میں حصہ دار ہوں جس کی زکوٰۃ واجب ہوچکی ہو اور ان میں سے ایک اپنے حصے کی زکوٰۃ دے دے اور بعد میں وہ مال تقسیم کرلیں (اور جو شخص زکوٰۃ دے چکا ہے) اگرچہ اسے علم ہو کہ اس کے ساتھی نے اپنےحصے کی زکوٰۃ نہیں دی اور نہ ہی بعد میں دے گا تو اس کا اپنے حصے میں تصرف کرنا اشکال نہیں رکھتا۔

۱۹۹۶۔ اگر خمس اور زکوٰۃ کسی شخص کے ذمے واجب ہو اور کفار اور منت وغیرہ بھی اس پر واجب ہو اور وہ مقروض بھی ہو اور ان سب کی ادائیگی نہ کرسکتا ہو تو اگر وہ مال جس پر خمس یا زکوٰۃ واجب ہوچکی ہو تلف نہ ہوگیا ہو تو ضروری ہے کہ خمس اور زکوٰۃ دے اور اگر وہ مال تلف ہوگیا ہو تو کفارے اور نذر سے پہلے زکوٰۃ، خمس اور قرض ادا کرے۔

۱۹۹۷۔جس شخص کے ذمے خمس یا زکوٰۃ ہو اور حج بھی اس پر واجب ہو اور وہ مقروض بھی ہو اگر وہ مرجائے اور اس کا مال ان تمام چیزوں کے لئے کافی نہ ہو اور اگر وہ مال جس پر خمس اور زکوٰۃ واجب ہوچکے ہوں تلف نہ ہوگیا ہو تو ضروری ہے کہ خمس یا زکوٰۃ ادا کی جائے اور اس کا باقی ماندہ مال قرض کی ادائیگی پر خرچ کیا جائے۔ اور اگر وہ مال جس پر خمس اور زکوٰۃ واجب ہوچکی ہو تلف ہوگیا ہو تو ضروری ہے کہ اس کا مال قرض کی ادائیگی پر خرچ کیا جائے اور اس صورت میں اگر کچھ بچ جائے تو حج کیا جائے اور اگر زیادہ بچا ہو تو سے خمس اور زکوٰۃ پر تقسیم کر دیا جائے۔

۱۹۹۸۔ جو شخص علم حاصل کرنے میں مشغول ہو وہ جس وقت علم حاصل نہ کرے اس وقت اپنی روزی کمانے کے لئے کام کرسکتا ہے۔ اگر اس علم حاصل کرنا واجب عینی ہو تو فقراء کے حصے سے اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور اگر اس علم کا حاصل کرنا عوامی بہبود کے لئے ہو تو فِی سَبِیلِ اللہ کی مَد سے احتیاط کی بنا پر حاکم شرع کی اجازت سے اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ اور ان دو صورتوں کے علاوہ اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔

زکوٰۃِ فِطرہ


۱۹۹۹۔ عید الفطر کی (چاند) رات غروب آفتاب کے وقت جو شخص بالغ اور عاقل ہو اور نہ تو فقیر ہو نہ ہی کسی دوسرے کا غلام ہو ضروری ہے کہ اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے ہاں کھانا کھاتے ہوں فی کس ایک صاع جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تقریباً تین کلو ہوتا ہے ان غذاوں میں سے جو اس کے شہر (یا علاقے) میں استعمال ہوتی ہوں مثلاً گیہوں یا جَو یا کھجور یا کشمش یا چاول یا جوار مستحق شخص کو دے اور اگر ان کے بجائے ان کی قیمت نقدی کی شکل میں دے تب بھی کافی ہے۔ اور احتیاط لازم یہ ہے کہ جو غذا اس کے شہر میں عام طور پر استعمال نہ ہوتی ہو چاہے وہ گیہوں، جَو، کھجور یا کشمش ہو، نہ دے۔

۲۰۰۰۔ جس شخص کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کا خرچ نہ ہو اور اس کا کوئی روزگار بھی نہ ہو جس کے ذریعے وہ اپنے اہل و عیال کا سال بھر کا خرچ پورا کرسکے وہ فقیر ہے اور اس پر فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

۲۰۰۱۔ جو لوگ عید الفطر کی رات غروب کے وقت کسی شخص کے ہاں کھانے والے سمجھے جائیں ضروری ہے کہ وہ شخص ان کا فطرہ دے، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے مسلمان ہوں یا کافر، ان کا خرچہ اس پر واجب ہو یا نہ ہو اور وہ اس کے شہر میں ہوں یا کسی دوسرے شہر میں ہوں۔

۲۰۰۲۔ اگر کوئی شخص ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہاں کھانا کھانے والا گردانا جائے، اسے دوسرے شہر میں نمائندہ مقرر کرے کہ اس کے (یعنی صاحب خانہ کے) مال سے اپنا فطرہ دے دے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ شخص فطرہ دے دے گا تو خود صاحب خانہ کے لئے اس کا فطرہ دینا ضروری نہیں۔

۲۰۰۳۔ جو مہمان عیدالفطر کی رات غروب سے پہلے صاحب خانہ کی رضامندی کے بغیر اس کے گھر آئے اور اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں اگرچہ وقتی طور پر شمار ہو اس کا فطرہ صاحب خانہ پر واجب ہے۔

۲۰۰۴۔ جو مہمان عیدالفطر کی رات غروب پہلے صاحب خانہ کی رضامندی کے بغیر اس کے گھر آئے اور کچھ مدت صاحب کا خرچہ دینے پر مجبور کیا گیا ہو تو اس کے فطرے کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۲۰۰۵۔ جو مہمان عیدالفطر کی رات غروب کے بعد وارد ہو اگر وہ صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والا شمار ہو تو اس کا فطرہ صاحب خانہ پر احتیاط کی بنا پر واجب ہے اور اگر کھانا کھانے والا شمار نہ ہو تو واجب نہیں ہے خواہ صاحب خانہ نے اسے غروب سے پہلے دعوت دی ہو اور وہ افطار بھی صاحب خانہ کے گھر پر ہی کرے۔

۲۰۰۶۔ اگر کوئی شخص عیدالفطر کی رات غروب کے وقت دیوانہ ہو اور اس کی دیوانگی عیدالفطر کے دن ظہر کے وقت تک باقی رہے تو اس پر فطرہ واجب نہیں ہے ورنہ احتیاط واجب کی بنا پر لازم ہے کہ فطرہ دے۔

۲۰۰۷۔ غروب آفتاب سے پہلے اگر کوئی بچہ بالغ ہو جائے یا کوئی دیوانہ عاقل ہوجائے یا کوئی فقیر غنی ہوجائےتو اگر وہ فطرہ واجب ہونے کی شرائط پوری کرتا ہو تو ضروری ہے کہ فطرہ دے۔

۲۰۰۸۔ جس شخص پر عیدالفطر کی رات غروب کے وقت فطرہ واجب نہ ہو اگر عید کے دن ظہر کے وقت سے پہلے تک فطرہ واجب ہونے کی شرائط اس میں موجود ہو جائیں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ فطرہ دے۔

۲۰۰۹۔ اگر کوئی کافر عیدالفطر کی رات غروب آفتاب کے بعد مسلمان ہو جائے تو اس پر فطرہ واجب نہیں ہے لیکن اگر ایک ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہو وہ عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ فطرہ دے۔

۲۰۱۰۔جس شخص کے پاس صرف اندازاً ایک صاع گیہوں یا اسی جیسی کوئی جنس ہو اس کے لئے مستحب ہے کہ فطرہ دے اور اگر اس کے اہل و عیال بھی ہوں اور وہ ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے کہ فطرے کی نیت سے ایک صاع گیہوں وغیرہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی ایک و دے دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے کو دے دے اور وہ اسی طرح دیتے رہیں حتی کہ وہ جنس خاندان کے آخری فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ جو چیز آخری فرد کو ملے وہ کسی ایسے شخص کو دے جو خود ان لوگوں میں سے نہ ہو جنہوں نے فطرہ ایک دوسرے کو دیا ہے اور اگر ان لوگوں میں سے کوئی نابالغ ہو تو اس کا سرپرست اس کی بجائے فطرہ لے سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے کہ جو چیز نابالغ کے لئے لی جائے وہ کسی دوسرے کونہ دی جائے۔

۲۰۱۱۔ اگر عید الفطر کی رات غروب کے بعد کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جو اشخاص غروب کے بعد سے عید کے دن ظہر سے پہلے تک صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والوں میں سمجھے جائیں وہ ان سب کا فطرہ دے۔

۲۰۱۲۔ اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کھانا کھاتا ہو اور غروب سے پہلے کسی دوسرے کے ہان کھانا کھانے والا ہوجائے تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب ہے جس کے ہاں وہ کھانا کھانے والا بن جائے مثلاً اگر عورت غروب سے پہلے شوہر کے گھر چلی جائے تو ضروری ہے کہ شوہر اس کا فطرہ دے۔

۲۰۱۳۔ جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو اس پر اپنا فطرہ خود دینا واجب نہیں ہے۔

۲۰۱۴۔جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو اگر وہ نہ دے تو احتیاط کی بنا پر فطہ خود اس شخص پر فطرہ واجب ہوجاتا ہے۔ جو شرائط مسئلہ ۱۹۹۹ میں بیان ہوئی ہیں اگر وہ موجود ہوں تو اپنا فطرہ خود ادا کرے ۔

۲۰۱۵۔ جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو اگر وہ خود اپنا فطرہ دے دے تو جس شخص پر اس کا فطرہ واجب ہو اس پر سے اس کی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہوتا۔

۲۰۱۶۔ جس عورت کا شوہر اس کو خرچ نہ دیتا ہو اگر وہ کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھاتی ہو تو اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جس کے ہاں وہ کھانا کھاتی ہے اور اگر وہ کسی کے ہاں کھانا نہ کھاتی ہو اور فقیر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ اپنا فطرہ خود دے۔

۲۰۱۷۔ غیر سَیِّد، سَیِّد کو فطرہ نہیں دے سکتا حتی کہ اگر سید اس کے ہاں کھانا کھاتا ہو تب بھی اس کا فطرہ وہ کسی دوسرے سید کو نہیں دے سکتا۔

۲۰۱۸۔ جو بچہ ماں یا دایہ کا دودھ پیتا ہو اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتا ہو لیکن اگر ماں یا دایہ کا خرچ خود بچے کے مال سے پورا ہو تو بچے کا فطرہ کسی پر واجب نہیں ہے۔

۲۰۱۹۔انسان اگرچہ اپنے اہل و عیال کا خرچ حرام مال سے دیتا ہو، ضروری ہے کہ ان کا فطرہ حلال مال سے دے۔

۲۰۲۰۔ اگر انسان کسی شخص کو اجرت پر رکھے جیسے مستری، بڑھئی یا خدمت گار اور اس کا خرچ اس طرح دے کہ وہ اس کا کھانا کھانے والوں میں شمار ہو تو ضروری ہے کہ اس کا فطرہ بھی دے۔ لیکن اگر اسے صرف کام کی مزدوری دے تو اس (اجیر) کا فطرہ ادا کرنا اس پر واجب نہیں ہے۔

۲۰۲۱۔ اگر کوئی شخص عیدالفطر کی رات غروب سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ اس کے مال سے دینا واجب نہیں۔ لیکن اگر غروب کے بعد فوت ہو تو مشہور قول کی بنا پر ضروری ہے کہ اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ اس کے مال سےدیا جائے۔ لیکن یہ حکم اشکال سے خالی نہیں ہے۔ اور اس مسئلے میں احتیاط کے پہلو کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔

زکوٰۃ فِطرہ کا مصرف


۲۰۲۲۔ فطرہ احیتاط واجب کی بنا پر فقط ان شیعہ اثنا عشری فقراء کو دینا ضروری ہے، جو ان شرائط پر پورے اترتے ہوں جن کا ذکر زکوٰۃ کے مستحقین میں ہوچکا ہے۔ اور اگر شہر میں شیعہ اثنا عشری فقراء نہ ملیں تو دوسرے مسلمان فقراء کو فطرہ دے سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ کسی بھی صورت میں "ناصبی" کو نہ دیاجائے۔

۲۰۲۳۔ اگر کوئی شیعہ بچہ فقیر ہو تو انسان یہ کر سکتا ہے کہ فطرہ اس پر خرچ کرے یا اس کے سرپرست کو دے کر اسے بچے کی ملکیت قرار دے۔

۲۰۲۴۔ جس فقیر کو فطرہ دیا جائے ضروری نہیں کہ وہ عادل ہو لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ شرابی اور بے نمازی کو اور اس شخص کو جو کھلم کھلا گناہ کرتا ہو فطرہ نہ دیا جائے۔

۲۰۲۵۔ جو شخس فطرہ ناجائز کاموں میں خرچ کرتا ہو ضروری ہےکہ اسے فطرہ نہ دیا جائے

۲۰۲۶۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک صاع سے کم فطرہ نہ دیا جائے۔ البتہ اگر ایک صاع سے زیادہ دیا جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۰۲۷۔ جب کسی جنس کی قیمت اسی جنس کی معمولی قسم سے دگنی ہو مثلاً کسی گیہوں کی قیمت معمولی قسم کی گیہوں کی قیمت سے دو چند ہو تو اگر کوئی شخص اس (بڑھیا جنس) کا آدھا صاع بطور فطرہ دے تو یہ کافی نہیں ہے بلکہ اگر وہ آدھا صاع فطرہ کی قیمت کی نیت سےبھی دے تو بھی کافی نہیں ہے۔

۲۰۲۹۔ انسان کے لئے مستحب ہے کہ زکوٰۃ دینے میں اپنے فقیر رشتے داروں اور ہمسایوں کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اہل علم و فضل اور دیندار لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دے۔

۲۰۳۰۔اگر انسان یہ خیال کرتے ہوئے کہ ایک شخص فقیر ہے اسے فطرہ دے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ فقیر نہ تھا تو اگر اس نے جو مال فقیر کو دیا تھا وہ ختم نہ ہوگیا ہو تو ضروری ہے کہ واپس لے لے اور مستحق کو دے دے اور اگر واپس نہ لے سکتا ہو تو ضروری ہے کہ خود اپنےمال سے فطرے کا عوض دے اور اگر وہ مال ختم ہوگیا ہو لیکن لینے والے کو علم ہو کہ جو کچھ اس نے لیا ہے وہ فطرہ ہے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے اور اگر اسے یہ علم نہ ہو تو عوض دینا اس پر واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ انسان فطرے کا عوض دے۔

۲۰۳۱۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں فقیر ہوں تو اسے فطرے نہیں دیا جاسکتا بجز اس صورت کے کہ انسان کو اس کے کہنے سے اطمینان ہو جائے یا انسان کو علم ہو کہ وہ پہلے فقیر تھا۔

زکوٰۃ فطرہ کے متفرق مسائل


۲۰۳۲۔ ضروری ہے کہ انسان فطرہ قربت کے قصد سے یعنی اللہ تبارک و تعالی کی خوشنودی کے لئے دے اور اسے دیتے وقت فطرے کی نیت کرے۔

۲۰۳۳۔ اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک سے پہلے فطرہ دے دے تو یہ صحیح نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں بھی فطرہ نہ دے البتہ اگر ماہ رمضان المبارک سے پہلے کسی فقیر کو قرضہ دے اور جب فطرہ اس پر واجب ہوجائے، قرضے کو فطرے میں شمار کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۰۳۴۔ گیہوں یا کوئی دوسری چیز جو فطرہ کے طور پر دی جائے ضروری ہے کہ اس میں کوئی اور جنس یا مٹی نہ ملی ہوئی ہو۔ اور اگر اس میں کوئی ایسی چیز ملی ہوئی ہو اور خالص مال ایک صاع تک پہنچ جائے اور ملی ہوئی چیز جدا کئے بغیر استعمال کے قابل ہو یا جدا کرنے میں حد سے زیادہ زحمت نہ ہو یا جو چیز ملی ہوئی ہو وہ اتنی کم ہو کہ قابل توجہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۰۳۵۔ اگر کوئی شخص عیب دار چیز فطرے کے طور پر دے تو احتیاط واجب کی بنا پر کافی نہیں ہے۔

۲۰۳۶۔ جس شخص کو کئی اشخاص کا فطرہ دینا ہو اس کے لئے ضروری نہیں کہ سارا فطرہ ایک ہی جنس سے دے مثلاً اگر بعض افراد کا فطرہ گیہوں سے اور بعض دوسروں کا جَو سے دے تو کافی ہے۔

۲۰۳۷۔ عید کی نماز پڑھنے والے شخص کو احتیاط واجب کی بنا پر عید کی نماز سے پہلے فطرہ دینا ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص نماز عید نہ پڑھے تو فطرے کی ادائیگی میں ظہر کے وقت تک تاخیر کر سکتا ہے۔

۲۰۳۸۔ اگر کوئی شخص فطرے کی نیت سے اپنے مال کی کچھ مقدار علیحدہ کر دے اور عید کے دن ظہر کے وقت تک مستحق کو نہ دے تو جب بھی وہ مال مستحق کو دے، فطرے کی نیت کرے۔

۲۰۳۹۔ اگر کوئی شخص فطرے واجب ہونے کے وقت فطرہ نہ دے اور الگ بھی نہ کرے تو اس کے بعد ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر فطرہ دے۔

۲۰۴۰۔ اگرکوئی شخص فطرہ الگ کر دے تو وہ اسے اپنے مصرف میں لاکر دوسرا مال اس کی جگہ بطور فطرہ نہیں رکھ سکتا۔

۲۰۴۱۔ اگر کسی شخس کے پاس ایسا مال ہو جس کی قیمت فطرہ سے زیادہ ہو تو اگر وہ شخص فطرہ نہ دے اور نیت کرے کہ اس مال کی کچھ مقدار فطرے کے لئے ہوگی تو ایسا کرنے میں اشکال ہے۔

۲۰۴۲۔ کسی شخص نے جو مال فطرے کے لئے کیا ہو اگر وہ تلف ہوجائے تو اگر وہ شخص فقیر تک پہنچ سکتا تھا اور اس نے فطرہ دینے میں تاخیر کی ہو یا اس کی حفاظت کرنے میں کوتا ہی کی ہو تو ضروری ہے کہ اس کا عِوَض دے اور اگر فقیر تک نہیں پہنچ سکتا تھا اور اس کی حفاظت میں کاتاہی نہ کی ہو تو پھر ذمہ دار نہیں ہے۔

۲۰۴۳۔ اگر فطرے دینے والے کے اپنے علاقے میں مستحق مل جائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ فطرہ دوسری جگہ نہ لے جائے اور اگر دوسری جگہ لے جائے اور وہ تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

حج کے اَحکام ← → خمس کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français