مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

نکاح کے احکام ← → حج کے اَحکام

مُعَامَلات

خرید و فروخت کے احکام


۲۰۵۹۔ ایک بیوپاری کے لئے مناسب ہے کہ خرید و فروخت کے سلسلے میں جن مسائل کا (عموماً) سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے احکام سیکھ لے بلکہ اگر مسائل نہ سیکھنے کی وجہ سے کسی واجب حکم کی مخالفت کرنے کا اندیشہ ہو تو مسائل لازم ولابد ہے۔ حضرت امام جعفر صادق عَلَیہِ الصّلوٰۃُ وَالسّلام سے روایت ہے کہ "جو پہلے خرید و فروخت کرے گا باطِل یا مُشتَبَہ معاملہ کرنے کی وجہ سے ہلاکت میں پڑے گا۔"

۲۰۶۰۔ اگر کوئی مسئلے سے ناواقفیت کی بنا پر یہ نہ جانتا ہو کہ اس نے جو معاملہ کیا ہے وہ صحیح ہے یا باطل تو جو مال اس نے حاصل کیا ہو اسے استعمال نہیں کر سکتا مگر یہ کہ اسے علم ہوجائے کہ دوسرا فریق اس مال کو استعمال کرنے پر راضی ہے تو اس صورت میں وہ استعمال کر سکتا ہے اگرچہ معاملہ باطل ہو۔

۲۰۶۱۔ جس شخص کے پاس مال نہ ہو اور کچھ اخراجات اس پر واجب ہوں، مثلاً بیوی بچوں کا خرچ، تو ضروری ہے کہ کاروبار کرے۔ اور مستحب کاموں کے لئے مثلاً اہل و عیال کی خوشحالی اور فقیروں کی مدد کرنے کے لئے کاروبار کرنا مستحب ہے۔

خرید و فروخت کے مسُتحبّات


خرید و فروخت میں چند چیزیں مستحب شمار کی گئی ہیں :

(اول) فقر اور اس جیسی کیفیت کے سوا جنس کی قیمت میں خریداروں کے درمیان فرق نہ کرے۔

(دوم) اگر وہ نقصان میں نہ ہو تو چیزیں زیادہ مہنگی نہ بیچے۔

(سوم) جو چیز بیچ رہا ہو وہ کچھ زیادہ دے اور جو چیز خرید رہا ہو وہ کچھ کم لے۔

(چہارم) اگر کوئی شخص سودا کرنے کے بعد پشیمان ہو کر اس چیز کو واپس کرنا چاہے تو واپس لے لے۔

مکروہ معاملات


۲۰۶۲۔خاص خاص معاملات جنہیں مکروہ شمار کیا گیا ہے، یہ ہیں:

۱۔ جائداد کا بیچنا، بجز اس کے کہ اس رقم سے دوسری جائداد خریدی جائے۔

۲۔ گوشت فروشی کا پیشہ اختیار کرنا۔

۳۔ کفن فروشی کا پیشہ اختیار کرنا۔

۴۔ ایسے (اوچھے) لوگوں سے معاملہ کرنا جن کی صحیح تربیت نہ ہوئی ہو۔

۵۔ صبح کی اذان سے سورج نکلنے کے وقت تک معاملہ کرنا۔

۶۔ گیہوں، جَو اور ان جیسی دوسری اجناس کی خریدوفرخت کو اپنا پیشہ قرار دینا۔

۷۔ اگر مسلمان کوئی جنس خرید رہا ہو تو اس کے سودے میں دخل اندازی کرکے خریدار بننے کا اظہار کرنا۔

حرام معاملات


۲۰۶۳۔ بہت سے معاملات حرام ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

۱۔ نشہ آور مشروبات، غیر شکاری کتے اور سور کی خریدوفروخت حرام ہے اور احتیاط کی بنا پر نجس مردار کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔ ان کے علاوہ دوسری نجاسات کی خریدوفروخت اس صورت میں جائز ہے جب کہ عین نجس سے حلال فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو مثلاً گوبر اور پاخانے سے کھاد بنائیں اگرچہ احتیاط اس میں ہے کہ ان کی خرید و فروخت سے بھی پرہیز کیا جائے۔

۲۔ غصبی مال کی خرید و فروخت

۳۔ ان چیزوں کی خریدوفروخت بھی احتیاط کی بنا پر حرام ہے جنہیں بالعموم مال تجارت نہ سمجھا جاتا ہو مثلاً درندوں کی خریدوفروخت اس صورت میں جبکہ ان سے مناسب حد تک حلال فائدہ نہ ہو۔

۴۔ ان چیزوں کی خریدوفروخت جنہیں عام طور پر فقط حرام کام میں استعمال کرتے ہوں مثلاً جوئے کا سامان۔

۵۔ جس لین دین میں ربا (سود) ہو۔

۶۔ وہ لین دین جس میں ملاوٹ ہو یعنی ایسی چیز کا بیچنا جس میں دوسری چیز اس طرح ملائی گئی ہو کہ ملاوٹ کا پتہ نہ چل سکے اور بیچنے والا بھی خریدار کو نہ بتائے مثلاً ایسا گھی بیچناجس میں چربی ملائی گئ ہو۔ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کا ارشاد ہے " جو شخص ملاوٹ کرکے کوئی چیز کسی مسلمان کے ہاتھ بیچتا ہے یا مسلمان کو نقصان پہنچاتا ہے یا ان کے ساتھ مکروفریب سے کام لیتا ہے وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ملاوٹ والی چیز بیچتا ہے تو خداوندتعالی اس کی روزی سے برکت اٹھا لیتا ہے اور اس کی روزی کے راستوں کو تنگ کر دیتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے"

۲۰۶۴۔جو پاک چیز نجس ہوگئی ہو اور اسے پانی سے دھو کر پاک کرنا ممکن ہو تو اسے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر اسے دھونا ممکن نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے لیکن اگر اس کا حلال فائدہ عرف عام میں اس کے پاک ہونے پر منحصر نہ ہو مثلاً بعض اقسام کے تیل بلکہ اگر اس کا حلال فائدہ پاک ہونے پر موقوف ہو اور اس کا مناسب حد تک حلال فائدہ بھی ہو تب بھی اس کا بیچنا جائز ہے۔

۲۰۶۵۔ اگر کوئی شخص نجس چیز بیچنا چاہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کی نجاست کے بارے میں خریدار کو بتا دے اور اگر اسے نہ بتائے تو وہ ایک حکم واجب کی مخالفت کا مرتکب ہوگا مثلانجس پانی کو وضو یا غسل میں استعمال کرے گا اور اس کے ساتھ اپنی واجب نماز پڑھے گا یا اس نجس چیز کو کھانے یا پینے میں استعمال کرے گا البتہ اگر یہ جانتا ہو کہ اسے بتانے سے کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ لاپرو شخص ہے اور نجس پاک کا خیال نہیں رکھتا تو اسے بتانا ضروری نہیں۔

۲۰۶۶۔ اگرچہ کھانے والی اور نہ کھانے والی نجس دواوں کی خریدوفروخت جائز ہے لیکن ان کی نجاست کے متعلق خریدار کو اس صورت میں بتا دینا ضروری ہے جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں کیا گیا ہے۔

۲۰۶۷۔ جو تیل غیر اسلامی ممالک سے در آمد کئے جاتے ہیں اگر ان کے نجس ہونے کے بارے میں علم نہ ہو تو ان کی خرید و فرخت میں کوئی حرج نہیں اور جو چربی کسی حیوان کے مرجانے کے بعد حاصل کی جاتی ہے اگر اسے کافر سے لیں یا غیر اسلامی ممالک سے منگائیں تو اس صورت میں جب کہ اس کے بارے میں احتمال ہو کہ ایسے حیوان کی ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے تو گو وہ پاک ہے اور اس کی خریدوفرخت جائز ہے لیکن اس کا کھانا حرام ہے اور بیچنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی کیفیت سے خریدار کو آگاہ کرے کیوں کہ خریدار کو آگاہ کرنے کی صورت میں وہ کسی واجب حکم کی مخالفت کا مرتکب ہوگا جسے کہ مسئلہ ۲۰۶۵ میں گزر چکا ہے۔

۲۰۶۸۔ اگر لومڑی یا اس جیسے جانوروں کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا جائے یا وہ خود مرجائیں تو ان کی کھال کی خریدوفروخت احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے۔

۲۰۶۹۔ جو چمڑا غیر اسلامی ممالک سے در آمد کیا جائے یا کافر سے لیا جائے اگر اس کے بارے میں احتمال ہو کہ ایک ایسے جانور کا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے تو اس کی خریدوفروخت جائز ہے اور اسی طرح اس میں نماز بھی اقوی کی بنا پر صحیح ہوگی۔

۲۰۷۰ ۔ جو تیل اور چربی حیوان کے مرنے کے بعد حاصل کی جائے یا وہ چمڑا جو مسلمان سے لیا جائے اور انسان کو علم ہو کہ اس مسلمان نے یہ چیز کافر سے لی ہے لیکن یہ تحقیق نہیں کی کہ یہ ایسے حیوان کی ہے جیسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے یا نہیں اگرچہ اس پر طہارت کا حکم لگتا ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے لیکن اس تیل یا چربی کا کھانا جائز نہیں ہے۔

۲۰۷۱۔ نشہ آور مشروبات کالین دین حرام اور باطل ہے۔

۲۰۷۲۔ غصبی مال کا بیچنا باطل ہے اور بیچنے والے نے جو رقم خریدار سے لی ہو اسے واپس کرنا ضروری ہے۔

۲۰۷۳۔ اگر خریدار سنجیدگی سے سودا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو لیکن اس کی نیت یہ ہو کہ جو چیز خرید رہا ہے اس کی قیمت نہیں دے گا تو اس کا یہ سوچنا سو دے کہ صحیح ہونے میں مانع نہیں اور ضروری ہے کہ خریدار اس سودے کی قیمت بیچنے والے کو دے۔

۲۰۷۴۔ اگر خریدار چاہے کہ جو مال اس نے ادھار خریدا ہے اس کی قیمت بعد میں حرام مال سے دے گا تب بھی معاملہ صحیح ہے البتہ ضروری ہے کہ جتنی قیمت اس کے ذمے ہو حلال مال سے دے تاکہ اس کا ادھار چکتا ہوجائے۔

۲۰۷۵۔ موسیقی کے آلات مثلاً ستار اور طنبورہ کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بنا پر چھوٹے چھوٹے ساز جو بچوں کے کھلونے ہوتے ہیں ان کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ لیکن (حلال اور حرام میں استعمال ہونے والے) مشترکہ آلات مثلاً ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ انہیں حرام کاموں استعمال کرنے کا ارادہ نہ ہو۔

۲۰۷۶۔ اگر کوئی چیز کہ جس سے جائز فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو اس نیت سے بیچی جائے کہ اسے حرام مصرف میں لایا جائے مثلاً انگور اس نیت سے بیچا جائے کہ اس سے شراب تیار کی جائے تو اس کا سودا حرام بلکہ احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص انگور اس مقصد سے نہ بیچے اور فقط یہ جانتا ہو کہ خریدار انگور سے شراب تیار کرے گا تو ظاہر یہ ہے کہ سودے میں کوئی حرج نہیں۔

۲۰۷۷۔ جاندار کا مجسمہ بنانا احتیاط کی بنا پر مطلقاً حرام ہے (مطلقاً سے مراد یہ ہے کہ مجسمہ کامل بنایا جائے یاناقص) لیکن ان کی خریدوفروخت ممنوع نہیں ہے اگرچہ احوط یہ ہے کہ اسے بھی ترک کیا جائے لیکن جاندار کی نقاشی اقوی کی بنا پر جائز ہے۔

۲۰۷۸۔ کسی ایسی چیز کا خریدنا حرام ہے جو جُوئے یا چوری یا باطل سودے سے حاصل کی گئی ہو اور اگر کوئی ایسی چیز خرید لے تو ضروری ہے کہ اس کے اصلی مالک کو لوٹا دے۔

۲۰۷۹۔اگر کوئی شخص ایسا گھی بیچے جس میں چربی کی ملاوٹ ہو اور اسے مُعَیَّن کردے مثلاً کہے کہ میں "یہ ایک من گھی بیچ رہا ہوں" تو اس صورت میں جب اس میں چربی کی مقدار اتنی زیادہ ہو کہ اسے گھی نہ کہا جائے تو معاملہ باطل ہے اور اگر چربی کی مقدار اتنی کم ہو کہ اسے چربی ملا ہوا کہا جائے تو معاملہ صحیح ہے لیکن خریدنے والے کو مال عیب دار ہونے کی بنا پر حق حاصل ہے کہ وہ معاملہ ختم کرسکتا ہے اور اپنا پیسہ واپس لے سکتا ہے اور اگر چربی گھی سے جدا ہو تو چربی کی جتنی مقدار کی ملاوٹ ہے اس کا معاملہ باطل ہے اور چربی کی جو قیمت بیچنے والے نے لی ہے وہ خریدار کی ہے اور چربی، بیچنے والے کا مال ہے اور گاہک اس میں جو خالص گھی ہے اس کا معاملہ بھی ختم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر معین نہ کرے بلکہ صرف ایک من گھی بتا کر بیچے لیکن دیتے وقت چربی ملا ہوا گھی دے تو گاہک وہ گھی واپس کرکے خالص گھی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

۲۰۸۰۔ جس جنس کو ناپ تول کر بیچا جاتا ہے اگر کوئی بیچنے والا اسی جنس کے بدلے میں بڑھا کر بیچے مثلاً ایک من گیہوں کی قیمت ڈیڑھ من گیہوں وصول کرے تو یہ سود اور حرام ہے بلکہ اگر دو جنسوں میں سے ایک بے عیب اور دوسری عیب دار ہو یا ایک جنس بڑھیا اور دوسری گھٹیا ہو یا ان کی قیمتوں میں فرق ہو تو اگر بیچنے والا جو مقدار دے رہا ہو اس سے زیادہ لے تب بھی سود اور حرام ہے۔ لہذا اگر وہ ثابت تانبا دے کر اس سے زیادہ مقدار میں ٹوٹا ہوا تانبا لے یا ثابت قسم کا پیتل دے کر اس سے زیادہ مقدار میں ٹوٹا ہوا پیتل لے یا گھڑا ہوا سونا دے کر اس سے زیادہ مقدار میں بغیر گھڑا ہوا سونا لے تو یہ بھی سود اور حرام ہے۔

۲۰۸۱۔ بیچنے والا جو چیز زائد لے اگر وہ اس جنس سے مختلف ہو جو وہ بیچ رہا ہے مثلاً ایک من گیہوں کو ایک من گیہوں اور کچھ نقد رقم کے عوض بیچے تب بھی یہ سود اور حرام ہے بلکہ اگر وہ کوئی چیز زائد نہ لے لیکن یہ شرط لگائے کہ خریدار اس کے لئے کوئی کام کرے گا تو یہ بھی سود اور حرام ہے۔

۲۰۸۲۔ جو شخص کوئی چیز کم مقدار میں دے رہا ہو اگر وہ اس کے ساتھ کوئی اور چیز شامل کر دے مثلاً ایک من گیہوں اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گیہوں کے عِوَض بیچے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس صورت میں جب کہ اس کی نیت یہ ہو کہ وہ رومال اس زیادہ گیہوں کے مقابلے میں ہے اور معاملہ بھی نقد ہو۔ اور اسی طرح اگر دونوں طرف سے کوئی چیز بڑھا دی جائے مثلاً ایک شخص ایک من گیہوں اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گیہوں اور ایک رومال کے عوض بیچے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے لہذا اگر ان کی نیت یہ ہو کہ ایک کا رومال اور آدھا من گیہوں دوسرے کے رومال کے مقابلے میں ہے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۰۸۳۔ اگر کوئی شخص ایسی چیز بیچے جو میڑ اور گز کے حساب سے بیچی جاتی ہے مثلاً کپڑا یا ایسی چیز بیچے جو گن کر یچی جاتی ہے مثلاً اخروٹ اور انڈے اور زیادہ لے مثلاً دس انڈے دے اور گیارہ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ معاملے میں دونوں چیزیں ایک ہی جنس سے ہوں اور مدت معین ہو تو اس صورت میں معاملے کے صحیح ہونے میں اشکال ہے مثلاً دس اخروٹ نقددے اور بارہ اخروٹ ایک مہینے کے بعد لے۔ اور کرنسی نوٹوں کا فروخت کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے مثلاً تو مان کو نوٹوں کی کسی دوسری جنس کے بدلے میں مثلاً دینار یا ڈالر کے بدلے میں نقد یا معین مدت کے لئے بیچے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر اپنی ہی جنس کے بدلے میں بیچنا چاہے اور بہت زیادہ لے تو معاملہ معین مدت کے لئے نہیں ہونا چاہئے مثلاً سو تو مان نقد دے اور ایک سو دس تو مان چھ مہینے کے بعد لے تو اس معاملے کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

۲۰۸۴۔ اگر کسی جنس کو اکثر شہروں میں ناپ تول کر بیچا جاتا ہو اور بعض شہروں میں اس کا لین دین گن کر ہوتا ہو تو اقوی کی بنا پر اس جنس کو اس شہر کی نسبت جہاں گن کر لین دین ہوتا ہے دوسرے شہر میں زیادہ قیمت پر بیچنا جائز ہے۔ اور اسی طرح اس صورت میں جب شہر مختلف ہوں اورا ایسا غلبہ درمیان میں نہ ہو (یعنی یہ نہ کہاجاسکے کہ اکثر شہروں میں یہ جنس ناپ تول کر بکتی ہے یا گن کر بکتی ہے) تو ہر شیر میں وہاں کے رواج کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔

۲۰۸۵۔ ان چیزوں میں جو تول کر یا ناپ کر بیچی جاتی ہیں اگر بیچی جانے والی چیز اور اس کے بدلے میں لی جانے والی چیز ایک جنس سے نہ ہوں اور لین دین بھی نقد ہو تو زیادہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر لین دین معین مدت کے لئے ہو تو اس میں اشکال ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص ایک من چاول کو دو من گیہوں کے بدلے میں ایک مہینے کی مدت تک بیچے تو اس لین دین کا صحیح ہونا اشکال سے خالی نہیں ۔

۲۰۸۶۔اگر ایک شخص پکے میووں کا سودا کچے میووں سے کرے تو زیادہ نہیں لے سکتا اور مشہور (علماء) نےکہا ہے کہ ایک شخص جو چیز بیچ رہا ہو اور اس کے بدلے میں جو کچھ لے رہا ہو اگر وہ دونوں ایک ہی چیز سے بنی ہوں تو ضروری ہے کہ معاملے میں اضافہ نہ لے مثلاً اگر وہ ایک من گائے کا گھی بیچے اور اس کے بدلے میں ڈیڑھ من گائے کا پنیر حاصل کرے تو یہ سود ہے اور حرام ہے لیکن اس حکم کے کلی ہونے میں اشکال ہے۔

۲۰۸۷۔ سود کے اعتبار سے گیہوں اور جو ایک جنس شمار ہوتے ہیں لہذا مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ایک من گیہوں دے اور اس کے بدلے میں ایک من پانچ سیر جولے تو یہ سود ہے اور حرام ہے۔ اور مثال کے طور پر اگر دس من جو اس شرط پر خریدے کہ گیہوں کی فصل اٹھانے کے وقت دس من گیہوں بدلے میں دے گا تو چونکہ جو اس نے نقد لئے ہیں اور گیہوں کچھ مدت بعد دے رہا ہے لہذایہ اسی طرح ہے۔ جیسے اضافہ لیا ہو اس لئے حرام ہے۔

۲۰۸۸۔ باپ بیٹا اور میاں بیوی ایک دوسرے سے سود لے سکتے ہیں اور اسی طرح مسلمان ایک ایسے کافر سے جو اسلام کی پناہ میں نہ ہو سود لے سکتا ہے لیکن ایک ایسے کافر سے جو اسلام کی پناہ میں ہے سود کا لین دین حرام البتہ معاملہ طے کر لینے کے بعد اگر سود دینا اس کی شریعت میں جائز ہو تو اس سے سود لے سکتا ہے۔

بیچنے والے اور خریدارکی شرائط


۲۰۸۹۔ بیچنے والے اور خریدار کےلئے چھ چیزیں شرط ہیں :

۱۔ بالغ ہوں۔

۲۔ عاقل ہوں۔

۳۔ سَفیہ نہ ہوں یعنی اپنا مال احمقانہ کاموں میں خرچ نہ کرتے ہوں۔

۴۔ خرید و فروخت کا ارادہ رکھتے ہوں۔ پس اگر کوئی مذاق میں کہے کہ میں نے اپنا مال بیچا تو معاملہ باطل ہوگا۔

۵۔ کسی نے انہیں خریدوفروخت پر مجبور نہ کیا ہو۔

۶۔ جو جنس اور اس کے بدلے میں جو چیز ایک دوسرے کو دے رہے ہوں اس کے مالک ہوں۔ اور ان کے بارے میں احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

۲۰۹۰۔ کسی نابالغ بچے کے ساتھ سودا کرنا جو آزادانہ طور پر سودا کر رہا ہو باطل ہے لیکن ان کم قیمت چیزوں میں جن کی خریدوفروخت کا رواج ہے اگر نابالغ مگر سمجھ دار بچے کے ساتھ لین دین ہوجائے (توصحیح ہے) اور اگر سودا اس کے سرپرست کے ساتھ ہو اور نابالغ مگر سمجھ دار بچہ لین دین کا صیغہ جاری کرے تو سوداہر صورت میں صحیح ہے بلکہ اگر جنس یا رقم کسی دوسرے آدمی کا مال ہو اور بچہ بحیثیت وکیل اس مال کے مالک کی طرف سے وہ مال بیچے یا اس رقم سے کوئی چیز خریدے تو ظاہر یہ ہے کہ سودا صحیح ہے اگرچہ وہ سمجھ دار بچہ آزادانہ طور پر اس مال یا رقم میں (حق) تصرف رکھتا ہو اور اسی طرح اگر بچہ اس کام میں وسیلہ ہو کہ رقم بیچنے والے کو دے اور جنس خریدار تک پہنچائے یا جنس خریدار کو دے اور رقم بیچنے والے کو پہنچائے تو اگرچہ بچہ سمجھ دار نہ ہو سودا صحیح ہے کیونکہ در اصل دو بالغ افراد نے آپس میں سودا کیا ہے۔

۲۰۹۱۔ اگر کوئی شخص اس صورت میں کہ ایک نابالغ بچے سے سودا کرنا صحیح نہ ہو اس سے کوئی چیز خریدے یا اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچنے تو ضروری ہے کہ جو جنس یا رقم اس بچے سے لے اگر وہ خود بچے کا مال ہو تو اس کے سرپرست کو اور اگر کسی اور کا مال ہو تو اس کے مالک کو دے دے یا اس کے مالک کی رضا مندی حاصل کرے اور اگر سودا کرنے والا شخص اس جنس یا رقم کے مالک کو نہ جانتا ہو اور اس کا پتہ چلانے کا کوئی ذریعہ بھی نہ ہو تو اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز اس نے بچے سے لی ہو وہ اس چیز کے مالک کی طرفے بعنوان مَظَالم (ظلماً اور ناحق لی ہوئی چیز) کسی فقیر کو دے دے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اس کام میں حاکم شرع سے اجازت لے۔

۲۰۹۲۔ اگر کوئی شخص ایک سمجھ دار بچے سے اس صورت میں سودا کرے جب کہ اس کے ساتھ سودا کرنا صحیح نہ ہو اور اس نے جو جنس یا رقم بچے کو دی ہو وہ تلف ہو جائے تو ظاہر یہ ہے کہ وہ شخص بچے سے اس کے بالغ ہونے کے بعد یا اس کے سرپرست سے مطالبہ کر سکتا ہے اور اگربچہ سمجھ دار نہ ہو تو پھر وہ شخص مطالبے کا حق نہیں رکھتا۔

۲۰۹۳۔ اگر خریدار یا بیچنے والے کو سودا کرنے پر مجبور کیا جائے اور سودا ہوجانے کے بعد وہ راضی ہو جائے اور مثال کے طور پر کہے کہ میں راضی ہوں تو سودا صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ معاملے کا صیغہ دوبارہ پڑھا جائے۔

۲۰۹۴۔ اگر انسان کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر بیچ دے اور مال کا مالک اس کے بیچنے پر راضی نہ ہو اور اجازت نہ دے تو سودا باطل ہے۔

۲۰۹۵۔ بچے کا باپ اور دادا نیز باپ کا وصی اور دادا کا وصی بچے کا مال فروخت کر سکتے ہیں اور اگر صورت حال کا تقاضا ہو تو مجتہد عادل بھی دیوانے شخص یا یتیم بچے کا مال یا ایسے شخص کا مال جو غائب ہو فروخت کر سکتا ہے۔

۲۰۹۶۔ اگر کوئی شخص کسی کا مال غصب کرکے بیچ ڈالے اور مال کے بک جانے کے بعد اس کا مالک سودے کی اجازت دے دے تو سودا صحیح ہے اور جو چیز غصب کرنے والے نے خریدار کو دی ہو اور اس چیز سے جو منافع سودے کے وقت سے حاصل ہو وہ خریدار کی ملکیت ہے اور جو چیز خریدار نے دی ہو اور اس چیز سے جو منافع سودے کے وقت سے حاصل ہو وہ اس شخص کی ملکیت ہے جس کا مال غصب کیا گیا ہے۔

۲۰۹۷۔ اگر کوئی شخص کسی کا مال غصب کرکے بیچ دے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اس مال کی قیمت خود اس کی ملکیت ہوگی اور اگر مال کا مالک سودے کی اجازت دے دے تو سودا صحیح ہے لیکن مال کی قیمت مالک کی ملکیت ہوگی نہ کہ غاصب کی۔

جنس اور اس کے عِوض کی شرائط


۲۰۹۸۔ جو چیز بیچی جائے اور جو چیز اس کے بدلے میں لی جائے اس کی پانچ شرطیں ہیں :

(اول) ناپ، تول یا گنتی وغیرہ کی شکل میں اس کی مقدار معلوم ہو۔

(دوم) بیچنے والا ان چیزوں کو تحویل میں دینے کا اہل ہو۔ اگر اہل نہ ہو تو سودا صحیح نہیں ہے لیکن اگر وہ اس کو کسی دوسری چیز کے کے ساتھ ملا کر بیچے جسے وہ تحویل میں دے سکتا ہو تو اس صورت میں لین دین صحیح ہے البتہ ظاہر یہ ہے کہ اگر خریدار اس چیز کو جو خریدی ہو اپنے قبضے میں لے سکتا ہو اگرچہ بیچنے والا اسے اس کی تحویل میں دینے کا اہل نہ ہو تو بھی لین دین صحیح ہے مثلاً جو گھوڑا بھاگ گیا ہو اگر اسے بیچے اور خریدنے والا اس گھوڑے کو ڈھونڈ سکتا ہو تو اس سودے میں کوئی حرج نہیں اور وہ صحیح ہوگا اور اس صورت میں کسی بات کے اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

(سوم) وہ خصوصیات جو جنس اور عوض میں موجود ہوں اور جن کی وجہ سے سودے میں لوگوں کو دلچسپی میں فرق پڑتا ہو معین کر دی جائیں۔

(چہارم) کسی دوسرے کا حق اس مال سے اس طرح وابستہ نہ ہو کہ مال مالک کی ملکیت سے خارج ہونے سے دوسرے کا حق ضائع ہو جائے۔

(پنجم) بیچنے والا خود اس جنس کو بیچے نہ کہ اس کی منفعت کو۔ پس مثال کے طور پر اگر مکان کی ایک سال کی منفعت بیچی جائے تو صحیح نہیں ہے لیکن اگر خریدار نقد کی بجائے اپنی ملکیت کا منافع دے مثلاً کسی سے قالین یا دری وغیر خریدے اور اس کے عوض میں اپنا مکان کا ایک سال کا منافع اسے دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان سب کے احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

۲۰۹۹۔ جس جنس کا سودا کسی شہر میں تول کر یا ناپ کا کیا جاتا ہو اس شہر میں ضروری ہے اس جنس کو تول کر یا ناپ کر ہی خریدے لیکن جس شہر میں اس جنس کا سودا اسے دیکھ کر کیا جاتا ہوں اس شہر میں وہ اسے دیکھ کر خرید سکتا ہے۔

۲۱۰۰۔ جس چیز کی خریدوفروخت تول کرکی جاتی ہو اس کا سودا ناپ کر بھی کیا جاسکتا ہے مثال کے طور پر اگر ایک شخص دس من گیہوں بیچنا چاہے تو وہ ایک ایسا پیمانہ جس میں ایک من گیہوں سماتی ہو دس مرتبہ بھر کر دے سکتا ہے۔

۲۱۰۱۔ اگر معاملہ چوتھی شرط کے علاوہ جو شرائط بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی ایک شرط نہ ہونے کی بنا پر باطل ہو لیکن بیچنے والا اور خریدار ایک دوسرے کے مال میں تصرف کرنے پر راضی ہوں تو ان کے تصرف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

۲۱۰۲۔جو چیز وقت کی جاچکی ہو اس کا سودا باطل ہے لیکن اگر وہ چیز اس قدر خراب ہو جائے کہ جس فائدے کے لئے وقف کی گئی ہے وہ حاصل نہ کیا جاسکے یا وہ چیز خراب ہونے والی ہو مثلاً مسجد کی چٹائی اس طرح پھٹ جائے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جاسکے تو جو شخص مُتَولِّی ہے یا جسے مَتَولِّی جیسے اختیارات حاصل ہوں اور اسے بیچ دے تو کوئی حرج نہیں اور احتیاط کی بنا پر جہاں تک ممکن ہو اس کی قیمت اسی مسجد کے کسی ایسے کام پر خرچ کی جائے جو وقت کرنے والے کے مقصد سے قریب تر ہو۔

۲۱۰۳۔ جب ان لوگوں کے مَابَین جن کے لئے مال وقف کیا گیا ہو ایسا اختلاف پیدا ہو جائے کہ اندیشہ ہو کہ اگر وقف شدہ مال فروخت نہ کیا گیا تو مال یا کسی کی جان تلف ہو جائے گی تو بعض (فقہاء) نے کہا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ مال بیچ کر رقم ایسے کام پر خرچ کریں جو وقف کرنے والے کے مقصد سے قریب ہو لیکن یہ حکم محل اشکال ہے۔ ہاں اگر وقف کرنے والا یہ شرط لگائے کہ وقف کے بیچ دینے میں کوئی مصلحت ہو تو بیچ دیا جائے تو اس صورت میں اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۱۰۴۔ جو جائداد کسی دوسرے کو کرائے پر دی گئی ہو اس کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جتنی مدت کے لئے اسے کرائے پر دی گئی ہو اتنی مدت کی آمدنی صاحب جائداد کا مال ہے اور اگر خریداد کو یہ علم نہ ہو کہ وہ جائداد کرائے پر دی جاچکی ہے یا اس گمان کے تحت کہ کرائے کی مدت تھوڑی ہے اس جائداد کو خرید لے تو جب اسے حقیقت حال کا علم ہو، وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔

خریدوفروخت کا صیغہ


۲۱۰۵۔ ضروری نہیں کہ خریدوفروخت کا صیغہ عربی زبان میں جاری کیا جائے مثلاً اگر بیچنے والا فارسی (یا اردو) میں کہے کہ میں نے یہ مال اتنی رقم پر بیچا اور خریدار کہے کہ میں نے قبول کیا تو سودا صحیح ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ خریدار اور بیچنے والا (معاملے کا) دلی ارادہ رکھتے ہوں یعنی یہ دو جملے کہنے سے ان کی مراد خرید و فروخت ہو۔

۲۱۰۶۔ اگر سودا کرتے وقت صیغہ نہ پڑھا جائے لیکن بیچنے والا اس مال کے مقابلے میں جو وہ خریدار سے لے اپنا مال اس کی ملکیت میں دے دے تو سودا صحیح ہے اور دونوں اشخاص متعلقہ چیزوں کےمالک ہوجاتے ہیں۔

پھلوں کی خرید و فروخت

۲۱۰۷۔ جن پھلوں کے پھول گر چکے ہوں اور ان میں دانے پڑچکے ہوں اگر ان کے آفت (مثلاً بیماریوں اور کپڑوں کے حملوں) سے محفوظ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اس طرح علم ہو کہ اس درخت کی پیداوار کا اندازہ لگا سکیں تو اس کے توڑنے سے پہلے اس کا بیچنا صحیح ہے بلکہ اگر معلوم نہ بھی ہو کہ آفت سے محفوظ ہے یا نہیں تب بھی اگر دو سال یا اس سے زیادہ عرصے کی پیداوار یا پھلوں کی صرف اتنی مقدار جو اس وقت اس وقت لگی ہو بیچی جائے بشرطیکہ اس کی کسی حد تک مالیت ہو تو معاملہ صحیح ہے۔ اسی طرح اگر زمین کی پیداوار یا کسی دوسری چیز کو اس کے ساتھ بیچا جائے تو معاملہ صحیح ہے لیکن اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ دوسری چیز (جو ضمناً بیچ رہا ہو وہ) ایسی ہو کہ اگر بیج ثمر آور نہ ہوسکیں تو خریدار کے سرمائے کو ڈوبنے سے بچالے۔

پھلوں کی خرید و فروخت


۲۱۰۸۔ جس درخت پر پھل لگا ہو، دانے بننے اور پھول گرنے سے پہلے اس کا بیچنا جائز ہے لیکن ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کوئی اور چیز بھی بیچے جیسا کہ اس سے پہلے والے مسئلے میں بیان کیا گیا ہے یا ایک سال سے زیادہ مدت کا پھل بیچے۔

۲۱۰۹۔ درخت پر لگی ہوئی وہ کھجوریں جو زرد یا سرخ ہو چکی ہوں ان کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کے عوض میں خواہ اسی درخت کی کھجوریں ہوں یا کسی اور درخت کی، کھجوریں نہ دی جائیں البتہ اگر ایک شخص کو کھجور کا درخت کسی دوسرے شخص کے گھر میں ہو تو اگر اس درخت کی کھجوروں کا تخمینہ لگا لیا جائے اور درخت کا مالک انہیں گھر کے مالک کو بیچ دے اور کھجوروں کو اس کا عوضانہ قرار دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

۲۱۱۰۔ کھیرے، بینگن،سبزیاں اور ان جیسی (دوسری) چیزیں جو سال میں کئی دفعہ اترتی ہوں اگر وہ اگ آئی ہوں اور یہ طے کر لیا جائے کہ خریدار انہیں سال میں کتنی دفعہ توڑے گا تو انہیں بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اگی نہ ہوں تو انہیں بیچنے میں اشکال ہے۔

۲۱۱۱۔ اگر دانہ آنے کے بعد گندم کے خوشے کو گندم سے جو خود اس سے حاصل ہوتی ہے یا کسی دوسرے خوشے کے عوض بیچ دیا جائے تو سودا صحیح نہیں ہے۔

نقد اور ادھار کے احکام


۲۱۱۲۔ اگر کسی جنس کو نقد بیچا جائے تو سودا طے پا جانے کے بعد خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جنس اور رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور اسے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔ منقولہ چیزوں مثلاً قالین، اور لباس کو قبضے میں دینے اور غیر منقولہ چیزوں مثلاً گھر اور زمین کو قبضے میں دینے سے مراد یہ ہے کہ ان چیزوں سے دست بردار ہو جائے اور انہیں فریق ثانی کی تحویل میں اس طرح دے دے کہ جب وہ چاہے اس میں تصرف کر سکے۔ اور (واضح رہے کہ) مختلف چیزوں میں تصرف مختلف طریقے سے ہوتا ہے۔

۲۱۱۳۔ ادھار کے معاملے میں ضروری ہے کہ مدت ٹھیک ٹھیک معلوم ہو۔ لہذا اگر ایک شخص کوئی چیز اس وعدے پر بیچے کہ وہ اس کی قیمت فصل اٹھنے پر لے گا تو چونکہ اس کی مدت ٹھیک ٹھیک معین نہیں ہوئی اس لئے سودا باطل ہے۔

۲۱۱۴۔ اگر کوئی شخص اپنا مال ادھار بیچے تو جو مدت طے ہوئی ہو اس کی میعاد پوری ہونے سے پہلے وہ خریدار سے اس کے عوض کا مطالبہ نہیں کرسکتا لیکن اگر خریدار مرجائے اور اس کا اپنا کوئی مال ہو تو بیچنے والا طے شدہ میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی جو رقم لینی ہو اس کا مطالبہ مرنے والے کے ورثاء سے کر سکتا ہے۔

۲۱۱۵۔ اگر کوئی شخص ایک چیز ادھار بیچے تو طے شدہ مدت گزرنے کے بعد وہ خریدار سے اس کے عوض کا مطالبہ کر سکتا ہے لیکن اگر خریدار ادائیگی نہ کرسکتا ہو تو ضروری ہے کہ بیچنے والا اسے مہلت دے یا سودا ختم کر دے اور اگر وہ چیز جو بیچی ہے موجود ہو تو اسے واپس لے لے۔

۲۱۱۶۔ اگر کوئی شخص ایک ایسےایسے فرد کو جسے کسی چیز کی قیمت معلوم نہ ہو اس کی کچھ مقدار ادھار دے اور اس کی قیمت اسے نہ بتائے تو سودا باطل ہے۔ لیکن اگر ایسے شخص کو جسے جنس کی نقد قیمت معلوم ہو ادھار پر مہنگے داموں بیچے مثلاً کہے کہ جو جنس میں تمہیں ادھار دے رہاہوں اس کی قیمت سے جس پر میں نقد بیچتا ہوں ایک پیسہ فی روپیہ زیادہ لوں گا اور خریدار اس شرط کو قبول کر لے تو ایسے سودے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۱۱۷۔ اگر ایک شخص نے کوئی جنس ادھار فروخت کی ہو اور اس کی قیمت کی ادائیگی کے لئے مدت مقرر کی گئی ہو تو اگر مثال کے طور پر آدھی مدت گزرنے کے بعد (فروخت کرنے والا) واجب الادا رقم میں کٹوتی کر دے اور باقی ماندہ رقم نقد لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

معاملہ سلف کی شرائط


۲۱۱۸۔ معاملہ سلف (پیشگی سودا) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص نقد رقم لے کر پورا مال جو وہ مقررہ مدت کے بعد تحویل میں دے گا، بیچ دے لہذا اگر خریدار کہے کہ میں یہ رقم دے رہا ہوں تاکہ مثلاً چھ مہینے بعد فلاں چیز لے لوں اور بیچنے والا کہے کہ میں نے قبول کیا یا بیچنے والا رقم لے لے اور کہے کہ میں نے فلاں چیز بیچی اور اس کا قبضہ چھ مہینے بعد دوں گا تو سودا صحیح ہے۔

۲۱۱۹۔ اگر کوئی شخص سونے یا چاندی کے سکے بطور سلف بیچے اور س کے عوض چاندی یا سونے کے سکے لے تو سودا باطل ہے لیکن اگر کوئی ایسی چیز یا سکے جو سنے یا چاندی کے نہ ہوں بیچے اور ان کے عوض کوئی دوسری چیز یا سونے یا چاندی کےسکے لے تو سودا اس تفصیل کے مطابق صحیح ہے جو آئندہ مسئلے کی ساتویں شرط میں بتائی جائے گی اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ جو مال بیچے اس کے عوض رقم لے،کوئی دوسرا مال نہ لے۔

۲۱۲۰۔معاملہ سلف میں ساتھ شرطیں ہیں :

۱۔ ان خصوصیات کو جن کی وجہ سے کسی چیز کی قیمت میں فرق پڑتا ہو مُعَیّن کر دیا جائے لیکن زیادہ تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی قدر کافی ہے کہ لوگ کہیں کہ اس کی خصوصیات معلوم ہوگئی ہیں۔

۲۔ اس سے پہلے کہ خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں خریدار پوری قیمت بیچنے والے کو دے یا اگر بیچنےوالا خریدار کا اتنی ہی رقم کا مقروض ہو اور خریدار کو اس سے جو کچھ لینا ہو اسے مال کی قیمت کی کچھ مقدار بیچنے والے کو دے دے تو اگرچہ اس مقدار کی نسبت سے سودا صحیح ہے لیکن بیچنے والا سودا فتح کرسکتا ہے۔

۳۔ مدت کو ٹھیک ٹھیک مُعَیّن کیا جائے۔ مثلاً اگر بیچنے والا کہے کہ فصل کا قبضہ کٹائی پر دوں گا تو چونکہ اس سے مدت کا ٹھیک ٹھیک تعین نہیں ہوتا اس لئے سودا باطل ہے۔

۴۔ جنس کا قبضہ دینے کے لئے ایسا وقت مُعَیّن کیا جائے جس میں بیچنے والا جنس کا قبضہ دے سکے خواہ وہ جنس کمیاب ہو یا نہ ہو۔

۵۔ جنس کا قبضہ دینے کی جگہ کا تعین احتیاط کی بنا پر مکمل طور پر کیا جائے۔ لیکن اگر طرفین کی باتوں سے جگہ کا پتا چل جائے تو اس کا نام لینا ضروری نہیں ۔

۶۔ اس جنس کا تول یا ناپ معین کیاجائے اور جس چیز کا سودا عموماً دیکھ کر کیا جاتا ہے اگر اسے بطور سلف بیچا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مثال کے طور پر اخروٹ اور انڈوں کی بعض قسموں میں تعداد کا فرق ضروری ہے کہ اتنا ہو کہ لوگ اسے اہمیت نہ دیں۔

۷۔ جس چیز کو بطور سلف بیچا جائے اگر وہ ایسی ہوں جنہیں تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا ہے تو اس کا عوض اسی جنس سے نہ ہو بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر دوسری جنس میں سے بھی ایسی چیز نہ ہو جسے تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا ہے اور اگر وہ چیز جسے بیچا جا رہا ہے ان چیزوں میں سے ہو جنہیں گن کر بیچا جاتا ہو تو احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے کہ اس کا عوض خود اسی کی جنس سے زیادہ مقدار میں مقرر کرے۔

معاملہ سلف کے احکام


۲۱۲۱۔ جو جنس کسی نے بطور سلف خریدی ہو اسے وہ مدت ختم ہونے سے پہلے بیچنے والے کے سوا کسی اور کے ہاتھ نہیں بیچ سکتا اور مدت ختم ہونے کے بعد اگرچہ خریدار نے اس کا قبضہ نہ بھی لیا ہو اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ پھلوں کے علاوہ جن غلوں مثلاً گیہوں اور جو وغیرہ کو تول کر یا ناپ کر فروخت کیا جاتا ہے انہیں اپنے قبضے میں لینے سے پہلے ان کا بیچنا جائز نہیں ہے ماسوا اس کے کہ گاہگ نے جس قیمت پر خریدی ہوں اسی قیمت پر یا اس سے کم قیمت پر بیچے۔

۲۱۲۲۔ سلف کے لین دین میں اگر بیچنے والا مدت ختم ہونے پر اس چیز کا قبضہ دے جس کا سودا ہوا ہے تو خریدار کے لئے ضروری ہے کہ اسے قبول کرے اگرچہ جس چیز کا سودا ہوا ہے اس سے بہتر چیز دے رہا ہو جبکہ اس چیز کو اسی جنس میں شمار کیا جائے۔

۲۱۲۳۔ اگر بیچنے والا جو جنس دے وہ اس جنس سے گھٹیا ہو جس کا سودا ہوا ہے تو خریدار اسے قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

۲۱۲۴۔ اگر بیچنے والا اس جنس کی بجائے جس کا سودا ہوا ہے کوئی دوسری جنس دے اور خریدار اسے لینے پر راضی ہو جائے تو اشکال نہیں ہے۔

۲۱۲۵۔ جو چیز بطور سلف بیچی گئی ہو اگر وہ خریدار کے حوالے کرنے کے لئے طے شدہ وقت پر دستیاب نہ ہوسکے تو خریدار کو اختیار ہے کہ انتظار کرے تاکہ بیچنے والا اسے مہیا کر دے یا سودا فسخ کر دے اور جو چیز بیچنے والے کو دی ہو اسے واپس لے لے اور احتیاط کی بنا پر وہ چیز بیچنے والے کو زیادہ قیمت پر نہیں بیچ سکتا ہے۔

۲۱۲۶۔ اگر ایک شخص کوئی چیز بیچے اور معاہدہ کرے کہ کچھ مدت بعد وہ چیز خریدار کے حوالے کر دے گا اور اس کی قیمت بھی کچھ مدت بعد لے گا تو ایسا سودا باطل ہے۔

سونے چاندی کو سونے چاندی کے عوض بیچنا


۲۱۲۷۔ اگر سونے کو سونے سے یا چاندی کو چاندی سے بیچا جائے تو چاہے وہ سکہ دار ہوں یا نہ ہو اگر ان میں سے ایک کا وزن دوسرے سے زیادہ ہو تو ایسا سودا حرام اور باطل ہے۔

۲۱۲۸۔اگر سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے نقد بیچا جائے تو سودا صحیح ہے اور ضروری نہیں کہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ لیکن اگر معاملے میں مدت معین ہو تو باطل ہے۔

۲۱۲۹۔ اگر سونے یا چاندی کو سونے یا چاندی کے عوض بیچا جائے تو ضروری ہے کہ بیچنے والا اور خریدار ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے جنس اور اس کا عوض ایک دوسرے کے حوالے کر دیں اور اگر جس چیز کے بارے میں معاملہ طے ہوا ہے اس کی کچھ مقدار بھی ایک دوسرے کے حوالے نہ کی جائے تو معاملہ باطل ہے۔

۲۱۳۰۔ اگر بیچنے والے یا خریدار میں سے کوئی ایک طے شدہ مال پورا پورا دوسرے کے حوالے کر دے لیکن دوسرا (مال کی صرف) کچھ مقدار حوالے کرے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اگرچہ اتنی مقدار کے متعلق معاملہ صحیح ہے لیکن جس کو پورا مال نہ ملا ہو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔

۲۱۳۱۔ اگر چاندی کی کان کی مٹی کو خالص چاندی سے اور سونے کی کان کی سونے کی مٹی کو خالص سونے سے بیچا جائے تو سودا باطل ہے۔ مگر یہ کہ جب جانتے ہوں کہ مثلاً چاندی کی مٹی کی مقدار خالص چاندی کی مقدار کے برابر ہے لیکن جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے چاندی کی مٹی کو سونے کے عوض اور سونے کی مٹی کو سونے کے عوض اور سونے کی مٹی کو چاندی کے عوض بیچنے میں کوئی اشکال نہیں۔

معاملہ فسخ کئے جانے کی صورتیں


۲۱۳۲۔معاملہ فسخ کرنے کے حق کو "خِیَار" کہتے ہیں اور خریدار اور بیچنے والا گیارہ صورتوں میں معاملہ فسخ کر سکتے ہیں :

۱۔ جس مجلس میں معاملہ ہوا ہے وہ برخاست نہ ہوئی ہو اگرچہ سودا ہو چکا ہو اسے "خِیَار مجلس" کہتے ہیں۔

۲۔ خرید و خروفت کے معاملے میں خریدار یابیچنے والا نیز دوسرے معاملات میں طرفین میں سے کوئی ایک مغبون ہو جائے اسے "خِیارِ غبن" کہتے ہیں (مغبون سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا ہو) خیار کی اس قسم کا منشا عرف عام میں شرط ارتکازی ہوتا ہے یعنی ہر معاملے میں فریقین ذہن میں یہ شرط موجود ہوتی ہے کہ جو مال حاصل کر رہا ہے اس کی قیمت مال سے بہت زیادہ کم نہیں جو وہ ادا کر رہا ہے اور اگر اس کی قیمت کم ہو تو وہ معاملے کو ختم کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن عرف خاص کی چند صورتوں میں ارتکازی شرط دوسری طرح ہو مثلاً یہ شرط یہ کہ اگر جو مال لیا ہو وہ بلحاظ قیمت اس مال سے کم ہو جو اس نے دیا ہے تو دونوں (مال) کے درمیان جو کمی بیشی ہوگی اس کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر ممکن نہ ہوسکے تو معاملے کو ختم کر دے اور ضروری ہے کہ اس قسم کی صورتوں میں عرف خاص کا خیال رکھا جائے۔

۳۔ سودا کرتے وقت یہ طے کیا جائے کہ مقررہ مدت تک فریقین کو یاکسی ایک فریق کو سودا فسخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ اسے "خِیارِ شرط" کہتے ہیں۔

۴۔ فریقین میں سے ایک فریق اپنے مال کو اس کی اصلیت سے بہتر بتا کر پیش کرے جس کی وجہ سے دوسر فریق اس میں دل چسپی لے یا اس کی دل چسپی اس میں بڑھ جائے اسے "خیار تدلیس"کہتے ہیں۔

۵۔ فریقین میں سے ایک فریق دوسرے کے ساتھ شرط کرے کہ وہ فلاں کام انجام دے گا اور اس شرط پر عمل نہ ہو یا شرط کی جائے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ایک مخصوص قسم کا معین مال دے گا اور جو مال دیا جائے اس میں وہ خصوصیت نہ ہو، اس صورت میں شرط لگانے والا فریق معاملے کو فسخ کر سکتا ہے ۔ اسے "خِیارِ تَخَلُّفِ شرط" کہتے ہیں۔

۶۔ دی جانے والی جنس یا اس کے عوض میں کوئی عیب ہو۔ اسے "خیار عیب" کہتے ہیں۔

۷۔ یہ پتا چلے کہ فریقین نے جس جنس کا سودا کیا ہے اس کی کچھ مقدار کسی اور شخص کا مال ہے۔ اس صورت میں اگر اس مقدار کا مالک سودے پر راضی نہ ہو تو خریدنے والا سودا فسخ کر سکتا ہے یا اگر اتنی مقدار کی ادائیگی کر چکا ہو تو اسے واپس لے سکتا ہے۔ اسے "خیار شرکت" کہتے ہیں۔

۸۔ جس مُعَیَّن جنس کو دوسرے فریق نے نہ دیکھا ہو اگر اس جنس کا مالک اسے اس کی خصوصیات بتائے اور بعد میں معلوم ہو کہ جو خصوصیات اس نے بتائی تھیں وہ اس میں نہیں ہیں یا دوسرے فریق نے پہلے اس جنس کو دیکھا تھا او اس کا خیال تھا کہ وہ خصوصیات اب ابھی اس میں باقی ہیں لیکن دیکھنے کے بعد معلوم ہو کہ وہ خصوصیات اب اس میں باقی نہیں ہیں تو اس صورت میں دوسرا فریق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔ اسے "خِیارِ رُویَت" کہتے ہیں۔

۹۔ خریدار نے جو جنس خریدی ہو اگر اس کی قیمت تین دن تک نہ دے اور بیچنے والے نے بھی وہ جنس خریدار کے حوالے نہ کہ ہو تو بیچنے والا سودے کو ختم کر سکتا ہے لیکن ایسا اس صورت میں ہو سکتا ہےجب بیچنے والے نے خریدار کو قیمت ادا کرنے کی مہلت دی ہو لیکن مدت معین نہ کی ہو۔ اور اگر اس کو بالکل مہلت نہ دی ہو تو بیچنے والا قیمت کی ادائیگی میں معمولی سی تاخیر سے بھی سودا ختم کر سکتا ہے ۔ اور اگر اسے تین دن سے زیادہ مہلت دی ہو تو مدت پوری ہونے سے پہلے سودا ختم نہیں کر سکتا۔ اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جو جنس بیچی ہے اگر وہ بعض ایسے پھلوں کی طرح ہو جو ایک دن باقی رہنے سے ضائع ہو جاتے ہیں چنانچہ خریدار رات تک اس کی قیمت نہ دے اور یہ شرط بھی نہ کرے کہ قیمت دینے میں تاخیر کرے گا تو بیچنے والا سودا ختم کر سکتا ہے۔ اسے "خیار تاخیر" کہتے ہیں۔

۱۰۔ جس شخص نے کوئی جانور خریدا ہو وہ تین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے اور جو چیز اس نے بیچی ہو اگر اس کے عوض میں خریدار نے جانور دیا ہو تو جانور بیچنے والا بھی تین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے۔ اسے "خیار حیوان" کہتے ہیں۔

۱۱۔ بیچنے والے نے جو چیز بیچی ہو اگر اس کا قبضہ نہ دے سکے مثلاً جو گھوڑا اس نے بیچا ہو وہ بھاگ گیا ہو تو اس صورت میں خریدار سودا فسخ کر سکتا ہے اسے "خیار تَعَذُّر تسلیم" کہتے ہیں۔

(خیارات کی) ان تمام اقسام کے (تفصیلی) احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

۲۱۳۳۔ اگر خرید کو جنس کی قیمت کا علم نہ ہو یا وہ سودا کرتے وقت غفلت برتے اور اس چیز کو عام قیمت سے مہنگا خریدے اور یہ قیمت خرید بڑی حد تک مہنگی ہو تو وہ سودا ختم کر سکتا ہے بشرطیکہ سودا ختم کرتے وقت جس قدر فرق ہو وہ موجود بھی ہو اور اگر فرق موجود نہ ہو تو اس کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ سودا ختم کر سکتا ہے۔ نیز اگر بیچنے والے کو جنس کی قیمت کا علم نہ ہو یا سودا کرتے وقت غفلت برتے اور اس جنس کو اس کی قیمت سے سستا بیچے اور بڑی حد تک سستا بیچے تو سابقہ شرط کے مطابق سودا ختم کر سکتا ہے۔

۲۱۳۴۔ مشروط خرید و فروخت میں جب کہ مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے کا مکان پچاس ہزار روپے میں بیچ دیا جائے اور طے کیا جائے کہ اگر بیچنے والا مقررہ مدت تک رقم واپس کر دے تو سودا فسخ کر سکتا ہے تو اگر خریدار اور بیچنے والا خرید و فروخت کی نیت رکھتے ہوں تو سودا صحیح ہے۔

۲۱۳۵۔ مشروط خریدوفرخت میں اگر بیچنے والے کو اطمینان ہو کہ خریدار مقررہ مدت میں رقم ادا نہ کر سکنے کی صورت میں مال اسے واپس کر دے گا تو سودا صحیح ہے لیکن اگر وہ مدت ختم ہونے تک رقم ادا نہ کر سکے تو وہ خریدار سے مال کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اگر خریدار مر جائے تو اس کے ورثاء سے مال کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

۲۱۳۶۔ اگر کوئی شخص عمدہ چائے میں گھٹیا چائے کہ ملاوٹ کرکے عمدہ چائے کے طور پر بیچے تو خریدار سودا فتح کر سکتا ہے۔

۲۱۳۷۔ اگر خریدار کو پتا چلے کہ جو مُعَیَّن مال اس نے خریدا ہے وہ عیب دار ہے مثلاً ایک جانور خریدے اور (خریدنے کے بعد) اسے پتا چلے کہ اس کی ایک آنکھ نہیں ہے لہذا اگر یہ عیب مال میں سودے سے پہلے تھا اور اسے علم نہیں تھا تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے اور مال بیچنے والے کو واپس کر سکتا ہے اور اگر واپس کرنا ممکن نہ ہو مثلاً اس مال میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہو یا ایسا تصرف کر لیا گیا ہو جو واپسی میں رکاوٹ بن رہا ہو تو اس صورت میں وہ بے عیب اور عیب دار مال کی قیمت کے فرق کا حساب کرکے بیچنے والے سے (فرق کی) رقم واپس لے لے مثلاً اگر س نے کوئی مال چار روپے میں خریدار ہو اور اسے اس کے عیب دار ہونے کا علم ہو جائے تو اگر ایسا ہی بے عیب مال (بازار میں) آٹھ روپے کا اور عیب دار چھ روپے کا ہو تو چونکہ بے عیب اور عیب دار کی قیمت کا فرق ایک چوتھائی ہے اس لئے اس نے جتنی رقم دی ہے اس کا ایک چوتھائی یعنی ایک روپیہ بیچنے والے سے واپس لے سکتا ہے۔

۲۱۳۸۔ اگر بیچنے والے کو پتا چلے کہ اس نے جس معین عوض کے بدلے اپنا مال بیچا ہے اس میں عیب ہے تو اگر وہ عیب اس عوض میں سودے سے پہلے موجود تھا اور اسے علم نہ ہوا ہو تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے اور وہ عوض اس کے مالک کو واپس کر سکتا ہے لیکن اگر تبدیلی یا تصرف کی وجہ سے واپس نہ کر سکے تو بے عیب اور عیب دار کی قیمت کا فرق اس قاعدے کے مطابق لے سکتا ہے جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں کیا گیا ہے۔

۲۱۳۹۔ اگر سودا کرنے کے بعد اور قبضہ دینے سے پہلے مال میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے نیز جو چیز مال کے عوض دی جائے اگر اس میں سودا کرنے کے بعد اور قبضہ دینے سے پہلے کوئی عیب پیدا ہو جائے تو بیچنے والا سودا فسخ کر سکتا ہے اور اگر فریقین قیمت کا فرق لینا چاہیں تو سودا طے نہ ہونے کی صورت میں چیز کو لوٹانا جائز ہے۔

۲۱۴۰۔ اگر کسی شخص کو مال کے عیب کا علم سودا کرنے کے بعد ہو تو اگر وہ (سودا ختم کرنا) چاہے تو ضروری ہے کہ فوراً سودے کو ختم کردے اور ۔ اختلاف کی صورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔ اگر معمول سے زیادہ تاخیر کرے تو وہ سودے کو ختم نہیں کر سکتا۔

۲۱۴۱۔ جب کسی شخص کو کوئی جنس خریدنے کے بعد اس کے عیب کا پتا چلے تو خواہ بیچنے والا اس پر تیار نہ بھی ہو خریدار سودا فسخ کر سکتا ہے اور دوسرے خیارات کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۲۱۴۲۔ چار صورتوں میں خریدار مال میں عیب ہونے کی بنا پر سودا فسخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی قیمت کا فرق لے سکتا ہے۔

۱۔ خریدتے وقت مال کے عیب سے واقف ہو۔

۲۔ مال کے عیب کو قبول کرے۔

۳۔ سودا کرتے وقت کہے : "اگر مال میں عیب ہو تب بھی واپس نہیں کروں گا اور قیمت کا فرق بھی نہیں لوں گا"۔

۴۔ سودے کے وقت بیچنے والا کہے" میں اس مال کو جو عیب بھی اس میں ہے اس کے ساتھ بیچتا ہوں"لیکن اگر وہ ایک عیب کا تعین کر دے اور کہے"میں اس مال کو فلاں عیب کے ساتھ بیچ رہا ہوں" اور بعد میں معلوم ہو کہ مال میں کوئی دوسرا عیب بھی ہے تو جو عیب بیچنے والے نے معین نہ کیا ہو اس کی بنا پر خریدار وہ مال واپس کرسکتا ہے اور اگر واپس نہ کرسکے تو قیمت کا فرق لے سکتا ہے۔

۲۱۴۳۔ اگر خریدار کو معلوم ہو کہ مال میں ایک عیب ہے اور اسے وصول کرنے کے بعد اس میں کوئی اور عیب نکل آئے تو وہ سودا فسخ نہیں کرسکتا لیکن بے عیب اور عیب دار مال کا فرق لے سکتا ہے لیکن اگر وہ عیب دار حیوان خریدے اور خیار کی مدت جو کہ تین دن ہے گزرنے سے پہلے اس حیوان میں کسی اور عیب کا پتا چل جائے تو گو خریدار نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہو پھر بھی وہ اسے واپس کر سکتا ہے۔ نیز اگر فقط خریدار کو کچھ مدت تک سودا فسخ کرنے کا حق حاصل ہو اور اس مدت کے دوران مال میں کوئی دوسرا عیب نکل آئے تو اگرچہ خریدار نے وہ مال اپنی تحویل میں لے لیا ہو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔

۲۱۴۴۔ اگر کسی شخص کے پاس ایسا مال ہو جسے اس نے بچشم خود نہ دیکھا ہو اور کسی دوسرے شخص نے مال کی خصوصیات اسے بتائی ہوں اور وہی خصوصیات خریدار کو بتائے اور وہ مال اس کے ہاتھ بیچ دے اور بعد میں اسے (یعنی مالک کو) پتا چلے کہ وہ مال اس سے بہتر خصوصیات کا حامل ہے تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔

متفرق مسائل


۲۱۴۵۔ اگر بیچنے والا خریدار کو کسی جنس کی قیمت خرید بتائے تو ضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں بھی اسے بتائے جن کی وجہ سے مال کی قیمت گھٹتی بڑھتی ہے اگرچہ اسی قیمت پر (جس پر خریدار ہے) یا اس سے بھی کم قیمت پر بیچے۔ مثلاً اسے بتاتا ضروری ہے کہ مال نقد خریدا ہے یا ادھار لہذا اگر مال کی کچھ خصوصیات نہ بتائے اور خریدار کو بعد میں معلوم ہو تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔

۲۱۴۶۔ اگر انسان کوئی جنس کسی کو دے اور اس کی قیمت معین کر دے اور کہے "یہ جنس اس قیمت پر بیچو اور اس سے زیادہ جتنی قیمت وصول کرو گے وہ تمہاری محنت کی اجرت ہوگی" تو اس صورت میں وہ شخص اس قیمت سے زیادہ جتنی قیمت بھی وصول کرے وہ جنس کے مالک کامال ہوگا اور بیچنے والا مالک سے فقط محنتانہ لے سکتا ہے لیکن اگر معاہدہ بطور جعالہ ہو اور مال کا مالک کہے کہ اگر تو نے یہ جنس اس قیمت سے زیادہ پر بیچی تو فاضل آمدنی تیرا مال ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

۲۱۴۷۔ اگر قصاب نر جانور کا گوشت کہہ کر مادہ کا گوشت بیچے تو وہ گنہگار ہوگالہذا اگر وہ اس گوشت کا معین کر دے اور کہے کہ میں یہ نر جانور کا گوشت بیچ رہا ہوں تو خریدار سودا فسخ کرسکتا ہے اور اگر قصاب اس گوشت کو معین نہ کرے اور خریدار کو جو گوشت ملا ہو (یعنی مادہ کا گوشت) وہ اس پر راضی نہ ہو تو ضروری ہے کہ قصاب اسے نر جانور کا گوشت دے۔

۲۱۴۸۔ اگر خریدار بزاز سے کہے کہ مجھے ایسا کپڑا چاہئے جس کا رنگ کچا نہ ہو اور بزاز ایک ایسا کپڑا اس کے ہاتھ فروخت کرے جس کا رنگ کچا ہو تو خریدار سودا فسخ کر سکتا ہے۔

۲۱۴۹۔ لین دین میں قسم کھانا اگر سچی ہو تو مکروہ ہے اور اگر جھوٹی ہو تو حرام ہے۔

شراکت کے احکام


۲۱۵۰۔ دو آدمی اگر باہم طے کریں کہ اپنے مشترک مال سے بیوپار کرکے جو کچھ نفع کمائیں گے اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے اور وہ عربی یا کسی اور زبان میں شراکت کا صیغہ پڑھیں یا کوئی ایسا کام کریں جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ ایک دوسرے کے شریک بننا چاہتے ہیں تو ان کی شراکت صحیح ہے۔

۲۱۵۱۔ اگر چند اشخاص اس مزدوری میں جو وہ اپنی محنت سے حاصل کرتے ہوں ایک دوسرے کے ساتھ شراکت کریں مثلاً چند حجام آپس میں طے کریں کہ جو اجرت حاصل ہوگی اسے آپس میں تقسیم کر لیں گے تو ان کی شراکت صحیح نہیں ہے۔ لیکن اگر باہم طے کر لیں کہ مثلاً ہر ایک آدھی مزدوری معین مدت تک کے لئے دوسرے کی آدھی مزدوری کے بدلے میں ہوگی تو معاملہ صحیح ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی مزدوری میں شریک ہوگا۔

۲۱۵۲۔ اگر وہ اشخاص آپس میں اس طرح شراکت کریں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی ذمے داری پر جنس خریدے اور اس کی قیمت کی ادائیگی کا بھی خود ذمے دار ہو لیکن جو جنس انہوں نے خریدی ہو اس کے نفع میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں تو ایسی شراکت صحیح نہیں، البتہ اگر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنا وکیل بنائے کہ جو کچھ وہ ادھار لے رہا ہے اس میں اسے شریک کر لے یعنی جنس کو اپنے اور اپنے حصہ دار کے لئے خریدے۔ جس کی بنا پر دونوں مقروض ہوجائیں تو دونوں میں سے ہر ایک جنس میں شریک ہو جائے گا۔

۲۱۵۳۔ جو اشخاص شراکت کے ذریعے ایک دوسرے کے شریک کار بن جائیں ان کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہوں نیز یہ کہ ارادے اور اختیار کے ساتھ شراکت کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کر سکتے ہوں لہذا چونکہ سفیہ ۔ جو اپنا بال احمقانہ اور فضول کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ اپنے مال میں تصرف کا حق نہیں رکھتا اگر وہ کسی کے ساتھ شراکت کرے تو صحیح نہیں ہے۔

۲۱۵۴۔ اگر شراکت کے معاہدے میں یہ شرط لگائی جائے کہ جو شخص کام کرے گا یا جو دوسرے شریک سے زیادہ حصہ ملے گا تو ضروری ہے کہ جیسا طے کیا گیا ہو متعلقہ شخص کو اس کے مطابق دیں اور اسی طرح اگر شرط لگائی جائے کہ جو شخص کام نہیں کرے گا یا زیادہ کام نہیں کرے گا یا جس کے کام کی دوسرے کے کام کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں ہے اسے منافع کا زیادہ حصہ ملے گا تب بھی شرط صحیح ہے اور جیسا طے کیا گیا ہو متعلقہ شخص کو اس کے مطابق دیں۔

۲۱۵۵۔اگر شرکاء طے کریں کہ سارا منافع کسی ایک شخص کا ہوگا یا سار نقصان کسی ایک کو برداشت کرنا ہوگا تو شراکت صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

۲۱۵۶۔ اگر شرکاء یہ طے نہ کریں کہ کسی ایک شریک کو زیادہ منافع ملے گا تو اگر ان میں سے ہر ایک کا سرمایہ ایک جتنا ہو تو نفع نقصان بھی ان کے مابین برابر تقسیم ہوگا اور ان کا سرمایہ برابر برابر نہ ہو تو ضروری ہے کہ نفع نقصان سرمائے کی نسبت سے تقسیم کریں مثلاً اگر دو افراد شراکت کریں اور ایک کا سرمایہ دوسرے کے سرمائے سے دُگنا ہو تو نفع نقصان میں بھی اس کا حصہ دوسرے سے دگنا ہوگا خواہ دونوں ایک جتنا کام کریں یا ایک تھوڑا کام کرے یا بالکل کام نہ کرے۔

۲۱۵۷۔ اگر شراکت کے معاہدے میں یہ طے کیا جائے کہ دونوں شریک مل کر خریدوفروخت کریں گے یا ہر ایک انفرادی طور پر لین دین کرنے کا مجاز ہوگا یا ان میں سے فقط ایک شخص لین دین کرے گا یا تیسرا شخص اجرت پر لین دین کرے گا تو ضروری ہے کہ اس معاہدے پر عمل کریں۔

۲۱۵۸۔ اگر شرکاء یہ معین نہ کریں کہ ان میں سے کون سرمائے کے ساتھ خریدوفروخت کرے گا تو ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی اجازت کے بغیر اس سرمائے سے لین دین نہیں کر سکتا۔

۲۱۵۹۔ جو شریک شراکت کے سرمائے پر اختیار رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ شراکت کے معاہدے پر عمل کرے مثلاً اگر اس سے طے کیا گیا ہو کہ ادھار خریدے گا یا نقد بیچے گا یا کسی خاص جگہ سے خریدے گا تو جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے اور اگر اسکے ساتھ کچھ طے نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ معمول کے مطابق لین دین کرے تاکہ شراکت کو نقصان نہ ہو۔ نیز اگر عام روش کے عَلَی الرَّغم ہو تو سفر میں شراکت کا مال اپنے ہمراہ نہ لے جائے۔

۲۱۶۰۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے سودے کرتا ہو اگر جو کچھ اس کے ساتھ طے کیا گیا ہو اس کے برخلاف خریدوفروخت کرے یا اگر کچھ طے نہ کیا گیا ہو اور معمول کے خلاف سودا کرے تو ان دونوں صورتوں میں اگرچہ اقوی قول کی بنا پر معاملہ صحیح ہے لیکن اگر معاملہ نقصان دہ ہو یا شراکت کے مال میں سے کچھ مال ضائع ہو جائے تو جس شریک نے معاہدے یا عام روش کے عَلَی الَّرغم عمل کیا ہو وہ ذمے دار ہے۔

۲۱۶۱۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے کاروبار کرتا ہو اگر وہ فضول خرچی نہ کرے اور سرمائے کی نگہداشت میں بھی کوتاہی نہ کرے اور پھر اتفاقاً اس سرمائے کی کچھ مقدار یا سارے کا سار سرمایہ تلف ہوجائے تو وہ ذمے دار نہیں ہے۔

۲۱۶۲۔ جو شریک شراکت کے سرمائے سے کاروبار کرتا ہو اگر وہ کہے کہ سرمایہ تلف ہوگیا ہے تو اگر وہ دوسرے شرکاء کے نزدیک معتبر شخص ہو تو ضروری ہے کہ اس کا کہنا لیں۔ اور اگر دوسرے شرکاء کے نزدیک وہ معتبر شخص نہ ہو تو شرکاء حاکم شرع کے پاس اس کے خلاف دعوی کر سکتے ہیں تاکہ حاکم شرع قضاوت کے اصولوں کے مطابق تنازع کا فیصلہ کرے۔

۲۱۶۳۔ اگر تمام شریک اس اجازت سے جو انہوں نے ایک دوسرے کو مال میں تصرف کے لئے دے رکھی ہو پھر جائیں تو ان میں سے کوئی بھی شراکت کے مال میں تصرف نہیں کر سکتا اور اگر ان میں سے ایک اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر جائے تو دوسرے شرکاء کو تصرف کا کوئی حق نہیں لیکن جو شخص اپنی دی ہوئی اجازت سے پھر گیا ہو وہ شراکت کے مال میں تصرف کر سکتا ہے۔

۲۱۶۴۔ جب شرکاء میں سے کوئی ایک تقاضا کرے کہ شراکت کا سرمایہ تقسیم کر دیا جائے تو اگرچہ شراکت کی معینہ مدت میں ابھی کچھ وقت باقی ہو دوسروں کو اس کا کہنا مان لینا ضروری ہے مگر یہ کہ انہوں نے پہلے ہی (معاہدہ کرتے وقت) سرمائے کی تقسیم کو رد کر دیا ہو (یعنی قبول نہ کیا ہو) یا مال کی تقسیم شرکاء کے لئے قابل ذکر نقصان کا موجب ہو (تو اسکی بات قبول نہیں کرنی چاہئے)۔

۲۱۶۵۔ اگر شرکاء میں سے کوئی مرجائے یا دیوانہ یا بے حواس ہو جائے تو دوسرے شرکاء شراکت کے مال میں تصرف نہیں کرسکتے اور اگر ان میں سے کوئی سفیہ ہو جائے یعنی اپنا مال احمقانہ اور فضول کاموں میں خرچ کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

۲۱۶۶۔ اگر شریک اپنے لئے کوئی چیز ادھار خریدے تو اس نفع نقصان کا وہ خود ذمے دار ہے لیکن اگر شراکت کےلئے خریدے اور شراکت کے معاہدے میں ادھار معاملہ کرنا بھی شامل ہو تو پھر نفع نقصان میں دونوں شریک ہوں گے۔

۲۱۶۷۔ اگر شراکت کے سرمائے سے کوئی معاملہ کیا جائے اور بعد میں معلوم ہو کہ شراکت باطل تھی تو اگر صورت یہ ہو کہ معاملہ کرنے کی اجازت میں شراکت کے صحیح ہونے کی قید نہ تھی یعنی اگر شرکاء جانتے ہوتے کہ شراکت درست نہیں ہے تب بھی وہ ایک دوسرے کے مال میں تصرف پر راضی ہوتے تو معاملہ صحیح ہے اور جو کچھ اس معاملے سے حاصل ہو وہ ان سب کا مال ہے۔ اور اگر صورت یہ نہ ہو تو جو لوگ دوسروں کے تصرف پر راضی نہ ہوں اگر وہ یہ کہہ دیں کہ ہم اس معاملے پر راضی ہیں تو معاملہ صحیح ہے۔ ورنہ باطل ہے۔ دونوں صورتوں میں ان میں سے جس نے بھی شراکت کے لئے کام کیا ہو اگر اس نے بلامعاوضہ کام کرنے کے ارادے سے نہ کیا ہو تو وہ اپنی محنت کا معاوضہ معمول کےمطابق دوسرے شرکاء سے ان کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے لے سکتا ہے۔ لیکن اگر کام کرنے کا معاوضہ اس فائدہ کی مقدار سے زیادہ ہو جو وہ شراکت صحیح ہونے کی صورت میں لیتا تو وہ بس اسی قدر فائدہ لے سکتا ہے۔

صلح کے احکام


۲۱۶۸۔ "صُلح" سے مراد ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرے کہ اپنے مال سے یا اپنے مال کےمنافع سے کچھ مقدار دوسرے کو دے دے یا اپنا قرض یا حق چھوڑے دے تاکہ دوسرا بھی اس کے عوض اپنے مال یا منافع کی کچھ مقدار اسے دے دے یا قرض یا حق سے دستبردار ہو جائے۔ بلکہ اگر کوئی شخص عوض لئے بغیر کسی سے اتفاق کرے اور اپنا مال یا مال کے منافع کی کچھ مقدار اس کو دے دے یا اپنا قرض یا حق چھوڑ دے تب بھی صلح صحیح ہے۔

۲۱۶۹۔ جو شخص اپنا مال بطور صلح دوسرے کو دے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بالغ اور عاقل ہو اور صلح کا قصد رکھتا ہو نیز یہ کہ کسی نے اسے صلح پر مجبور نہ کیا ہو اور ضروری ہے کہ سَفیہ یا دیوالیہ ہونے کی بنا پر اسے اپنے مال میں تصرف کرنے سے نہ روکا گیا ہو۔

۶۱۷۰۔ صلح کا صیغہ عربی میں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ جن الفاظ سے اس بات کا اظہار ہو کہ فریقین نے آپس میں صلح کی ہے (توصلح) صحیح ہے۔

۲۱۷۱۔اگر کوئی شخص اپنی بھیڑیں چرواہے کودے تاکہ وہ مثلاً ایک سال ان کی نگہداشت کرے یا انکے دودھ سے خود استفادہ حاصل کرے اور گھی کی کچھ مقدار مالک کو دے تو اگر چرواہے کی محنت اور اس گھی کے مقابلے میں وہ شخص بھیڑوں کے دودھ پر صلے کرے تو معاملہ صحیح ہے بلکہ اگر بھیڑیں چرواہے کو ایک سال کے لئے اس شرط کے ساتھ اجارے پر دے کہ وہ ان کے دودھ سے استفادہ حاصل کرے اور اس کے عوض اسے کچھ گھی دے مگر یہ قید نہ لگائے کہ بالخصوص انھی بھیڑوں کے دودھ کا گھی ہو تو اجارہ صحیح ہے۔

۲۱۷۲۔ اگر کوئی قرض خواہ اس قرض کے بدلے جو اسے مقروض سے وصول کرنا ہے یا اپنے حق کے بدلے اس شخص سے صلح کرنا چاہے تو یہ صلح اس صورت میں صحیح ہے جب دوسرا اسے قبول کرلے لیکن اگر کوئی شخص اپنے قرض یا حق سے دستبردار ہونا چاہے تو دوسرے کا قبول کرنا ضروری نہیں۔

۲۱۷۳۔ اگر مقروض اپنے قرضے کی مقدار جانتا ہو جبکہ قرض خواہ کو علم نہ ہو اور قرض خواہ نے جو کچھ لینا ہو اس سے کم پر صلح کرے مثلا اس نے پچاس روپے لینے ہوں اور دس روپے پر صلح کرلے تو باقیماندہ رقم مقروض کے لئے حلال نہیں ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ جتنے قرض کا دین دار ہے اس کے متعلق خود قرض خواہ کو بتائے اور اسے راضی کرے یا صورت ایسی ہو کہ اگر قرض خواہ کو قرضے کی مقدار کا علم ہو تاتب بھی وہ اسی مقدار (یعنی دس روپے پر صلح کر لیتا۔

۲۱۷۴۔ اگر دو آدمیوں کے پاس کوئی مال موجود ہو یا ایک دوسرے کے ذمے کوئی مال باقی ہو اور انہیں یہ علم ہو کہ ان دونوں اموال میں سے ایک مال دوسرے مال سے زیادہ ہے تو چونکہ ان دونوں اموال کو ایک دوسرے کے عوض میں فروخت کرنا سود ہونے کی بنا پر حرام ہے اس لئے ان دونوں میں ایک دوسرے کے عوض صلح کرنا بھی حرام ہے بلکہ اگر ان دونوں اموال میں سے ایک کے دوسرے سے زیادہ ہونے کا علم نہ بھی ہو لیکن زیادہ ہونے کا احتمال ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ان دونوں میں ایک دوسرے کے عوض صلح نہیں کی جاسکتی۔

۲۱۷۵۔ اگر دو اشخاص کو ایک شخص سے یا دو اشخاص کو اشخاص سے قرضہ وصول کرنا ہو اور وہ اپنی اپنی طلب پر ایک دوسرے سے صلح کرنا چاہتے ہوں۔ چنانچہ اگر صلح کرنا سود کا باعث نہ ہو جیسا کہ سابقہ مسئلے میں کہا گیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے مثلاً اگر دونوں کو دس من گیہوں وصول کرنا ہو اور ایک کا گیہوں اعلی اور دوسرے کا درمیانے درجے کا ہو اور دونوں کی مدت پوری ہوچکی ہو تو ان دونوں کا آپس میں مصالحت کرنا صحیح ہے۔

۲۱۷۶۔ اگر ایک شخص کو کسی سے اپنا قرضہ کچھ مدت کے بعد واپس لینا ہو اور وہ مقروض کے ساتھ مقررہ مدت سے پہلے معین مقدار سے کم پر صلح کرلے اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اپنے قرضے کا کچھ حصہ معاف کردے اور باقیماندہ نقد لے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ حکم اس صورت میں ہے کہ قرضہ سونے یا چاندی کی شکل میں یا کسی ایسی جنس کی شکل میں ہو جو ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی ہے اور اگر جنس اس قسم کی نہ ہو تو قرض خواہ کے لئے جائز ہے کہ اپنے قرضے کو مقروض سے یا کسی اور شخص سے کمتر مقدار پر صلح کرلے یا بیچ دے جیسا کہ مسئلہ ۲۲۹۷ میں بیان ہوگا۔

۲۱۷۷۔ اگر دو اشخاص کسی چیز پر آپس میں صلح کرلیں تو ایک دوسرے کی رضامندی سے اس صلح کو توڑ سکتے ہیں۔ نیز اگر سودے کے سلسلے میں دونوں کو یا کسی ایک کو سودا فسخ کرنے کا حق دیا گیا ہو تو جس کے پاس حق ہے، وہ صلح کو فسخ کر سکتا ہے۔

۲۱۷۸۔ جب تک خریدار اور بیچنے والا ایک دوسرے سے جدا نہ ہوگئے ہوں وہ سودے کو فسخ کرسکتے ہیں۔ نیز اگر خریدار ایک جانور خریدے تو وہ تین دن تک سودا فسخ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک خریدار خریدی ہوئی جنس کی قیمت تین دن تک ادا نہ کرے اور جنس کو اپنی تحویل میں نہ لے تو جیسا کہ مسئلہ ۲۱۳۲ میں بیان ہوچکا ہے بیچنے والا سودے کو فسخ کرسکتا ہے لیکن جو شخص کسی مال پر صلح کرے وہ ان تینوں صورتوں میں صلح فسخ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ لیکن اگر صلح کا دوسرا فریق مصالحت کا مال دینے میں غیر معمولی تاخیر کرے یا یہ شرط رکھی گئی ہو کہ مصالحت کا مال نقد دیا جائے اور دوسرا فریق اس شرط پر عمل نہ کرے تو اس صورت میں صلح فسخ کی جاسکتی ہے۔ اور اسی طرح باقی صورتوں میں بھی جن کا ذکر خرید و فروخت کے احکام میں آیا ہے صلح فسخ کی جاسکتی ہے مگر مصالحت کے دونوں فریقوں میں سے ایک کو نقصان ہو تو اس صورت میں معلوم نہیں کہ سودا فسخ کیا جاسکتا ہے (یانہیں)

۲۱۷۹۔ جو چیز بذریعہ صلح ملے اگر وہ عیب دار ہو تو صلح فسخ کی جاسکتی ہے لیکن اگر متعلقہ شخص بے عیب اور عیب دار کے مابین قیمت کا فرق لینا چاہے تو اس میں اشکال ہے۔

۲۱۸۰۔ اگر کوئی شخص اپنے مال کے ذریعے دوسرے سے صلح کرے اور اس کے ساتھ شرط ٹھہرائے اور کہے "جس چیز میں نے تم سے صلح کی ہے میرے مرنے کے بعد مثلاً تم اسے وقف کر دو گے" اور دوسرا شخص بھی اس کو قبول کرلے تو ضروری ہے کہ اس شرط پر عمل کرے۔

کرائے کے احکام


۲۱۸۱۔ کوئی چیز کرائے پر دینے والے اور کرائے پر لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہون اور کرایہ لینے یا کرایہ دینے کا کام اپنے اختیاط سے کریں۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے مال میں تصرف کا حق رکھتے ہوں لہذا چونکہ سَفِیہ اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا اس لئے نہ وہ کوئی چیز کرائے پر لے سکتا ہے اور نہ دے سکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص دیوالیہ ہو چکا ہو وہ ان چیزوں کو کرائے پر نہیں دے سکتا جن میں وہ تصرف کا حق نہ رکھتا ہو اور نہ وہ ان میں سے کوئی چیز کرائے پر لے سکتا ہے لیکن اپنی خدمات کو کرائے پر پیش کر سکتا ہے۔

۲۱۸۲۔ انسان دوسرے کی طرف سے وکیل بن کر اس کا مال کرائے پر دے سکتا ہے یا کوئی مال اس کے لئے کرائے پر لے سکتا ہے۔

۲۱۸۳۔ اگر بچے کا سرپرست یا اس کے مال کا منتظم بچے کا مال کرائے پر دے یا بچے کو کسی کا اجیر مقرر کر دے تو کوئی حرج نہیں اور اگر بچے کے بالغ ہونے کے بعد کی کچھ مدت کو بھی اجارے کی مدت کا حصہ قرار دیا جائے تو بچہ بالغ ہونے کے بعد باقیماندہ اجارہ فسخ کرسکتا ہے اگرچہ صورت یہ ہو کہ اگر بچے کے بالغ ہونے کی کچھ مدت کو اجارہ کی مدت کا حصہ نہ بنایا جاتا تو یہ بچے کے لئے مصلحت کے علی الرغم ہوتا۔ ہاں اگر وہ مصلحت کہ جس کے بارے میں یہ علم ہو کہ شارع مُقدس اس مصلحت کو ترک کرنے پر راضی نہیں ہے اس صورت میں اگر حاکم شرع کی اجازت سے اجارہ وقع ہو جائے تو بچہ بالغ ہونے کے بعد اجارہ فسخ نہیں کرسکتا۔

۲۱۸۴۔ جس نابالغ بچے کا سرپرست نہ ہو اسے مجتہد کی اجازت کے بغیر مزدوری پر نہیں لگایا جاسکتا اور جس شخص کی رسائی مجتہد تک نہ ہو وہ ایک مومن شخص کی اجازت لے کر جو عادل ہو بچے کو مزدوری پر لگا سکتا ہے۔

۲۱۷۵۔ اجارہ دینے والے اور اجارہ لینے والے کے لئے ضروری نہیں کہ صیغہ عربی زبان میں پڑھیں بلکہ اگر کسی چیز کا مالک دوسرے سے کہے کہ میں نے اپنا مال تمہیں اجارے پر دیا اور دوسرا کہے کہ میں نے قبول کیا تو اجارہ صحیح ہے بلکہ اگر وہ منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور مالک اپنا مال اجارے کے قصد سے مُستاجِر کو دے اور وہ بھی اجارے کے قصد سے لے تو اجارہ صحیح ہوگا۔

۲۱۸۶۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ اجارے کا صیغہ پڑھے بغیر کوئی کام کرنے کے لئے اجیر بن جائے جونہی وہ کام کرے میں مشغول ہوگا اجارہ صحیح ہوجائے گا۔

۲۱۸۷۔ جو شخص بول نہ سکتا ہو اگر وہ اشارے سے سمجھا دے کہ اس نے کوئی چیز اجارے پر دی ہے یا اجارے پرلی ہے تو اجارہ صحیح ہے۔

۲۱۸۸۔ اگر کوئی شخص مکان یا دکان یا کشتی یا کمرہ اجارے پر لے اور اس کا مالک یہ شرط لگائے کہ صرف وہ اس سے استفادہ کر سکتا ہے تو مُستَاجِر اسے کسی دوسرے کو استعمال کے لئے اجارے پر نہیں دے سکتا بجز اس کے کہ وہ نیا اجارہ اس طرح ہو کہ اس کے فوائد بھی خود مستاجر سے مخصوص ہوں۔ مثلاً ایک عورت ایک مکان یا کمرہ کرائے پر لے اور بعد میں شادی کرلے اور کمرہ یا مکان اپنی رہائش کے لئے کرائے پر دے دے (یعنی شوہر کو کرائے پر دے کیونکہ بیوی کی رہائش کا انتظام بھی شوہر کی ذمے داری ہے) اور اگر مالک ایسی کوئی شرط نہ لگائے تو مستاجر دوم کے سپرد کرنے کے لئے احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ مالک سے اجازت لے لے لیکن اگر وہ یہ چاہے کہ جتنے کرائے پر لیا ہے اس سے زیادہ کرائے پردے اگرچہ (کرایہ رقم نہ ہو) دوسری جنس سے ہو تو ضروری ہے کہ اس نے مرمت اور سفیدی وغیرہ کرائی ہو یا اس کی حفاظت کے لئے کچھ نقصان برادشت کیا ہو تو وہ اسے زیادہ کرائے پر دے سکتا ہے۔

۲۱۸۹۔ اگر اجیر مُستَاجر سے یہ شرط طے کرے کہ وہ فقط اسی کا کام کرے گا تو بجز اس صورت کے جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں کیا گیا ہے اس اجیر کو کسی دوسرے شخص کو بطور اجارہ نہیں دیا جاسکتا اور اگر اجیر ایسی کوئی شرط نہ لگائے تو اسے دوسرے کو اجارے پر دے سکتا ہے لیکن جو چیز اس کو اجارے پر دے رہا ہے ضروری ہے کہ اس کی قیمت اس اجارے سے زیادہ نہ ہو جو اجیر کے لئے قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح اگر کوئی شخص خود کسی کا اجیر بن جائے اور کسی دوسرے شخص کو وہ کام کرنے کے لئے کم اجرت پر رکھ لے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے (یعنی وہ اسے کم اجرت پر نہیں رکھ سکتا) لیکن اگر اس نے کام کی کچھ مقدار خود انجام دی ہو تو پھر دوسرے کو کم اجرت پر بھی رکھ سکتا ہے۔

۲۱۹۰۔ اگر کوئی شخص مکان دکان، کمرے اور کشتی کے علاوہ کوئی اور چیز مثلاً زمین کرائے پرلے اور زمین کا مالک اس سے یہ شرط نہ کرے کہ صرف وہی اس سے استفادہ کرسکتا ہے تو اگر جتنے کرائے پر اس نے وہ چیز لی ہے اس سے زیادہ کرائے پر دے تو اجارہ صحیح ہونے میں اشکال ہے۔

۲۱۹۱۔ اگر کوئی شخص مکان یا دکان مثلاً ایک سال کے لئے سو روپیہ کرائے پر لے اور اس کا آدھا حصہ خود استعمال کرے تو دوسرا حصہ سو روپیہ کرائے پر چڑھا سکتا ہے لیکن اگر وہ چاہے کہ مکان یا دکان کا آدھا حصہ اس سے زیادہ کرائے پر چڑھا دے جس پر اس نے خود وہ دکان یا مکان کرائے پر لیا ہے مثلاً ۱۲۰ روپے کرائے پر دے دے تو ضروری ہے کہ اس نے اس میں مرمت وغیرہ کا کام کرایا ہو۔

کرائے پر دیئے جانے والے مال کی شرائط


۲۱۹۲۔ جو مال اجارے پر دیا جائے اس کی چند شرائط ہیں :

۱۔ وہ مال معین ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے اپنے مکانات میں سے ایک مکان تمہیں کرائے پر دیا تو یہ درست نہیں ہے۔

۲۔ مستاجر یعنی کرائے پر لینے والا اس مال کو دیک لے یا اجارے پر دینے والا شخص اپنے مال کی خصوصیات اس طرح بیان کرے کہ اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوجائیں۔

۳۔ اجارے پر دیئے جانے والے مال کو دوسرے فریق کے سپرد کرنا ممکن ہو لہذا اس گھوڑے کو اجارے پر دینا جو بھاگ گیا ہو اگر مستاجر اس کو نہ پکڑ سکے تو اجارہ باطل ہے اور اگر پکڑ سکے تو اجارہ صحیح ہے۔

۴۔ اس مال سے استفادہ کرنا اس کے ختم یا کالعدم ہوجانے پر موقوف نہ ہو لہذا روٹی، پھلوں اور دوسری خوردنی اشیاء کو کھانے کے لئے کرائے پر دینا صحیح نہیں ہے۔

۵۔ مال سے وہ فائدہ اٹھانا ممکن ہو جس کے لئے اسے کرائے پر دیا جائے۔ لہذا ایسی زمین کا زراعت کے لئے کرائے پر دینا جس کے لئے بارش کا پانی کافی نہ ہو اور وہ دریا کے پانی سے بھی سیراب نہ ہوتی ہو صحیح نہیں ہے۔

۶۔ جو چیز کرائے پر دی جارہی ہو وہ کرائے پردینے والے کا اپنا مال ہو اور اگرکسی دوسرے کا مال کرائے پر دیا جائے تو معاملہ اس صورت میں صحیح ہے کہ جب اس مال کا مالک رضامند ہو۔

۲۱۹۳۔ جس درخت میں ابھی پھل نہ لگا ہو اس کا اس مقصد سے کرائے پر دینا کہ اس کے پھل سے استفادہ کیا جائے گا درست ہے اور اسی طرح ایک جانور کو اس کے دودھ کے لئے کرائے پر دینے کا بھی یہی حکم ہے۔

۲۱۹۴۔ عورت اس مقصد کے لئے اجیر بن سکتی ہے کہ اس کے دودھ سے استفادہ کیا جائے (یعنی کسی دوسرے کے بچے کو اجرت پر دودھ پلاسکتی ہے) اور ضروری نہیں کہ وہ اس مقصد کے لئے شوہر سے اجازت لے لیکن اگر اس کے دودھ پلانے سے شوہر کی حق تلفی ہوتی ہو تو پھر اس کی اجازت کے بغیر عورت اجیر نہیں بن سکتی۔

کرائے پر دیئے جانے والے مال سے اِستِفَادے کی شرائط


۲۱۹۵۔ جس اِستِفَادے کے لئے مال کرائے پر دیا جاتا ہے اس کی چار شرطیں ہیں :

۱۔ استفادہ کرنا حلال ہو۔ لہذا دکان کو شراب بیچنے یا شراب ذخیرہ کرنے کے لئے کرائے پر دینا اور حیوان کو شراب کی نقل و حمل کے لئے کرائے پر دینا باطل ہے۔

۲۔وہ عمل شریعت میں بلامعاوضہ انجام دینا واجب نہ ہو۔ اور احتیاط کی بنا پر اسی قسم کے کاموں میں سے ہے حلال اور حرام کے مسائل سکھانا اور مردوں کی تجہیز و تکفین کرنا۔ لہذا ان کاموں کی اجرت لینا جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بنا پر معتبر ہے کہ اس استفادے کہ لئے رقم دینا لوگوں کی نظروں میں فضول نہ ہو۔

۳۔ جو چیز کرائے پر دی جائے اگر وہ کثِیرالفَوائد (اور کثیرُالمَقاصد) ہو تو جو فائدہ اٹھانے کی مستاجر کو اجازت ہو اسے معین کیا جائے مثلاً ایک ایسا جانور کرائے پر دیا جائے جس پر سوای بھی کی جا سکتی ہو اور مال بھی لادا جاسکتا ہو تو اسے کرائے پر دیتے وقت یہ معین کرنا ضروری ہے کہ مستاجر اسے فقط سواری کے مقصد کے لئے یا فقط بار برداری کے مقصد کے لئے استعمال کرسکتا ہےیا اس سے ہر طرح استفادہ کرسکتا ہے۔

۴۔ استفادہ کرنے کی مدت کا تعین کر لیا جائے۔ اور یہ استفادہ مدت معین کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے مثلاً مکان یا دکان کرائے پر دے کر یا کام کا تعین کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے مثلاً درزی کے ساتھ طے کر لیا جائے کہ وہ ایک معین لباس مخصوص ذیزائن میں سئے گا۔

۲۱۹۶۔ اگر اجارے کی شروعات کا تعین نہ کیا جائے تو اس کے شروع ہونے کا وقت اجارے کا صیغہ پڑھنے کے بعد سے ہوگا۔

۲۱۹۷۔ مثال کے طور پر اگر مکان ایک سال کے لئے کرائے پر دیا جائے اور معاہدے کی ابتدا کا وقت صیغہ پڑھنے سے ایک مہینہ بعد سے مقرر کیا جائے تو اجارہ صحیح ہے اگرچہ جب صیغہ پڑھا جارہا ہو وہ مکان کسی دوسرے کے پاس کرائے پرہو۔

۲۱۹۸۔ اگر اجارے کی مدت کا تعین نہ کیا جائے بلکہ کرائے دار سے کہا جائے کہ جب تک تم اس مکان میں رہو گے دس روپے ماہوار کرایہ دو گے تو اجارہ صحیح نہیں ہے۔

۲۱۹۹۔ اگرمالک مکان، کرائے دار سے کہے کہ میں نے تجھے یہ مکان دس روپے ماہوار کرائے پر دیا یا یہ کہے کہ یہ مکان میں نے تجھے ایک مہینے کے لئے دس روپے کرائے پر دیا اور اس کے بعد بھی تم جتنی مدت اس میں رہو گے اس کا کرایہ دس روپے ماہانہ ہوگا تو اس صورت میں جب اجارے کی مدت کی ابتدا کا تعین کر لیا جائے یا اس کی ابتدا کا علم ہو جائے تو پہلے مہینے کا اجارہ صحیح ہے۔

۲۲۰۰۔ جس مکان میں مسافر اور زائر قیام کرتے ہوں اور یہ علم نہ ہو کہ وہ کتنی مدت تک وہاں رہیں گے اگر وہ مالک مکان سے طے کر لیں کہ مثلاً ایک رات کا ایک روپیہ دیں گے اور مالک مکان اس پر راضی ہو جائے تو اس مکان سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن چونکہ اجارے کی مدت طے نہیں کی گئی لہذا پہلی رات کے علاوہ اجارہ صحیح نہیں ہے اور مالک مکان پہلی رات کے بعد جب بھی چاہے انہیں نکال سکتا ہے۔

کرائے کے متفرق مسائل


۲۲۰۱۔ جو مال مُستَاجِر اجارے کے طور پر دے رہا ہو ضروری ہے کہ وہ مال معلوم ہو۔ لہذا اگر ایسی چیزیں ہوں جن کالین دین تول کر کیا جاتا ہے مثلاً گیہوں تو ان کا وزن معلوم ہونا ضروری ہے اور اگر ایسی چیزیں ہوں جن کا لین دین گن کر کیا جاتا ہے مثلاً رائج الوقت سکے تو ضروری ہے کہ ان کی تعداد معین ہو اور اگر وہ چیزیں گھوڑے اور بھیڑ کی طرح ہوں تو ضروری ہے کہ کرایہ لینے والا انہیں دیکھ لے مستاجران کی خصوصیات بتادے۔

۲۲۰۲۔اگر زمین زراعت کے لئے کرائے پر دی جائے اور اس کی اجرت اسی زمین کی پیدوار قرار دی جائے جو اس وقت موجود نہ ہو یا کلی طور پر کوئی چیز اس کے ذمے قرار دے اس شرط پر کہ وہ اسی زمین کی پیداوار سے ادا کی جائے گی تو اجارہ صحیح نہیں ہے اور اگر اجرت (یعنی اس زمین کی پیداوار ) اجارہ کرتے وقت موجود ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔

۲۲۰۳۔ جس شخص نے کوئی چیز کرائے پر دی ہو وہ اس چیز کو کرایہ دار کی تحویل میں دینے سے پہلے کرایہ مانگنے کا حق نہیں رکھتا نیز اگر کوئی شخص کسی کام کے لئے اجیر بنا ہو تو جب تک وہ کام انجام نہ دے دے اجرات کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا مگر بعض صورتوں میں، مثلاً حج کی ادائیگی کے لئے اجیر جسے عموماً عمل کے انجام دینے سے پہلے اجرت دے دی جاتی ہے (اجرت کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتا ہے)۔

۲۲۰۴۔ اگر کوئی شخص کرائے پر دی گئی چیز کرایہ دار کی تحویل میں دے دے تو اگرچہ کرایہ دار اس چیز پر قبضہ نہ کرے یا قبضہ حاصل کرلے لیکن اجارہ ختم ہونے تک اس سے فائدہ نہ اٹھائے پھر بھی ضروری ہے کہ مالک کو اجرت ادا کرے۔

۲۲۰۵۔ اگر ایک شخص کوئی کام ایک معین دن میں انجام دینے کے لئے اجیر بن جائے اور اس دن وہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو جس شخص نے اسے اجیر بنایا ہے خواہ وہ اس دن اس سے کام نہ لے ضروری ہے کہ اس کی اجرت اسے دے دے۔ مثلاً اگر کسی درزی کو ایک معین دن لباس سینے کے لئے اجیر بنائے اور درزی اس دن کام کرنے پر تیار ہو تو اگرچہ مالک اسے سینے کے لئے کپڑا نہ دے تب بھی ضروری ہے کہ اسے اس کی مزدوری دے دے۔ قطع نظر اس سے کہ درزی بیکار رہا ہو اس نے اپنا یا کسی دوسرے کا کام کیا ہو۔

۲۲۰۶۔ اگر اجارے کی مدت ختم ہو جانے کے بعد معلوم ہو کہ اجارہ باطل تھا تو مستاجر کےلئے ضروری ہے کہ عام طور پر اس چیز کا جو کرایہ ہوتا ہے مال کے مالک کو دے دے مثلاً اگر وہ ایک مکان سو روپے کرائے پر ایک سال کے لئے لے اور بعد میں اسے پتا چلے کہ اجارہ باطل تھا تو اگر اس مکان کا کرایہ عام طور پر پچاس روپے ہو تو ضروری ہے کہ پچاس روپے دے اور اگر اس کا کرایہ عام طور پر دو سو روپے ہو تو اگر مکان کرایہ پر دینے والا مالک مکان ہو یا اس کا وکیل مطلق ہو اور عام طور پر گھر کے کرائے کی جو شرح ہو اسے جانتا ہو تو ضروری نہیں ہے کہ مستاجر سو روپے سے زیادہ دے اور اگر اس کے برعکس صورت میں ہو تو ضروری ہے مستاجر دو سو روپے دے نیز اگر اجارے کی کچھ مدت گزرنے کے بعد معلوم ہو کہ اجارہ باطل تھا تو جو مدت گزر چکی ہو اس پر بھی یہی حکم جاری ہوگا۔

۲۲۰۷۔ جس چیز کو اجارے پر لیا گیا ہو اگر وہ تلف ہو جائے اور مستاجر نے اس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ برتی ہو اور اسے غلط طور پر استمعال نہ کیا ہو تو (پھر وہ اس چیز کے تلف ہونے کا) ذمے دار نہیں ہے۔ اسی طرح مثال کے طور پر اگر درزی کو دیا گیا کپڑا تلف ہو جائے تو اگر درزی نے بے احتیاطی نہ کی ہو اور کپڑے کی نگہداشت میں بھی کوتاہی نہ برتی ہو تو ضروری ہے کہ وہ اس کا عوض اس سے طلب نہ کرے۔

۲۲۰۸۔ جو چیز کسی کاریگر نےلی ہو اگر وہ اسے ضائع کر دے تو (وہ اس کا ) ذمہ دار ہے۔

۲۲۰۹۔ اگر قصاب کسی جانور کا سر کاٹ ڈالے اور اسے حرام کر دے تو خواہ اس نے مزدوری لی ہو یا بلامعاوضہ ذبح کیا ہو ضروری ہے کہ جانور کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔

۲۲۱۰۔ اگر کوئی شخص ایک جانور کرائے پر لے اور معین کرے کہ کتنا بوجھ اس پر لادے گا تو اگر وہ اس پر مُعَیَّنَہ مقدار سے زیادہ بوجھ لادے اور اس وجہ سے جانور مرجائے یا عیب دار ہو جائے تو مستاجر ذمے دار ہے۔ نیز اگر اس نے بوجھ کی مقدار مُعَیَّن نہ کی ہو اور معمول سے زیادہ بوجھ جانور پر لادے اور جانور مر جائے یا عیب دار ہو جائے تب بھی مَستَاجِر ذمے دار ہے اور دونوں صورتوں میں مستاجر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ معمول سے زیادہ اجرت ادا کرے۔

۲۲۱۱۔ اگر کوئی شخص حیوان کو ایسا (نازک) سامان لادنے کے لئے کرائے پر دے جو ٹوٹنے والا ہو اور جانور پھسل جائے یا بھاگ کھڑا ہو اور سامان کو توڑ پھوڑ دے تو جانور کا مالک ذمے دار نہیں ہے۔ ہاں اگر مالک جانور کو معمول سے زیادہ مارے یا ایسی حرکت کرے جس کی وجہ سے جانور گر جائے اور لدا ہوا سامان توڑ دے تو مالک ذمے دار ہے۔

۲۲۱۲۔ اگر کوئی شخص بچے کا ختنہ کرے اور وہ اپنے کام میں کوتاہی یا غلطی کرے مثلاً اس نے معمول سے زیادہ (چمڑا) کاٹا ہو اور وہ بچہ مرجائے یا اس میں کوئی نقص پیدا ہوجائے تو وہ ذمے دار ہے اور اگر اس نے کوتاہی یا غلطی نہ کی ہو اور بچہ ختنہ کرنے سے ہی مرجائے یا اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے چنانچہ اس بات کی تشخیص کے لئے کہ بچے کے لئے نقصان دہ ہے یا نہیں اس کی طرف رجوع نہ کیا گیا ہو نیز وہ یہ بھی نہ جانتا ہو کہ بچے کو نقصان ہوگا تو اس صورت میں وہ ذمے دار نہیں ہے۔

۲۲۱۳۔اگر معالج اپنے ہاتھ سے کسی مریض کو دوا دے یا اس کے لئے دوا تیار کرنے کو کہے اور دوا کھانے کی وجہ سے مریض کو نقصان پہنچے یا وہ مر جائے تو معالج ذمہ دار ہے اگرچہ اس نے علاج کرنے میں کوتاہی نہ کی ہو۔

۲۲۱۴۔ جب معالج مریض سے کہہ دے اگر تمہیں کوئی ضرر پہنچا تو میں ذمے دار نہیں ہوں اور پوری احتیاط سے کام لے لیکن اس کے باوجود اگر مریض کو ضرر پہنچے یا وہ مرجائے تو معالج ذمے دار نہیں ہے۔

۲۲۱۵۔ کرائے پر لینے والا اور جس شخص نے کوئی چیز کرائے پر دی ہو، وہ ایک دوسرے کی رضامندی سے معاملہ فسخ کرسکتے ہیں اور اگر اجارے میں یہ شرط عائد کریں کہ وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک معاملے کو فسخ کرنے کا حق رکھتا ہے تو وہ معاہدے کے مطابق اجارہ فسخ کرسکتے ہیں۔

۲۲۱۶۔ اگر مال اجارہ پر دینے والے یا مستاجر کو پتا چلے کہ وہ گھاٹے میں رہا ہے تو اگر اجارہ کرنے کے وقت وہ اس امر کی جانب متوجہ نہ تھا کہ وہ گھاٹے میں ہے تو وہ اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ ۲۱۳۲ میں گزر چکی ہے اجارہ فسخ کر سکتا ہے لیکن اگر اجارے کے صیغے میں یہ شرط عائد کی جائے کہ اگر ان میں سے کوئی گھاٹے میں بھی رہے گا تو اسے اجارہ فسخ کرنے کا حق نہیں ہوگا تو پھر وہ اجارہ فسخ نہیں کرسکتے۔

۲۲۱۷۔ اگر ایک شخص کوئی چیز ادھار پر دے اور اس سے پہلے کہ اس کا قبضہ مستاجر کو دے کوئی اور شخص اس چیز کو غصب کرلے تو مستاجر اجارہ فسخ کر سکتا ہے اور جو چیز اس نے اجارے پر دینے والے کو دی ہو اسے واپس لے سکتا ہے۔ یا (یہ بھی کر سکتا ہے کہ) اجارہ فسخ نہ کرے اور جتنی مدت وہ چیز غاصب کے پاس رہی ہو اس کی عام طور پر جتنی اجرت بنے وہ غاصب سے لے لے لہذا اگر مستاجر ایک حیوان کا ایک مہینے کا اجارہ دس روپے کے عوض کرے اور کوئی شخص اس حیوان کو دس دن کے لئے غصب کر لے اور عام طور پر اس کا دس دن کا اجارہ پندرہ روپے ہو تو مستاجر پندرہ روپے غاصب سے لے سکتے ہے۔

۲۲۱۸۔ اگر کوئی دوسرا شخص مستاجر کو اجارہ کردہ چیز اپنی تحویل میں نہ لینے دے یا تحویل میں لینے کے بعد اس پر ناجائز قبضہ کرلے یا اس سے استفادہ کرنے میں حائل ہو تو مستاجر اجارہ فسخ نہیں کر سکتا اور صرف یہ حق رکھتا ہے کہ اس چیز کا عام طور پر جتنا کرایہ بنتا ہو وہ غاصب سے لے لے۔

۲۲۱۹۔ اگر اجارے کی مدت ختم ہونے سے پہلے مالک اپنا مال مستاجر کے ہاتھ بیچ ڈالے تو اجارہ فسخ نہیں ہوتا اور مستاجر کو چاہئے کہ اس چیز کا کرایہ مالک کو دے اور اگر (مالک مستاجر کے علاوہ) اس (مال) کو کسی اور شخص کے ہاتھ بیچ دے تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۲۲۰۔ اگر اجارے کی مدت شروع ہونے سے پہلے جو چیز اجارے پر لی ہے وہ اس استفادے کے قابل نہ رہے جس کا تعین کیا گیا تھا تو اجارہ باطل ہوجاتا ہے اور مستاجر اجارہ کی رقم مالک سے واپس لے سکتا ہے اور اگر صورت یہ ہو کہ اس مال سے تھوڑا سا استفادہ کیا جاسکتا ہو تو مستاجر اجارہ فسخ کر سکتا ہے۔

۲۲۲۱۔ اگر ایک شخص کوئی چیز اجارے پر لے اور وہ کچھ مدت گزرنے کے بعد جو استفادہ مستاجر کے لئے طے کیا گیا ہو اس کے قابل نہ رہے تو باقی ماندہ مدت کے لئے اجارہ باطل ہوجاتا ہے اور مستاجر گزری ہوئی مدت کا اجارہ "اُجرَۃُ المِثل" یعنی جتنے دن وہ چیز استعمال کی ہو اتنے دنوں کی عام اجرت دے کر اجارہ فسخ کرسکتا ہے۔

۲۲۲۲۔اگر کوئی شخص ایسا مکان کرائے پر دے جس کے مثلاً دو کمرے ہوں اور ان میں سے ایک کمرہ ٹوٹ پھوٹ جائے لیکن اجارے پر دینے والا اس کمرہ کو (مرمت کرکے) اس طرح بنادے جس میں سابقہ کمرے کے مقابلے میں کافی فرق ہو تو اس کے لئے وہی حکم ہے جو اس سے پہلے والے مسئلے میں بتایا گیا ہے اور اگر اس طرح نہ ہو بلکہ اجارے پر دینے والا اسے فوراً بنا دے اور اس سے استفادہ حاصل کرنے میں بھی قطعاً فرق دافع نہ ہو تو اجارہ باطل نہیں ہوتا۔ اور کرائے دار بھی اجارے کو فسخ نہیں کرسکتا لیکن اگر کمرے کی مرمت میں قدرے تاخیر ہو جائے اور کرائے دار اس سے استفادہ نہ کر پائے تو اس "تاخیر" کی مدت تک کا اجارہ باطل ہوجاتا ہے اور کرائے دار چاہے تو ساری مدت کا اجارہ بھی فسخ کرسکتا ہے البتہ جتنی مدت اس نے کمرے سے استفادہ کیا ہے اس کی اُجرَۃُ المِثل دے۔

۲۲۲۳۔اگر مال کرائے پر دینے والا یا مستاجر مر جائے تو اجارہ باطل نہیں ہوتا لیکن اگر مکان کا فائدہ صرف اس کی زندگی میں ہی اس کا ہو مثلاً کسی دوسرے شخص نے وصیت کی ہو کہ جب تک وہ (اجارے پر دینے والا) زندہ ہے مکان کی آمدنی اس کا مال ہوگا تو اگر وہ مکان کرائے پر دے دے اور اجارہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو اس کے مرنے کے وقت سے اجارہ باطل ہے اور اگر موجودہ مالک اس اجارہ کی تصدیق کر دے تو اجارہ صحیح ہے اور جارے پر دینے والے کے موت کے بعد اجارے کی جو مدت باقی ہوگی اس کی اجرت اس شخص کو ملے گی جو موجودہ مالک ہو۔

۲۲۲۴۔ اگر کوئی شخص کسی معمار کو اس مقصد سے وکیل بنائے کہ وہ اس کے لئے کاریگر مہیا کرے تو اگر معمار نے جو کچھ اس شخص سے لے لیا ہے کاریگروں کو اس سے کم دے تو زائد مال اس پر حرام ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ رقم اس شخص کو واپس کر دے لیکن اگر معمار اجبیر بن جائے کہ عمارت کو مکمل کر دے گا اور وہ اپنے لئے یہ اختیار حاصل کرلے کہ خود بنائے گا یا دوسرے سے بنوائے گا تو اس صورت میں کہ کچھ کام خود کرے اور باقیماندہ دوسروں سے اس اجرت سے کم پر کروائے جس پر وہ خود اجیر بنا ہے تو زائد رقم اس کے لئے حلال ہوگی۔

۲۲۲۵۔ اگر رنگریز وعدہ کرے کہ مثلاً کپڑا نیل سے رنگے گا تو اگر وہ نیل کے بجائے اسے کسی اور چیز سے رنگ دے تو اسے اجرت لینے کا کوئی حق نہیں۔

جعالہ کے احکام


۲۲۲۶۔ "جعالہ" سے مراد یہ ہے کہ انسان وعدہ کرے کہ اگر ایک کام اس کے لئے انجام دیا جائے گا تو وہ اس کے بدلے کچھ مال بطور انعام دے گا مثلاً یہ کہے کہ جو اس کی گمشدہ چیز بر آمد کرے گا وہ اسے دس روپے (انعام) دے گا تو جو شخص اس قسم کا وعدہ کرے اسے "جاعل" اور جو شخص وہ کام انجام دے اسے "عامل" کہتے ہیں۔ اور اجارہ و جعالے میں بعض لحاظ سے فرق ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کہ اجارے میں صیغہ پڑھنے کے بعد اجیر کے لئے ضروری ہے کہ کام انجام دے۔ اور جس نے اسے اجیر بنایا ہو وہ اجرت کے لئے اس کا مقروض ہوجاتا ہے لیکن جعالہ میں اگرچہ عامل ایک معین شخص ہو تاہم ہوسکتا ہے کہ وہ کام میں مشغول نہ ہو۔ پس جب تک وہ کام انجام نہ دے۔ جاعل اس کا مقروض نہیں ہوتا۔

۲۲۲۷۔جاعل کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہو اور انعام کا وعدہ اپنے ارادے اور اختیار سے کرے اور شرعاً اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہو۔ اس بنا پر سفیہ کا جعالہ صحیح نہیں ہے اور بالکل اسی طرح دیوالیہ شخص کا جعالہ ان اموال میں صحیح نہیں ہے جن میں تصرف کا حق نہ رکھتا ہو۔

۲۲۲۸۔ جاعل جو کام لوگوں سے کرانا چاہتا ہو ضروری ہے کہ وہ حرام یا بے فائدہ نہ ہو اور نہ ہی ان واجبات میں سے ہو جن کا بلامعاوضہ بجالانا شرعاً لازم ہو۔ لہذا اگرکوئی کہے کہ جو شخص شراب پیئے گا یا رات کے وقت کسی عاقلانہ مقصد کے بغیر ایک تاریک جگہ پر جائے گا یا واجب نماز پڑھے گا میں اسے دس روپے دوں گا تو جعالہ صحیح نہیں ہے۔

۲۲۲۹۔ جس مال کے بارے میں معاہدہ کیا جارہا ہو ضروری نہیں ہے کہ اسے اس کی پوری خصوصیات کا ذکر کرکے معین کیا جائے بلکہ اگر صورت حال یہ ہو کہ کام کرنے والے کو معلوم ہو کہ اس کام کو انجام دینے کے لئے اقدام کرنا حماقت شمار نہ ہوگا تو کافی ہے مثلاً اگر جاعل یہ کہے کہ اگر تم نے اس مال کو دس روپے سے زیادہ قیمت پر بیچا تو اضافی رقم تمہاری ہوگی تو جعالہ صحیح ہے اور اسی طرح اگر جاعل کہے کہ جو کوئی میرا گھوڑا ڈھونڈ کر لائے گا میں اسے گھوڑے میں نصف شراکت یا دس من گیہوں دوں گا تو بھی جعالہ صحیح ہے۔

۲۲۳۰۔ اگر کام کی اجرت مکمل طور پر مبہم ہو مثلاً جاعل یہ کہے کہ جو میرا بچہ تلاش کر دے گا میں اسے رقم دوں گا لیکن رقم کی مقدار کا تعین نہ کرے تو اگر کوئی شخص اس کام کو انجام دے تو ضروری ہے کہ جاعل اسے اتنی اجرت دے جتنی عام لوگوں کی نظروں میں اس عمل کی اجرت قرار پاسکے۔

۲۲۳۱۔ اگر عامل نے جاعل کے قول و قرار سے پہلے ہی وہ کام کر دیا ہو یا قول و قرار کے بعد اس نیت سے وہ کام انجام دے کہ اس کے بدلے رقم نہیں لے گا تو پھر وہ اجرت کا حقدار نہیں۔

۲۲۳۲۔ اس سے پہلے کہ عامل کام شروع کرے جاعل جعالہ کو منسوخ کرسکتا ہے۔

۲۲۳۳۔ جب عامل نے کام شروع کر دیا ہو اگر اس کے بعد جاعل جعالہ منسوخ کرنا چاہے تو اس میں اشکال ہے۔

۲۲۳۴۔ عامل کام کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے لیکن اگر کام ادھورا چھوڑنے پر جاعل کو یا جس شخص کے لئے یہ کام انجام دیا جارہا ہے کہ کوئی نقصان پہنچتا ہو تو ضروری ہے کہ کام کو مکمل کرے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ جو کوئی میری آنکھ کا علاج کر دے میں اسے اس قدر معاوضہ دوں گا اور ڈاکڑ اس کی آنکھ کا آپریشن کر دے اور صورت یہ ہو کہ اگر وہ علاج مکمل نہ کرے تو آنکھ میں عیب پیدا ہوجائے تو ضروری ہے کہ اپنا عمل تکمیل تک پہنچائے اور اگر ادھورا چھوڑ دے تو جاعل سے اجرت لینے کا اسے کوئی حق نہیں۔

۲۲۳۵۔ اگر عامل کام ادھورا چھوڑ دے اور وہ کام ایسا ہو جسے گھوڑا تلاش کرنا کہ جس کے مکمل کئے بغیر جاعل کو کوئی فائدہ نہ ہو تو عامل، جاعل سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر جاعل اجرت کو کام مکمل کرنے سے مشروط کر دے تب بھی یہی حکم ہے۔ مثلاً وہ کہے کہ جو کوئی میرا لباس سئے گا میں اسے دس روپے دوں گا لیکن اگر اس کی مراد یہ ہو کہ جتنا کام کیا جائے گا اتنی اجرت دے گا تو پھر جاعل کو چاہئے کہ جتنا کام ہوا ہو اتنی اجرت عامل کودے دے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ دونوں مصالحت کے طور پر ایک دوسرے کو راضی کرلیں۔

مَزارعہ کے احکام


۲۲۳۶۔ مُزارعہ کی چند قسمیں ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ (زمین کا) مالک کاشتکار (مزارع) سے معاہد کرکے اپنی زمین اس کے اختیار میں دے تاکہ وہ اس میں کاشت کاری کرے اور پیداوار کا کچھ حصہ مالک کو دے۔

۲۲۳۷۔ مُزاعہ کی چند شرائط ہیں :

۱۔ زمین کا مالک کاشتکار سے کہے کہ میں نے زمین تمہیں کھیتی باڑی کے لئے دی ہے اور کاشتکاری بھی کہے کہ میں نے قبول کی ہے یا بغیر اس کے کہ زبانی کچھ کہیں مالک کاشتکار کو کھیتی باڑی کے ارادے سے زمین دے دے اور کاشتکار قبول کر لے۔

۲۔ زمین کا مالک اور کاشتکار دونوں بالغ اور عاقل ہوں اور بٹائی کا معاہدہ اپنے ادارے اور اختیار سے کریں اور سفیہ نہ ہوں۔ اور اسی طرح ضروری ہے کہ مالک دیوالیہ نہ ہو۔ لیکن اگر کاشتکار دیوالیہ ہو اور اس کا مزارعہ کرنا ان اموال میں تصرف نہ کہلائے جن میں اسے تصرف کرنا منع تھا تو ایسی صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۳۔ مالک اور کاشتکار میں سے ہر ایک زمین کی پیداوار میں سے کچھ حصہ مثلاً نصف یا ایک تہائی وغیرہ لے لے ۔ لہذا اگر کوئی بھی اپنے لئے کوئی حصہ مقرر نہ کرے یا مثلاً مالک کہے کہ اس زمین میں کھیتی باڑی کرو اور جو تمہارا جی چاہے مجھے دے دینا تو یہ درست نہیں ہے اور اسی طرح اگر پیداوار کی ایک معین مقدار مثلاً دس من کاشتکار یا مالک کے لئے مقرر کردی جائے تو یہ بھی صحیح نہیں ہے۔

۴۔ احتیاط کی بنا پر ہر ایک کا حصہ زمین کی پوری پیداوار میں مشترک ہو۔ اگرچہ اظہر یہ ہے کہ یہ شرط معتبرنہیں ہے۔ اسی بنا پر اگر مالک کہے کہ اس زمین میں کھیتی باڑی کرو اور زمین کی پیداوار کا پہلا آدھا حصہ جتنا بھی ہو تمہارا ہوگا اور دوسرا آدھا حصہ میرا تو مزارعہ صحیح ہے۔

۵۔ جتنی مدت کے لئے زمین کاشتکار کے قبضے میں رہنی چاہئے اسے معین کر دیں اور ضروری ہے کہ وہ مدت اتنی ہو کہ اس مدت میں پیداوار حاصل ہونا ممکن ہو اور اگر مدت کی ابتدا ایک مخصوص دن سے اور مدت کا اختتام پیداوار ملنے کو مقرر کر دیں تو کافی ہے۔

۶۔ زمین قابل کاشت ہو۔ اور اگر اس میں ابھی کاشت کرنا ممکن نہ ہو لیکن ایسا کام کیا جاسکتا ہو جس سے کاشت ممکن ہو جائے تو مزارعہ صحیح ہے۔

۷۔ کاشتکار جو چیز کاشت کرنا چاہے، ضروری ہے کہ اس کو معین کر دیا جائے۔ مثلاً معین کرے کہ چاول ہے یا گیہوں، اور اگر چاول ہے تو کونسی قسم کا چاول ہے۔ لیکن اگر کسی مخصوص چیز کی کاشت پیش نظر نہ ہو تو اس کا معین کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور اسی طرح اگر کوئی مخصوص چیز پیش نظر ہو اور اس کا علم ہو تو لازم نہیں ہے کہ اس کی وضاحت بھی کرے۔

۸۔ مالک، زمین کو معین کر دے۔ یہ شرط اس صورت میں ہے جبکہ مالک کے پاس زمین کے چند قطعات ہوں اور ان قطعات کے لوازم کاشتکاری میں فرق ہو۔ لیکن اگر ان میں کوئی فرق نہ ہو تو زمین کو معین کرنا لازم نہیں ہے۔ لہذا اگر مالک کاشتکار سے کہے کہ زمین کے ان قطعات میں سے کسی ایک میں کھیتی باڑی کرو اور اس قطعہ کو معین نہ کرے تو مزارعہ صحیح ہے۔

۹۔ جو خرچ ان میں سے ہر ایک کو کرنا ضروری ہو اسے معین کردیں لیکن جو خرچ ہر ایک کو کرنا ضروری ہے ہو اگر اس کا علم ہو تو پھر اس کی وضاحت کرنا لازم نہیں۔

۲۲۳۸۔ اگر مالک کاشتکار سے طے کرے کہ پیداوار کی کچھ مقدار ایک کی ہوگی اور جو باقی بچے گا اسے وہ آپس میں تقسیم کر لیں گے تو مزارعہ باطل ہے اگرچہ انہیں علم ہو کہ اس مقدار کو علیحدہ کرنے کے بعد کچھ نہ کچھ باقی بچ جائے گا۔ ہان اگر وہ آپس میں یہ طے کرلیں کہ بیج کی جو مقدار کاشت کی گئی ہے یا ٹیکس کی جو مقدار حکومت لیتی ہے وہ پیداوار سے نکالی جائے گی اور جو باقی بچے گا اسے دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا تو مزارعہ صحیح ہے ۔

۲۲۳۹۔ اگر مزارعہ کے لئے کوئی مدت معین کی ہو کہ جس میں عموماً پیداوار دستیاب ہوجاتی ہے لیکن اگر اتفاقاً معین مدت ختم ہو جائے اور پیداوار دستیاب نہ ہوئی ہو تو اگر مدت معین کرتے وقت یہ بات بھی شامل تھی یعنی دونوں اس بات پر راضی تھے کہ مدت ختم ہونے کے بعد اگرچہ پیداوار دستیاب نہ ہو مزارعہ ختم ہوجائے گا تو اس صورت میں اگر مالک اس بات پر راضی ہو کہ اجرت پر یا بغیر اجرت فصل اس کی زمیں میں کھڑی رہے اور کاشتکار بھی راضی ہو تو کوئی ھرج نہیں اور اگر مالک راضی نہ ہو تو کاشتکار کو مجبور کر سکتا ہے کہ فصل زمین میں سے کاٹ لے اور اگر فصل کاٹ لینے سے کاشتکار کا کوئی نقصان پہنچے تو لازم نہیں کہ مالک اسے اس کا عوض دے لیکن اگرچہ کاشتکار مالک کو کوئی چیز دینے پر راضی ہو تب بھی وہ مالک کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ فصل اپنی زمین پر رہنے دے۔

۲۲۴۰۔اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ زمین میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نہ ہو مثلاً زمین کا پانی بند ہوجائے تو مزارعہ ختم ہوجاتا ہے اور اگر کاشتکار بلاوجہ کھیتی باڑی نہ کرے تو اگر زمین اس کے تصرف میں رہی ہو اور مالک کا اس میں کوئی تصرف نہ رہا ہو تو ضروری ہے کہ عام شرح کے حساب سے اس مدت کا کرایہ مالک کو دے۔

۲۲۴۱۔ زمین کا مالک اور کاشتکاری ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر مزارعہ (کا معاہدہ) منسوخ نہیں کرسکتے ۔ لیکن اگر مزارعہ کے معاہدے کے سلسلے میں انہوں نے شرط طے کی ہو کہ ان میں سے دونوں کو یا کسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا تو جو معاہدہ انہوں نے کر رکھا ہو اس کے مطابق معاملہ فسخ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ان دونوں میں سے ایک فریق طے شدہ شرائط کے خلاف عمل کرے تو دوسرا فریق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔

۲۲۴۲۔ زمین کا مالک اور کاشتکار ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر مزارعہ (کا معاہدہ) منسوخ نہیں کرسکتے۔ لیکن اگر مزارعہ کے معاہدے کے سلسلے میں انہوں نے شرط طے کی ہو کہ ان میں سے دونوں کو یا کسی یاک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا تو جو معاہدہ انہوں نے کر رکھا ہو اس کے مطابق معاملہ فسخ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ان دونوں میں سے ایک فریق طے شدہ شرائط کے خلاف عمل کرے تو دوسرا فریق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔

۲۲۴۳۔ اگر کاشت کے بعد پتا چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو اگر جو بیج ڈالا گیا ہو وہ مالک کا مال ہو تو جو فصل ہاتھ آئے گی وہ بھی اسی کا مال ہوگی اور ضروری ہے کہ کاشتکاری کی اجرت اور جو کچھ اس نے خرچ کیا ہو اور کاشتکاری کے مملو کہ جن بیلوں اور دوسرے جانوروں نے زمین پر کام کیا ہو ان کا کرایہ کاشتکار کو دے۔اور اگر بیج کاشتکار کا مال ہو تو فصل بھی اسی کا مال ہے اور ضروری ہے کہ زمین کا کرایہ اور جو کچھ مالک نے خرچ کیا ہو اور ان بیلوں اور دوسرے جانوروں کا کرایہ جو مالک کا مال ہوں اور جنہوں نے اس زراعت پر کام کیا ہو مالک کو دے۔ اور دونوں صورتوں میں عام طور پر جو حق بنتا ہو اگر اس کی مقدار طے شدہ مقدار سے زیادہ ہو اور دوسرے فریق کو اس کا علم ہو تو زیادہ مقدار دینا واجب نہیں۔

۲۲۴۴۔اگر بیج کاشتکار کا مال ہو اور کاشت کے بعد فریقین کو پتا چلے کہ مزارعہ باطل تھا تو اگر مالک اور کاشتکار رضامند ہوں کہ اجرت پر یا بلا اجرت فصل زمین پر کھڑی رہے تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر مالک راضی نہ ہو تو (علماء کے) ایک گروہ نے کہا ہے کہ فصل پکنے سے پہلے ہی وہ کاشتکار کو مجبور کر سکتا ہے کہ اسے کاٹ لے اور اگرچہ کاشتکار اس بات پر تیار ہو کہ وہ مالک کو کوئی چیز دے دے تب بھی وہ اسے فصل اپنی زمین میں رہنے دینے پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں مالک کاشتکار کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کرایہ دے کر فصل اس کی زمین میں کھڑی رہنے دے حتی کہ اس سے زمین کا کرایہ طلب نہ کرے (تب بھی فصل کھڑی رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا)۔

۲۲۴۵۔ اگر کھیت کی پیداوار جمع کرنے اور مزارعہ کی میعاد ختم ہونے کے بعد کھیت کی جڑیں زمین میں رہ جائیں اور دوسرے سال سر سبز ہو جائیں اور پیداوار دیں تو اگر مالک نے کاشتکار کے ساتھ زراعت کی جڑوں میں اشتراک کا معاہدہ نہ کیا ہو تو دوسرے سال کی پیداوار بیج کے مالک کا مال ہے۔

مُساقات اور مُغارسہ کے احکام


۲۲۴۶۔ اگر انسان کسی کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرے مثلاً پھل دار درختوں کو جن کا پھل خود اس کا مال ہو یا اس پھل پر اس احتیاط ہو ایک مقررہ مدت کے لئے کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دے تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں پانی دے اور جتنی مقدار وہ آپس میں طے کریں اس کے مطابق وہ ان درختوں کا پھل لے لے تو ایسا معاملہ "مُساقات" (آبیاری) کہلاتا ہے۔

۲۲۴۷۔ جو درخت پھل نہیں دیتے اگر ان کی کوئی دوسری پیداوار ہو مثلاً پتے اور پھول ہوں کہ جو کچھ نہ کچھ مالیت رکھتے ہوں مثلاً مہندی (اور پان) کے درخت کہ اس کے پتے کام آتے ہیں، ان کے لئے مساقات کا معاملہ صحیح ہے۔

۲۲۴۸۔ مساقات کے معاملے میں صیغہ پڑھنا لازم نہیں بلکہ اگر درخت کا مالک مساقات کی نیت سے اسے کسی کے سپرد کر دے اور جس شخص کو کام کرنا ہو وہ بھی اسی نیت سے کام میں مشغول ہو جائے تو معاملہ صحیح ہے۔

۲۲۴۹۔ درختوں کا مالک اور جو شخص درختوں کی نگہداشت کی ذمے داری لے ضروری ہے کہ دونوں بالغ اور عاقل ہوں اور کسی نے انہیں معاملہ کرنے پر مجبور نہ کیا ہو نیز یہ بھی جروری ہے کہ سفیہ نہ ہوں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ مالک دیوالیہ نہ ہو۔ لیکن اگر باغبان دیوالیہ ہو اور مساقات کا معاملہ کرنے کی صورت میں ان اموال میں تصرف کرنا لازم نہ آئے جن میں تصرف کرنے سے اسے روکا گیا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۲۵۰۔ مساقات کی مدت معین ہونی چاہئے۔ اور اتنی مدت ہونا ضروری ہے کہ جس میں پیداوار کا دستیاب ہونا ممکن ہو۔ اور اگر فریقین اس مدت کی ابتدا معین کر دیں اور اس کا اختتام اس وقت کو قرار دیں جب اس کی پیداوار دستیاب ہو تو معاملہ صحیح ہے۔

۲۲۵۱۔ضروری ہے ہر فریق کا حصہ پیداوار کا آدھا یا ایک تہائی یا اسی کی مانند ہو اور اگر یہ معاہدہ کریں کہ مثلاً سو من میوہ مالک کا اور باقی کام کرنے والے کا ہوگا تو معاملہ باطل ہے۔

۲۲۵۲۔ لازم نہیں ہے کہ مساقات کا معاملہ پیداوار ظاہر ہونے سے پہلے طے کرلیں۔ بلکہ اگر پیداوار ظاہر ہونے کے بعد معاملہ کریں اور کچھ کام باقی رہ جائے جو کہ پیداوار میں اضافے کے لئے یا اس کی بہتری یا اسے نقصان سے بچانے کے لئے ضروری ہو تو معاملہ صحیح ہے۔ لیکن اگر اس طرح کے کوئی کام باقی نہ رہے ہوں کہ جو آبیاری کی طرح درخت کی پرورش کے لئے ضروری ہیں یا میوہ توڑنے یا اس کی حفاظت جیسے کاموں میں سے باقی رہ جاتے ہیں تو پھر مساقات کے معاملے کا صحیح ہونا محل اشکال ہے۔

۲۲۵۳۔خربوزے اور کھیرے وغیرہ کی بیلوں کے بارے میں مساقات کا معاملہ بنابر اظہر صحیح ہے۔

۲۲۵۴۔ جو درخت بارش کے پانی یا زمین کی نمی سے استفادہ کرتا ہو اور جسے آبپاشی کی ضرورت نہ ہو اگر اسے مثلاً دوسرے ایسے کاموں کی ضرورت ہو جو مسئلہ ۲۲۵۲ میں بیان ہوچکے ہیں تو ان کاموں کے بارے میں مساقات کا معاملہ کرنا صحیح ہے۔

۲۲۵۵۔ دو افراد جنہوں نے مسافات کی ہو باہمی رضامندی سے معاملہ فسخ کرسکتے ہیں اور اگر مساقات کے معاہدے کے سلسلے میں یہ شرط طے کریں کہ ان دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہوگا تو ان کے طے کردہ معاہدہ کے مطابق معاملہ فسخ کرنے میں کوئی اشکال نہیں اور اگر مساقات کے معاملے میں کوئی شرط طے کریں اور اس شرط پر عمل نہ ہو تو جس شخص کے فائدے کے لئے وہ شرط طے کی گئی ہو وہ معاملہ فسخ کرسکتا ہے۔

۲۲۵۶۔اگر مالک ماجائے تو مساقات کا معاملہ فسخ نہیں ہوتا بلکہ اس کے وارث اس کی جگہ پاتے ہیں۔

۲۲۵۷۔درختوں کی پرورش جس شخص کے سپرد کی گئی ہو اگر وہ مرجائے اور معاہدے میں یہ قید اور شرط عائد نہ کی گئی ہو کہ وہ خود درختوں کی پرورش کرے گا تو اس کے ورثاء اس کی جگہ لے لیتے ہیں اور اگر ورثاء نہ خود درختوں کی پرورش کا کام انجام دیں اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کسی کو اجیر مقرر کریں تو حاکم شرع مردے کے مال سے کسی کو اجیر مقرر کردے گا اور جو آمدنی ہوگی اسے مردے کے ورثاء اور درختوں کے مالک کے مابین تقسیم کر دے گا اور اگر فریقین نے معاملے میں یہ قید لگائی ہو کہ وہ شخص خود درختوں کی پرورش کرے گا تو اس کے مرنے کے بعد معاملہ فسخ ہو جائے گا۔

۲۲۵۸۔ اگر یہ شرط طے کی جائے کہ تمام پیداوار مالک کا مال ہوگی تو مساقات باطل ہے لیکن ایسی صورت میں پیداوار مالک کا مال ہوگا اور جس شخص نے کام کیا ہو وہ اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا لیکن اگر مساقات کسی اور وجہ سے باطل ہو تو ضروری ہے کہ مالک آبیاری اور دوسرے کام کرنے کی اجرت درختوں کی نگہداشت کرنے والے کو معمول کے مطابق دے لیکن اگر معمول کے مطابق اجرت طے شدہ اجرت سے زیادہ ہو اور وہ اس سے مطلع ہو تو طے شدہ اجرت سے زیادہ دینا لازم نہیں۔

۲۲۸۹۔ "مُغارسہ" یہ ہے کہ کوئی شخص زمین دوسرے کے سپرد کردے تاکہ وہ درخت لگائے اور جو کچھ حاصل ہو وہ دونوں کا مال ہو تو بنابر اظہر یہ معاملہ صحیح ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ ایسے معاملے کو ترک کرے۔لیکن اس معاملے کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے کوئی اور معاملہ انجام دے تو بغیر اشکال کے وہ معاملہ صحیح ہے، مثلاً فریقین کسی طرح باہم صلح اور اتفاق کرلیں یا نئے درخت لگانے میں شریک ہوجائیں پھر باغبان اپنی خدمات مالک زمین کو بیج بونے، درختوں کی نگہداشت اور آبیاری کرنے کے لئے ایک معین مدت تک زمین کی پیداوار کے نصف فائدے کے عوض کرایہ پر پیش کرے۔

وہ اشخاص جو اپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتے


۲۲۶۰۔ جو بچہ بالغ نہ ہوا ہو وہ اپنی ذمے داری اور اپنے مال میں شرعاً تصرف نہیں کرسکتا اگرچہ اچھے اور برے کو سمجھنے میں حد کمال اور رشد تک پہنچ گیا ہو اور سرپرست کی اجازت اس بارے میں کوئی فائدہ نہیں رکھتی۔ لیکن چند چیزوں میں بچے کا تصرف کانا صحیح ہے، ان میں سے کم قیمت والی چیزوں کی خریدوفروخت کرنا ہے جیسے کہ مسئلہ ۲۰۹۰ میں گزر چکا ہے۔ اسی طرح بچے کا اپنے خونی رشتے داروں اور فریبی رشتے داروں کے لئے وصیت کرنا جس کا بیان مسئلہ ۲۷۰۶ میں آئے گا۔ لڑکی میں بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ نوقمری سال پورے کرلے اور لڑکے کے بالغ ہونےکی علامت تین چیزوں میں سے ایک ہوتی ہے۔

۱۔ ناف کے نیچے اور شرم گاہ سے اوپر سخت بالوں کا اگنا

۲۔ منی کا خارج ہونا۔

۳۔ بنابر مشہور عمر کے پندرہ قمری سال پورے کرنا ۔

۲۲۶۱۔چہرے پر اور ہونٹوں کے اوپر سخت بالوں کا اگنا بعید نہیں کہ بلوغت کی علامت ہو لیکن سینے پر اور بغل کے نیچے بالوں کا اگنا اور آواز کا بھاری ہوجانا اور ایسی ہی دوسری علامات بلوغت کی نشانیاں نہیں ہیں مگر ان کی وجہ سے انسان بالغ ہونے کا یقین کرے۔

۲۲۶۲۔دیوانہ اپنے مال میں تصرف نہیں سکتا۔ اسی طرح دیوالیہ یعنی وہ شخص جسے اس کے قرض خواہوں کے مطالبے پر حاکم شرع نے اپنے مال میں تصرف کرنے سے منع کر دیا ہو، قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر اس مال میں تصرف نہیں کرسکتا اور اسی طرح سفیہ یعنی وہ شخص جو اپنا مال احمقانہ اور فضول کاموں میں خرچ کرتا ہو، سرپرست کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتا۔

۲۲۷۳۔ جو شخص کبھی عاقل اور کبھی دیوانہ ہوجائے اس کا دیوانگی کی حالت میں اپنے مال میں تصرف کرنا صحیح نہیں ہے۔

۲۲۶۴۔انسان کو اختیار ہے مرض الموت کے عالم میں اپنے آپ پر یا اپنے اہل و عیال اور مہمانوں پر اور ان کاموں پر جو فضول خرچی میں شمار نہ ہوں جتنا چاہے صرف کرے۔ اور اگر اپنے مال کو اس کی (اصل) قیمت پر فروخت کرے یا کرائے پر دے تو کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر مثلاً اپنا مال کسی کو بخش دے یا رائج قیمت سے سستا فروخت کرے تو جتنی مقدار اس نے بخش دی ہے یا جتنی سستی فروخت کی ہے اگر وہ اس کے مال کی ایک تہائی کے برابر یا اس سے کم ہو تو اس کا تصرف کرنا صحیح ہے۔ اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہو تو ورثاء کی اجازت دینے کی صورت میں اس کا تصرف کرنا صحیح ہے اور اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو ایک تہائی سے زیادہ میں اس کا تصرف باطل ہے۔

وکالت کے احکام


"وکالت" سے مراد یہ ہے کہ وہ کام جسے انسان خود کرنے کا حق رکھتا ہو، جیسے کوئی معاملہ کرنا۔اسے دوسرے کے سپرد کر دے تاکہ وہ اس کی طرف سے وہ کام انجام دے مثلاً کسی کو اپنا وکیل بنائے تاکہ وہ اس کا مکان بیچ دے یا کسی عورت سے اس کا عقد کردے۔ لہذا سفیہ چونکہ اپنے مال میں تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا اس لئے وہ مکان بیچنے کے لئے کسی کو وکیل نہیں بنا سکتا۔

۲۲۶۵۔وکالت میں صیغہ پڑھنا لازم نہیں بلکہ اگر انسان دوسرے شخص کو سمجھادے کہ اس نے اسے وکیل مقرر کیا ہے اور وہ بھی سمجھا دے کہ اس نے وکیل بننا قبول کرلیا ہے مثلاً ایک شخص اپنا مال دوسرے کو دے تاکہ وہ اسے اس کی طرف سے بیچ دے اور دوسرا شخص وہ مال لے لے تو وکالت صحیح ہے۔

۲۲۶۶۔ اگر انسان ایک ایسے شخص کو وکیل مقرر کرے جس کی رہائش دوسرے شہر میں ہو اور اس کو وکالت نامہ بھیج دے اور وہ وکالت نامہ قبول کرلے تو اگرچہ وکالت نامہ اسے کچھ عرصے بعد ہی ملے پھر بھی وکالت صحیح ہے۔

۲۲۶۷۔مُئَوکِّل یعنی وہ شخص جو دوسرے کو وکیل بنائے اور وہ شخص جو وکیل بنے ضروری ہے کہ دونوں عاقل ہوں اور (وکیل بنانے اور وکیل بننے کا) اقدام قصد اور اختیار سے کریں اور مُئَوکّلِ کے معاملے میں بلوغ بھی معتبر ہے۔ مگر ان کاموں میں جن کو ممیز بچے کا انجام دینا صحیح ہے۔ (ان میں بلوغ شرط نہیں ہے)۔

۲۲۶۸۔ جو کام انسان انجام نہ دے سکتا ہو یا شرعاً انجام دینا ضروری نہ ہو اسے انجام دینے کے لئے وہ دوسرے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ مثلاً جو شخص حج کا احرام باندھ چکا ہو چونکہ اسے نکاح کا صیغہ نہیں پڑھنا چاہئے اس لئے وہ صیغہ نکاح پڑھنے کے لئے دوسرے کا وکیل نہیں بن سکتا۔

۲۲۶۹۔اگر کوئی شخص اپنے تمام کام انجام دینے کے لئے دوسرے شخص کو وکیل بنائے تو صحیح ہے لیکن اگر اپنے کاموں میں سے ایک کام کرنے کے لئے دوسرے کو وکیل بنائے اور کام کا تعین نہ کرے تو وکالت صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر وکیل کو چند کاموں میں سے ایک کام جس کا وہ خود انتخاب کرے انجام دینے کے لئے وکیل بنائے مثلاً اس کو وکیل بنائے کہ یا اس کا گھر فروخت کرے یا کرائے پر دے تو وکالت صحیح ہے۔

۲۲۷۰۔ اگر (مُئَوکّلِ) وکیل کو معزول کردے یعنی جو کام اس کے ذمے لگایا ہو اس سے برطرف کر دے تو وکیل اپنی معزولی کی خبر مل جانے کے بعد اس کام کو (مُئَوکّلِ کی جانب سے) انجام نہیں دے سکتا لیکن معزولی کی خبر ملنے سے پہلے اس نے وہ کام کر دیا ہو تو صحیح ہے۔

۲۲۷۱۔ مُئَوکّلِ خواہ موجود نہ ہو وکیل خود کو وکالت سے کنارہ کش کر سکتا ہے۔

۲۲۷۲۔ جو کام وکیل کے سپرد کیا گیا ہو، اس کام کے لئے وہ کسی دوسرے شخص کو وکیل مقرر نہیں کرسکتا لیکن اگر مُئَوکّلِ نے اسے اجازت دی ہو کہ کسی کو وکیل مقرر کرے تو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اسی طرح وہ عمل کرسکتا ہے لہذا اگر اس نے کہا ہو کہ میرے لئے ایک وکیل مقرر کرو تو ضروری ہے کہ اس کی طرف سے وکیل مقرر کرے لیکن از خود کسی کو وکیل مقرر نہیں کرسکتا۔

۲۲۷۳۔ اگر وکیل مُئَوکّلِ کی اجازت سے کسی کو اس کی طرف سے وکیل مقرر کرے تو پہلا وکیل دوسرے وکیل کو معزول نہیں کرسکتا اور اگر پہلا وکیل مرجائے یامُئَوکّلِ کی اسے معزول کر دے تب بھی دوسرے وکیل کی وکالت باطل نہیں ہوتی۔

۲۲۷۴۔ اگر وکیل مَئَوکّلِ کی اجازت سے کسی کو خود اپنی طرف سے وکیل مقرر کرے تو مُئَوکّلِ اور پہلاوکیل اس وکیل کو معزول کر سکتے ہیں اور اگر پہلا وکیل مرجائے یا معزول ہوجائے تو دوسری وکالت باطل ہوجاتی ہے۔

۲۲۷۵۔ اگر (مُئَوکّلِ) کسی کام کے لئے چند اشخاص کو وکیل مقرر کرے اور ان سے کہے کہ ان میں سے ہر ایک ذاتی طور پر اس کام کو کرے تو ان میں سے ہر ایک اس کام کو انجام دے سکتا ہے اور اگر ان میں سے ایک مرجائے تو دوسروں کی وکالت باطل نہیں ہوتی، لیکن اگر یہ کہا ہو کہ سب مل کر انجام دیں تو ان میں سے کوئی تنہا اس کام کو انجام نہیں دے سکتا اور اگر ان میں سے ایک مرجائے تو باقی اشخاص کی وکالت باطل ہوجاتی ہے۔

۲۲۷۶۔ اگر وکیل یا مُئَوکّلِ مرجائے تو وکالت باطل ہوجاتی ہے۔ نیز جس چیز میں تصرف کے لئے کسی شخص کو وکیل مقرر کیا جائے اگر وہ چیز تلف ہوجائے مثلاً جس بھیڑ کو بیچنے کے لئے کسی کو وکیل مقرر کیا گیا ہو اگر وہ بھیڑ مرجائے تو وہ وکالت باطل ہوجائے گی اور اس طرح اگر وکیل یا مُئَوکّلِ میں سے کوئی ایک ہمیشہ کے لئے دیوانہ یا بے حواس ہو جائے تو وکالت باطل ہوجائے گی۔ لیکن اگر کبھی کبھی دیوانگی یابے حواسی کا دورہ پڑتا ہو تو وکالت کا باطل ہونا دیوانگی اور بے ہواسی کی مدت میں حتی کہ دیوانگی اور بے حواسی ختم ہونے کے بعد بھی مُطلَقاً محلِّ اِشکال ہے۔

۲۲۷۷۔ اگر انسان کسی کو اپنے کام کے لئے وکیل مقرر کرے اور اسے کوئی چیز دینا طے کرے تو کام کی تکمیل کے بعد ضروری ہے کہ جس چیز کا دینا طے کیا ہو وہ اسے دیدے۔

۲۲۷۸۔ جو مال وکیل کے اختیار میں ہو اگر وہ اس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ کرے اور جس تصرف کی اسے اجازت دی گئی ہو اس کے علاوہ کوئی تصرف اس میں نہ کرے اور اتفاقاً وہ مال تلف ہوجائے تو اس کے لئے اس کا عوض دینا ضروری نہیں۔

۲۲۷۹۔ جو مال وکیل کے اختیار میں ہو اگر وہ اس کی نگہداشت میں کوتاہی برتے یا جس تصرف کی اسے اجازت دی گئی ہو اس سے تجاوز کرے اور وہ مال تلف ہوجائے تو وہ (وکیل) ذمے دار ہے۔ لہذا جس لباس کے لئے اسے کہا جائے کہ اسے بیچ دو اگر وہ اسے پہن لے اور وہ لباس تلف ہوجائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

۲۲۸۰۔ اگر وکیل کو مال میں جس تصرف کی اجازت دی گئی ہو اس کے علاوہ کوئی تصرف کے مثلاً اسے جس لباس کے بیچنے کے لئے کہا جائے وہ اسے پہن لے اور بعد میں وہ تصرف کرے جس کی اسے اجازت دی گئی ہو تو وہ تصرف صحیح ہے۔

قرض کے احکام


مومنین کو خصوصاً ضرورت مند مومنین کو قرض دینا ان مستحب کاموں میں سے ہے جن کے متعلق احادیث میں کافی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے روایت ہے: "جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو قرض دے اس کے مال میں برکت ہوتی ہے اور ملائکہ اس پر (خدا کی) رحمت برساتے ہیں اور اگر وہ مقروض سے نرمی برتے تو بغیر حساب کے اور تیزی سے پل صراط پر سے گزر جائے گا اور اگر کسی شخص سے اس کا مسلمان بھائی قرض مانگے اور وہ نہ دے تو بہشت اس پر حرام ہو جاتی ہے"

۲۲۸۱۔ قرض میں صیغہ پڑھنا لازم نہیں بلکہ اگر ایک شخص دوسرے کو کوئی چیز قرض کی نیت سے دے اور دوسرا بھی اسی نیت سے لے تو قرض صحیح ہے۔

۲۲۸۲۔ جب بھی مقروض اپنا قرض ادا کرے تو قرض خواہ کو چاہئے کہ اسے قبول کرلے۔ لیکن اگر قرض ادا کرنے کے لئے قرض خواہ کے کہنے سے یا دونوں کے کہنے سے ایک مدت مقرر کی ہو تو اس صورت میں قرض خواہ اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے اپنا قرض واپس لینے سے انکار کر سکتا ہے۔

۲۲۸۳۔ اگر قرض کے صیغے میں قرض کی واپسی کی مدت معین کر دی جائے اور مدت کا تعین مقروض کی درخواست پر ہو یا جانبین کی درخواست پر، قرض خواہ اس معین مدت کے ختم ہونے سے پہلے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر مدت کا تعین قرض خواہ کی درخواست پر ہوا ہو یا قرضے کی واپسی کے لئے کوئی مدت معین نہ کی گئی ہو تو قرض خواہ جب بھی چاہے اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

۲۲۸۴۔ اگر قرض خواہ اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرے اور مقروض قرض ادا کر سکتا ہو تو اسے چاہئے کہ فوراً ادا کرے اور اگر ادائیگی میں تاخیر کرے تو گنہگار ہے۔

۲۲۸۵۔ اگر مقروض کے پاس ایک گھر کہ جس میں وہ رہتا ہو اور گھر کے اسباب اور ان لوازمات کہ جن کی اسے ضرورت ہو اور ان کے بغیر اسے پریشانی ہو اور کوئی چیز نہ ہو تو قرض خواہ اس سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرسکتا بلکہ اسے چاہئے کہ صبر کرے حتی کہ مقروض قرض ادا کرنے کے قابل ہو جائے۔

۲۲۸۶۔ جو شخص مقروض ہو اور اپنا قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اگر وہ کوئی ایسا کام کاج کر سکتا ہو جو اس کی شایان شان ہو تو احتیاط واجب ہے کہ کام کاج کرے اور اپنا قرض ادا کرے۔ بالخصوص ایسے شخص کے لئے جس کے لئے کام کرنا آسان ہو یا اس کا پیشہ ہی کام کاج کرنا ہو بلکہ اس صورت میں کام کا واجب ہونا قوت سے خالی نہیں۔

۲۲۸۷۔جس شخص کو اپنا قرض خواہ نہ مل سکے۔ اور مستقبل میں اس کے یا اس کے وارث کے ملنے کی امید بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ قرضے کا مال قرض خواہ کی طرف سے فقیر کو دے دے اور احتیاط کی بنا پر ایسا کرنے کی اجازت شرع سےلے لے اور اگر اس کا قرض خواہ سید نہ ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ قرضے کا مال سید فقیر کو نہ دے۔ لیکن اگر مقروض کو قرض خواہ یا اس کے وارث کے ملنے کی امید ہو تو ضروری ہے کہ انتظار کرے اور اس کو تلاش کرے اور اگر وہ نہ ملے تو وصیت کرے کہ اگر وہ مرجائے اور قرض خواہ یا اس کا وارث مل جائے تو اس کا قرض اس کے مال سے ادا کیا جائے۔

۲۲۸۸۔ اگر کسی میت کا مال اس کے کفن دفن کے واجب اخراجات اور قرض سے زیادہ نہ ہو تو اس کا مال انہی امور پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اس کے وارث کو کچھ نہیں ملے گا۔

۲۲۸۹۔ اگر کوئی شخص سونے یا چاندی کے سکے وغیرہ قرض لے اور بعد میں ان کی قیمت کم ہو جائے تو اگر وہ وہی مقدار جو اس نے لی تھی واپس کر دے تو کافی ہے اور اگر ان کی قیمت بڑھ جائے تو لازم ہے کہ اتنی ہی مقدار واپس کرے جو لی تھی لیکن دونوں صورتوں میں اگر مقروض اور قرض خواہ کسی اور بات پر رضامند ہوجائیں تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔

۲۲۹۰۔ کسی شخص نے جو مال قرض لیا ہو اگر وہ تلف نہ ہوا ہو اور مال کا مالک اس کا مطالبہ کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ مقروض وہی مال مالک کو دے دے۔

۲۲۹۱۔ اگر قرض دینے والا شرط عائد کرے کہ وہ جتنی مقدار میں مال دے رہا ہے اس سے زیادہ واپس لے گا مثلاً ایک من گیہوں دے اور شرط عائد کرے کہ ایک من پانچ کیلو واپس لوں گا یا دس انڈے دے اور کہے کہ گیارہ انڈے واپس لوں گا تو یہ سود اور حرام ہے بلکہ اگر طے کرے کہ مقروض اس کے لئے کوئی کام کرے گا یا جو چیز لی ہو وہ کسی دوسری جنس کی کچھ مقدار کے ساتھ واپس کرے گا مثلاً طے کرے کہ (مقروض نے) جو ایک روپیہ لیا ہے واپس کرتے وقت اس کے ساتھ ماچس کی ایک ڈبیہ بھی دے تو یہ سود ہوگا اور حرام ہے۔ نیز اگر مقروض کے ساتھ شرط کرے کہ جو چیز وہ قرض لے رہا ہے اسے ایک مخصوص طریقے سے واپس کرے گا مثلاً ان گھڑے سونے کی کچھ مقدار اسے دے اور شرط کرے کہ گھڑا ہوا سونا واپس کرے گا تب بھی یہ سود اور حرام ہوگا البتہ اگر قرض خواہ کوئی شرط نہ لگائے بلکہ مقروض خود قرضے کی مقدار سے کچھ زیادہ واپس دے تو کوئی اشکال نہیں بلکہ (ایسا کرنا) مستحب ہے۔

۲۲۹۲۔ سود دینا سود لینے کی طرح حرام ہے لیکن جو شخص سود پر قرض لے ظاہر یہ ہے کہ وہ اس کا مالک ہو جاتا ہے اگرچہ اولی یہ ہے کہ اس میں تصرف نہ کرے اور اگر صورت یہ ہو کہ طرفین نے سود کا معاہدہ نہ بھی کیا ہوتا اور رقم کا مالک اس بات پر راضی ہوتا کہ قرض لینے والا اس رقم میں تصرف کرلے تو مقروض بغیر کسی اشکال کے اس رقم میں تصرف کرسکتا ہے۔

۲۲۹۳۔ اگرکوئی شخص گیہوں یا اسی جیسی کوئی چیز سودی قرضے کے طور پر لے اور اس کے ذریعے کاشت کرے تو ظاہر یہ ہے کہ وہ پیداوار کا مالک ہوجاتا ہے اگرچہ اولٰی یہ ہے کہ اس سے جو پیداوار حاصل ہو اس میں تصرف نہ کرے۔

۲۲۹۴۔ اگر ایک شخص کوئی لباس خریدے اور بعد میں اس کی قیمت کپڑے کے مالک کو سودی رقم سے یا ایسی حلال رقم سے جو سودی قرضے پر لی گئی رقم کے ساتھ مخلوط ہوگئی ہو ادا کرے تو اس لباس کے پہننے یا اس کے ساتھ نماز پڑھنےمیں کوئی اشکال نہیں لیکن اگر بیچنے والے سے کہے کہ میں یہ لباس اس رقم سے خرید رہا ہوں تو اس لباس کو پہننا حرام ہے اور اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم نماز گزار کے لباس کے احکام میں گزرچکا ہے۔

۲۲۹۵۔ اگر کوئی شخص کسی تاجر کو کچھ رقم دے اور دوسرے شہر میں اس تاجر سے کم رقم لے تو اس میں کوئی اشکال نہیں اور اسے "صَرفِ براءت" کہتے ہیں۔

۲۲۹۶۔ اگر کوئی شخص کسی کو کچھ رقم اس شرط پر دے کہ چند دن بعد دوسرے شہر میں اس سے زیادہ لے گا مثلاً ۹۹۰ روپے دے اور دس دن بعد دوسرے شہر میں اس کے بدلے ایک ہزار روپے لے تو اگر یہ رقوم (یعنی ۹۹۰ اور ہزار روپے) مثال کے طور پر سونے یا چاندی کی بنی ہوں تو یہ سود اور حرام ہے لیکن جو شخص زیادہ لے رہا ہو اگر وہ اضافے کے مقابلے میں کوئی جنس دے یا کوئی کام کر دے تو پھر اشکال نہیں تاہم وہ عام رائج نوٹ جنہیں گن کر شمار کیا جاتا ہو اگر انہیں زیادہ لیا جائے تو کوئی اشکال نہیں ماسوا اس صورت کے کہ قرض دیا ہو اور زیادہ کی ادائیگی کی شرط لگائی ہو تو اس صورت میں حرام ہے یا ادھار پر بیچے اور جنس اور اس کا عوض ایک ہی جنس سے ہوں تو اس صورت میں معاملے کا صحیح ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے۔

۲۲۹۷۔ اگر کسی شخص نے کسی سے کچھ قرض لینا ہو اور وہ چیز سونا یا چاندی یا ناپی یا تولی جانے والی جنس نہ ہو تو وہ شخص اس چیز کو مقروض یا کسی اور کے پاس کم قیمت پر بیچ کر اس کی قیمت نقد وصول کر سکتا ہے۔ اسی بنا پر موجودہ دور میں جو چیک اور ہنڈیاں قرض خواہ مقروض سے لیتا ہے انہیں وہ بنک کے پاس یا کسی دوسرے شخص کے پاس اس سے کم قیمت پر ۔ جسے عام طور پر بھاو گرنا کہتے ہیں ۔ بیچ سکتا ہے اور باقی رقم نقد لے سکتا ہے کیونکہ رائج الوقت نوٹوں کا لین دین ناپ تول سے نہیں ہوتا۔

حوالہ دینے کے احکام


۲۲۹۸۔ اگر کوئی شخص اپنے قرض خواہ کو حوالہ دے کہ وہ اپنا قرض ایک اور شخص سے لے لے اور قرض خواہ اس بات کو قبول کر لے تو جب " حوالہ" ان شرائط کے ساتھ جن کا ذکر بعد میں آئے گا مکمل ہوجائے تو جس شخص کے نام حوالہ دیا گیا ہے وہ مقروض ہوجائے گا اور اس کے بعد قرض خواہ پہلے مقروض سے اپنے قرض کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

۲۲۹۹۔ مقروض اور قرض خواہ اور جس شخص کا حوالہ دیا جاسکتا ہو ضروری ہے کہ سب بالغ اور عاقل ہوں اور کسی نے انہیں مجبور نہ کیا ہو نیز ضروری ہے کہ سفیہ نہ ہوں یعنی اپنا مال احمقانہ اور فضول کاموں میں خرچ نہ کرتے ہوں اور یہ بھی معتبر ہے کہ مقروض اور قرض خواہ دیوالیہ نہ ہوں۔ ہاں اگر حوالہ ایسے شخص کے نام ہو جو پہلے سے حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو تو اگرچہ حوالہ دینے والا دیوالیہ بھی ہو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۳۰۰۔ ایسے شخص کے نام حوالہ دینا جو مقروض نہ ہو اس صورت میں صحیح نہیں ہے جب وہ حوالہ قبول نہ کرے۔ نیز اگر کوئی شخص چاہے کہ جو شخص ایک جنس کے لئے اس کا مقروض ہے اس کے نام دوسری جنس کا حوالہ لکھے۔ مثلاً جو شخص جَو کا مقروض ہو اس کے نام گیہوں کا حوالہ لکھے تو جب تک وہ شخص قبول نہ کرے حوالہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ حوالہ دینے کی تمام صورتوں میں ضروری ہے کہ جس شخص کے نام حوالہ کیا جارہا ہے وہ حوالہ قبول کرے اور اگر قبول نہ کرے تو بنا بر اظہر (حوالہ) صحیح نہیں ہے۔

۲۳۰۱۔انسان جب حوالہ دے تو ضروری ہے کہ وہ اس وقت مقروض ہو لہذا اگر وہ کسی سے قرض لینا چاہتا ہو تو جب تک اس سے قرض نہ لے لے اسے کسی کے نام کا حوالہ نہیں دے سکتا تاکہ جو قرض اسے بعد میں دینا ہو وہ پہلے ہی اس شخص سے وصول کرلے۔

۲۳۰۲۔ حوالہ کی جنس اور مقدار فی الواقع معین ہونا ضروری ہے پس اگر حوالہ دینے والا کسی شخص کا دس من گیہوں اور دس روپے کا مقروض ہو اور قرض خواہ کو حوالہ دے کہ ان دونوں قرضوں میں سے کوئی ایک فلاں شخص سے لے لو اور اس قرضے کو معین نہ کرے تو حوالہ درست نہیں ہے۔

۲۳۰۳۔ اگر قرض واقعی معین ہو لیکن حوالہ دینے کے وقت مقروض اور قرض خواہ کو اس کی مقدار یا جنس کا علم نہ ہو تو حوالہ صحیح ہے مثلاً اگر کسی شخص نے دوسرے کا قرضہ رجسٹر میں لکھا ہو اور رجسٹر دیکھنے سے پہلے حوالہ دے دے اور بعد میں رجسٹر دیکھے اور قرض خواہ کو قرضے کی مقدار بتا دے تو حوالہ صحیح ہوگا۔

۲۳۰۴۔قرض خواہ کو اختیاط ہے کہ حوالہ قبول نہ کرے اگرچہ جس کے نام کا حوالہ دیا جائے وہ دولت مند ہو اور حوالہ کے ادا کرنے میں کوتاہی بھی نہ کرے۔

۲۳۰۵۔جو شخص حوالہ دینے والے کا مقروض نہ ہو اگر حوالہ قبول کرے تو اظہر یہ ہے کہ حوالہ ادا کرنے سے پہلے حوالہ دینے والے سے حوالے کی مقدار کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ کہ جو قرض جس کے نام حوالہ دیا گیا ہے اس کی مدت معین ہو اور ابھی وہ مدت ختم نہ ہوئی ہو تو اس صورت میں وہ مدت ختم ہونے سے پہلے حوالے دینے والے سے حوالے کی مقدار کا مطالبہ نہیں کر سکتا اگرچہ اس نے ادائیگی کر دی ہو اور اسی طرح اگر قرض خواہ اپنے قرض سے تھوڑی مقدار پر صلح کرے تو وہ حوالہ دینے والے سے فقط (تھوڑی) مقدار کا ہی مطالبہ کر سکتا ہے۔

۲۳۰۶۔ حوالہ کی شرائط پوری ہونے کے بعد حوالہ دینے والا اور جس کے نام حوالہ دیا جائے حوالہ منسوخ نہیں کر سکتے اور وہ شخص جس کے نام کا حوالہ دیا گیا ہے حوالہ کے وقت فقیر نہ ہو تو اگرچہ وہ بعد میں فقیر ہو جائے تو قرض خواہ بھی حوالے کو منسوخ نہیں کرسکتا ہے۔ یہی حکم اس وقت ہے جب (وہ شخص جس کے نام کا حوالہ دیا گیا ہو) حوالہ دینے کے وقت فقیر ہو اور قرض خواہ جانتا ہو کہ وہ فقیر ہےلیکن اگر قرض خواہ کو علم نہ ہو کہ وہ فقیر ہے اور بعد میں اسے پتہ چلے تو اگر اس وقت وہ شخص مالدار نہ ہوا ہو قرض خواہ حوالہ منسوخ کرکے اپنا قرض حوالہ دینے والے سے لے سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ مالدار ہوگیا ہو تو معلوم نہیں کہ معاملے کو فسخ کرسکتا ہے (یا نہیں)۔

۲۳۰۷۔ اگر مقروض اور قرض خواہ اور جس کے نام کا حوالہ دیا گیا ہو یا ان میں سے کسی ایک نے اپنے حق میں حوالہ منسوخ کرنے کا معاہدہ کیا ہو تو جو معاہدہ انہوں نےکیا ہو اس کے مطابق وہ حوالہ منسوخ کر سکتے ہیں۔

۲۳۰۸۔ اگر حوالہ دینے والا خود قرض خواہ کا قرضہ ادا کر دے یہ کام اس شخص کی خواہش پر ہوا ہو جس کے نام کا حوالہ دیا گیا ہو جبکہ وہ حوالہ دینے والے کا مقروض بھی ہو تو وہ جو کچھ دیا ہو اس سے لے سکتا ہے اور اگر اس کی خواہش کے بغیر ادا کیا ہو یا وہ حوالہ دہندہ کا مقروض نہ ہو تو پھر اس نے جو کچھ دیا ہے اس کا مطالبہ اس سے نہیں کرسکتا۔

رہن کے احکام


۲۳۰۹۔رہن یہ ہے کہ انسان قرض کے بدلے اپنا مال یا جس مال کے لئے ضامن بنا ہو وہ مال کسی کے پاس گروی رکھوائے کہ اگر رہن رکھوانے والا قرضہ نہ لوٹا سکے یا رہن نہ چھڑا سکے تو رہن لینے والا شخص اس کو عوض اس مال سے لے سکے۔

۲۳۱۰۔رہن میں صیغہ پڑھنا لازم نہیں ہے بلکہ اتنا کافی ہے کہ گروی دینے والا اپنا مال گروی رکھنے کی نیت سے گروی لینے والے کو دے دے اور وہ اسی نیت سے لے لے تو رہن صحیح ہے۔

۲۳۱۱۔ ضروری ہے کہ گروی رکھوانے والا اور گروی رکھنے والا بالغ اور عاقل ہوں اور کسی نے انہیں اس معاملے کے لئے مجبور نہ کیا ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ مال گروی رکھوانے والا دیوالیہ اور سفیہ نہ ہو۔ دیوالیہ اور سفیہ کے معنی مسئلہ ۲۲۶۲ میں بتائے جاچکے ہیں۔ اور اگر دیوالیہ ہو لیکن جو مال وہ گروی رکھوا رہا ہے اس کا اپنا مال نہ ہو یا ان اموال میں سے نہ ہو جس کے تصرف کرنے سے منع کیا گیا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۳۱۲۔ انسان وہ مال گروی رکھ سکتا ہے جس میں وہ شرعاً تصرف کر سکتا ہو اور اگر کسی دوسرے کا مال اس کی اجازت سے گروی رکھ دے تو بھی صحیح ہے۔

۲۳۱۳۔ جس چیز کو گروی رکھا جا رہا ہو ضروری ہے کہ اس کی خرید و فروخت صحیح ہو۔ لہذا اگر شراب یا اس جیسی چیز گروی رکھی جائے تو درست نہیں ہے۔

۲۳۱۴۔جس چیز کو گروی رکھا جا رہا ہے اس سے جو فائدہ ہوگا وہ اس چیز کے مالک کی ملکیت ہوگا خواہ وہ گروی رکھوانے والا ہو یا کوئی دوسرا شخص ہو۔

۲۳۱۵۔گروی رکھنے والے نے جو مال بطور گروی لیا ہو اس مال کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر خواہ گروی رکھوانے والا ہو یا کوئی دوسرا شخص کسی دوسرے کی ملکیت میں نہیں دے سکتا۔ مثلاً نہ وہ کسی دوسرے کو وہ مال بخش سکتا ہے نہ کسی کو بیچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس مال کو کسی کو بخش دے یا فروخت کر دے اور مالک بعد میں اجازت دے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۳۱۶۔اگر گروی رکھنے والا اس مال کو جو اس نے بطور گروی لیا ہو اس کے مالک کی اجازت سے بیچ دے تو مال کی طرح اس کی قیمت گروی نہیں ہوگی۔ اور یہی حکم ہے اگر مالک کی اجازت کے بغیر بیچ دے اور مالک بعد میں اجازت دے (یعنی اس مال کی جو قیمت وصول کی جائے وہ اس مال کی طرح گروی نہیں ہوگی)۔ لیکن اگر گروی رکھوانے والا اس چیز کو گروی رکھنے والے کی اجازت سے بیچ دے تاکہ اس کی قیمت کو گروی قرار دے تو ضروری ہے کہ مالک کی اجازت سے بیچ دے اور اس کی مخالفت کرنے کی صورت میں معاملہ باطل ہے۔ مگر یہ کہ گروی رکھنے والےنے اس کی اجازت دی ہو (تو پھر معاملہ صحیح ہے)۔

۲۳۱۷۔جس وقت مقروض کو قرض ادا کر دینا چاہئے اگر قرض خواہ اس وقت مطالبہ کرے اور مقروض ادائیگی نہ کرے تو اس صورت میں جب کہ قرض خواہ مال کو فروخت کرکے اپنا قرضہ اس کے مال سے وصول کرنے کا احتیاط رکھتا ہو وہ گروی لئے ہوئے مال کو فروخت کرکے اپنا قرضہ وصول کرسکتا ہے۔ اور اگر اختیاط نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے لازم ہے کہ مقروض سے اجازت لے اور اگر اس تک پہنچ نہ ہو تو ضروری ہے کہ حاکم شرع سے اس مال کو بیچ کر اس کی قیمت سے اپنا قرضہ وصول کرنے کی اجازت لے اور دونوں صورتوں میں اگر قرضے سے زیادہ قیمت وصول ہو تو ضروری ہے کہ زائد مال مقروض کو دیدے۔

۲۳۱۸۔ اگر مقروض کے پاس اس مکان کے علاوہ جس میں وہ رہتا ہو اور اس سامان کے علاوہ جس کی اسے ضرورت ہو اور کوئی چیز نہ ہو تو قرض خواہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ نہیں کر سکتا لیکن مقروض نے جو مال بطور گروی دیا ہو اگرچہ وہ مکان اور سامان ہی کیوں نہ ہو قرض خواہ اسے بیچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہے۔

ضمانت کے احکام


۲۳۱۹۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بننا چاہے تو اس کا ضامن بننا اس وقت صحیح ہوگا جب وہ کسی لفظ سے اگرچہ وہ عربی زبان میں نہ ہو یا کسی عمل سے قرض خواہ کو سمجھا دے کہ میں تمہارے قرض کی ادائیگی کے لئے ضامن بن گیا ہوں اور قرض خواہ بھی اپنی رضامندی کا اظہار کر دے اور (اس سلسلے میں) مقروض کا رضامند ہونا شرط نہیں ہے۔

۲۳۲۰۔ ضامن اور قرض خواہ دونوں کے لئے ضروری ہے بالغ اور عاقل ہوں اور کسی نے انہیں اس معاملے پر مجبور نہ کیا ہو نیز ضروری ہے کہ وہ سفیہ بھی نہ ہوں اور اسی طرح ضروری ہے کہ قرض خواہ دیوالیہ نہ ہو، لیکن یہ شرائط مقروض کے لئے نہیں ہیں مثلاً اگر کوئی شخص بچے، دیوانے یا سفیہ کا قرض ادا کرنے کے لئے ضامن بنے تو ضمانت صحیح ہے۔

۲۳۲۱۔ جب کوئی شخص ضامن بننے کے لئے کوئی شرط رکھے مثلاً یہ کہے کہ "اگر مقروض تمہارا قرض ادا نہ کرے تو میں تمہارا قرض ادا کروں گا" تو اس کے ضامن ہونے میں اشکال ہے۔

۲۳۲۲۔انسان جس شخص کے قرض کی ضمانت دے رہا ہے ضروری ہے کہ وہ مقروض ہو لہذا اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے قرض لینا چاہتا ہو تو جب تک وہ قرض نہ لے لے اس وقت تک کوئی شخص اس کا ضامن نہیں بن سکتا۔

۲۳۲۳۔ انسان اسی صورت میں ضامن بن سکتا ہے جب قرض، قرض خواہ اور مقروض (یہ تینوں) فی والوقع معین ہوں لہذا اگر دو اشخاص کسی ایک شخص کے قرض خواہ ہوں اور انسان کہے کہ میں تم میں سے ایک کا قرض ادا کردوں گا تو چونکہ اس نے اس بات کو معین نہیں کیا کہ وہ ان میں سے کس کا قرض ادا کرے گا اس لئے اس کا ضامن بننا باطل ہے۔ نیز اگر کسی کو دو اشخاص سے قرض وصول کرنا ہو اور کوئی شخص کہے کہ میں ضامن ہوں کہ ان دو میں سے ایک کا قرض تمہیں ادا کر دوں گا تو چونکہ اس نے بات کو معین نہیں کیا کہ دونوں میں سے کس کا قرضہ ادا کرے گا اس لئے اس کا ضامن بننا باطل ہے۔ اور اسی طرح اگر کسی نے ایک دوسرے شخص سے مثال کے طور پر دس من گیہوں اور دس روپے لینے ہوں اور کوئی شخص کہے کہ میں تمہارے دونوں قرضوں میں سے ایک کی ادائیگی کا ضامن ہوں اور اس چیز کو معین نہ کرے کہ وہ گیہوں کے لئے ضامن ہے یا روپوں کے لئے تو یہ ضمانت صحیح نہیں ہے۔

۲۳۲۴۔ اگر قرض خواہ اپنا قرض ضامن کو بخش دے تو ضامن مقروض سے کوئی چیز نہیں لے سکتا اور اگر وہ قرضے کی کچھ مقدار اسے بخش دے تو وہ (مقروض سے) اس مقدار کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

۲۳۲۵۔ اگر کوئی شخص کسی کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بن جائے تو پھر وہ ضامن ہونے سے مکر نہیں سکتا۔

۲۳۲۶۔ احتیاط کی بنا پر ضامن اور قرض خواہ یہ شرط نہیں کرسکتے کہ جس وقت چاہیں ضامن کی ضمانت منسوخ کر دیں۔

۲۳۲۷۔ اگر انسان ضامن بننے کے وقت قرض خواہ کا قرضہ ادا کرنے کے قابل ہو تو خواہ وہ (ضامن) بعد میں دیوالیہ ہو جائے قرض خواہ اس کی ضمانت منسوخ کرکے پہلے مقروض سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اور اسی طرح اگر ضمانت دیتے وقت ضامن قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو لیکن قرض خواہ یہ بات جانتے ہوئے اس کے ضامن بننے پر راضی ہوجائے تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۳۲۸۔ اگر انسان ضامن بننے کے وقت قرض خواہ کا قرضہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو اور قرض خواہ صورت حال سے لاعلم ہونے کی بنا پر اس کی ضمانت منسوخ کرنا چاہے تو اس میں اشکال ہے خصوصاً اس صورت میں جب کہ قرض خواہ کے اس امر کی جانب متوجہ ہونے سے پہلے ضامن قرضے کی ادائیگی پر قادر ہوجائے۔

۲۳۲۹۔ اگر کوئی شخص مقروض کی اجازت کے بغیر اس کا قرضہ ادا کرنے کے لئے ضامن بن جائے تو وہ قرضہ ادا کرنے پر مقروض سے کچھ نہیں لے سکتا۔

۲۳۳۰۔ اگر کوئی شخص مقروض کی اجازت سے اس کے قرضے کی ادائیگی کا ضامن بن جائے تو جس مقدار کے لئے ضامن بنا ہو۔ اگرچہ اسے ادا کرنے سے پہلے ۔ مقروض سے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ لیکن جس جنس کے لئے وہ مقروض تھا اس کی بجائے کوئی اور جنس قرض خواہ کو دے تو جو چیز دی ہو اس کا مطالبہ مقروض سے نہیں کر سکتا مثلاً اگر مقروض کو دس من گیہوں دینی ہو اور ضامن دس من چاول دے دے تو ضامن مقروض سے دس من چاول کا مطالبہ نہیں کرسکتا لیکن اگر مقروض خود چاول دینے پر رضامند ہوجائے تو پھر کوئی اشکال نہیں۔

کَفالَت کے احکام


۲۳۳۱۔ " کَفالَت" سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص ذمہ لے کہ جس وقت قرض خواہ چاہے گا وہ مقروض کر اس کے سپرد کردے گا۔ اور جو شخص اس قسم کی ذمے داری قبول کرے اسے کفیل کہتے ہیں۔

۲۳۳۲۔کَفالَت اس وقت صحیح ہے جب کفیل کوئی سے الفاظ میں خواہ عربی زبان کے نہ بھی ہوں یا کسی عمل سے قرض خواہ کو یہ بات سمجھا دے کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ جس وقت تم چاہو گے میں مقروض کو تمہارے حوالے کردوں گا اور قرض خواہ بھی اس بات کو قبول کرلے۔ اور احتیاط کی بنا پر کَفالَت کے صحیح ہونے کے لئے مقروض کی رضامندی بھی مُعتَبَر ہے۔ بلکہ احتیاط یہ ہے کہ کَفاَلت کے معاملے میں اسے طرح مقروض کو بھی ایک فریق ہونا چاہے یعنی مقروض اور قرض خواہ دونوں کَفالَت کو قبول کریں۔

۲۳۳۳۔کفیل کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہو اور اسے کفیل بننے پر مجبور نہ کیا گیا ہو اور وہ اس بات پر قادر ہو کہ جس کا کفیل بنے اسے حاضر کر سکے اور اسی طرح اس صورت میں جب مقروض کو حاضر کرنے کے لئے کفیل کو اپنا مال خرچ کرنا پڑے تو ضروری ہے کہ وہ سفیہ اور دیوالیہ نہ ہو۔

۲۳۲۴۔ان پانچ چیزوں میں سے کوئی ایک کفالت کو کالعدم کر دیتی ہے :

۱۔ کفیل مقروض کو قرض خواہ کے حوالے کر دے یا وہ خود اپنے آپ کو قرض خواہ کے حوالے کر دے۔

۲۔ قرض خواہ کا قرضہ ادا کر دیا جائے۔

۳۔ قرض خواہ اپنے قرضے سے دستبردار ہو جائے۔ یا اسے کسی دوسرے کے حوالے کر دے۔

۴۔ مقروض یا کفیل میں سے ایک مرجائے۔

۵۔ قرض خواہ کفیل کو کفالت سے بَرِیُّالذِّمَّہ قرار دے دے۔

۲۳۳۵۔اگر کوئی شخص مقروض کو قرض خواہ سے زبردستی آزاد کرادے اور قرض خواہ کی پہنچ مقروض تک نہ ہوسکے تو جس شخص نے مقروض کو آزاد کرایا ہو ضروری ہے کہ وہ مقروض کو قرض خواہ کے حوالے کر دے یا اس کا قرض ادا کرے۔

امانت کے احکام


۲۳۳۶۔ اگر ایک شخص کوئی مال کسی کو دے اور کہے کہ یہ تمہارے پاس امانت رہے گا اور وہ بھی قبول کرے یا کوئی لفظ کہے بغیر مال کا مالک اس شخص کو سمجھا دے کہ وہ اسے مال رکھوالی کے لئے دے رہا ہے اور وہ بھی رکھوالی کے مقصد سے لے لے تو ضروری ہے امانت داری کے ان احکام کے مطابق عمل کرے جو بعد میں بیان ہوں گے۔

۲۳۳۷۔ ضروری ہے کہ امانت دار اور وہ شخص جو مال بطور امانت دے دونوں بالغ اور عاقل ہوں اور کسی نے انہیں مجبور نہ کیا ہو لہذا اگر کوئی شخص کسی مال کو دیوانے یا بچے کے پاس امانت کے طور پر رکھے یا دیوانہ یا بچہ کوئی مال کسی کے پاس امانت کے طور پر رکھے تو صحیح نہیں ہے ہان سمجھ دار بچہ کسی دوسرے کے مال کو اس کی اجازت سے کسی کے پاس امانت رکھے تو جائز ہے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ کہ امانت رکھوانے والا سفیہ اور دیوالیہ نہ ہو لیکن اگر دیوالیہ ہو تاہم جو مال اس نے امانت کے طور پر رکھوایا ہو وہ اس مال میں سے نہ ہو جس میں اسے تصرف کرنے سے منع کیا گیا ہے تو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ نیز اس صورت میں کہ جب مال کی حفاظت کرنے کے لئے امانت دار کو اپنا مال خرچ کرنا پڑے تو ضروری ہے کہ وہ سفیہ اور دیوالیہ نہ ہو۔

۲۳۳۸۔ اگر کوئی شخص بچے سے کوئی چیز اس کے مالک کی اجازت کے بغیر بطور امانت قبول کرلے تو ضروری ہے کہ وہ چیز اس کے مالک کو دے دے اور اگر وہ چیز خود بچے کا مال ہو تو لازم ہے کہ وہ چیز بچے کے سرپرست تک پہنچا دے اور اگر وہ مال ان لوگوں کے پاس پہنچانے سے پہلے تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے مگر اس ڈر سے کہ خدا نخواستہ تلف ہوجائے اس مال کو اس کے مالک تک پہنچانے کی نیت سے لیا ہو تو اس صورت میں اگر اس نے مال کی حفاظت کرنے اور اسے مالک تک پہنچانے میں کوتاہی نہ کی ہو تو وہ ضامن نہیں ہے اور اگر امانت کے طور پر مال دینے والا دیوانہ ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۳۳۹۔ جو شخص امانت کی حفاظت نہ کرسکتا ہو اگر امانت رکھوانے والا اس کی اس حالت سے باکبر نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ شخص امانت قبول نہ کرے۔

۲۳۴۰۔ اگر انسان صاحب مال کو سمجھائے کہ وہ اس کے مال کی حفاظت کے لئے تیار نہیں اور اس مال کو امانت کے طور پر قبول نہ کرے اور صاحب مال پھر بھی مال چھوڑ کر چلا جائے اور وہ مال تلف ہو جائے تو جس شخص امانت قبول نہ کی ہو وہ ذمے دارنہیں ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس مال کی حفاظت کرے۔

۲۳۴۱۔جو شخص کسی کے پاس کوئی چیز بطور امانت رکھوائے وہ امانت کو جس وقت چاہے منسوخ کرسکتا ہے اور اسی طرح امین بھی جب چاہے اسے منسوخ کرسکتا ہے۔

۲۳۴۲۔ اگر کوئی شخص امانت کی نگہداشت ترک کردے اور امانت داری منسوخ کر دے تو ضروری ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے مال اس کے مالک یا مالک کے وکیل یا سرپرست کو پہنچا دے یا انہیں اطلاع دے کہ وہ مال کی (مزید) نگہداشت کے لئے تیار نہیں ہے اور اگر وہ بغیر عذر کے مال ان تک نہ پہنچائے یا اطلاع نہ دے اور مال تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

۲۳۴۳۔ جو شخص امانت قبول کرے اگر اس کے پاس اسے رکھنے کے لئے مناسب جگہ نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کے لئے مناسب جگہ حاصل کرے اور امانت کی اس طرح نگہداشت کرے کہ یہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس نے نگہداشت میں کوتاہی کی ہے اور اگر وہ اس کام میں کوتاہی کرے اور امانت تلف ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔

۲۳۴۴۔جو شخص امانت قبول کرے اگر وہ اس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ کرے اورنہ ہی تعدّی کرے اور اتفاقاً وہ مال تلف ہو جائے تو وہ شخص ذمہ دار نہیں ہے لیکن اگر وہ اس مال کی حفاظت میں کوتاہی کرے اور مال کو ایسی جگہ رکھے جہاں وہ ایسا غیر محفوظ ہو کہ اگر کوئی ظالم خبر پائے تو لے جائے یا وہ اس مال میں تَعَدِّی کرے یعنی مالک کی اجازت کے بغیر اس مال میں تصرف کرے مثلاً لباس کو استعمال کرے یا جانور پر سواری کرے اور وہ تلف ہو جائے تو ضروریہے کہ اس کا عوض اس کے مالک کو دے۔

۲۳۴۵۔ اگر مال کا مالک اپنے مال کی نگہداشت کے لئے کوئی جگہ معین کر دے اور جس شخص نے امانت قبول کی ہو اس سے کہہ کہ "تمہیں چاہئے کہ یہیں مال کا خیال رکھو اور اگر اس کے ضائع ہو جانے کا احتمال ہو تب بھی تم اس کو کہیں اور نہ لے جانا۔ تو امانت کرنے والا اسے کسی اور جگہ نہیں لے جاسکتا اور اگر وہ مال کو کسی دوسری جگہ لے جائے اور وہ تلف ہو جائے تو امین ذمہ دار ہے۔

۲۳۴۶۔ اگر مال کا مالک اپنے مال کی نگہداشت کے لئے کوئی جگہ معین کرے لیکن ظاہراً وہ یہ کہہ رہا ہو کہ اس کی نظر میں وہ جگہ کوئی خصوصیت نہیں رکھتی بلکہ وہ جگہ مال کے لئے محفوظ جگہوں میں سے ایک ہے تو وہ شخص جس نے امانت قبول کی ہے اس مال کو کسی ایسی جگہ جو زیادہ محفوظ ہو یا پہلی جگہ جتنی محفوظ ہو لے جاسکتا ہے اور اگر مال وہاں تلف ہو جائے تو وہ ذمے دار نہیں ہے۔

۲۳۴۷۔اگر مال کا مالک مرجائے تو امانت کا معاملہ باطل ہوجاتا ہے۔ لہذا اگر اس مال میں کسی دوسرے کا حق نہ ہو تو وہ مال اس کے وارث کو ملتا ہے اور ضروری ہے کہ امانت دار اس مال کو اس کے وارث تک پہنچائے یا اسے اطلاع دے۔ اور اگر وہ شرعی عذر کے بغیر مال کو اس کے وارث کے حوالے نہ کرے اور خبر دینے میں بھی کوتاہی برتے اور مال ضائع ہوجائے تو وہ ذمے دار ہے لیکن اگر وہ مال اس وجہ سے وارث کو نہ دے اور اسے خبر دینے میں بھی کوتاہی کرے کہ جاننا چاہتا ہو کہ وہ شخص جا کہتا ہے کہ میں میت کا وارث ہوں واقعاً ٹھیک کہتا ہے یا نہیں یا یہ جانتا چاہتا ہو کہ کوئی اور شخص میت کا وارث ہے یا نہیں اور اگر (اس تحقیق کے بیچ) مال تلف ہو جائے تو وہ ذمے دار نہیں ہے۔

۲۳۴۹۔اگر مال کا مالک مرجائے اور مال کی ملکیت کا حق اس کے ورثاء کو مل جائے تو جس شخص نے امانت قبول کی ہو ضروری ہے کہ مال تمام ورثاء کو دے یا اس شخص کو دے جسے مال دینے پر سب ورثاء رضامند ہوں۔ لہذا اگر وہ دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر تمام مال فقط ایک وارث کو دے دے تو وہ دوسروں کے حصوں کا ذمے دار ہے۔

۲۳۵۰۔جس شخص نے امانت قبول کی ہو اگر وہ مرجائے یا ہمیشہ کے لئے دیوانہ یا بے حواس ہو جائے تو امانت کا معاملہ باطل ہوجائے گا اور اس کے سرپرست یا وارث کو چاہئے کہ جس قدر جلد ہو سکے مال کے مالک کو اطلا ع دے یا امانت اس تک پہنچائے۔لیکن اگر کبھی کبھار (یا تھوڑی مدت کے لئے)دیوانہ یا بے حواس ہوتا ہو تو اس صورت میں امانت کا معاملہ باطل ہونے میں اشکال ہے۔

۲۳۵۱۔اگر امانت دار اپنے آپ میں موت کی نشانیاں دیکھے تو اگر ممکن ہو تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ امانت کو اس کے مالک، سرپرست یا وکیل تک پہنچادے یا اس کو اطلاع دے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ ایسا بندوبست کرے کہ اسے طمینان ہو جائے کہ اس کے مرنے کے بعد مال اس کے مالک کو مل جائے گا مثلاً وصیت کرے اور اس وصیت پر گواہ مقرر کرے اور مال کے مالک کا نام اور مال کی جنس اور خصوصیات اور محل وقوع وصی اور گواہوں کو بتا دے۔

۲۳۵۲۔اگر امانت دار اپنے آپ میں موت کی نشانیاں دیکھے اور جو طریقہ اس سے پہلے مسئلے میں بتایا گیا ہے اس کے مطابق عمل نہ کرے تو وہ اس امانت کا ضامن ہوگا لہذا اگر امانت ضائع ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا عوض دے۔ لیکن اگر وہ جانبر ہو جائے یا کچھ مدت گزرنے کے بعد پشیمان ہو جائے اور جو کچھ (سابقہ مسئلے میں) بتایا گیاہے اس پر عمل کرے اور اظہر یہ ہے کہ وہ ذمے دار نہیں ہے۔

عاریہ کے احکام


۲۳۵۳۔ "عاریہ" سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنا مال دوسرے کو دے تاکہ وہ اس مال سے استفادہ کرے اور اس کے عوض کوئی چیز اس سے نہ لے۔

۲۳۵۴۔ عاریہ میں صیغہ پڑھنا لازم نہیں اور اگر مثال کے طور پر کوئی شخص کسی کو لباس عاریہ کے قصد سے دے اور وہ بھی اسی قصد سے لے تو عاریہ صحیح ہے۔

۲۳۵۵۔ غصبی چیز یا اس چیز کو بطور عاریہ دینا جو کہ عاریہ دینے والے کا مال ہو لیکن اس کی آمدنی اس نے کسی دوسرے شخص کے سپرد کردی ہو مثلاً اسے کرائے پر دے رکھا ہو، اس صورت میں صحیح ہے جب غصبی چیز کا مالک یا وہ شخص جس نے عاریہ دی جانے والی چیز کو بطور اجارہ لے رکھا ہو اس کے بطور عاریہ دینے پر راضی ہو۔

۲۳۵۶۔ جس چیز کی منفعت کسی شخص کے سپرد ہو مثلاً اس چیز کو کرائے پر لے رکھا ہو تو اسے بطور عاریہ دے سکتا ہے لیکن احتیاط کی بنا پر مالک کی اجازت کے بغیر اس شخص کے حوالے نہیں کر سکتا جس نے اسے بطور عاریہ لیا ہے۔

۲۳۵۷۔ اگر دیوانہ، بچہ، دیوالیہ اور سفیہ اپنا مال عاریتاً دیں تو صحیح نہیں ہے لیکناگر (ان میں سے کسی کا) سرپرست عاریہ دینے کی مصلحت سمجھتا ہو اور جس شخص کا وہ سرپرست ہے اس کا مال عاریتاً دے دے تو اس میں کوئی اشکال نہیں اسی طرح جس شخص نے مال عریتاً لیا ہو اس تک مال پہنچانے کے لئے بچہ وسیلہ بنے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۳۵۸۔ عاریتاً ہوئی چیز کی نگہداشت میں کوتاہی نہ کرے اور اس سے معمول سے زیادہ اِستِفادہ بھی نہ کرے اور اتفاقاً وہ چیز تلف ہو جائے تو وہ شخص ذمے دار نہیں ہے لیکن اگر طرفین آپس میں یہ شرط کریں کہ اگر وہ چیز تلف ہوجائے تو عاریتاً لینے والا ذمہ دار ہوگا یا جو چیز عاریتاً لی وہ سونا یا چاندی ہو تو اس کی عوض دینا ضروری ہے۔

۲۳۵۹۔ اگر کوئی شخص سونا یا چاندی عاریتاً لے اور یہ طے کیا ہو کہ اگر تلف ہوگیا تو ذمے دار نہیں ہوگا پھر تلف ہوجائے تو وہ شخص ذمے دار نہیں ہے۔

۲۳۶۰۔ اگر عاریہ پر دینے والا مرجائے تو عاریہ پر لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ جو طریقہ امانت کے مالک کے فوت ہو جانے کی صورت میں مسئلہ ۲۳۴۸ میں بتایا گیا ہے اسی کے مطابق عمل کرے۔

۲۳۶۱۔ اگر عاریہ دینے والے کی کیفیت یہ ہو کہ وہ شرعاً اپنے مال میں تصرف نہ کرسکتا ہو مثلاً دیوانہ یا بے حواس ہو جائے تو عاریہ لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ اسی طریقے کے مطابق عمل کرے جو مسئلہ ۲۳۴۷ میں امانت کےبارے میں اسی جیسی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

۲۳۶۲۔ جس شخص نے کوئی چیز عاریتاً دی ہو وہ جب بھی چاہے اسے منسوخ کر سکتا ہے اور جس نے کوئی چیز عاریتاً لی ہو وہ بھی جب چاہے اسے منسوخ کر سکتا ہے۔

۲۳۶۳۔کسی چیز کا عاریتاً دینا جس سے حلال استفادہ نہ ہوسکتا ہو مثلا لہو و لعب اور قمار بازی کے آلات اور کھانے پینے کا استعمال کرنے کے لئے سونے اور چاندی کے برتن عاریتاً دینا۔ بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر ہر قسم کے استعمال کے لئے عاریتاً دینا باطل ہے اور تزئین و آرائش کے لئے عاریتاً دینا جائز ہے اگرچہ احتیاط نہ دینے میں ہے۔

۲۳۶۴۔ بھیڑ (بکریوں) کو ان کے دودھ اور اُون سے استفادہ کرنےکے لئے نیز نر حیوان کو مادہ حیوانات کے ساتھ ملاپ کے لئے عاریتاً دینا صحیح ہے۔

۲۳۶۵۔ اگر کسی چیز کو عاریتاً لینے والا اسے اس کے مالک یا مالک کے وکیل یا سرپرست کو دے دے اور اس کے بعد وہ چیز تلف ہو جائے تو اس چیز کو عاریتاً لینے والا ذمے دار نہیں ہے لیکن اگر وہ مال کے مالک یا اس کے وکیل یا سرپرست کی اجازت کے بغیر مال کو خواہ ایسی جگہ لے جائے جہاں مال کا مالک اسے عموماً لے جاتا ہو مثلاً گھوڑے کو اس اصطبل میں باندھ دے جو اس کے مالک نے اس کے لئے تیار کیا ہو اور بعد میں گھوڑا تلف ہو جائے یا کوئی اسے تلف کر دے تو عاریتاً لینے والا ذمے دار ہے۔

۲۳۶۶۔ اگر ایک شخص کوئی نجس چیز عاریتاً دے تو اس صورت میں اسے چاہئے کہ ۔ جیسا کہ مسئلہ ۲۰۶۵ گزر چکا ہے۔ اس چیز کے نجس ہونے کے بارے میں عاریتاً لینے والے شخص کو بتا دے۔

۲۳۶۷۔ جو چیز کسی شخص نے عاریتاً لی ہو اسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو کرائے پر یا عاریتاً نہیں دے سکتا۔

۲۳۶۸۔ جو چیز کسی شخص نے عاریتاً ہو اگر وہ اسے مالک کی اجازت سے کسی اور شخص کو عاریتاً دے دے تو اگر جس شخص نے پہلے وہ چیز عاریتاً لی ہو مر جائے یا دیوانہ ہو جائے تو دوسرا عاریہ باطل نہیں ہوتا۔

۲۳۶۹۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ جو مال اس نے عاریتاً لیا ہے وہ غصبی ہے تو ضروری ہے کہ وہ مال اس کے مالک کو پہنچا دے اور وہ اسے عاریتاً دینے والے کو نہیں دے سکتا۔

۲۳۷۰۔ اگر کوئی شخص ایسا مال عاریتاً لے جس کے متعلق جانتا ہو کہ وہ غصبی ہے اور اس سے فائدہ اٹھائے اور اس کے ہاتھ سے وہ مال تلف ہو جائے تو مالک اس مال کا عوض اور جو فائدہ عاریتاً لینے والے نے اٹھایا ہے اس کا عوض اس سے یا جس نے مال غصب کیا ہو اس سے طلب کر سکتا ہے اور اگر مالک عاریتاً لینے والے سے عوض لے لے تو عاریتاً لینے والا جو کچھ مالک کو دے اس کا مطالبہ عاریتاً دینے والے سے نہیں کرسکتا۔

۲۳۷۱۔ اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے جو مال عاریتاً لیا ہے وہ غصبی ہے اور اس کے پاس ہوتے ہوئے وہ مال تلف ہو جائے تو اگر مال کا مالک اس کا عوض اس سے لے لے تو وہ بھی جو کچھ مال کے مالک کو دیا ہو اس کا مطالبہ عاریتاً دینے والے سے کرسکتا ہے لیکن اگر اس نے جو چیز عاریتاً لی ہو وہ سونا یا چاندی ہو یا بطور عاریہ دینے والے نے اس سے شرط کی ہو کہ اگر وہ چیز تلف ہوجائے تو وہ اس کا عوض دے گا تو پھر اس نے مال کا جو عوض مال کے مالک کو دیا ہو اس کا مطالبہ عاریتاً دینے والے سے نہیں کرسکتا۔

نکاح کے احکام ← → حج کے اَحکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français