مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

طلاق کے احکام ← → مُعَامَلات

نکاح کے احکام

عقدِازدِواج کے ذریعے عورت، مرد پر اور مرد، عورت پر حلال ہوجاتے ہیں اور عقد کی دو قسمیں ہیں پہلی دائمی اور دوسری غیر دائمی۔ مقررہ وقت کے لئے عقد۔ عقد دائمی اسے کہتے ہیں جس میں ازدواج کی مدت معین نہ ہو اور وہ ہمیشہ کے لئے ہو اور جس عورت سے اس قسم کاعقد کیا جا۴ے اسے دائمہ کہتے ہیں۔ اور غیر دائمی عقد وہ ہے جس میں ازدواج کی مدت معین ہو مثلاً عورت کے ساتھ ایک گھنٹے یا ایک دن یا ایک مہینے یا ایک سال یا اس سے زیادہ مدت کے لئے عقد کیا جائے لیکن اس عقد کی مدت عورت اور مرد کی عام عمر سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس صورت میں عقد باطل ہو جائے گا۔ جب عورت سے اس قسم کا عقد کیا جائے تو اسے مُتعہ یا صیغہ کہتے ہیں۔

۲۳۷۲۔ازدواج خواہ دائمی ہو یا غیر دائمی اس میں صیغہ (نکاح کے بول) پڑھنا ضروری ہے۔ عورت اور مرد کا محض رضامند ہونا اور اسی طرح (نکاح نامہ) لکھنا کافی نہیں ہے۔ نکاح کا صیغہ یا تو عورت اور مرد خود پڑھتے ہیں یا کسی کو وکیل مقرر کر لیتے ہیں تاکہ وہ ان کی طرف سے پڑھ دے۔

۲۳۷۳۔ وکیل کا مرد ہونا لازم نہیں بلکہ عورت بھی نکاح کا صیغہ پڑھنے کے لئے کسی دوسرے کی جانت سے وکیل ہوسکتی ہے۔

۲۳۷۴۔عورت اور مرد کو جب تک اطمینان نہ ہوجائے کہ ان کے وکیل نے صیغہ پڑھ دیا ہے اس وقت تک وہ ایک دوسرے کو محرمانہ نظروں سے نہیں دیکھ سکتے اور اس بات کا گمان کہ وکیل نے صیغہ پڑھ دیا ہے کافی نہیں ہے بلکہ اگر وکیل کہہ دے کہ میں نے صیغہ پڑھدیا ہے لیکن اس کی بات پر اطمینان نہ ہو تو اس کی بات پر بھروسہ کرنا محل اشکال ہے۔

۲۳۷۵۔ اگر کوئی عورت کسی کو وکیل مقرر کرے اور کہے کہ تم میرا نکاح دس دن کے لئے فلاں شخص کے ساتھ پڑھ دو اور دس دن کی ابتدا کو معین نہ کرے تو وہ (نکاح خوان) وکیل جن دس دنوں کے لئے چاہے اسے اس مرد کے نکاح میں دے سکتا ہے لیکن اگر وکیل کو معلوم ہو کہ عورت کا مقصد کسی خاصدن یا گھنٹے کا ہے تو پھر اسے چاہئے کہ عورت کے قصد کے مطابق صیغہ پڑھے۔

۲۳۷۶۔ عقد دائمی یا عقد غیر دائمی کا صیغہ پڑھنے کے لئے ایک شخص دو اشخاص کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے اور انسان یہ بھی کرسکتا ہے کہ عورت کی طرف سے وکیل بن جائے اور اس سے خود دائمی یا غیر دائمی نکاح کرلے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ نکاح دو اشخاص پڑھیں۔

نکاح پڑھنے کا طریقہ


۲۳۷۷۔ اگر عورت اور مرد خود اپنے دائمی نکاح کا صیغہ پڑھیں تو مہر معین کرنےکے بعد پہلے عورت کہے "زَوَّجتُکَ نَفسِی عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" یعنی میں نے اس مہر پر جو معین ہوچکا ہے اپنے آپ کو تمہاری بیوی بنایا اور اس کے لمحہ بھی بعد مرد کہے "قَبِلتُ التَّزوِیجَ" یعنی میں نے ازدواج کو قبول کیا تو نکاح صحیح ہے اور اگر وہ کسی دوسرے کو وکیل مقرر کریں کہ ان کی طرف سے صیغہ نکاح پڑھ دے تو اگر مثال کے طور پر مرد کا نام احمد اور عورت کا نام فاطمہ ہو اور عورت کا وکیل کہے "زَوَّجتُ مُوِکِّلَکَ اَحمَدَ مُوَکِّلَتیِ فَاطِمَۃَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" اور اس کے لمحہ بھر بعد مرد کا وکیل کہے " قَبِلتُ التَّزوِیجَ لِمُوَکِّلِی اَحمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" تو نکاح صحیح ہوگا اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مرد جو لفظ کہے وہ عورت کے کہے جانے والے لفظ کے مطابق ہو مثلاً اگر عورت "زَوَّجتُ" کہے تو مرد بھی "قَبِلتُ التَّزوِیجَ" کہے اور قَبِلتُ النِّکَاحَ نہ کہے۔

۲۳۷۸۔اگر خود عورت اور مرد چاہیں تو غیر دائمی نکاح کا صیغہ نکاح کی مدت اور مہر معین کرنے کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔ لہذا اگر عورت کہے "زَوَّجتُکَ نَفسِی فِی المُدَّۃِ المَعلُومَۃِ عَلَی المَھرِ المَعلُومِ" اور اس کے لمحہ بھر بعد مرد کہے "قَبِلتُ" تو نکاح صحیح ہے اور اگر وہ کسی اور شخص کو وکیل بنائیں اور پہلے عورت کا وکیل مرد کے وکیل سے کہے "زَوَّجتُکَ مُوَکِّلَتِی مُوَکِّلَکَ فِی المُدَّۃِ المَعلُومَۃِ عَلَی المَھرِ المَعلُومِ" اور اس کے بعد مرد کا وکیل توقّف کے بعد کہے۔ "قَبِلتُ التَّزوِیجَ لِمُوَکِّلِی ھٰکَذَا" تو نکاح صحیح ہوگا۔

نکاح کی شرائط


۲۳۷۹۔نکاح کی چند شرطیں ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

۱۔ احتیاط کی بنا پر نکاح کا صیغہ صحیح عربی میں پڑھا جائے اور اگر خود مرد اور عورت صیغہ صحیح عربی میں نہ پڑھ سکتے ہوں تو عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں پڑھ سکتے ہیں اور کسی شخص کو وکیل بنانا لازم نہیں ہے۔ البتہ انہیں چاہئے کہ وہ الفاظ کہیں جو زَوَّجتُ اور قَبِلتُ کا مفہوم ادا کر سکیں۔

۲۔ مرد اور عورت یا ان کے وکیل جو کہ صیغہ پڑھ رہے ہوں وہ "قصد انشاء" رکھتے ہوں یعنی اگر خود مرد اور عورت صیغہ پڑھ رہے ہوں تو عورت کا "زَوَّجتُکَ نَفسِی " کہنا اس نیت سے ہو کہ خود کو اس کی بیوی قرار دے اور مرد کا قَبِلتُ التَّزوِیجَ کہنا اس نیت سے ہو کہ وہ اس کا اپنی بیوی بننا قبول کرے اور اگر مرد اور عورت کے وکیل صیغہ پڑھ رہے ہوں تو "زَوَّجتُ وَقَبِلتُ" کہنے سے ان کی نیت یہ ہو کہ وہ مرد اور عورت جنہوں نے انہیں وکیل بنایا ہے ایک دوسرے کے میاں بیوی بن جائیں۔

۳۔ جو شخص صیغہ پڑھ رہا ہوضروری ہے کہ وہ عاقل ہو اور احتیاط کی بنا پر اسے بالغ بھی ہونا چاہئے۔ خواہ وہ اپنے لئے صیغہ پڑھے یاکسی دوسرے کی طرف سے وکیل بنایا گیا ہو۔

۴۔ اگر عورت اور مرد کے وکیل یا ان کے سرپرست صیغہ پڑھ رہے ہوں تو وہ نکاح کے وقت عورت اور مرد کو معین کرلیں مثلاً ان کے نام لیں یا ان کی طرف اشارہ کریں۔ لہذا جس شخص کی کئی لڑکیاں ہوں اگر وہ کسی مرد سے کہے "زَوَّجتُکَ اِحدٰی بَنَاتِی" یعنی میں نے اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو تمہاری بیوی بنایا اور وہ مرد کہے "قَبِلتُ" یعنی میں نے قبول کیا تو چونکہ نکاح کرتے وقت لڑکی کو معین نہیں خیا گیا اس لئے نکاح باطل ہے۔

۵۔ عورت اور مزد ازدواج پر راضی ہوں۔ ہاں اگر عورت بظاہر ناپسندیدگی سے اجازت دے اور معلوم ہو کہ دل سے راضی ہے تو نکاح صحیح ہے۔

۲۳۸۰۔ اگر نکاح میں ایک حرف بھی غلط پڑھا جائے جو اس کے معنی بدل دے تو نکاح باطل ہے۔

۲۳۸۱۔وہ شخص جو نکاح کا صیغہ پڑھ رہا ہو اگر ۔ خواہ اجمالی طور پر۔نکاح کے معنی جانتا ہو اور اس کے معنی کو حقیقی شکل دینا چاہتا ہو تو نکاح صحیح ہے۔ اور یہ لازم نہیں کہ وہ تفصیل کے ساتھ صیغے کے معنی جانتا ہو مثلاً یہ جاننا (ضروری نہیں ہے) کہ عربی زبان کے لحاظ سے فعل یا فاعل کونسا ہے۔

۲۳۸۲۔ اگر کسی عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کسی مرد سے کر دیا جائے اور بعد میں عورت اور مرد اس نکاح کی اجازت دے دیں تو نکاح صحیح ہے۔

۲۳۸۳۔ اگر عورت اور مرد دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو ازدواج پر مجبور کیا جائے اور نکاح پڑھے جانے کے بعد وہ اجازت دے دیں تو نکاح صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ دوبارہ نکاح پڑھا جائے۔

۲۳۸۴۔ باپ اور دادا اپنے نابالغ لڑکے یا لڑکی (پوتے یا پوتی) یا دیوانے فرزند کا جو دیوانگی کی حالت میں بالغ ہوا ہو نکاح کرسکتے ہیں اور جب وہ بچہ بالغ ہوجائے یا دیوانہ عاقل ہوجائے تو انہوں نے اس کا جو نکاح کیا ہو اگر اس میں کوئی خرابی ہو تو انہیں اس نکاح کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار ہے اور اگر کوئی خرابی نہ ہو اور نابالغ لڑکے یا لڑکی میں سے کوئی ایک اپنے اس نکاح کو منسوخ کرے تو طلاق یا دوبارہ نکاح پڑھنے کی احتیاط ترک نہیں ہوتی۔

۲۳۸۵۔ جو لڑکی سن بلوغ کو پہنچ چکی ہو اور رَشِیدَہ ہو یعنی اپنا برا بھلا سمجھ سکتی ہو اگر وہ شادی کرنا چاہے اور کنواری ہو تو ۔ احتیاط کی بنا پر ۔ اسے چاہئے کہ اپنے باپ یا دادا سے اجازت لے اگرچہ وہ خود مختاری سے اپنی زندگی کے کاموں کو انجام دیتی ہو البتہ ماں اور بھائی سے اجازت لینا لازم نہیں۔

۲۳۸۶۔اگر لڑکی کنواری نہ ہو یا کنواری ہو لیکن باپ یا دادا اس مرد کے ساتھ اسے شادی کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں جو عرفاً و شرعاً اس کا ہم پلہ ہو یا باپ اور دادا بیٹی کے شادی کے معاملے میں کسی طرح شریک ہونے کے لئے راضی نہ ہوں یا دیوانگی یا اس جیسی کسی دوسری وجہ سے اجازت دینےکی اہلیت نہ رکھتے ہوں تو ان تمام صورتوں میں ان سے اجازت لینا لازم نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے موجود نہ ہونے یا کسی دوسری وجہ سے اجازت لینا ممکن نہ ہو اور لڑکی کا شادی کرنا بیحد ضروری ہو تو باپ اور دادا سے اجازت لینا لازم نہیں ہے۔

۲۳۸۷۔ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ لڑکے (یاپوتے) کی شادی کر دیں تو لڑکے (یاپوتے) کو چاہئے کہ بالغ ہونے کے بعد اس عورت کا خرچ دے بلکہ بالغ ہونے سے پہلے بھی جب اس کی عمر اتنی ہو جائے کہ وہ اس لڑکی سے لذت اٹھانے کی قابلیت رکھتا ہو اور لڑکی بھی اس قدر چھوٹی نہ ہو کہ شوہر اس سے لذت اٹھانے کی قابلیت رکھتا ہو اور لڑکی بھی اس قدر چھوٹی نہ ہو کہ شوہر اس سے لذت نہ اٹھا سکے تو بیوی کے خرچ کا ذمے دار لڑکا ہے اور اس صورت کے علاوہ بھی احتمال ہے کہ بیوی خرچ کی مستحق ہو۔ پس احتیاط یہ ہے کہ مصالحت وغیرہ کے ذریعے مسئلے کو حل کرے۔

۲۳۸۸۔ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ لڑکے (یاپوتے) کی شادی کر دیں تو اگر لڑکے کے پاس نکاح کے وقت کوئی مال نہ ہو تو باپ یا دادا کو چاہئے کہ اس عورت کا مہر دے اور یہی حکم ہے اگر لڑکے (یاپوتے) کے پاس کوئی مال ہو لیکن باپ یا دادا نے مہر ادا کرنے کی ضمانت دی ہو۔ اور ان دو صورتوں کے علاوہ اگر اس کا مہر مہرالمثل سے زیادہ نہ ہو یا کسی مصلحت کی بنا پر اس لڑکی کا مہر مہرالمثل سے زیادہ ہو تو باپ یا دادا بیٹے (یا پوتے) کے مال سے مہر ادا کرسکتے ہیں و گرنہ بیٹے (یاپوتے) کے مال سے مہرالمثل سے زیادہ مہر نہیں دے سکتے مگر یہ کہ بچہ بالغ ہونے کے بعد ان کے اس کام کو قبول کرے۔

وہ صورتیں جن میں مرد یا عورت نکاح فسخ کرسکتے ہی


۲۳۸۹۔ اگر نکاح کے بعد مرد کو پتا چلے کہ عورت میں نکاح کے وقت مندرجہ ذیل چھ عیوب میں سے کوئی عیب موجود تھا تو اس کی وجہ سے نکاح کو فسخ کرسکتا ہے۔

۱۔ دیوانگی۔ اگرچہ کبھی کبھار ہوتی ہو۔

۲۔ جذام۔

۳۔برص۔

۴۔اندھاپن۔

۵۔ اپاہج ہونا۔ اگرچہ زمین پر نہ گھسٹتی ہو۔

۶۔ بچہ دانی میں گوشت یا ہڈی ہو۔ خواہ جماع اور حمل کے لئے مانع ہو یا نہ ہو۔ اور اگر مرد کو نکاح کے بعد پتا چلے کہ عورت نکاح کے وقت افضا ہوچکی تھی یعنی اس کا پیشاب اور حیض کا مخرج یا حیض اور پاخانے کا مخرج ایک ہوچکا تھا تو اس صورت میں نکاح کو فسخ کرنے میں اشکال ہے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اگر عقد کو فسخ کرنا چاہے تو طلاق بھی دے۔

۲۳۹۰۔ اگر عورت کو نکاح کے بعد پتا چلے کہ اس کے شوہر کا آلہ تناسل نہیں ہے، یا نکاح کے بعد جماع کرنے سے پہلے، یا جماع کرنے کے بعد، اس کا آلہ تناسل کٹ جائے، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے کہ صحبت اورجماع نہ کرسکتا ہو خواہ وہ بیماری نکاح کے بعد اور جماع کرنے سے پہلے، یا جماع کرنے کے بعد ہی کیوں نہ لاحق ہوئی ہو۔ ان تمام صورتوں میں عورت طلاق کے بغیر نکاح کو ختم کرسکتی ہے۔ اور اگر عورت کو نکاح کے بعد پتا چلے کہ اس کا شوہر نکاح سے پہلے دیوانہ تھا، یا نکاح کے بعد ۔ خواہ جماع سے پہلے، یا جماع کے بعد۔ دیوانہ ہوجائے ، یا اسے (نکاح کے بعد) پتا چلے کہ نکاح کے وقت اس کے فوطے نکالے گئے تھے یا مسل دیئے گئے تھے، یا اسے پتا چلے کہ نکاح کے وقت جذام یا برص میں مبتلا تھا تو ان تمام صورتوں میں اگر عورت ازدواجی زندگی برقرار نہ رکھنا اور نکاح کو ختم کرنا چاہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کا شوہر یا اس کا سرپرست عورت کو طلاق دے۔ لیکن اس صورت میں کہ اس کا شوہر جماع نہ کرسکتا ہو اور عورت نکاح کو ختم کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ پہلے حاکم شرع یا اس کے وکیل سے رجوع کرے اور حاکم شرع اسے ایک سال کی مہلت دے گا لہذا اگر اس دوران وہ اس عورت یا کسی دوسری عورت سے جماع نہ کرسکے تو اس کے بعد عورت نکاح کو ختم کرسکتی ہے۔

۲۳۹۱۔ اگر عورت اس بنا پر نکاح ختم کردے کہ اس کا شوہر نامرد ہے تو ضروری ہے کہ شوہر اسے آدھا مہر دے لیکن اگر ان دوسرے نقائص میں سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے کسی ایک کی بنا پر مرد یا عورت نکاح ختم کر دیں تو اگر مرد نے عورت کے ساتھ جماع نہ کیا ہو تو وہ کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہے اور اگر جماع کیا ہو تو ضروری ہے کہ پورا مہر دے۔ لیکن اگر مرد عورت کے ان عیوب کی وجہ سے نکاح ختم کرے جن کا بیان مسئلہ ۲۳۸۹ میں ہوچکا ہے اور اس نے عورت کے ساتھ جماع نہ کیا ہو تو کسی چیز کا ذمے دار نہیں ہے لیکن اگر جماع کے بعد نکاح ختم کرے تو ضروری ہے کہ عورت کو پورا مہر دے۔

۲۳۹۲۔ اگر مرد یا عورت جو کچھ وہ ہیں اس سے زیادہ بڑھا چڑھا کر ان کی تعریف کی جائے تاکہ وہ شادی کرنے میں دلچسپی لی۔ خواہ یہ تعریف نکاح کے ضمن میں ہو یا اس سے پہلے ۔ اس صورت میں کہ اس تعریف کی بنیاد پر نکاح ہوا ہو۔ لہذا اگر نکاح کے بعد دوسرے فریق کو اس بات کا غلط ہونا معلوم ہوجائے تو وہ نکاح کو ختم کرسکتا ہے اور اس مسئلے کے تفصیلی احکام "مسائِلِ مُنتَخَحبَہ" جیسی دوسری کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔

وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے


۲۳۹۳۔ ان عورتوں کے ساتھ جو انسان کی محرم ہوں ازدواج حرام ہے مثلاً ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، ساس۔

۲۳۹۴۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے چاہے اس کے ساتھ جماع نہ بھی کرے تو اس عورت کی ماں، نانی اور دادی اور جتنا سلسلہ اوپر چلاجائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہوجاتی ہیں۔

۲۳۹۵۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ ہم بستری کرے تو پھر اس عورت کی لڑکی، نواسی، پوتی اور جتنا سلسلہ نیچے چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہوجاتی ہیں خواہ وہ عقد کے وقت موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں۔

۲۳۹۶۔ اگر کسی مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا ہو لیکن ہم بستری نہ کی ہو تو جب تک وہ عورت اس کے نکاح میں رہے۔ احتیاط واجب کی بنا پر۔ اس وقت تک اس کی لڑکی سے ازدواج نہ کرے۔

۲۳۹۷۔ انسان کی پھوپھی اور خالہ اور اس کے باپ کی پھوپھی اور خالہ اور دادا کی پھوپھی اور خالہ باپ کی ماں (دادی) اور ماں کی پھوپھی اور خالہ اور نانی اور نانا کی پھوپھی اور خالہ اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلاجائے سب اس کے محرم ہیں۔

۲۳۹۸۔ شوہر کا باپ اور دادا اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور شوہر کا بیٹا، پوتا اور نواسا جس قدر بھی یہ سلسلہ نیچے چلا جائے اور خواہ وہ نکاح کے وقت دنیا میں موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں سب اس کی بیوی کے محرم ہیں۔

۲۳۹۹۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو خواہ وہ نکاح دائمی ہو یا غیر جب تک وہ عورت اس کی منکوحہ ہے وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔

۲۴۰۰۔ اگر کوئی شخص اس ترتیب کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے مسائل میں کیا جائے گا اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو وہ وعدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح نہیں کرسکتا لیکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے اور مُتعَہ کی عدت کے دوران احتیاط واجب یہ ہے کہ عورت کی بہن سے نکاح نہ کرے۔

۲۴۰۱۔ انسان اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی سے شادی نہیں کرسکتا لیکن اگر وہ بیوی کی اجازت کے بغیر ان سے نکاح کرلے اور بعد میں بیوی اجازت دے دے تو پھر کوئی اشکال نہیں۔

۲۴۰۲۔اگر بیوی کو پتا چلے کہ اس کے شوہر نے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرلیا ہے اور خاموش رہے تو اگر وہ بعد میں راضی ہوجائے تو نکاح صحیح ہے اور اگر رضامند نہ ہو تو ان کا نکاح باطل ہے۔

۲۴۰۳۔ اگر انسان خالہ یا پھوپھی کی لڑکی سے شادی کرنے سے پہلے (نَعوذُ بِاللہ) خالہ یا پھوپھی سے زنا کرے تو پھر وہ اس کی لڑکی سے احتیاط کی بنا پر شادی نہیں کرسکتا۔

۲۴۰۴۔ اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی کی لڑکی یا خالہ کی لڑکی سے شادی کرے اور اس سے ہم بستری کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو یہ بات ان کی جدائی کا موجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پہلے اس کی ماں سے زنا کرے تو یہ بات ان کی جدائی کا موجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پہلے اس کی ماں سے زنا کرے تب بھی یہی حکم ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس صورت طلاق دے کر اس سے (یعنی پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہن سے) جدا ہوجائے۔

۲۴۰۵۔اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی یا خالہ کے علاوہ کسی اور عورت سے زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی نہ کرے بلکہ اگر کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس عورت سے جدا ہوجائے لیکن اگر اس کے ساتھ جماع کرلے اور بعد میں اس کی ماں سے زنا کرے تو بے شک عورت سے جدا ہونا لازم نہیں۔

۲۴۰۶۔مسلمان عورت کا فرد مرد سے نکاح نہیں کرسکتی۔ مسلمان مرد بھی اہل کتاب کے علاوہ کافر عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتا۔ لیکن یہودی اور عیسائی عورتوں کی مانند اہل کتاب عورتوں سے مُتعَہ کرنے سے کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر ان سے دائمی عقد نہ کیا جائے اور بعض فرقے مثلاً ناصبی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں کفار کے حکم میں ہیں اور مسلمان مرد اور عورتیں ان کے ساتھ دائمی یا غیر دائمی نکاح نہیں کرسکتے۔

۲۴۰۷۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے زنا کرے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو تو احتیاط کی بنا پر۔ وہ عورت اس پر حرام ہوجاتی ہے اور اگر ایسی عورت کے ساتھ زنا کرے جو متعہ یا طلاق بائن یا وفات کی عدت گزار رہی ہو تو بعد میں اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سے شادی نہ کرے۔ اور رَجعی طلاق اور بَائِن طلاق اور مُتعہ کی عِدّت اور وفات کی عِدّت کے معنی طلاق کے احکام میں بتائے جائیں گے۔

۲۴۰۸۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو بے شوہر ہو مگر عدت میں نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر توبہ کرنے سے پہلے اس سے شادی نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر زانی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص (اس عورت کے) توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔ مگر اس صورت میں کہ وہ عورت زناکار مشہور ہو تو احتیاط کی بنا پر اس (عورت) کے توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی مرد زنا کار مشہور ہو تو توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زنا کا عورت سے جس سے خود اس نے یا کسی دوسرے نے منہ کالا کیا ہو شادی کرنا چاہے تو حیض آنے تک صبر کرے اور حیض آنے کے بعد اس کے ساتھ شادی کرلے۔

۲۴۰۹۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں ہو تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئی ایک جانتا ہو کہ عورت کی عدت ختم نہیں ہوئی اور یہ بھی جانتے ہوں کہ عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام ہے تو اگرچہ مرد نے نکاح کے بعد عورت سے جماع نہ بھی کیا ہو اور عورت ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوجائے گی۔

۲۴۱۰۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں ہو اور اس سے جماع کرے تو خواہ اسے یہ علم نہ ہو کہ وہ عورت عدت میں ہے یا یہ نہ جانتا ہو کہ عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام ہے وہ عورت ہمیشہ کے لئے اس شخص پر حرام ہوجائے گی۔

۲۴۱۱۔ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عورت شوہر دار ہے اور (اس سے شادی کرنا حرام ہے) اس سے شادی کرے تو ضروری ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے اور بعد میں بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہئے۔ اور اگر اس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ عورت شوہر دار ہے لیکن شادی کے بعد اس سے ہم بستری کی ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۴۱۲۔اگر شوہر دار عورت زنا کرے تو ۔ احتیاط کی بنا پر۔ وہ زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے لیکن شوہر پر حرام نہیں ہوتی اور اگر توبہ و استغفار نہ کرے اور اپنے عمل پر باقی رہے (یعنی زنا کاری ترک نہ کرے) تو بہتر یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے لیکن شوہر کو چاہئے کہ اس کا مہر بھی دے۔

۲۴۱۳۔ جس عورت کو طلاق مل گئی ہو اور جو عورت متعہ میں رہی ہو اور اس کے شوہر نے متعہ کی مدت بخش دی ہو یا متعہ کی مدت ختم ہوگئی ہو اگر وہ کچھ عرصے کے بعد دوسرا شوہر کرے اور پھر اسے شک ہو کہ دوسرے شوہر سے نکاح کے وقت پہلے شوہر کی عدت ختم ہوئی تھی یا نہیں تو وہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۲۴۱۴۔ اغلام کروانے والے لڑکے کی ماں، بہن اور بیٹی اغلام کرنے والے پر۔ جب کہ (اغلام کرنے والا) بالغ ہو۔ حرام ہوجاتے ہیں ۔ اور اگر اغلام کروانے والا مرد ہو یا اغلام کرنے والا نابالغ ہوتب بھی احتیاط لازم کی بنا پر بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر اسے گمان و کہ دخول ہوا تھا یا شک کرے کہ دخول ہوا تھا یا نہیں تو پھر وہ حرام نہیں ہوں گے۔

۲۴۱۵۔ اگر کوئی شخص کسی لڑکے کی ماں یا بہن سے شادی کرے اور شادی کے بعد اس لڑکے سے اغلام کرے تو احتیاط کی بنا پر وہ عورتیں اس پر حرام ہو جاتی ہیں۔

۲۴۱۶۔ اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں جو اعمال حج میں سے ایک عمل ہے کسی عورت سے شادی کرے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اسے علم تھا کہ کسی عورت سے احرام کی حالت میں نکاح کرنا اس پر حرام ہے تو بعد میں وہ اس عورت سے شادی نہیں کرسکتا۔

۲۴۱۷۔ جو عورت احرام کی حالت میں ہو اگر وہ ایک ایسے مرد سے شادی کرے جو احرام کی حالت میں نہ ہو تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر عورت کو معلوم تھا کہ احرام کی حالت میں شادی کرنا حرام ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ بعد میں اس مرد سے شادی نہ کرے۔

۲۴۱۸۔ اگر مرد طواف النساء جو حج اور عمر مفردہ کے اعمال میں سے ایک عمل ہے بجا نہ لائے تو اس کی بیوی اور دوسری عورتیں اس پر حلال نہیں ہوتیں اور اگر عورت طواف النساء نہ کرے تو اس کا شوہر اور دوسرے مرد اس پر حلال نہیں ہوتے لیکن اگر وہ بعد میں طواف النساء بجالائیں تو مرد پر عورتیں اور عورتوں پر مرد حلال ہو جاتے ہیں۔

۲۴۱۹۔ اگر کوئی شخص نابالغ لڑکی سے نکاح کرے تو اس لڑکی کی عمر نوسال ہونے سے پہلے اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے۔ لیکن اگر جماع کرے تو اظہر یہ ہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس سے جماع کرنا حرام نہیں ہے خواہ اسے افضاء ہی ہوگیا ہو۔ افضاء کے معنی مسئلہ ۲۳۸۹ میں بتائے جاچکے ہیں۔ لیکن احوط یہ ہے کہ اسے طلاق دے دے۔

۲۴۲۰۔ جس عورت کو تین مرتبہ طلاق دی جائے وہ شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔ ہاں اگر ان شرائط کے ساتھ جن کا ذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا وہ عورت دوسرے مرد سے شادی کرے تو دوسرے شوہر کی موت یا اس سے طلاق ہوجانے کے بعد اور عدت گزر جانے کے بعد اس کا پہلا شوہر دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے۔

دائمی عقد کے احکام


۲۴۲۱۔ جس عورت کا دائمی نکاح ہو جائے اس کے لئے حرام ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلے خواہ اس کا نکلنا شوہر کے حق کے منافی نہ بھی ہو۔ نیز اس کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی شوہر جنسی لذتیں حاصل کرنا چاہے تو اس کی خواہش پوری کرے اور شرعی عذر کے بغیر شوہر کو ہم بستری سے نہ روکے۔ اور اس کی غذا، لباس رہائش اور زندگی کی باقی ضروریات کا انتظام جب تک وہ اپنی ذمے داری پوری کرنے شوہر پر واجب ہے۔ اور اگر وہ یہ چیزیں مہیانہ کرے تو خواہ ان کے مہیا کرنے پر قدرت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو وہ بیوی کا مقروض ہے۔

۲۴۲۲۔ اگر کوئی عورت ہم بستری اور جنسی لذتوں کے سلسلے میں شوہر کا ساتھ دے کر اس کی خواہش پوری نہ کرے تو روٹی، کپڑے اور مکان کا وہ ذمے دار نہیں ہے اگرچہ وہ شوہر کے پاس ہی رہے اور اگر وہ کبھی کبھار اپنی ان ذمے داریوں کو پورا نہ کرے تو مشہور قول کے مطابق تب بھی روٹی، کپڑے اور مکان کا شوہر پر حق نہیں رکھتی لیکن یہ حکم محل اشکال ہے اور ہر صورت میں بلااشکال اس کا مہر کالعدم نہیں ہوتا۔

۲۴۲۳۔ مرد کو یہ حق نہیں کہ بیوی کو گھریلو خدمت پر مجبور کرے

۲۴۲۴۔بیوی کے سفر کے اخراجات وطن میں رہنے کے اخراجات سے زیادہ ہوں تو اگر اس نے سفر شوہر کی اجازت سے کیا ہو تو شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ ان اخراجات کو پورا کرے۔ لیکن اگر وہ سفر گاڑی یا جہاز وغیرہ کے ذریعے ہو تو کرائے اور سفر کے دوسرے ضروری اخراجات کی وہ خود ذمے دار ہے۔ لیکن اگر اس کا شوہر اسے سفر میں ساتھ لے جانا چاہتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ بیوی کے سفری اخراجات برداشت کرے۔

۲۴۲۵۔جس عورت کا خرچ اس کے شوہر کے ذمے ہو اور شوہر اسے خرچ نہ دے تو وہ اپنا خرچ شوہر کے اجازت کے بغیر اس کے مال سے لے سکتی ہے اور اگر نہ لے سکتی ہو اور مجبور ہو کہ اپنی معاش خود بندوبست کرے اور شکایت کرنے کے لئے حاکم شرع تک اس کی رسائی نہ ہوتا کہ وہ اس کے شوہر کو ۔ اگرچہ قید کرکے ہی ۔ خرچ دینے پر مجبور کرے تو جس وقت وہ اپنی معاش کا بندوبست کرنے میں مشغول ہو اس وقت شوہر کی اطاعت اس پر واجب نہیں ۃے۔

۲۴۲۶۔ اگر کسی مرد کی مثلاً دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کے پاس ایک رات رہے تو اس پر واجب ہے کہ چار راتوں میں سے کوئی ایک رات دوسری کے پاس بھی گزارے اور صورت کے علاوہ عورت کے پاس رہنا واجب نہیں ہے۔ ہاں یہ لازم ہے کہ اس کے پاس رہنا بالکل ہی ترک نہ کردے اور اولی اور احوط یہ ہے کہ ہر چار راتوں میں سے ایک رات مرد اپنی دائمی منکوحہ بیوی کے پاس رہے۔

۲۴۲۷۔ شوہر اپنی جوان بیوی سے چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک نہیں کرسکتا مگر یہ کہ ہم بستری اس کے لئے نقصان دہ یا بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہو یا اس کی بیوی خود چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک کرنے پر راضی ہو یا شادی کرتے وقت نکاح کے ضمن میں چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک کرنے کی شرط رکھی گئی ہو اور اس حکم میں احتیاط کی بنا پر شوہر کے موجود ہونے یا مسافر ہونے یا عورت کے منکوحہ یا مَمتُوعہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۲۴۲۸۔ اگر دائمی نکاح میں مہر معین نہ کیا جائے تو نکاح صحیح ہے اور اگر مرد عورت کے ساتھ جماع کرے تو اسے چاہئے کہ اس کا مہر اسی جیسی عورتوں کے مہر کے مطابق دے البتہ اگر متعہ میں مہر معین نہ کیا جائے تو متعہ باطل ہوجاتا ہے۔

۲۴۲۹۔ اگر دائمی نکاح پڑھتے وقت مہر دینے کے لئے مدت معین نہ کی جائے تو عورت مہر لینے سے پہلے شوہر کو جماع کرنے سے روک سکتی ہے قطع نظر اس سے کہ مرد مہر دینے پر قادر ہو یا نہ ہو لیکن اگر وہ مہر لینے سے پہلے جماع پر راضی ہو اور شوہر اس سے جماع کرے تو بعد میں وہ شرعی عذر کے بغیر شوہر کو جماع کرنے سے نہیں روک سکتی۔

مُتعَہ (مُعَیَّنَہ مُدّت کا نکاح)


۲۴۳۰۔ عورت کے ساتھ متعہ کرنا اگرچہ لذت حاصل کرنے کے لئے نہ ہو تب بھی صحیح ہے۔

۲۴۳۱۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ شوہر نے جس عورت سے متعہ کیا ہو اس کے ساتھ چار مہینے سے زیادہ جماع ترک نہ کرے۔

۲۴۳۲۔جس عورت کے ساتھ متعہ کیا جا رہا ہو اگر وہ نکاح میں یہ شرط عائد کرے کہ شوہر اس سے جماع نہ کرے تو نکاح اور اس کی عائد کردہ شرط صحیح ہے اور شوہر اس سے فقط دوسری لذتیں حاصل کرسکتا ہے لیکن اگر وہ بعد میں جماع کے لئے راضی ہو جائے تو شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے اور دائمی عقد میں بھی یہی حکم ہے۔

۲۴۳۳۔ جس عورت کے ساتھ متعہ کیا گیا ہو خواہ وہ حاملہ ہو جائے تب بھی خرچ کا حق نہیں رکھتی۔

۲۴۳۴۔ جس عورت کے ساتھ متعہ کیا گیا ہو وہ ہم بستری کا حق نہیں رکھتی اور شوہر سے میراث بھی نہیں پاتی اور شوہر بھی اس سے میراث نہیں پاتا۔ لیکن اگر ۔ ان میں سے کسی ایک فریق نے یا دونوں نے ۔ میراث پانے کی شرط رکھی ہو تو اس شرط کا صحیح ہونا محل اشکال ہے۔ لیکن احتیاط کا خیال رکھے۔

۲۴۳۵۔ جس عورت سے متعہ کیا گیا ہو اگرچہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ خرچ اور ہم بستری کا حق نہیں رکھتی اس کا نکاح صحیح ہے اور اس وجہ سے کہ وہ ان امور سے ناواقف تھی اس کا شوہر پر کوئی حق نہیں بنتا۔

۲۴۳۶۔ جس عورت سے متعہ کیا گیا ہو اگر وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جائے اور اس کے باہر جانے کی وجہ سے شوہر کی حق تلفی ہو تو اس کا باہر جانا حرام ہے اور اس صورت میں جبکہ اس کے باہر جانے سے شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہوتب بھی احتیاط مستحب کی بنا پر شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ جائے۔

۲۴۳۷۔ اگر کوئی عورت کسی مرد کو وکیل بنائے کہ معین مدت کے لئے اور معین رقم کے عوض اس کا خود اپنے ساتھ صیغہ پڑھے اور وہ شخص اس کا دائمی نکاح اپنے ساتھ پڑھ لے یا مدت مقرر کئے بغیر یا رقم کا تعین کئے بغیر متعہ کا صیغہ پڑھ دے تو جس وقت عورت کو ان امور کا پتا چلے اگر وہ اجازت دے دے تو نکاح صحیح ہے ورنہ باطل ہے۔

۲۴۳۸۔ اگر محرم ہونے کے لئے ۔ مثلاً ۔ باپ یا دادا اپنی نابالغ لڑکی یا لڑکے کا نکاح معینہ مدت کے لئے کسی سے پڑھیں تو اس صورت میں اگر اس نکاح کی وجہ سے کوئی فساد نہ ہو تو نکاح صحیح ہے لیکن اگر نابالغ لڑکا شادی کی اس پوری مدت میں جنسی لذت لینے کی بالکل صلاحیت نہ رکھتا ہو یا لڑکی ایسی ہو کہ وہ اس سے بالکل لذت نہ لے سکتا ہو تو نکاح کا صحیح ہونا محل اشکال ہے۔

۲۴۳۹۔ اگر باپ یا دادا اپنی بچی کا جو دوسری جگہ ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں محرم بن جانے کی خاطر کسی عورت سے نکاح کر دیں اور زوجیت کی مدت اتنی ہو کہ جس عورت سے نکاح کیا گیا ہو اس سے استمتاع ہوسکے تو ظاہری طور پر محرم بننے کا مقصد حاصل ہوجائے گا اور اگر بعد میں معلوم ہو کہ نکاح کے وقت وہ بچی زندہ نہ تھی تو نکاح باطل ہے اور وہ لوگ جو نکاح کی وجہ سے بظاہر محرم بن گئے تھے نامحرم ہیں۔

۲۴۴۰۔ جس عورت کے ساتھ متعہ کیا گیا ہو اگر مرد اس کی نکاح میں معین کی ہوئی مدت بخش دے تو اگر اس نے اس کے ساتھ ہم بستری کی ہو تو مرد کو چاہئے کہ تمام چیزیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا اسے دے دے اور اگر ہم بستری نہ کی ہو تو آدھا مہر دینا واجب ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سارا مہر اسے دیدے۔

۲۴۴۱۔ مرد یہ کرسکتا ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے پہلے متعہ کیا ہو اور ابھی اس کی عدت ختم نہ ہوئی ہو اس سے دائمی عقد کرلے یا دوبارہ متعہ کرلے۔

نا محرم پرنگاہ ڈالنے کے احکام


۲۴۴۲۔ مرد کے لئے نامحرم عورت کا جسم دیکھنا اور اسی طرح اس کے بالوں کو دیکھنا خواہ لذت کے ارادے سے ہو یا اس کے بغیر یا حرام میں مبتلا ہونے کا خوف ہا یا نہ ہو حرام ہے اور اس کے چہرے پر نظر ڈالنا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دیکھنا اگر لذت کے ارادے سے ہو یا حرام میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو حرام ہے۔ بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ لذت کے ارادے کے بغیر اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تب بھی نہ دیکھے۔ اسی طرح عورت کے لئے نامحرم مرد کے جسم پر نظر ڈالنا حرام ہے۔ لیکن اگر عورت مرد کے جسم کے ان حصوں مثلاً سر، دونوں ہاتھوں اور دونوں پنڈلیوں پر جنہیں عرفاً چھپانا ضروری نہیں ہے لذت کے ارادے کے بغیر نظر ڈالے اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۴۴۳۔ وہ بے پردہ عورتیں جنہیں اگر کوئی پردہ کرنے کے لئے کہے تو اس کو اہمیت نہ دیتی ہوں، ان کے بدن کی طرف دیکھنے میں اگر لذت کا قصد اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ۔ اور اس حکم میں کافر اور غیر کافر عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اسی طرح ان کے ہاتھ، چہرے اور جسم کے دیگر حصے جنہیں چھپانے کی وہ عادی نہیں کوئی فرق نہیں ہے۔

۲۴۴۴۔عورت کو چاہئے کہ وہ ۔ علاوہ ہاتھ اور چہرے کے۔ سر کے بال اور اپنا بدن نا محرم مرد سے چھپائے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اپنا بدن اور سر کے بال اس لڑکے سے بھی چھپائے جو ابھی بالغ تو نہ ہوا ہو لیکن (اتنا سمجھدار ہو کہ ) اچھے اور برے کو سمجھتا ہو اور احتمال ہو کہ عورت کے بدن پر اس کی نظر پڑنے سے اس کی جنسی خوہش بیدار ہو جائے گی۔لیکن عورت نا محرم مرد کے سامنے چہرہ اور کلائیوں تک ہاتھ کھلے رکھ سکتی ہے۔ لیکن اس صورت میں کہ حرام میں مبتلا ہونے کا خوف یا کسی مرد کو (ہاتھ اور چہرہ) دکھانا حرام میں مبتلا کرنے کے ارادے سے ہو تو ان دونوں صورتوں میں ان کا کھلا رکھنا جائز نہیں ہے۔

۲۴۴۵۔ بالغ مسلمان کی شرم گاہ دیکھنا حرام ہے۔ اگرچہ ایسا کرنا شیشے کے پیچھے سے یا آئینے میں یا صاف شفاف پانی وغیرہ میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے کافر اور اس بچے کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے کا جو اچھے برے کو سمجھتا ہو، البتہ میاں بیوی ایک دوسرے کا پورا بدن دیکھ سکتے ہیں۔

۲۴۴۶۔ جو مرد اور عورت آپس میں محرم ہوں اگر وہ لذت کی نیت نہ رکھتے ہوں تو شرمگاہ کے علاوہ ایک دوسرے کا پورا بدن دیکھ سکتے ہیں۔

۲۴۴۷۔ ایک مرد کو دوسرے مرد کا بدن لذت کی نیت سے نہیں دیکھنا چاہئے اور ایک عورت کا بھی دوسری عورت کے بدن کو لذت کی نیت سے دیکھنا حرام ہے۔

۲۴۴۸۔اگرکوئی مرد کسی نامحرم عورت کو پہچانتاہو اگر وہ بے پردہ عورتوں میں سے نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر اسے اس کی تصویر نہیں دیکھنی چاہئے۔

۲۴۴۹۔ اگر ایک عورت کسی دوسری عورت کا یا اپنے شوہر کے علاوہ کسی مرد کا انیما کرنا چاہے یا اس کی شرم گاہ کو دھو کر پاک کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اپنے ہاتھ پر کوئی چیز لپیٹ لے تاکہ اس کا ہاتھ اس (عورت یا مرد) شرم گاہ پر نہ لگے۔ اور اگر ایک مرد کسی دوسرے مرد یا اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کا انیما کرنا چاہے یا اس کی شرم گاہ کو دھو کر پاک کرنا چاہے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۲۴۵۰۔اگر عورت نامحرم مرد سے اپنی کسی ایسی بیماری کا علاج کرانے پر مجبور ہو جس کا علاج وہ بہتر طور پر کرسکتا ہو تو وہ عورت اس نامحرم مرد سے اپنا علاج کراسکتی ہے۔ چنانچہ وہ مرد علاج کے سلسلے میں اس کو دیکھنے یا اس کے بدن کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو تو (ایسا کرنے میں) کوئی اشکال نہیں لیکن اگر وہ محض دیکھ کر علاج کرسکتا ہو تو ضروری ہے اس عورت کے بدن کو ہاتھ نہ لگائے اور اگر صرف ہاتھ لگانے سے علاج کرسکتا ہو تو پھر ضروری ہے کہ اس عورت پر نگاہ نہ ڈالے۔

۲۴۵۱۔ اگر انسان کسی شخص کا علاج کرنے کے سلسلے میں اس کی شرم گاہ پر نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے چاہئے کہ آئینہ سامنے رکھے اور اس میں دیکھے لیکن اگر شرم گاہ پر نگاہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو (ایسا کرنے میں ) کوئی اشکال نہیں۔ اور اگر شرم گاہ پر نگاہ ڈالنے کی مدت آئینے میں دیکھنے کی مدت سے کم ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

ازدواج کے مختلف مسائل


۲۴۵۲۔ جو شخص شادی نہ کرنے کی وجہ سے حرام "فعل" میں مبتلا ہوتا ہو اس پر واجب ہے کہ شادی کرے۔

۲۴۵۳۔ اگر شوہر نکاح میں مثلاً یہ شرط عائد کرے کہ عورت کنوای ہو اور نکاح کے بعد معلوم ہو کہ وہ کنواری نہیں تو شوہر نکاح کو فسخ کرسکتا ہے البتہ اگر فسخ کرے تو کنواری ہونے اور کنوارے نہ ہونے کے مابین مقرر کردہ مہر میں جو فرق ہو وہ لے سکتا ہے۔

۲۴۵۴۔ نامحرم مرد اور عورت کا کسی ایسی جگہ ساتھ ہونا جہاں اور کوئی نہ ہو جب کہ اس صورت میں بہکنے کا اندیشہ بھی ہو حرام ہے چاہے وہ جگہ ایسی ہو جہاں کوئی اور بھی آسکتا ہو، البتہ اگر بہکنے کا اندیشہ نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۴۵۵۔ اگر کوئی مرد عورت کا مہر نکاح میں معین کردے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ مہر نہیں دے گا تو (اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ) صحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ مہر ادا کرے۔

۲۴۵۶۔جو مسلمان اسلام سے خارج ہوجائے اور کفر اختیاط کرے تو اسے "مرتد" کہتے ہیں اور مرتد کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ مرتد فطری ۲۔ مرتد ملی۔ مرتد فطری وہ شخص ہے جس کی پیدائش کے وقت اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں کوئی ایک مسلمان ہو اور وہ خود بھی اچھے برے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہو ہوا ہو لیکن بعد میں کافر ہوجائے، اور مرتد ملی اس کے برعکس ہے (یعنی وہ شخص ہے جس کی پیدائش کے وقت ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بھی مسلمان نہ ہو)۔

۲۴۵۷۔ اگر عوعرت شادی کے بعد مرتد ہوجا۴ے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اگر اس کے شوہر نے اس کے ساتھ جماع نہ کیا ہو تو اس کے لئے عدت نہیں ہے۔ اور اگر جماع کے بعد مرتد ہوجائے لیکن یائسہ ہوچکی ہو یا بہت چھوٹی ہو تب بھی یہی حکم ہے لیکن اگر اس کی عمر حیض آنے والے عورتوں کے برابر ہو تو اسے چاہئے کہ اس دستور کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا عدت گزارے اور (علماء کے مابین) مشہور یہ ہے کہ اگر عدت کے دوران مسلمان ہوجائے تو اس کا نکاح (نہیں ٹوٹتا یعنی) باقی رہتا ہے۔ اور یہ حکم وجہ سے خالی نہیں ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ احتیاط کی رعایت ترک نہ ہو۔ اور یائسہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی عمر پچاس سال ہوگئی ہو اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے اسے حیض نہ آتا ہو اور دوبارہ آنے کی امید بھی نہ ہو۔

۲۴۵۸۔ اگر کوئی مرد شادی کے بعد مرتد فطری ہوجائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے اور اس عورت کے لئے ضروری ہے کہ وفات کے عدت کے برابر جس کا بیان طلاق کے احکام میں ہوگا عدت رکھے۔

۲۴۵۹۔اگر کوئی مرد شادی کے بعد مرتد ملی ہوجائے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے لہذا اگر اس نے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کیا ہو یا وہ عورت یائسہ یا بہت چھوٹی ہو تو اس کے لئے عدت نہیں ہے اور اگر وہ مرد جماع کے بعد مرتد ہو اور اس کی بیوی ان عورتوں کی ہم سن ہو جنہیں حیض آتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ عورت طلاق کی عدت کے برابر جس کا ذکر طلاق کے احکام میں آئے گا عدت رکھے۔ اور مشہور یہ ہے کہ اگر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس کا شوہر مسلمان ہوجائے تو اس کا نکاح قائم رہتا ہے۔ اور یہ حکم بھی وجہ سے خالی نہیں ہے البتہ احتیاط کا خیال رکھنا بہتر ہے۔

۲۴۶۰۔ اگر عورت عقد میں مرد پر شرط عائد کرے کہ اسے (ایک معین) شہر سے باہر نہ لے جائے اور مرد بھی اس شرط کو قبول کرلے تو ضروری ہے کہ اس عورت کو اس کی رضامندی کے بغیر اس شہر سے باہر نہ لے جائے۔

۲۴۶۱۔ اگر کسی عورت کی پہلے شوہر سے لڑکی ہو تو بعد میں اس کا دوسرا شوہر اس لڑکی کا نکاح اپنے اس لڑکے سے کرسکتا ہے جو اس بیوی سے نہ ہو نیز اگر کسی لڑکی کا نکاح اپنے بیٹے سے کرے تو بعد میں اس لڑکی کی ماں سے خود بھی نکاح کرسکتا ہے۔

۲۴۶۲۔ اگر کوئی عورت زنا سے حاملہ ہوجائے تو بچے کو گرانا اس کے لئے جائز نہیں ہے۔

۲۴۶۳۔ اگر کوئی مرد کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو شوہر دار نہ ہو اور کسی دوسرے کی عدت میں بھی نہ ہو چنانچہ بعد میں اس عورت سے شادی کرلے اور کوئی بچہ پیدا ہوجائے تو اس صورت میں کہ جب وہ یہ نہ جانتے ہو کہ بچہ حلال نطفے سے ہے یا حرام نطفے سے تو وہ بچہ حلال زادہ ہے۔

۲۴۶۴۔ اگر کسی مرد کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک عورت عدت میں ہے اور وہ اس سے نکاح کرے تو اگر عورت کو بھی اس بارے میں علم نہ ہو اور ان کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ حلال زادہ ہوگا اور شرعاً ان دونوں کا بچہ ہوگا لیکن اگر عورت کو علم تھا کہ وہ عدت میں ہے اور عدت کے دوران نکاح کرنا حرام ہے تو شرعاً وہ بچہ باپ کا ہوگا۔ اور مذکورہ دونوں صورتوں میں ان دونوں کا نکاح باطل ہے اور جیسے کہ بیان ہوچکا ہے وہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔

۲۴۶۵۔ اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میں یائسہ ہوں تو اس کی یہ بات قبول نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر کہے کہ میں شوہر دار نہیں ہوں تو اس کی بات مان لینا چاہئے۔ لیکن اگر وہ غلط بیاں ہو تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ اس کے بارے میں تحقیق کی جائے۔

۲۴۶۶۔اگر کوئی شخس کسی ایسی عورت سے شادی کرے جس نے کہا ہو کہ میرا شوہر نہیں ہے اور بعد میں کوئی اور شخص کہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے تو جب تک شرعاً یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے اس کی بات کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔

۲۴۶۷۔جب تک لڑکا یا لڑکی دو سال کے نہ ہوجائیں باپ، بچوں کو ان کی ماں سے جدا نہیں کرسکتا اور احوط اور اولی یہ ہے کہ بچے کو سات سال تک اس کی ماں سے جدا نہ کرے۔

۲۴۶۸۔اگر رشتہ مانگنے والے کی دیانت داری اور اخلاق سے خوش ہو تو بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے سے انکار نہ کرے۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے روایت ہے کہ "جب بھی کوئی شخص تمہاری لڑکی کا رشتہ مانگنے آئے اور تم اس شخص کے اخلاق اور دیانت داری سے خوش ہو تو اپنی لڑکی کی شادی اس سے کردو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو گویا زمین پر ایک بہت بڑا فتنہ پھیل جائے گا۔"

۲۴۶۹۔اگر بیوی شوہر کے ساتھ اس شرط پر اپنے مہر کی مصالحت کرے (یعنی اسے مہر بخش دے) کہ وہ دوسری شادی نہیں کرے گا تو واجب ہے کہ وہ دوسری شادی نہ کرے۔ اور بیوی کو بھی مہر لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

۲۴۷۰۔ جو شخص ولد الزنا ہو اگر وہ شادی کرلے اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ حلال زادہ ہے۔

۲۴۷۱۔ اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے روزوں میں یا عورت کے حائض ہونے کی حالت میں اس سے جماع کرے تو گنہگار ہے لیکن اگر اس جماع کے نتیجے میں ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو تو وہ حلال زادہ ہے۔

۲۴۷۲۔ جس عورت کو یقین ہو کہ اس کا شوہر سفر میں فوت ہوگیا ہے اگر وہ وفات کی عدت کے بعد شادی کرے اور بعد ازاں اس کا پہلا شوہر سفر سے (زندہ سلامت) واپس آجائے تو ضروری ہے کہ دوسرے شوہر سے جدا ہو جائے اور وہ پہلے شوہر پر حلال ہوگی لیکن اگر دوسرے شوہر نے اس سے جماع کیا ہو تو عورت کے لئے ضروری ہے کہ عدت گزارے اور دوسرے شوہر کو چاہئے کہ اس جیسی عورتوں کے مہر کے مطابق اسے مہر ادا کرے لیکن عدت (کے زمانے) کا خرچ (دوسرے شوہر کے ذمے) نہیں ہے۔

دودھ پلانے کے احکام


۲۴۷۳۔ اگر کوئی عورت ایک بچے کو ان شرائط کے ساتھ کے دودھ پلائے جو مسئلہ ۲۴۸۳ میں بیان ہوں گی تو وہ بچہ مندرجہ ذیل لوگوں کا محرم بن جاتا ہے۔

۱۔ خود وہ عورت ۔ اور اسے رضاعی ماں کہتے ہیں۔

۲۔ عورت کا شوہر جو کہ دودھ کا مالک ہے۔ اور اسے رضاعی باپ کہتے ہیں۔

۳۔ اس عورت باپ اور ماں۔ اور جہاں تک یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اگرچہ وہ اس عورت کے رضاعی ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔

۴۔ اس عورت کے وہ بچے جو پیدا ہوچکے ہوں یا بعد میں پیدا ہوں۔

۵۔ اس عورت کی اولاد کی اولاد خواہ یہ سلسلہ جس قدر بھی نیچے چلاجائے اور اولاد کی اولاد خواہ حقیقی ہو خواہ اس کی اولاد نے ان بچوں کو دودھ پلایا ہو۔

۶۔ اس عورت کی بہنیں اور بھائی خواہ وہ رضاعی ہی کیوں نہ ہوں یعنی دودھ پینے کی وجہ سے اس عورت کے بہن اور بھائی بن گئے ہوں۔

۷۔ اس عورت کا چچا اور پھوپھی خواہ وہ رضاعی ہی کیوں نہ ہوں۔

۸۔ اس عورت کا ماموں اور خالہ خواہ وہ رضاعی ہی کیوں نہ ہوں۔

۹۔ اس عورت کے اس شوہر کی اولاد جو دودھ کا مالک ہے۔ اور جہاں تک بھی یہ سلسلہ نیچے چلا جائے اگرچہ اس کی اولاد رضاعی ہی کیوں نہ ہو۔

۱۰۔ اس عورت کے اس شوہر کے ماں باپ جو دودھ کا مالک ہے۔ اور جہاں تک بھی یہ سلسلہ اوپر چلا جائے۔

۱۱۔ اس عورت کے اس شوہر کے بہن بھائی جو دودھ کا مالک ہے خواہ اس کے رضای بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں۔

۱۲۔ اس عورت کا جو شوہر دودھ کا مالک ہے اس کے چچا اور پھوپھیاں اور ماموں اور خالائیں۔ اور جہاں تک یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور اگرچہ وہ رضاعی ہی کیوں نہ ہوں۔

اور ان کے علاوہ کئی اور لوگ بھی دودھ پلانے کی وجہ سے محرم بن جاتے ہیں جن کا ذکر آئندہ مسائل میں کیا جائے گا۔

۲۴۷۴۔اگر کوئی عورت کسی بچے کو ان شرائط کے ساتھ دودھ پلائے جن کا ذکر مسئلہ ۲۴۸۳ میں کیا جائے گا تو اس بچے کا باپ ان لڑکیوں سے شادی نہیں کر سکتا جنہیں وہ عورت جنم دے اور اگر ان میں سے کوئی ایک لڑکی ابھی اس کی بیوی ہو تو اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ البتہ اس کا اس عورت کی رضاعی لڑکیوں سے نکاح کرنا جائز ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی نکاح نہ کرے نیز احتیاط کی بنا پر وہ اس عورت کے اس شوہر کی بیٹیوں سے نکاح نہیں کر سکتا جو دودھ کا مالک ہے اگرچہ وہ اس شوہر کی رضاعی بیٹیاں ہوں لہذا اگر اس وقت ان میں سے کوئی عورت اس کی بیوی ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔

۲۴۷۵۔ اگر کوئی عورت کسی بچے کو ان شرائط کے ساتھ دودھ پلائے جن کا ذکر مسئلہ ۲۴۸۳ میں کیا جائے گا تو اس عورت کا وہ شوہر جو کہ دودھ کا مالک ہے اس بچے کی بہنوں کا محرم نہیں بن جاتا لیکن احتیاط مستجب یہ ہے کہ وہ ان سے شادی نہ کرے نیز شوہر کے رشتہ دار بھی اس بچے کے بھائی بہنوں کے محرم نہیں بن جاتے۔

۲۴۷۶۔ اگر کوئی عورت ایک بچے کو دودھ پلائے تو وہ اس کے بھائیوں کی محرم نہیں بن جاتی اور اس عورت کے رشتہ دار بھی اس بچے کے بھائی بہنوں کے محرم نہیں بن جاتے۔

۲۴۷۷۔ اگر کوئی شخص اس عورت سے جس نے کسی لڑکی کو پورا دودھ پلایا ہو نکاح کرلے اور اس سے مجامعت کرلے تو پھر وہ اس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا۔

۲۴۸۷۔ اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے نکاح کرلے تو پھر وہ اس عورت سے نکاح نہیں کرسکتا جس نے اس لڑکی کو پورا دودھ پلایا ہو۔

۲۴۷۹۔ کوئی شخص اس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا جسے اس شخص کی ماں یا دادی نے دودھ پلایا ہو۔ نیز اگر کسی شخص کے باپ کی بیوی نے (یعنی اس کی سوتیلی ماں نے) اس شخص کے باپ کا مملو کہ دودھ کسی لڑکی کو پلایا ہو تو ہو شخص اس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی شخص کسی دودھ پیتی بچی سے نکاح کرے اور اس کے بعد اس کی ماں یا دادی یا اس کی سوتیلی ماں اس بچی کو دودھ پلادے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔

۲۴۸۰۔ جس لڑکی کو کسی شخص کی بہن یا بھابی نے بھائی کے دودھ سے پورا دودھ پلایا ہو وہ شخص اس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اور جب کسی شخص کی بھانجی، بھتیجی یا بہن یا بھائی کی پوتی یا نواسی نے اس بچی کو دودھ پلایا ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۴۸۱۔اگر کوئی عورت اپنی لڑکی کے بچے کو (یعنی اپنے نواسے یا نواسی کو) پورا دودھ پلائے تو وہ لڑکی اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی۔ اور اگر کوئی عوعرت اس بچے کو دودھ پلائے جو اس کی لڑکی کے شوہر کی دوسری بیوی سے پیدا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے لیکن اگر کوئی عورت اپنے بیتے کے بچے کو (یعنی اپنے پوتے یا پوتی کو) دودھ پلائے تو اس کے بیٹے کی بیوی (یعنی دودھ پلائی کی بہو) جو اس دودھ پیتے بچے کی ماں ہے اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوگی۔

۲۴۸۲۔ اگرکسی لڑکی کی سوتیلی ماں اس لڑکی کے شوہر کے بچے کو اس لڑکی کے باپ کا مملوکہ دودھ پلادے تو اس احتیاط کی بنا پر جس کا ذکر مسئلہ ۲۴۷۴ میں کیا گیا ہے، وہ لڑکی اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے خواہ بچہ اس لڑکی کے بطن سے یا کسی دوسری عورت کے بطن سے ہو۔

دودھ پلانے سے محرم بننے کی شرائط


۲۴۸۳۔بچے کو جو دودھ پلانا محرم بننے کا سبب بنتا ہے اس کی آٹھ شرطیں ہیں :

۱۔ بچہ زندہ عورت کا دودھ پئے۔ پس اگروہ مردہ عورت کے پستان سے دودھ پئے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

۲۔ عورت کا دودھ فعل حرام کا نتیجہ نہ ہو۔ پس اگر ایسے بچے کا دودھ جو ولدالزنا ہو کسی دوسرے بچے کو دیا جائے تو اس دودھ کے توسط سے وہ دوسرا بچہ کسی کا محرم نہیں بنے گا۔

۳۔ بچہ پستان سے دودھ پئے۔ پس اگر دودھ اس کے حلق میں انڈیلا جائے تو بیکار ہے۔

۴۔ دودھ خالص ہو اور کسی دوسری چیز سے ملا ہو نہ ہو۔

۵۔ دودھ ایک ہی شوہر کا ہو۔ پس جس عورت کو دودھ اترتا ہو اگر اسے کو طلاق ہو جائے اور وہ عقد ثانی کرلے اور دوسرے شوہر سے حاملہ ہو جائے اور بچہ جننے تک اس کے پہلے شوہر کا دودھ اس میں باقی ہو مثلاً اگر اس بچے کو خود بچہ جننے سے قبل پہلے شوہر کا دود آٹھ دفعہ اور وضع حمل کے بعد دوسرے شوہر کا دودھ سات دفعہ پلائے تو وہ بچہ کسی کا بھی محرم نہیں بنتا۔

۶۔ بچہ کسی بیماری کی وجہ سے دودھ کی قے نہ کردے اور اگر قے کردے تو بچہ محرم نہیں بنتا ہے۔

۷۔ بچے کو اس قدر دودھ پلاجائے کہ اس کی ہڈیاں اس دودھ سے مضبوط ہوں اور بدن کا گوشت بھی اس سے بنے اور اگر اس بات کا علم نہ ہو کہ اس قدر دودھ پیا ہے یا نہیں تو اگر اس نے ایک دن اور ایک رات یا پندرہ دفعہ پیٹ بھر کر دودھ پیاہو تب بھی (محرم ہونے کے لئے) کافی ہے جیسا کہ اس کا (تفصیلی) ذکر آنے والے مسئلے میں کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس بات کا علم ہو کہ اس کی ہڈیاں اس دودھ سے مضبوط نہیں ہوئیں اور اس کا گوشت بھی اس سے نہیں بنا حالانکہ بچے نے ایک دن اور ایک رات یا پندرہ دفعہ دودھ پیا ہو تو اس جیسی صورت میں احتیاط کا خیال کرنا ضروری ہے۔

۸۔ بچے کی عمر کے دو سال مکمل نہ ہوئے ہوں اور اگر اس کی عمر دو سال ہونے کے بعد اسے دودھ پلایا جائے تو وہ کسی کا محرم نہیں بنتا بلکہ اگر مثال کے طور پر وہ عمر کے دو سال مکمل ہونے سے پہلے آٹھ دفعہ اور اس کے بعد ساتھ دفعہ دودھ پئے تب بھی وہ کسی کا محرم نہیں بنتا۔ لیکن اگر دودھ پلانے والی عورت کو بچہ جنے ہوئے دو سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہو اور اس کا دودھ ابھی باقی ہو اور وہ کسی بچے کو دودھ پلائے تو وہ بچہ ان لوگوں کا محرم بن جاتا ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

۲۴۸۴۔ دودھ پینے کی وجہ سے محرم بننے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دن رات میں بچہ نہ غذا کھائے اور نہ کسی دوسری عورت کا دودھ پئے لیکن اگر اتنی تھوڑی غذا کھائے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس نے بیچ میں غذا کھائی ہے تو پھر کوئی اشکال نہیں۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ پندرہ مرتبہ ایک ہی عورت کا دودھ پئے اور اس پندرہ مرتبہ دودھ پینے کے درمیان کسی دوسری عورت کا دودھ نہ پئے اور ہر بار بلافاصلہ دودھ پئے۔ ہاں اگر دودھ پیتے ہوئے سانس لے یا تھوڑا ساصبر کرے گویا کہ جب اس نے پہلی بار پستان منہ میں لیا تھا اس وقت سے لے کر اس کے سیر ہوجانے تک ایک دفعہ دودھ پینا ہی شمار کیا جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔

۲۴۸۵۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کا دودھ کسی بچے کو پلائے۔ بعد ازاں عقد ثانی کرلے اور دوسرے شوہر کا دودھ کسی اور بچے آپس میں محرم نہیں بنتے اگر چہ بہتر یہ ہے کہ وہ آپس میں شادی نہ کریں۔

۲۴۸۶۔ اگر کوئی عورت ایک شوہر کا دودھ کئی بچوں کو پلائے تو وہ سب بچے آپس میں نیز اس آدمی کے اور اس عورت کے جنس نے انہیں دودھ پلایا ہو محرم بن جاتے ہیں۔

۲۴۸۷۔ اگر کسی شخص کی کئی بیویاں ہوں اور ان میں سے ہر ایک شرائط کے ساتھ جو بیان کی گئی ہیں ایک ایک بچے کو دودھ پلادے تو وہ سب بچے آپس میں اور اس آدمی اور ان تمام عورتوں کے محرم بن جاتے ہیں۔

۲۴۸۸۔ اگر کسی شخص کو دو بیویوں کو دودھ اترتا ہو اور ان میں سے ایک کسی بچے کو مثال کے طور پر آٹھ مرتبہ اور دوسری سات مرتبہ دودھ پلادے تو وہ بچہ کسی کا بھی محرم نہیں بنتے۔

۲۴۸۹۔ اگر کوئی عورت ایک شوہر کا پورا دودھ ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو پلائے تو اس لڑکی کے بہن بھائی اس لڑکے کے بہن بھائیوں کے محرم نہیں بن جاتے۔

۲۴۹۰۔ کوئی شخص اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر ان عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتا جو دودھ پینے کی وجہ سے اس کی بیوی کی بھانجیاں یا بھتیجیاں بن گئی ہوں نیز اگر کوئی شخص کسی لڑکے سے اغلام کرے تو وہ اس لڑکے کی رضاعی بیٹی، بہن، ماں اور دادی سے یعنی ان عورتوں سے جو دودھ پینے کی وجہ سے اس کی بیٹی، بہن، ماں اور دادی بن گئی ہوں نکاح نہیں کرسکتا۔اور احتیاط کی بنا پر اس صورت میں جبکہ لواطت کرنے والا بالغ ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۴۹۱۔ جس عورت نے کسی شخص کے بھائی کو دودھ پلایا ہو وہ اس شخص کی محرم نہیں بن جاتی اگرچہ احتیاط مسحب یہ ہے کہ اس شادی نہ کرے۔

۲۴۹۲۔ کوئی آدمی دو بہنوں سے (ایک ہی وقت میں) نکاح نہیں کرسکتا اگرچہ وہ رضا۴ی بہنیں ہی ہوں یعنی دودھ پینے کی وجہ سے ایک دوسری کی بہنیں بن گئی ہوں اور اگر وہ دو عورتوں سے شادی کرے اور بعد میں اسے پتا چلے کہ وہ آپس میں بہنیں ہیں تو اس صورت میں جب کہ ان کی شادی ایک ہی وقت میں ہوئی ہو اظہر یہ ہے کہ دونوں نکاح باطل ہیں۔ اور اگر نکاح ایک ہی وقت میں نہ ہوا ہو تو پہلا نکاح صحیح ہو دوسرا باطل ہے۔

۲۴۹۳۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کا دودھ ان اشخاص کا پلائے جن کا ذکر ذیل میں کیا گیا ہے تو اس عورت کا شوہر اس پر حرام نہیں ہوتا اگرچہ بہتر یہ ہے کہ احتیاط کی جائے۔

۱۔ اپنے بھائی اور بہن کو۔

۲۔ اپنے چچا، پھوپھی، اماموں اور خالہ کو۔

۳۔ اپنے چچا اور ماموں کی اولاد کو۔

۴۔ اپنے بھتیجے کو۔

۵۔ اپنے جیٹھ یا دیور اور نند کو۔

۶۔ اپنے بھانجے یا اپنے شوہر کے بھانجے کو۔

۸۔ اپنے شوہر کی دوسری بیوی کے نواسے یا نواسی کی۔

۲۴۹۴۔ اگر کوئی عورت کسی شخص کی پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہن کو دودھ پلائے تو وہ (عورت) اس شخص کی محرم نہیں بنتی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ شخص اس عورت سے شادی نہ کرے۔

۲۴۹۵۔ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اگر اس کی ایک بیوی دوسری بیوی کے چچا کے بیٹے کو دودھ پلائے تو جس عورت کے چچا کے بیٹے نے دودھ پیا ہے وہ اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوگی۔

دودھ پلانے کے آداب


۲۴۹۶۔ بچے کو دودھ پلانے کے لئے سب عورتوں سے بہتر اس کی اپنی ماں ہے۔ اور ماں کے لئے مناسب ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کی اجرت اپنے شوہر سے نہ لے اور شوہر کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ اسے اجرت دے اور اگر بچے کی ماں، دایہ (دودھ ماں) کے مقابلے میں زیادہ اجرت لینا چاہے تو شوہر بچے کو اس سے لے کر دایہ کے سپرد کرسکتا ہے۔

۲۴۹۷۔ مستحب ہے کہ بچے کی دایہ شیعہ اثنا عشری، ہوش مند، پاک دامن اور خوش شکل ہو۔ اور مکروہ ہے کہ وہ غبی، غیر شیعہ اثنا عشری، بد صورت، بد اخلاق یا حرام زادی ہو۔ اور یہ بھی مکروہ ہے۔ کہ اس عورت کو بطور دایہ منتخب کیا جائے جس کا دودھ ایسے بچے سے ہو جو والدالزنا ہو۔

دودھ پلانے کے مختلف مسائل


۲۴۹۸۔ عورتوں کے لئے بہتر ہے کہ وہ ہر ایک کے بچے کو دودھ نہ پلائیں کیونکہ ہوسکتا ہے وہ یہ یاد نہ رکھ سکیں کہ انھوں نےکس کسی کو دودھ پلایا ہے اور (ممکن ہے کہ) بعد میں دو محرم ایک دوسرے سے نکاح کرلیں۔

۲۴۹۹۔اگر ممکن ہو تو مستحب ہے کہ بچے کو پورے ۲۱ مہینے دودھ پلایا جائے اور دوسال سے زیادہ دودھ پلانا مناسب نہیں ہے۔

۲۵۰۰۔اگر دودھ پلانے کی وجہ سے شوہر کا حق تلف نہ ہوتا ہو تو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کے بچے کو دودھ پلاسکتی ہے۔

۲۵۰۱۔ اگر کسی عورت کا شوہر ایک شیر خوار بچی سے نکاح کرے اور وہ عورت اس بچی کو دودھ پلائے تو مشہور قول کی بنا پر وہ عورت اپنے شوہر کی ساس بن جاتی ہے اور اس پر حرام ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ حکم اشکال سے خالی نہیں ہے اور احتیاط کا خیال رکھنا چاہئے۔

۲۵۰۲۔ اگر کوئی چاہے کہ اس کی بھابی اس کی محرم بن جائے تو بعض فقہانے فرمایا ہے کہ اسے چاہئے کہ کسی شیر خوار بچی سے مثال کے طور پر دو دن کے لئے متعہ کرلے اور ان دونوں میں ان شرائط کے ساتھ جن کا ذکر مسئلہ ۲۴۸۳ میں کیا گیا ہے اس کی بھابی اس بچی کو دودھ پلائے تاکہ وہ اس کی بیوی کی ماں بن جائے۔ لیکن یہ حکم اس صورت میں جب بھائی بھائی کے مملوک دودھ سے اس بچی کو پلائے محل اشکال ہے۔

۲۵۰۳۔ اگر کوئی کرد کسی عورت سے شادی کرنے سے پہلے کہے کہ رضاعت کی وجہ سے وہ عورت مجھ پر حرام ہے مثلاً کہے کہ میں نے اس عورت کی ماں کا دودھ پیا ہے تو اگر اس بات کی تصدیق ممکن ہو تو وہ اس عورت سے شادی نہیں کرسکتا اور اگروہ یہ بات شادی کے بعد کہے اور خود عورت بھی اس بات کو قبول کرے تو ان کا نکاح باطل ہے۔ لہذا اگر مرد نے اس عورت سے ہم بستری نہ کی ہو یا کی ہو لیکن ہم بستری کے وقت عورت کو معلوم ہو کہ وہ اس مرد پر حرام ہے تو عورت کا کوئی مہر نہں اور اگر عورت کو ہم بستری کے بعد پتا چلے کہ وہ اس مرد پر حرام تھی تو ضروری ہے کہ شوہر اس جیسی عورتوں کے مہر کے مطابق اسے مہر دے۔

۲۵۰۴۔ اگر کوئی عورت شادی سے پہلے کہہ دے کہ رضاعت کی وجہ سے میں اس مرد پر حرام ہوں اور اس کی تصدیق ممکن ہو تو وہ اس مرد سے شادی نہیں کرسکتی اور اگر وہ یہ بات شادی کے بعد کہے تو اس کا کہنا ایسا ہی جیسے کہ مرد شادی کے بعد کہے کہ وہ عورت اس پر حرام ہے اور اس کے متعلق حکم سابقہ مسئلے میں بیان ہوچکا ہے۔

۲۵۰۵۔ دودھ پلانا جو محرم سے بننے کا سبب ہے دو چیزوں سے ثابت ہوتا ہے :

۱۔ ایک ایسی جماعت کا خبر دینا جس کی بات پر یقین یا اطمینان ہوجائے

۲۔ دو عادل مرد اس کی گواہی دیں لیکن ضروری ہے کہ وہ دودھ پلانے کی شرائط کے بارے میں بھی بتائیں مثلاً کہیں کہ ہم نے فلاں بچے کو چوبیس گھنٹے فلاں عورت کے پستان سے دودھ پیتے دیکھا ہے اور اس نے اس دوران اور کوئی چیز بھی نہیں کھائی اور اسی طرح ان باقی شرائط کو بھی واشگاف الفاظ میں بیان کریں جن کا ذکر مسئلہ ۲۴۸۳ میں کیا گیا ہے۔ البتہ ایک مرد اور دو عورتوں یا چار عورتوں کی گواہی ہے جو سب کے سب عادل ہوں رضاعت کا ثابت محل اشکال ہے۔

۲۵۰۶۔ اگر اس بات میں شک ہو کہ بچے نے اتنی مقدار میں دودھ پیا ہے جو محرم بننے کا سبب ہے یا نہیں پیا ہے یا گمان ہو کہ اس نے اتنی مقدار میں دودھ پیا ہے تو بچہ کسی کا بھی محرم نہیں ہوتا لیکن بہتر یہ ہے کہ احتیاط کی جائے۔

طلاق کے احکام ← → مُعَامَلات
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français