مرجع عالی قدر اقای سید علی حسینی سیستانی کے دفتر کی رسمی سائٹ

فتووں کی کتابیں » توضیح المسائل

غصب کے احکام ← → نکاح کے احکام

طلاق کے احکام

۲۵۰۷۔جو مرد اپنی بیوی کو طلاق دے اس کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہو لیکن اگر دس سال کا بچہ اپنی بیوں کو طلاق دے تو اس کے بارے میں احتیاط کا خیال رکھیں اور اسی طرح ضروری ہے کہ مرد اپنے اختیار سے طلاق دے اور اگر اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے تو طلاق باطل ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شخص طلاق کی نیت رکھتا ہو لہذا اگر وہ مثلاً مذاق مذاق میں طلاق کا صیغہ کہے تو طلاق صحیح نہیں ہے۔

۲۵۰۸۔ ضروری ہے کہ عورت طلاق کے وقت حیض یا نفاس سے پاک ہو اور اس کے شوہر نے اس پاکی کے دوران اس سے ہم بستری نہ کی ہو اور ان دو شرطوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بیان کی جائے گی۔

۲۵۰۹۔ عورت کو حیض یا نفاس کی حالت میں تین صورتوں میں طلاق دینا صحیح ہے:

۱۔ شوہر نے نکاح کے بعد اس سے ہم بستری نہ کی ہو۔

۲۔ معلوم ہو کہ وہ حاملہ ہے۔ اور اگر یہ بات معلوم نہ ہو اور شوہر اسے حیض کی حالت میں طلاق دے دے اور بعد میں شوہر کو پتا چلے کہ وہ حاملہ تھی تو وہ طلاق باطل ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے دوبارہ طلاق دے۔

۳۔ مرد غیر حاضری یا ایسی ہی کسی اور وجہ سے اپنی بیوں سے جدا ہوا اور یہ معلوم نہ ہوسکتا ہو کہ عورت حیض یا نفاس سے سے پاک ہے یا نہیں۔ لیکن اس صورت میں احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ مرد انتظار کرے تاکہ بیوں سے جدا ہونے کے بعد کم از کم ایک مہینہ گزر جائے اس کے بعد اس طلاق دے۔

۲۵۱۰۔ اگر کوئی شخص عورت کو حیض سے پاک سمجھے اور اسے طلاق دے دے اور بعد میں پتا چلے کہ وہ حیض کی حالت میں تھی تو اس کی طلاق باطل ہے اور اگر شوہراسے حیض کی حالت میں سمجھے اور طلاق دے دے اور بعد میں معلوم ہو کہ پاک تھی تو اس کی طلاق صحیح ہے۔

۲۵۱۱۔ جس شخص کو علم ہو کہ اس کی بیوی حیض یا نفاس کی حالت میں ہے اگر وہ بیوی سے جدا ہو جائے مثلاً سفر اختیار کرے اور اسے طلاق دینا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ اتنی مدت صبر کرے جس میں اسے یقین یا اطمینان ہو جائے کہ وہ عورت حیض یا نفاس سے پاک ہو گئی ہے اور جب وہ یہ جان لے کہ عورت پاک ہے اسے طلاق دے۔ اور اگر اسے شک ہوتب بھی یہی حکم ہے لیکن اس صورت میں غائب شخص کی طلاق کے بارے میں مسئلہ ۲۵۰۹ میں جو شرائط بیان ہوئی ہیں ان کا خیال رکھے۔

۲۵۱۲۔جو شخص اپنی بیوی سے جدا ہو اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو اگر وہ معلوم کرسکتا ہو کہ اس کی بیوی حیض یا نفاس کی حالت میں ہے یا نہیں تو اگرچہ عورت کی حیض کی عادت یا ان دوسری نشانیوں کو جو شرع میں معین ہیں دیکھتے ہوئے اسے طلاق دے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ حیض یا نفاس کی حالت میں تھی تو اس کی طلاق صحیح ہے۔

۲۵۱۳۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جو حیض یا نفاس سے پاک ہو ہم بستری کرے اور پھر اسے طلاق دینا چاہے تو ضروری ہے کہ صبر کرے حتی کہ اسے دوبارہ حیض آجائے اور پھر وہ پاک ہوجائے لیکن اگر ایسی عورت کو ہم بستری کے بعد طلاق دی جائے جس کی عمر نو سال سے کم ہو یا معلوم ہو کہ وہ حاملہ ہے تو اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر عورت یائسہ ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

۲۵۱۴۔اگر کوئی شخص ایسی عورت سے ہم بستری کرے جو حیض یا نفاس سے پاک ہو اور اسی پاکی کی حالت میں اسے طلاق دے دے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ طلاق دینے کے وقت حاملہ تھی تو وہ طلاق باطل ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے ہک شوہر اسے دوبارہ طلاق دے۔

۲۵۱۵۔ اگر کوئی شخص ایسی عورت سے ہم بستری کرے جو حیض یا نفاس سے پاک ہو پھر وہ اس سے جدا ہوجائے مثلاً سفر اختیار کرے لہذا اگر وہ چاہے کہ سفر کے دوران اسے طلاق دے اور اس کی پاکی یانا پاکی کے بارے میں نہ جان سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مدت صبر کرے کہ عورت کو اس پاکی کے بعد حیض آئے اور وہ دوبارہ پاک ہو جائے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ مدت ایک مہینے سے کم نہ ہو۔

۲۵۱۶۔اگر کوئی مرد ایسی عورت کو طلاق دینا چاہتا ہو جسے پیدائشی طور پر یاکسی بیماری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو اور اس عمر کی دوسری عورتوں کو حیض آتا ہو تو ضروری ہے کہ جب اس نے ایسی عورت سے جماع کیا ہو اس وقت سے تین مہینے تک اس سے جماع نہ کرے اور بعد میں اسے طلاق دے دے۔

۲۵۱۷۔ ضروری ہے کہ طلاق کا صیغہ صحیح عربی میں لفظ "طالقٌ" کے ساتھ پڑھا جائے اور دو عادل مرد اسے سنیں۔ اگر شوہر خود طلاق کا صیغہ پڑھنا چاہے اور مثال کے طور پر اس کی بیوی کا نام فاطمہ ہو تو ضروری ہے کہ کہے :زَوجَتِی فَاطِمَۃُ طَالِقٌ یعنی میری بیوی فاطمہ آزاد ہے اور اگر وہ کسی دوسرے شخص کو وکیل کرے تو ضروری ہے کہ وکیل کہے : "زَوجَۃُ مُوَکِّلِی فَاطِمَۃُ طَالِقٌ" اور اگر عورت معین ہو تو اس کا نام لینا لازم نہیں ہے اور اگر مرد عربی میں طلاق کا صیغہ نہ پڑھ سکتا ہو اور وکیل بھی نہ بنا سکے تو وہ جس زبان میں چاہے ہر اس لفظ کے ذریعے طلاق دے سکتا ہے جو عربی لفظ کے ہم معنی ہو۔

۲۵۱۸۔ جس عورتسے متعہ کیا گیا ہو مثلاً ایک سال ایک ایک مہینے کے لئے اس سے نکاح کیا گیا ہو اسے طلاق دینے کا کوئی سوال نہیں۔ اور اس کا آزاد ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ یا تو متعہ کی مدت ختم ہو جائے یا مرد اسے مدت بخش دے اور وہ اس طرح کہ اس سے کہے : "میں نے مدت تجھے بخش دی۔" اور کسی کو اس پر گواہ قرار دینا اور اس عورت کا حیض سے پاک ہونا لازم نہیں۔

طلاق کی عدت


۲۵۱۹۔ جس لڑکی کی عمر (پورے) نو سال نہ ہوئی ہو۔ اور جو عورت یائسہ ہوچکی ہو۔ اس کی کوئی عدت نہیں ہوتی۔ یعنی اگرچہ شوہر نے اس سے مجامعت کی ہو، طلاق کے بعد کے بعد وہ فوراً دوسرا شوہر کر سکتی ہے۔

۲۵۲۰۔ جس لڑکی کی عمر ( پورے) نو سال ہوچکی ہو اور جو عورت یائسہ نہ ہو، اس کا شوہر اس سے مجامعت کرے تو اگر وہ اسے طلاق دے تو ضروری ہے کہ وہ (لڑکی یا) عورت طلاق کے بعد عدت رکھے اور آزاد عورت کی عدت یہ ہے کہ جب اس کا شوہر اسے پاکی کی حالت میں طلاق دے تو اس کے بعد وہ اتنی مدت صبر کرے کہ دو دفعہ حیض سے پاک ہوجائے اور جونہی اسے تیسری دفعہ حیض آئے تو اس کی عدت ختم ہوجاتی ہے اور وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے لیکن اگر شوہر عورت سے مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو اس کے لئے کوئی عدت نہیں یعنی وہ طلاق کے فوراً بعد دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ لیکن اگر شوہر کی منی جذب یا اس جیسی کسی اور وجہ سے اس کی شرم گاہ میں داخل ہوئی ہو تو اس صورت میں اظہر کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ عورت عدت رکھے۔

۲۵۲۱۔ جس عورت کو حیض نہ آتا ہو لیکن اس کا سن ان عورتوں جیسا ہو جنہیں حیض آتا ہو اگر اس کا شوہر مجامعت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے تو ضروری ہے کہ طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت رکھے۔

۲۵۲۲۔ جس عورت کی عدت تین مہینے ہو اگر اسے چاند کی پہلی تاریخ کو طلاق دی جائے تو ضروری ہے کہ تین قمری مہینے تک یعنی جب چاند دیکھا جائے اس وقت سے تین مہینے تک عدت رکھے اور اگر اسے مہینے کے دوران (کسی اور تاریخ کو) طلاق دی جائے تو ضروری ہے کہ اس مہینے کے باقی دنوں میں میں اس کے بعد آنے والے دومہینے اور چوتھے کے اتنے دن جتنے دن پہلے مہینے سے کم ہوں عدت رکھے تاکہ تین مہینے مکمل ہوجائیں مثلاً اگر اسے مہینے بیسویں تاریخ کو غروب کے وقت طلاق دی جائے اور یہ مہینہ انتیس دن کا ہو تو ضروری ہے کہ نو دن اس مہینے کے اور اس کے بعد دو مہینے اور اس کے بعد چوتھے مہینے کے بیس دن عدت رکھے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ چوتھے مہینے کے اکیس دن عدت رکھے تاکہ پہلے مہینے کے جتنے دن عدت رکھی ہے انہیں ملا کر دنوں کی تعداد تیس ہوجائے۔

۲۵۲۳۔اگر حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو اس کی عِدّت وَضع حَمل یا اِستاطِ حَمل تک ہے لہذا مثال کے طور اگر طلاق کے ایک گھنٹے بعد بچہ پیدا ہوجائے تو اس عورت کی عدت ختم ہوجائے گی۔ لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جن وہ بچہ صاحبہ عدت کا شرعی بیٹا ہو لہذا اگر عورت زنا سے حاملہ ہوئی ہو اور شوہر اسے طلاق دے تو اس کی عدت بچے کے پیدا ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔

۲۵۲۴۔ جس لڑکی نے عمر کے نو سال مکمل کرلئے ہوں اور جو عورت یائسہ نہ ہو اگر وہ مثال کے طور پر کسی شخص سے ایک مہینے یا ایک سال کے لئے متعہ کرے تو اگر اس کا شوہر اس سے مجامعت کرے اور اس عورت کی مدت تمام ہوجائے یا شوہر اسے مدت بخش دے تو ضروری ہے کہ وہ عدت رکھے۔ پس اگر اسے حیض آئے تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ دو حیض کے برابر عدت رکھے اور نکاح نہ کرے اور اگر حیض نہ آئے تو پینتالیس یا اسقاط ہونے تک ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جو مدت وضع حمل یا پینتالیس دن میں سے زیادہ ہو اتنی مدت کے لئے عدت رکھے۔

۲۵۲۵۔ طلاق کی عدت اس وقت شروع ہوتی ہے جب صیغہ کا پڑھنا ختم ہوجاتا ہے خواہ عورت کو پتا چلے یا نہ چلے کہ اسے طلاق ہوگئی ہے پس اگر اسے عدت (کے برابر مدت) گزرنے کے بعد پتا چلے کہ اسے طلاق ہوگئی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ عدت رکھے۔

وفات کی عدت


۲۵۲۶۔ اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو اس صورت میں جبکہ وہ آزاد ہو اگر وہ حاملہ نہ ہو تو خواہ وہ یائسہ ہو یا شوہر نے اس سے مُتعہ کیا ہو یا شوہر نے اس سے مجامعت نہ کی ہو ضروری ہے کہ چار مہینے اور دس دن عدت رکھے اور اگر حاملہ ہو تو ضروری ہے کہ وضع حمل تک عدت رکھے لیکن اگر چار مہینے اور دس دن گزرنے سے پہلے بچہ پیدا ہوجائے تو ضروری ہے کہ شوہر کی موت کے بعد چار مہینے دس دن تک صبر کرے اور اس عدت کو وفات کی عدت کہتے ہیں۔

۲۵۲۷۔ جو عورت وفات کی عدت میں ہو اس کے لئے رنگ برنگا لباس پہننا، سرمہ لگانہ اور اسی طرح دوسرے ایسے کام جو زینت میں شمار ہوتے ہیں حرام ہیں۔

۲۵۲۸۔ اگر عورت کو یقین ہوجائے کہ اس کا شوہر مرچکا ہے اور عدت وفات تمام ہونے کے بعد وہ دوسرا نکاح کرے اور پھر اسے معلوم ہو کہ اس کے شوہر کی موت بعد میں واقع ہوئی ہے تو ضروری ہے کہ دوسرے شوہر سے علیحدگی اختیار کرے اور احتیاط کی بنا پر اس صورت میں جب کہ وہ حاملہ ہو وضع حمل تک دوسرے شوہر کے لئے وطی شبہ کی عدت رکھے۔ جو کہ طلاق کی عدت کی طرح ہے۔ اور اس کے بعد پہلے شوہر کے لئے عدت وفات رکھے اور اگر حاملہ نہ ہو تو پہلے شوہر کے لئے عدت وفات اور اس کے بعد دوسرے شوہر کے لئے وطی شبہ کی عدت رکھے۔

۲۵۲۹۔جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو یا لاپتہ ہونے کے حکم میں ہو اس کی عدت وفات شوہر کی موت کی اطلاع ملنے کے وقت سے شروع ہوتی ہے نہ کہ شوہر کی موت کے وقت ہے۔ لیکن اس حکم کا اس عورت کے لئے ہونا جو نابالغ یا پاگل ہو اشکال ہے۔

۲۵۳۰۔ اگر عورت کہے کہ میری عدت ختم ہوگئی ہے تو اس کی بات قابل قبول ہے مگر یہ کہ وہ غلط بیان مشہور ہو تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر اس کی بات قابل قبول نہیں ہے۔ مثلاً وہ کہے کہ مجھے ایک مہینے میں تین دفعہ خون آتا ہے تو اس بات کی تصدیق نہیں کی جائے گی مگر یہ کہ اس کی سہیلیاں اور رشتے دار عورتیں اس بات کی تصدیق کریں اور اس کی حیض کی عادت ایسی ہی تھی۔

طلاق بائِن اور طلاق رَجعی


۲۵۳۱۔طلاق بائن وہ کہ طلاق ہے جس کے بعد مرد اپنی عورت کی طرف رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا یعنی یہ کہ بغیر نکاح کے دوبارہ اسے اپنی بیوی نہیں بنا سکتا اور اس طلاق کو چھ قسمیں ہیں :

۱۔ اس عورت کو دی گئی طلاق جس کی عمر ابھی نو سال نہ ہوئی ہو۔

۲۔ اس عورت کو دی گئی طلاق جا یائسہ ہو۔

۳۔ اس عورت کو دی گئی طلاق جس کے شوہر نے نکاح کے بعد اس سے جماع نہ کیا ہو۔

۴۔ جس عورت کو تین دفعہ طلاق دی گئی ہو اسے دی جانے والی تیسری طلاق۔

۵۔ خُلع اور مبارات کی طلاق

۶۔ حاکم شرع کا اس عورت کو طلاق دینا جس کا شوہر نہ اس کے اخراجات برداشت کرتا ہو نہ اسے طلاق دیتا ہو، جن کے احکام بعد میں بیان کئے جائیں گے۔

اور ان طلاقوں کے علاوہ جو طلاقیں ہیں وہ رجعی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہو شوہر اس سے رجوع کر سکتا ہے۔

۲۵۳۲۔ جس شخص نے اپنی عورت کو رجعی طلاق دی ہو اس کے لئے اس عورت کو اس گھر سے نکال دینا جس میں وہ طلاق دینے کے وقت مقیم تھی حرام ہے البتہ بعض موقعوں پر ۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ عورت زنا کرے تو اسے گھر سے نکال دینے میں کائی اشکال نہیں ۔ نیز یہ بھی حرام ہے کہ عورت غیر ضروری کاموں کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر اس گھر سے باہر جائے۔

رجوع کرنے کے احکام


۲۵۳۳۔رجعی طلاق میں مرد دو طریقوں سے عورت کی طرف رجوع کر سکتا ہے :

۱۔ ایسی باتیں کرے جن سے مترشح ہو کہ اس نے اسے دوبارہ اپنی بیوی بنا لیا ہے۔

۲۔ کوئی کام کرے اور اس کام سے رجوع کا قصد کرے اور ظاہر یہ ہے کہ جماع کرنے سے رجوع ثابت ہوجاتا ہے خواہ اس کا قصد رجوع کرنے کا نہ بھی ہو۔ بلکہ بعض (فقہاء) کا کہنا ہے کہ اگرچہ رجوع کا قصد نہ ہو صرف لپٹانے اور بوسہ لینے سے رجوع ثابت ہوجاتا ہے البتہ یہ قول اشکال سے خالی نہیں ہے۔

۲۵۳۴۔ رجوع کرنے میں مرد کے لازم نہیں کہ کسی کو گواہ بنائے یا اپنی بیوی کو (رجوع کے متعلق) اطلاع دے بلکہ اگر بغیر اس کے کہ کسی کو پتا چلے وہ خود ہی رجوع کرلے تو اس کا رجوع کرنا صحیح ہے لیکن اگر عدت ختم ہوجانے کے بعد مرد کہے کہ میں نےعدت کے دوران ہی رجوع کر لیاتھا تو لازم ہے کہ اس بات کو ثابت کرے۔

۲۵۳۵۔جس مرد نے عورت کو رجعی طلاق دی ہو اگر وہ اس سے کچھ مال لے لے اور اس سے مصالح ت کرلے کہ اب تجھ سے رجوع نہ کروں گا تو اگرچہ یہ مصالحت درست ہے اور مرد پر واجب ہے کہ رجوع نہ کرے لیکن اس سے مرد کے رجوع کرنے کا حق ختم نہیں ہوتا اور اگر وہ رجوع کرے تو جو طلاق دے چکا ہے وہ علیحدگی کا موجب نہیں بنتی۔

۲۵۳۶۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دو دفعہ طلاق دے کر اس کی طرف رجوع کرلے یا اسے دو دفعہ طلاق دے اور ہر طلاق کے بعد اس سے نکاح کرے یا ایک طلاق کے بعد رجوع کرے اور دوسری طلاق کے بعد نکاح کرے تو تیسری طلاق کے بعد وہ اس مرد پر حرام ہوجائے گی۔ لیکن اگر عورت تیسری طلاق کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے تو وہ پانچ شرطوں کے ساتھ پہلے مرد پر حلال ہوگی یعنی وہ اس عورت سے دوبارہ نکاح کرسکے گا۔

۱۔ دوسرے شوہر کا نکاح دائمی ہو۔ پوس اگر مثال کے طور پر وہ ایک مہینے یا ایک سال کے لئے اس عورت سے متعہ کرلے تو اس مرد کے اس سے علیحدگی کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔

۲۔ دوسرا شوہر جماع کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جماع فرج میں کرے۔

۳۔ دوسرا شوہر اسے طلاق دے یا مرجائے۔

۴۔ دوسرے شوہر کی طلاق کی عدت یا وفات کی عدت ختم ہوجائے۔

۵۔ احتیاط واجب کی بنا پر دوسرا شوہر جماع کرتے وقت بالغ ہو۔

طلاق خلع


۲۵۳۷۔ اس عورت کی طلاق کو جو اپنے شوہر کی طرف مائل نہ ہو اور اس سے نفرت کرتی ہو اپنا مہر یا کوئی اور مال اسے بخش دے تاکہ وہ اسے طلاق دے دے طلاق خلع کہتے ہیں۔ اور طلاق خلع میں اظہر کی بنا پر معتبر ہے کہ عورت اپنے شوہر سے اس قدر شدید نفرت کرتی ہو کہ اسے وظیفہ زوجیت ادا نہ کرنے کی دھکمی دے۔

۲۵۳۸۔ جب شوہر خود طلاق خلع کا صیغہ پڑھنا چاہے تو اگر اس کی بیوی کا نام مثلاً فاطمہ ہو تو عوض لینے کے بعد کہے :" زَوجَتِی فَاطِمَۃُ کَالَعتُھَا عَلٰی مَا بَذَلَت" اور احتیاط مستحب کی بنا پر "ھِیَ طَالِقٌ" بھی کہے یعنی میں نے اپنی بیوی فاطمہ کو اس مال کے عوض جو اس نے مجھے دیا ہے طلاق خلع دے رہا ہوں اور وہ آزاد ہے ۔ اور اگر عورت معین ہو تو طلاق خلع میں اور نیز طلاق مبارات میں اس کا نام لینا لازم نہیں ۔

۲۵۳۹۔ اگر کوئی عورت کسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاکہ وہ اس کا مہر اس کے شوہر کو بخش دے اور شوہر بھی اسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاکہ وہ اس کی بیوی کو طلاق دے دے تو اگر مثال کے طور پر شوہر کا نام محمد اور بیوی کا نام فاطمہ ہو تو وکیل صیغہ طلاق یوں پڑھے "عن مَوَکِّلَتِی فَاطِمَۃَ بَذَلتُ مَہرَھَا لِمُوَکِّلِی مُحَمَّدٍ لِیَخلَعَھَا عَلَیہِ" اور اس کے بعد بلافاصلہ کہے "زَوجۃُ مَوَکِّلِی خَالَعتُھا عَلٰی مَابَذَلَت ھِیَ طَالِقٌ۔ اور اگر عورت کسی کو وکیل مقرر کرے کہ اس کے شوہر کو مہر کے علاوہ کوئی اور چیز بخش دے تاکہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے تو ضروری ہے کہ وکیل لفظ "مَہرَھَا" کی بجائے اس چیز کا نام لے مثلاً اگر عورت نے سو روپے دیئے ہوں تو ضروری ہے کہ کہے: بَذّلَت مِاَۃَ رُوبِیَۃ۔"

طلاق مبارات


۲۵۴۰۔اگر میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو نہ چاہتے ہوں اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوں اور عورت مرد کو کچھ مال دے تاکہ وہ اسے طلاق دے دے تو اسے طلاق مبارات کہتے ہیں۔

۲۵۴۱۔اگر شوہر مبارات کا صیغہ پڑھنا چاہے تو اگر مثلاً عورت کا نام فاطمہ ہو تو ضروری ہے کہ کہے :

"بَارَاتُ زَوجَتِی فَاطِمَۃَ عَلٰی مَابَذَلَت" اور احتیاط لازم کی بنا پر "فَھِیَ طَالِقٌ" بھی کہے یعنی میں اور میری بیوی فاطمہ اس عطا کے مقابل میں جو اس نے کی ہے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ہیں پس وہ آزاد ہے۔ اور اگر وہ شخص کسی کو وکیل مقرر کرے تو ضروری ہے کہ وکیل کہے : "عَن قِبَلِ مُوَکِّلِی بَارَاتُ زَوجَتَہ فَاطِمَۃَ عَلٰی مَابَذَلَت فَھِیَ طَالِقٌ" اور دونوں صورتوں میں کلمہ "عَلٰی مَابَذَلَت" کی بجائے اگر "بِمَا بَذَلَت" کہے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۵۴۲۔ خلع اور مبارات کی طلاق کا صیغہ اگر ممکن ہو تو صحیح عربی میں پڑھنا جانا چاہئےاور اگر ممکن نہ ہو تو اس کا حکم طلاق کے حکم جیسا ہے جس کا بیان مسئلہ ۲۵۱۷ میں گزر چکا ہے لیکن اگر عورت مبارات کی طلاق کے لئے شوہر کو اپنا مال بخش دے۔ مثلاً ارودو میں کہے کہ "میں نے طلاق لینے کے لئے فلاں مال تمہیں بخش دیا" تو کوئی اشکال نہیں۔

۲۵۴۳۔ اگر کوئی عورت طلاق خلع یا طلاق مبارات کی عدت کے دوران اپنی بخشش سے پھر جائے تو شوہر اس کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور دوبارہ نکاح کئے بغیر اسے اپنی بیوی بنا سکتا ہے۔

۲۵۴۴۔ جو مال شوہر طلاق مبارات دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت کے مہر سے زیادہ نہ ہو لیکن طلاق خلع کے سلسلے میں لیا جانے والا مال اگر مہر سے زیادہ بھی ہو تو کوئی اشکال نہیں۔

طلاق کے مختلف احکام


۲۵۴۵۔ اگر کوئی آدمی کسی نامحرم عورت سے اس گمان میں جماع کرے کہ وہ اس کی بیوی ہے تو خواہ عورت کو علم ہو کہ وہ شخص اس کا شوہر نہیں ہے یا گمان کرے کہ اس کا شوہر ہے ضروری ہے کہ عدت رکھے۔

۲۵۴۶۔ اگر کوئی آدمی کسی عورت سے یا جانتے ہوئے زنا کرے کہ وہ اس کی بیوی نہیں ہے تو اگر عورت کو علم ہو کہ وہ آدمی اس کا شوہر نہیں ہے اس کے لئے عدت رکھنا ضروری نہیں۔ لیکن اگر اسے شوہر ہونےکا گمان ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ عورت عدت رکھے۔

۲۵۴۷۔ اگر کوئی آدمی کسی عورت کو ورغلائے کے وہ اپنے شوہر سے متعلق ازدواجی ذمے داریاں پوری نہ کرے تاکہ اس طرح شوہر اسے طلاق دینے پر مجبور ہوجائے اور وہ خود اس عورت کے ساتھ شادی کرسکے تو طلاق اور نکاح صحیح ہیں لیکن دونوں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔

۲۵۴۸۔ اگر عورت نکاح کے سلسلے میں شوہر سے شرط کرے کہ اگر اس کا شوہر سفر اختیار کرلے یا مثلاً چھ مہینے اسے خرچ نہ دے تو طلاق کا اختیار عورت کو حاصل ہوگا تو یہ شرط باطل ہے۔ لیکن اگر وہ یوں شرط کرے کہ ابھی سے شوہر کی طرف سے وکیل ہے کہ اگر وہ مسافرت اختیار کرے یا چھ مہینے تک اس کے اخراجات پورے نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو طلاق دے گی تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۲۵۴۹۔ جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو جائے اگر وہ دوسرا شوہر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ مجتہد عادل کے پاس جائے اور اس کے حکم مطابق عمل کرے۔

۲۵۵۰۔ دیوانے کے باپ دادا اس کی بیوی کو طلاق دے سکتے ہیں۔

۲۵۵۱۔ اگر باپ یا دادا اپنے (نابالغ) لڑکے (یا پوتے) کا کسی عورت سے متعہ کر دیں اور متعہ کی مدت میں اس لڑکے کے مکلف ہونے کی کچھ مدت بھی شامل ہو مثلاً اپنے چودہ سالہ لڑکے کا کسی عورت سے دو سال کے لئے متعہ کر دیں تو اگر اس میں لڑکے کی بھلائی ہو توہ (یعنی باپ دادا) اس عورت کی مدت بخش سکتے ہیں لیکن لڑکے کی دائمی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتے۔

۲۵۵۲۔ اگر کوئی شخص دو آدمیوں کو شرع کو مقرر کردہ علامت کی رو سے عادل سمجھے اور اپنی بیوی کو ان کے سامنے طلاق دے دے تو کوئی اور شخص جس کے نزدیک ان دو آدمیوں کی عدالت ثابت نہ ہو اس عورت کی عدت ختم ہونے کے بعد س کے ساتھ خود نکاح کرسکتا ہے یا اسے کسی دوسرے کے نکاح میں دے سکتا ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے ساتھ نکاح سے اجتناب کرے اور دوسرے کا نکاح بھی اس کے ساتھ نہ کرے۔

۲۵۵۳۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے علم میں لائے بغیر اسے طلاق دے دے تو اگر وہ اس کے اخراجات اسی طرح دے جس طرح اس وقت دیتا تھا جب وہ اس کی بیوی تھی اور مثلاً ایک سال کے بعد اس سے کہے کہ "میں ایک سال ہوا تجھے طلاق دے چکا ہوں" اور اس بات کو شرعاً ثابت بھی کر دے تو جو چیزیں اس نے اس مدت میں اس عورت کو مہیا کی ہوں اور وہ انہیں اپنے استعمال میں نہ لائی ہو اس سے واپس لے سکتا ہے لیکن جو چیزیں اس نے استمعال کر لی ہوں ان کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

غصب کے احکام ← → نکاح کے احکام
العربية فارسی اردو English Azərbaycan Türkçe Français